پروپیگنڈہ کیا ہے ؟

Propaganda-534x444

حمید بلوچ
پروپیگنڈہ اپنے خیالات نظریات سوچ کو عوام کے سامنے لانے کا ایک آسان طریقہ ہے جیسے سیاسی و مذہبی تنظیمیں اور ریاستی ادارے عوام کے رائے کو متاثر کرنے کے لئے استعمال کرتے ہیں۔ پروپیگنڈہ دور قدیم سے دور جدید تک عوامی معاشرے کا ایک اہم حصہ رہا ہے جس کو ہر دور میں اپنے مطلوبہ مقاصد کو حاصل کرنے کے لئے استعمال کیا گیا ہے۔پروپیگنڈہ کو تفصیل سے بیان کرنے سے پہلے اسکی تعریف، ذرائع اور طریقے اصول بیان کروں تاکہ پروپیگنڈہ کو سمجھنے میں آسانی ہو۔پروپیگنڈہ ایک ایسے طریقے کار کا نام ہے جس کو استعمال میں لاتے ہوئے لوگوں کو ایک مخصوص نظریہ قبول کرنے میں ذہنی و نفسیاتی حوالے سے تیار کیا جاتا ہے۔ پروپیگنڈہ کی اشاعت کے لئے اخبارات، رسائل، ٹی وی، سوشل میڈ،جلسے جلوس، مظاہرے، پمفلٹ اور دیگر ذرائع شامل ہیں۔پروپیگنڈہ کو عوام میں لانے کے کچھ اصول ہوتے ہیں جس کو استعمال کرتے ہوئے کوئی بھی ریاست تنظیم ایک بہتر طریقے سے عوام میں اسکی اشاعت کرسکتاہے۔ تیسری دنیا کے ممالک جو سامراجی تسلط میں تھے اور اب بھی ہے ایسے ملکوں کے عوام تعلیم سے دور ہوتے ہیں اس لئے ان کو سمجھانے کے لئے پروپیگنڈہ آسان زبان میں ہو تاکہ جن کے لئے پروپگنڈہ کیا جارہا ہے وہ اس کو سمجھ کر اس تحریک کا حصہ بن سکے۔دنیا کی تحریکات کی کامیابی میں پروپیگنڈہ کو ایک خاص اہمیت حاصل ہے اسی پروپیگنڈہ کے ذریعے دشمن کے حوصلوں کو پست کرکے اپنے عوام کے حوصلوں کو بڑھاکر انہیں قومی تحریکوں کا حصہ بنایاگیا۔پروپیگنڈہ کو سب سے پہلے مذہبی حلقوں نے اپنے نقطہ نظر کی وضاحت کے لئے استعمال کیا قدیم دور میں جب دنیا جاگیرداری اور ملوکیت کی لپیٹ میں تھا اشرف المخلوقات جاگیردار بادشاہ اور ملاوں کی غلامی میں بری طرح پھنس چکے تھے اس غلامی کو مزید طول دینے کے لئے بادشاہوں، ملاؤں اور جاگیرداروں نے پروپیگنڈہ کے زور پر استحصال کو مزید بڑھاوا دیا تاکہ بغاوت کی نوبت نہ آئے اور انسان اسے خدا کی مرضی سمجھ کر چپ سادھ لے ۔اس ظلمت کی رات کو ختم کرانے میں بھی پروپیگنڈہ نے ایک اہم کردار اداکیا ہے۔ جب سائنس ترقی کرنے لگی چھاپہ خانہ ایجاد ہونے لگے تو روشن خیال اور ترقی پسند لوگوں نے اپنے خیالات عوام میں وضح کرنے کے لئے پروپیگنڈہ کیا کہ پادری حضرات سادہ لوح عوام سے رقم لیکر جنت کے پروانے جاری کرتے ہیں اور گنڈے تعویذ بانٹ کر توہم پرستی کی جال میں پھنساتے ہیں۔پروٹسٹنٹ فرقے کا وجود انہی پروپیگنڈہ کی مدد سے آیا اور ہر جگہ پوپ کی مخالفت شروع ہوئی انہیپروپیگنڈہ نے پورپ میں انقلابی حالات کو جنم دیا جس کا نتیجہ یہ ہوا معاشرے میں طاقت کا توازن بدلا اور تاجروں اور صنعت کاروں نے بھی حکومتی معاملات میں شرکت کا مطالبہ کیا۔ برطانیہ کے تاجروں نے بادشاہ کے خلاف انقلاب برپا کرکے پارلیمنٹ کو آئینی بنایا۔ انقلاب فرانس اور امریکہ کی آزادی میں پروپیگنڈہ نے اہم کردار ادا کیا۔پہلی جنگ عظیم اور دوسری جنگ عظیم میں پروپیگنڈہ کو اتنی ترقی دی گئی کہ پروپیگنڈہ ایک خطرناک ہتھیار بن گیا اور ہر ریاست تنظیم اور ہر ادارے نے اس کا استعمال ایک اہم آلے کے طور پر کرکے اپنے مقاصد آسانی سے حاصل کئے۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا کا سفر ترقی خوشحالی کی طرف بڑھنے لگا اور اسی ترقی نے پروپیگنڈہ کے فن کو بھی ترقی دی اور دنیا کے دو بڑے طاقتوں نے ایک دوسرے کو نیچا دکھانے اور اپنے مفادات حاصل کرنے کے لئے پروپیگنڈہ کو بطور ایک آلے کے استعمال کیا کیونکہ ان کو علم تھا کہ پروپیگنڈہ کا فن ہی انہیں کامیابی سے ہمکنار کرواسکتاہے۔ بقول ایک زانت کار کے کہ اگر آپ نے پروپیگنڈہ میں مہارت حاصل کرلی تو آپ خدا کو اسکے تخت سے نیچے اتار سکتے ہو ۔جنگ عظیم دوئم کے بعد امریکہ کا سب سے بڑا حریف سویت یونین تھا جسے وہ مذہبی ممالک کے سامنے لادین کے لقب سے پکارتاتھا اور سوویت یونین کے خلاف پروپیگنڈہ کے لئے مذہب کو ایک اہم ہتھیار کے طور پر استعمال کیا۔ اسکے علاوہ امریکہ نے فرانس ،یونان اور اٹلی میں کمیونسٹوں کو شکست دینے کے لئے بھاری مالی امداد دی 20ویں صدی کے اختتام پر جب سویت یونین زوال کا شکار ہوئی تو ایک نیا طوفان امریکہ اور دنیا کے سامنے کھڑا تھا تو اس طوفان سے نمٹنے کے لئے امریکہ نے دنیا بھر کے ممالک میں پروپیگنڈہ کیا کہ اسلامی شدت پسندی سے نہ صرف امریکہ کو خطرات لاحق ہے بلکہ پوری دنیا کو اس طالبانائزیشن سے خطرہ ہے اور اس سے نمٹنے کے لئے دنیا کے تمام ممالک امریکہ کا ساتھ دیں۔امریکہ نے ویتنام میں بھی پروپیگنڈہ کے ذریعے قبضے کو طول دینے کی کوشش کی لیکن ویت نامی پارٹی نے ان کی ہرپروپیگنڈہ کا موثر جواب دیکر انہیں ناکامی سے دوچار کیا۔دنیا میں مظلوموں پر جب قبضہ کیا جاتا ہے مظلوموں کی قومی شناخت کو مٹانے کے لئے سامراج مختلف منصوبوں پر عمل پیرا ہوتا ہے۔ اپنے تاریخ دانوں سے پروپیگنڈہ کرواکے اسکی تاریخ، جغرافیہ اور ثقافت کی شکل بگاڑ کر رکھ دیتا ہے اپنے ماہرین نفسیات سے پروپیگنڈہ کرواکے مظلوموں کو جاہل وحشی کند ذہن ثابت کرتا ہے تاکہ مظلوم نفسیاتی دباؤ کا شکار ہوکر جدوجہد کی صلاحیتوں سے محروم ہوسکے۔دنیا کے ہر ظالم و جابر ملک نے جب کسی دوسرے ملک پر قبضہ جمایا تو اسے یا تو تعلیم سے دور رکھا یا اس قوم کو ایسی تعلیم دینے کی کوشش کی کہ وہ’’ یس سر‘‘ کہنے والا روبورٹ بن جائے ۔غلامی کے تاریک دنوں میں ویتنام کا بھی یہی حال تھازرین فاطمہ ”ویتنام کی انقلابی جدوجہد ” میں لکھتی ہے کہ ویتنام کا پڑھا لکھا طبقہ فرانسی تسلط کے خلاف لکھتا رہا اور حالات کا تجزیہ کرتا رہا ان کی کوشش تھی کہ ملک میں تعلیم عام ہو یہ وہ وقت تھا کہ ویتنام میں صرف دس فیصد لوگ اخبار پمفلٹ پڑھ سکتے تھے۔جہالت کے خلاف انہوں نے عوام کو بیدار کرنے کے لیے ایک نعرہ لگایا ”ہمیں پڑھنا ہے تاکہ ہم جنگ جیت سکیں ” اس نعرہ نے عوام کو تعلیم کی طرف راغب کرنے میں مدد دی ۔کسان ہر شام ننگے پاوں لالٹین اٹھائے ہوئے کلاسوں میں جانے لگے یہ ویتنامی انقلابی پارٹی کی حکمت عملی تھی کہ عوام بیداری کی طرف راغب ہونے لگی ۔ویتنام کی کمیونسٹ پارٹی نے پروپیگنڈہ ٹولز کو اپنے حق میں استعمال کرکے دنیا کی طاقتور ریاستوں کو شکست سے دوچار کیا۔فرانس نے الجزائر میں انہی سامراجی پروپیگنڈہ کو استعمال کرکے الجزائری عوام کو نفسیاتی مریض بنادیا تھا لیکن ان پروپگنڈوں کو ناکام بنانے کے لئے نیشنل لبریشن فرنٹ کے جہد کاروں نے عوام کو شعوری تربیت دیکر جدوجہد کے لئے تیار کیاپروپیگنڈہ کے ذریعے عوام کو جہد کا حصہ بنایا۔الجزائر کی جنگ آزادی سے قبل الجزائری عوام فرانس کے قبضے میں غلامی کی زندگی بسر کررہے تھے ان کی آزادی میں پروپیگنڈہ نے ایک اہم کردار ادا کیا۔ جب آزادی کی تحریک کا آغاز ہوا تو لبریشن فرنٹ نے ریڈیو کو اپنا ایک اہم آلے کے طور پر استعمال کرکے سامراج کی نیندیں حرام کردیے تھے۔.1954ء سے قبل ریڈیو پر فرانس کا قبضہ تھا اور وہ فرانسی زبان میں اسکے نشریات چلاتے اور مقامی ثقافت کو تباہ کرنے کی پالیسی پر گامزن تھے۔ فرانس نے الجزائری عوام میں ریڈیو تقسیم کئے کیونکہ یہ قابض فرانس کو دو فائدے دیتا تھا ایک یہ کہ وہ اپنے فوجیوں کا حوصلہ بڑھاتا اور دوسرا مقامی لوگوں کو احساس کمتری میں مبتلا کرکے جدوجہد کی صلاحیت سے محروم کردیتا تھا یہ ریڈیو فرانس کی قوت مزاحمت کی
علامت تھا۔ اس ریڈیو کے پروگرام میں فرانس کے قومی ترانے بجائے جاتے تھے اسکے علاوہ ریڈیو میں جھوٹی خبریں پھیلا کر عوام میں مایوسی پھیلائی گئی ۔اگر قابض فوج کسی معصوم الجزائری کو قتل کردیتی تو ریڈیو میں جبر نشر ہوتی کہ فرانس کے فوج نے دہشت گردوں کو ہلاک کردیا ہے۔ریڈیو فرانسیسی فوج کے لئے مزاحمت کی علامت جبکہ الجزائری عوام کے لئے ایک عذاب تھا ۔لیکن جب الجزائری انقلابیوں نے محسوس کرلیا کہ سامراج کے پروپیگنڈوں کا جواب نہیں دیا تو وہ ہماری مقامی کلچر کو تباہ کرنے کے علاوہ عوام کو بھی اپنی طرف کھینچ کر جہد آزادی کو ختم کرسکتے ہیں۔ اس لئے انقلابی قیادت نے تیونس کی تقلید میں الجزائر میں ریڈیو نشریات چلانے کا اعلان کیاالجزائری انقلابیوں نے عوام کو احساس دلایا کہ ریڈیو اپنے مقاصد کو حاصل کرنے کا ایک اہم ذریعہ ہے ۔جب استعمار اسے استعمال کرسکتا ہے تو ہم بھی اپنے آزادی کے لئے بطور پروپیگنڈہ ٹولز اس آلے کو استعمال کرسکتے ہیں۔ اسی ریڈیو نے الجزائری عوام کو خواب غفلت سے جگاکر شعور اجاگر کیا تھا ۔وہ ظالم کے حربوں کو سمجھنے لگے. 1954ء سے قبل ریڈیو الجزائر میں برائی کی علامت تھا لیکن جب یہ انقلابیوں کے ہاتھ آیا تو یہ دوستی اور محبت کی علامت بن گیا۔وہ عوام اور انقلابیوں کے درمیان ایک پل کا کردار ادا کررہی تھی ریڈیو انہیں مجاہدین اور فوجیوں کے درمیان لڑائی کی پل پل خبر پہنچاتا۔ جس سے انکے احساس کمتری ختم ہونے لگی اور وہ زندگی کی طرف لوٹنے لگے ۔اب ریڈیو میں فرانس کے فوجی ترانے نہیں بلکہ الجزائری عوام کو بیدار کرنے کے لئے ایک نغمہ ”میرے بیٹے یہ ماں تجھ پہ واری رہے جنگ جاری رہے جنگ جاری رہے ” اس نغمے نے الجزائری عوام میں ایک نئی روح پھونک دی۔ الجزائری عوام آزادی کے جذبے سے سرشار ہوکر بازاروں میں آزادی زندہ باد کے نعرے لگاتے جس سے انہیں گولیوں کا نشانہ بنایا جاتا لیکن وہ موت سے باخبر ہوکر آزادی کے جذبے سے سرشار تھے۔ یہ انقلابی قیادت کی حکمت عملی تھی کہ انہوں نے ریڈیو کے ذریعے پروپیگنڈہ کرکے عوام کو بیدار کرکے الجزائر کی آزادی حاصل کی ۔پروپیگنڈہ ایک ایسا آلہ ہے جسے وقت کے سامراجوں نے اپنے برے مقصد کے لئے اسے استعمال کیا۔ جبکہ آنقلابیوں اور مظلوم قوموں نے قومی غلامی کو ختم کرنے کے لئے اس کا استعمال کیا۔چین کے ماہر جنگی امور پروپیگنڈے کو جنگ جیتنے کے لیے ایک موثر آلہ قرار دیتا ہے وہ کہتا ہے کہ ” دشمن کو تباہ کرنے سے بہتر ہے کہ اسکی ہمت کو توڑ دو نفسیاتی شکست کھانے کے بعد وہ جنگ جاری نہیں رکھ سکتا۔دنیا کے تمام ظالموں نے جب مظلوم پر قبضہ کیا تو نفسیاتی طور پر ان کا مورال گرانے کے لئے پروپیگنڈہ کیا۔ پاکستانی قبضے کے بعد بلوچستان اور بلوچ قومی تحریک انہی پروپگنڈوں کا شکار ہے پاکستان اپنے اداروں کے ذریعے بلوچ قومی تحریک کے خلاف ہر طرح کی پالیسیوں پر گامزن ہے اور دنیا کے دیگر ریاستوں کی طرح پاکستان کا بھی اہم ہتھیار پروپیگنڈہ ہے۔پاکستان نے جب برطانوی ایما پر بلوچستان پر قبضہ کیا تو ان کا پہلا پروپیگنڈہ ریاست قلات کی آئینی حیثیت پر تھی اس وقت جب خان برسر اقتدار تھے تو خان ایک آئینی حکمران تھے جو جرگے کے ذریعے منتخب ہونے والے سرداروں کے منتخب کردہ آئینی حکمران تھے لیکن انہوں نے انگریزوں کا غلط حوالہ دیکر خان قلات کو کبھی وفاق کا سربراہ کبھی نیم وفاق کا ہیڈ اور کبھی جاگیردار کہا اور اپنے اس غیر آئینی اقدام کا جواز بنایا۔پاکستان بلوچ قومی تحریک کو کاونٹر کرنے کے لئے اپنے پروپیگنڈہ ٹولز کو تیزی سے استعمال کررہا ہے تاکہ بلوچ عوام کو نفسیاتی دباو کا شکار کرکے تحریک سے دستبردار ہونے پر مجبور کریں۔پاکستان اپنے پرنٹ و الیکٹرانک میڈیا کے ذریعے سی پیک کو خوشحالی اور ترقی کا سنگ میل قرار دیتی ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ سی پیک بلوچ قوم کے لئے ترقی نہیں بلکہ اسکی موت کا پروانہ ہے۔ سی پیک کی کامیابی سے بلوچ قوم اقلیت میں تبدیل ہوکر اپنے موت آپ مرجائیگی لیکن پاکستان بلوچ عوام اور عالمی دنیا کے سامنے اسپروپیگنڈہ میں مصروف ہے کہ سی پیک قوم کی ترقی ہے۔پاکستان بلوچ تحریک کو کاونٹر کرنے میں کوئی بھی موقع اپنے ہاتھ سے جانے نہیں دیتا۔ جب تربت میں اور پشکان میں FWO کے کارندوں کو بلوچ آزادی پسند قتل کرتے ہیں تو پاکستانی اداروں میں بھونچال آجاتا ہے وہ بلوچ تنظیموں کو دہشت گرد ظاہر کرنے کے لئے میڈیا میں پروپیگنڈہ کرتا ہے کہ سندھی مزدوروں کو مارا جارہاہے۔ ان ریاستی اہلکاروں کے لئے اپنے حمایتی لوگوں سے ریلیاں اور مظاہرے کرواتا ہے تاکہ بلوچ تحریک کو دنیا بھر میں دہشتگرد ظاہر کریں اور دنیا کو دکھادیں کہ بلوچ عوام پاکستان کے ساتھ ہیں یہ آزادی پسند چند انڈین ایجنٹ ہے جن سے پاکستان کی ترقی نہیں دیکھی جاتی ۔اس لیے وہ بلوچستان میں دہشت گردی کو ہوا دے رہے ہیں۔پاکستانی اداروں نے بلوچ تحریک کے خلاف حالیہ دور میں اپنے پروپگنڈہ مہم کو اور تیز کردیا ہے جب کوئی کمزور لوگوں نے ہتھیار پھینکنے کا عمل شروع کیا تو میڈیا نے اسکی خوب تشیہر کی کہ باغی ہتھیار پھینک کر قومی دھارے میں شامل ہورہے ہیں۔ یہ تمام پروپیگنڈ ے ریاستی مقاصد کے حصول کے لئے کئے جارہے ہیں تاکہ بلوچ تحریک سے عوام بدظن ہو.۔ پروپیگنڈہ کو جس طرح مظلوم نے اپنے مقاصد کو استعمال کرکے سامراجی پالیسیوں کو ناکام بنایا آج بلوچ قومی تحریک کی کامیابی کے لئے یہ نفسیاتی حربہ اہمیت کا حامل ہے اسکا مثبت استعمال بلوچ تحریک کو اپنے مقاصد کے حصول کے لئے بہت کارآمد ثابت ہوسکتاہے۔ جس طرح الجزائر، ویتنام اور دیگر انقلابیوں نے بہتر حکمت عملی اورپروپیگنڈے کا مثبت استعمال کرکے اپنے مقاصد حاصل کئے آج بلوچ بھی اس کا صیح استعمال کرکے عوام اور دنیا تک اپنی آواز پہنچاسکتے ہیں۔بلوچ آزادی پسند تنظیمیں عوام کو شعور یافتہ اور خواندہ بنانے کے لئے موثر حکمت عملی بنائیں تاکہ وہ بھی ریاست پاکستان کے نفسیاتی حربوں کو سمجھ کر انہیں ناکام بنائیں۔ جس طرح ویتنامی انقلابیوں نے اپنے عوام کو پڑھایا اور شعوری طور پر تیار کیا۔آج بلوچ قومی تحریک کی ضرورت ہے کہ بلوچ عوام ریاستی دلال پارٹیوں کے چنگل سے نکل کر بلوچ قومی تحریک میں شامل ہوکر اپنی آوز عالمی اداروں تک پہنچاہیں۔بلوچ سیاسی پارٹیاں عوام کو پروپیگنڈے کے اہمیت سے آگاہ کریں کہ یہ تحریکوں کے لئے ایک اہم ہتھیار ہے اور اس کا صیح اور مثبت استعمال ہمیں کامیابی سے ہمکنار کراسکتاہے ۔

Mentally ill students of Balochistan.

main1

By Shayan Baloch.
         
A friend from Balochistan expressed his reservations regarding educational institutes paralysis under the firm influence of the armed forces and narrated that,  
         “Without knocking the door of my room at University of Balochistan boy’s hostel, initially a constable of frontier crops shoes appeared with a tall height wearing a militia cap, when I gazed towards the man found him holding an AK 47 gun, long armed boots and a wireless set.  Without paying me greet he started watching at all corners of the room. He was probably searching out what would be written on the walls of the room and whose images are fastened.
         
I was stunned over his rude behavior when he asked me harshly to show him my hostel card, he treated me as if I am a terrorist or a suicide bomber and have come to abode here to blow me up. For last few days it was a routine to see them in the hostel premises by interval of time to check the students and their room in order to frustrate them psychology and showing them their presence prevailed in the educational institutes otherwise in such premises where four types of security forces are on the duty line and somehow enormously more than hundreds of CCTV cameras are affixed which apparently began from the entrances of UoB till the doors of the bathrooms. In such a security tight building where as well a wing of frontier crops by the name of Chiltan Riffle present, which always appear to round ups in the premises of the University of Balochistan how could someone enter into the boundary having explosive weapons with, as the frontier crops in the boys hostel were reported to ask the students to take out their guns and other such weapons which may intentionally be used for the propose of terrorist activities.
        Anyways, the army man when founding nothing written and images fastened on the walls of the room, his eyes trapped on the noticeboard where an article written by Nadeem Paracha,  “the journey of an iconic image” published in Sunday Magazine of Dawn on 21august 2016. He asked in a fierce style that, “whose image is this affixed on the notice board”? I replied “I don’t know”, he violently said “how I couldn’t know”, I didn’t answer him this time as I was known about the rude and ferocious behavior of the armed personnel. He took this piece of the article in which the image of Che Guevara was drawn and forcedly fixed in his fist until it folded and thrown it out. When stepping out from the room he threatened to not affix such images and most especially ordered not stick the images of Baloch nationalists.
         This less presumed manner of the armed personnel reminded me the brutal killing of a student Mashaal Khan who was studying in the Wali Khan University of Mardaan, KPK. After his slaying when the hostel room was investigated there appeared the bearded man, revolutionary leader Ch Guevara, Fidel Castro and Nawab Akbar Khan Bugti whose images are today unbearable because they fought against tyrannies and injustices. It assisted me to conclude that behind the brutal killing of Mashaal Khan there was only the reason he was a follower of those revolutionaries whose images are under the siege.
      I am surprised that university of Balochistan is a paramilitary camp or an educational institute. Where routinely the personnel of frontier crops misbehave with students and teachers, but no one even the concerned administrators seem completely powerless to ask them what they are doing with the students in the premises of the UoB. This what the educational institutes in Balochistan are under the siege, students are getting fed off and being mentally tortured by intervention of the armed personnel in the educational buildings. Not only university of Balochistan, every institute in Balochistan is entirely paralyzed owing to intervention of the armed forces”.

کوامے نکرومہ کی جدوجہد

kwame-nkrumah

تحریر :مزار بلوچ
اس دنیا میں 7ارب سے زائد انسان بستے ہیں۔لیکن ان میں سے بہت کم ایسے انسانوں نے جنم لیا کہ جنہوں نے اپنی زندگی انسانوں کی خوشحالی اور انسانیت کی دفاع کیلئے قربان کردی ہیں۔ تاریخ ہمیشہ اُن انسانوں کو سنہرے الفاظ میں یاد کرتی ہیں جنہوں نے اپنے کردار سے پوری انسانیت کو روشناس کیا ہو ایک انسان دوسرے انسان کو اندھروں سے نکال کر روشنی دھکائے وہ انسان کبھی مرتا نہیں۔ روشنی پھیلانے والے انسان جسمانی طور پر جدا ضرور ہوتے ہیں لیکن ان کے کردار ان کی سوچ ،فکرو فلسفہ ہمیشہ زندہ رہتی ہیں،جن میں سے ایک مغربی افریقہ کا ملک گھانا (گولڈ کوسٹ ) کے قومی ہیرو کوامے نکرومہ ہیں۔ جنہوں نے سفید سرمایہ دار سمیت سامراجی طاقتوں کے سامنے کبھی سر جھکانا نہیں سیکھا بلکہ ہمیشہ سینہ تان کر ڈٹے رہے۔ نکرومہ کی جدوجہد صرف گھانا کے عوام کیلئے نہیں تھی بلکہ نکرومہ کی جدوجہد آل افریقن سمیت پوری دنیا کے مظلوم انسانوں کیلئے تھی۔ اپنی تمام زندگی میں سامراجی طاقتوں سے غلامی کے خلاف جدوجہد کرتے رہے اور تاریخ کے سرخ پنوں میں ہمیشہ کیلئے امر ہوگئے دنیا میں جہاں بھی مظلوم ا قوم سامراجی طاقتوں کے خلاف جدوجہد کرتی ہیں یا کررہی ہیں اُن مظلوم قوموں کیلئے کوامے نکرومہ کی فکر و فلسفے پر عمل کرناہی نجاتِ راہ ثابت ہوسکتی ہیں ۔ 
افریقی سرزمین پوری دنیا میں معدنیات کی دولت سے مالا مال خطہ ہیں۔ پندرویں صدی میں پرتگیزی سامراج نے مغربی افریقہ کی سرزمین پر اپنے قدم جمانا شروع کردی اور 1471 ء میں (گولڈ کوسٹ ) گھانا پر قابض ہوگیا ۔ گھانا جو زری اجناس ، کوکو ، ناریل ، کافی ،ربر ، سونے ، ہیرے ، باکسائٹ ، نکل ، لوہے اور کئی معدنیات سے مالامال سرزمین ہے۔ پرتگیزی سامراجوں کی گھانا میں معدنیات کی لوٹ کھسوٹ سمیت انسانوں کی غلامی کا کاروبار بھی برابر چلتا رہا۔ کئی صدی تک گھانا کے باسی پرتگیزی سامراجوں کے ہاتھوں پستے گئے اور 1874 ء میں برطانوی سامراج نے گھانا پر قبضہ کرلیا۔ جس طرح پرتگیزی سامراج افریقہ کی سرزمین کو لوٹتے رہے اسی طرح برطانوی سامراج نے بھی افریقہ کی سرزمین کے معدنیات کو لوٹ کر اپنے ملک کے معاشیات کو مضبوط کرلیا ۔ 
کوامے نکرومہ 1909 ء میں پیدا ہوئے اس وقت گھانا سامراجی طاقتوں کے بوجھ تلے غلامی کی چکی میں پس چھکا تھا ۔ نکرومہ نے ابتدائی تعلیم عکرہ کے ایک مشن اسکول میں حاصل کی 1931 ء میں Achimota کالج سے گریجویشن کیا اور ایک اسکول ٹیچر کی حیثیت سے ملازمت کا آغاز کیا۔ 1935 ء میں نکرومہ مزید تعلیم کیلئے امریکہ چلے گئے لنکن اور پنسلوینیا یونیورسٹی میں دس سال تک تعلیم حاصل کی۔ نکرومہ نے طلبہ سیاست اور امریکہ کے سیاہ فام باشندوں کی تحریک میں بھی بھرپور حصہ لیا۔ نکرومہ افریقی طلباء یونین کے نائب صدرطور پر سرگرم رہے اس دوران وہ ’’ڈی سرکل ‘‘ کے نام سے ایک ایسے گروپ کی قیادت بھی کرتے رہے جس نے گھانا کی آزادی کے حصول کیلئے خود کو ایک سیاسی جماعت میں ڈھالنا تھا۔ اسی زمانے میں نکرومہ کی پہلی کتاب ’’نوآبادیات آزادی کی جانب ‘‘ شائع ہوئی ، کچھ عرصے تک لنکن یونیورسٹی میں پولیٹیکل سائنس کے لیکچرار کے طور پر پڑھاتے رہے اور بعدازاں لندن چلے گئے جہاں اکنامکس یونیورسٹی سے ڈاکٹریٹ کیا ، 1947ء میں نکرومہ اپنے وطن لوٹ آئے اور سیاست میں حصہ لینا شروع کردیا اسی سال گھانا کے قوم پرستوں کی سیاسی جماعت ’’یونائٹیڈ گولڈ کوسٹ کنونشن ‘‘ کے سیکریٹری جنرل مقرر ہوئے ۔ 
کوامے نکرومہ کی قیادت میں تحریک آزادی کی جدوجہد میں عوام کی مقبولیت میں تیزی آتی گئی ۔ نکرومہ کے ساتھ پارٹی کے ایک اہم رہنما جوزف ڈانکوش کو سیاسی سرگرمیوں کی پاداش میں 1948 ء میں گرفتار کرلیاگیا ۔ عوام کی بھرپور احتجاج سے ایک سال بعد جب رہا ہوئے تو دونوں کی سیاسی راہیں جدا تھیں جس کی بنیادی وجہ ’’ یوئیٹڈ گولڈ کوسٹ کنونشن ‘‘ ناکام پالیسیاں تھی، نسل پرستانہ رجحانات بڑھنے لگے ،طبقاتی جدوجہد کے حوالے سے پارٹی خاموش تھی، جب کہ کوامے نکرومہ مارکس ازم ، لینن ازم کی تعلیمات سے ہی قومی اور طبقاتی جدوجہد کو لازم و ملزوم سمجھتے تھے ، یہی وجہ نکرومہ کی پارٹی سے اختلافات کے تھے ۔ 
اسی تناظر سے 1949 ء میں نکرومہ نے ایک انقلابی جماعت ’’ کنونشن پیپلز پارٹی ‘‘ کی بنیاد رکھی ، 
نکرومہ کی انقلابی جماعت میں تمام طبقے کے لوگ شامل ہوگئے ۔ گھانا کے مزدور ، کسان ، دیقان سب نکرومہ کی قیادت پر فخر کرنے لگے ، 1950 ء میں نکرومہ کی اپیل پر گھانا کے عوام نے سول نافرمانی کی تحریک شروع کی جس سے برطانوی سامراج کی نیندیں حرام ہوگئی اور نکرومہ کو بغاوت کے جرم میں گرفتار کرلیا گیا لیکن نکرومہ کو جلد ہی عوام کے بے پناہ دباؤ اور احتجاج کے بعد رہا کر دیا گیا ۔ 
1951 ء میں انگریزوں نے گھانا میں نیا آئین منظور کیا جس کے تحت عام انتخابات کا اعلان ہوا ، نکرومہ کی’’ کنونشن پیپلز پارٹی ‘‘ ان انتخابات میں ایک بڑی قوت کے ساتھ آئی اور مرکزیت میں وزارت بنائی ۔ 
کوامہ نکرومہ پوری دنیا میں سیاست کے حوالے سے محارت رکھتے تھے، اتنا ہی جنگی محاذ پر قابلیت رکھتے تھے۔ گھانا میں مسلح محاذ پر گوریلوں کی تنظیم کاری، انھیں تنظیمی نظم و ضبط کا پابندی، دیہی و شہری علاقوں میں گوریلوں کی تربیت کرنے طریقے سب نکرومہ نے انجام دیئے ہیں ۔
6 مارچ 1957 ء کو گولڈ کوسٹ اور برٹش ٹو گولینڈ پر مشتمل گھانا کی آزاد ریاست وجود میں آئی اور کوامے نکرومہ آزاد گھانا کے پہلے صدر منتخب ہوئے ۔ 
نکرومہ ہمیشہ سے سامراج کے خلاف بغاوت کیلئے ہر وقت سرگرم رہا ہے۔ نکرومہ کی صدارت میں گھانا کی تعمیر نو اور ترقی کی رائیں پیدا ہونا شروع ہوگئے۔ عام عوام کی زندگی میں تبدیلیاں آئی ، نکرومہ کی کوششوں کی نتیجے میں دسمبر 1958 ء میں گھانا کے شہر عکرہ میں ’’ آل افریقن پیپلز کانفرنس ‘‘ منعقد کی گئی۔ جس میں افریقہ بھر سے انقلابی قائدین نے اپنے وفود کے ساتھ شرکت کی ۔ یہ تمام قائدین جو سامراج دشمن اور اپنے ملک میں سوشل ازم کے پیروکار تھے نکرومہ خود بھی ایک سچا سوشلسٹ تھا اور 1960 ء میں نکرومہ نے گھانا کو عوامی جمہوریہ قرار دیا ۔ 
(1961 ء میں کوامے نکرومہ نے افریقی اتحاد کے موضوع پر ایک مشہور تقرر بھی کی تھی ) 
نکرومہ افریقہ کو ایک وطن سمجھتے تھے اور اس کی یونین کے حامی بھی تھے ۔ نکرومہ کی کوششوں سے جمہوریہ گنی کے صدر احمد سیکوطورے اور مالی کے صدر موویبوکیتا کے ساتھ ملکر تینوں ممالک پر مشتمل افریقی یونین تشکیل دی۔ لیکن کچھ عرصے بعد پیچیدگیوں کی وجہ سے ختم کردیاگیا ۔ 1962 ء میں گھانا کی قومی اسمبلی نے نکرومہ کو ملک کا تاحیات صدر منتخب کیا ۔ سامراج نے اپنے گماشتہ کے ذریعے اسی سال نکرومہ پر دو قاتلانہ حملے بھی کروایئے لیکن ناکام ہوگئے۔ نکرومہ کی شہرت گھانا سمیت افریقہ اور دنیا بھر پھیل چکی تھی گھانا ترقی کی راہ پر گامزن تھا ۔ اشتراکی نظریات اور سوشلزم میں سامراج کواپنے مفادات کبھی حاصل نہیں ہوتے نکرومہ کے افریقہ سمیت پوری دنیا میں سوشلسٹ ممالک کے ساتھ دوستانہ تعلقات تھے اور سامراجی قوتیں کبھی بھی نہیں چاہتے کہ گھانا سمیت افریقہ میں اقتدارکے مالک اشتراکی نظریات اور سوشلزم کے حامی ہو ۔ لیکن کوامہ نکرومہ اچھی طرح یہ جانتا تھا کہ سامراج اتنی آسانی سے افریقہ کی سرزمین چھوڑنے کو تیار نہیں ہے۔ نکرومہ نے افریقہ میں جتنے بھی تحریکیں سامراجی قوتوں کے خلاف اٹھی ان میں اپنا بھرپور کردار ادا کیا ۔ کوامے نکرومہ نے سوویت یونین ، چین ، مصر سمیت متعدد افریقی ممالک کے دورے بھی کیے ۔ 1964 ء میں جب نکرومہ نے گھانا کو سرکاری طور پر یک جماعتی ریاست قرار دیا تو سامراجی طاقتوں کی ایماء پر مقامی گماشتوں نے نکرومہ کے خلاف ایک پروپیگنڈا مہم شروع کی لیکن اس پروپیگنڈا مہم کو عوامی حمایت حاصل نہ ہوسکی۔ کیونکہ عوامی قوت تو نکرومہ کے ساتھ تھی جو عوام صدیوں سے سامراجی طاقتوں کی چکی میں پس رہی تھی وہ عوام کیسے اپنے قومی ہیرو کے خلاف سامراج کے پروپیگنڈا کا حصہ بنتے جس نے گھانا کے عوام کی غلامی کی زندگی کو ہمیشہ کیلئے ختم کردیا تھا ۔
فروری 1966 ء میں نکرومہ شمالی ویت نام کے دورے پر تھے ’’ ویتنامی امن منصوبے ‘‘ پر کامریڈ ہوچی منھ سے تبادلہ خیال کی ، اس موقع پر سامراجی گماشتہ غدار فوجی دھڑا جس کی قیادت لیفٹیننٹ جنرل جوزف انکرہ تھے نکرومہ کی حکومت کا خاتمہ کردیا اور گھانا میں پہلی فوجی آمریت قائم ہوئی ، فوجی آمریت نے سب سے پہلے نکرومہ کی پارٹی ’’ کنونشن پیپلز پارٹی ‘‘ پر فوری پابندی عائد کردیا اور اس کے رہنماوں اور کارکنوں کے خلاف ریاستی ظلم و جبر کا آغاز کردیا گیا ۔ 
فوجی بغاوت کے بعد نکرومہ کچھ وقت چین میں رہے اور پھر جمہوریہ گنی چلے گئے جہاں ان کا بھرپور استقبال انقلابی صدر احمد سیکو طورے نے کیا ۔ احمد سیکوطورے نے کوامے نکرومہ کی جدوجہد کو خراج تحسین پیش کرکے نکرومہ کو جمہوریہ گنی کا اعزازی مشترکہ صدر بنانے کا بھی اعلان کردیا۔جمہوریہ گنی کے عوام نے اس اقدام پر مثالی جشن منایا کیونکہ جمہوریہ گنی کے عوام کیلئے بھی نکرومہ قومی ہیرو تھے۔ 
63 سال کی عمر میں کوامے نکرومہ 1972 ء میں رومانیہ کے شہر بخارسٹ میں وفات پائی جہاں وہ کینسر کے علاج کی غرض سے مقم تھے۔ سامراجی طاقتوں کیلئے بڑی خوشی کا دن تھاکیونکہ اُن کی استحصالی عزائم کی راہ کا سب سے بڑا رکاوٹ ہمیشہ کیلئے اس دنیا سے فنا ہو گیا اور جوتمام مظلوم انسان امن کے داہی تھے آزادی چاہتے تھے انسان دوست تھے نکرومہ کو اپنا ہیرو مانتے تھے اشکبار ہوئے اور اپنے ہیرو کی جدوجہد کو سرخ سلام پیش کیا ۔ 
ہماری فتح نہ صرف ہماری بلکہ سارے انقلابیوں ، کچلے ہوئے لوگوں اور استحصال کے شکار عوام ، جنھوں نے سرمایہ داری ، سامراجیت ، جدید نوآبادیاتی نظام کو للکارا ہے ان کی فتح ثابت ہوگی ۔ کوامے نکرومہ ۔

شہید سنگت راشد بلوچ

Untitled-24

تحریر: شاشان بلوچ
دوست معاف کرنا یہ غلامانہ معاشرہ ہے یہاں محبت نہیں بلکہ لوگوں کو نفرت سیکھایا جاتاہے، کیونکہ غلامانہ فطرت ایسا ہی ہے۔ لیکن افسوس اس بات کاہے کہ یہاں محبت سیکھانے والے کو مجرم قرار دیتے ہیں،پتہ ہیں کیوں؟ کیونکہ ”محبت ایک حقیقت ہے”……محبت کا وجود ہے ،اور نفرت ایک جھوٹ ہے۔نفرت کا کوئی وجود ہی نہیں ہے۔یہاں قبضہ گیر نے نفرت پھیلانے کیلئے سارے معاشرے کو بے حس کرکے ایک ایسے ماحول کی تعمیرکی ہے کہ یہاں محبت اور پیار دینے والوں کو موت کی سزا سنائے جاتے ہیں۔محبت کرنے والوں اپنے پیاروں سے جدا کئے جاتے ہیں۔محبت کرنے والوں کو غائب کرکے معاشرے کے اندرنفرت اوردہشت پھیلانے والوں کی شے دیا جاتا ہے ۔ محبت ایک ایسی قوت ہے جو سات سمندر بھی پار اپنی کشش سے لوگوں کو اپنی طرف کینچ لاتا ہے ۔یہ ایک ایسی شے ہے جو لوگ خود سیکھتے ہیں۔وہ اسلئے کہ محبت وجود رکھتا ہے۔محبت ایک سچ ہے۔محبت لوگوں کے دلوں میں ایک مضبوط بیسراقائم کر چکا ہے ۔
ہمبل پتہ ہے غلامی، نفرت، جھوٹ یہ سماج پر زبردستی مسلط کیے جاتے ہیں اکثر یہ غلامانہ معاشرے کے حصے ہوتے ہیں ،جو سامراج کی دیے ہوئے لعنت ہوتے ہیں۔
سنگت غلامی اس تاریک رات کی مانند ہیں کہ وہاں پہ کوئی چیز ظاہر نہیں ہوسکتا۔اگر کوئی معاشرہ غلام ہوتا ہے وہاں سب چیزیوں پر اندھیری راج ہوتا ہے ،اور وہاں کے لوگوں کے خیالات اورسوچ بھی روشنی سے عاری ہوتے ہیں۔وہ کوئی حقیقت کو ماننے کیلئے کھبی بھی تیار نہیں ہوتے ہیں اور اس غلامی کی وجہ سے نفرت، جھوٹ ،دھوکہ بازی وغیرہ جنم لیتے ہیں…..!!!
سنگت آپ کے دیس بلوچستان میں منشیات بیچنے والوں کی سرپرستی کی جاتی ہے لیکن کتابوں کی دکانوں پر پابندی لگی ہوئی ہے۔ بلوچستان میں کتابیں پڑھنے والے چوری چھپکے سے کتابیں خرید تے ہیں اگر کوئی کتاب پڑھنے یا بیچنے والا پکڑا گیا اسکی لاش ویرانوں جنگلوں میں ملتا ہیے۔ 
کامریڈاگر آپ کواپنے عوام میں محبت کی درس دینامقصود تھی تو کیوں آپ نے یہ کام چپکے سے نہیں کیا؟ ہمبل یہاں آپ جیسے لوگوں کو ریاست کیسے برداشت کرسکتاہے ۔آپکا نام بھی تھا راشد، پتہ ہے راشد کا لفظی معنی کیاہے؟ہدایت کرنے والا،سبق دینے والا،سچ کی راہ پر اُکسانے والا ہے ۔راشد یہ قابض ریاستیں غلامانہ ماحول، نفرت ،جھوٹ، دھوکہ بازی ،اورمکاری کو برداشت کرسکتے ہیں۔یہاں پہ کوئی سچ کو مانے کیلئے تیار نہیں ہیں ۔یہ معاشرے کے لوگوں کا کوئی قصور نہیں ہے کیونکہ ان کو بندوق کی زور سے خاموش کیا جاتا ہے ۔
سنگت غلامانہ نفسیات بھی ایسا ہے کہ دنیا میں اگر کوئی طاقت وجود رکھتی ہے تو وہ بندوق ہے ۔انہیں محبت کی طاقت،علم کی طاقت،عوامی طاقت،عورتوں کی طاقت اور نوجوانوں کی طاقت کا بلکل بھی پتہ نہیں ہے ۔
کامریڈ غلام قومیں تاریکی اور روشنی کی فرق کو جانتے ہیں لیکن اُن لوگوں میں بیان کرنے کا ہمت ہی نہیں ہے۔ اسلئے کہ اُن لوگوں کو موت کا ڈر ہیں کیونکہ موت ایک حقیقت ہے ،ایک سچائی ہے ،لیکن غلام قوموں کو ہمیشہ موت کے نام پر خوفزدہ کیا گیا۔ کیونکہ قبضہ گیر محکوام اقوام کو نفسیاتی حوالے سے غلام بناتے ہیں، لیکن جس دن غلام قوموں کو غلامی کا احساس ہوگیا اُس دن غلامی خاتمہ شروع ہوگیا۔
راشد جب آپ نے حقیقت کی بات کی ،محبت کی بات کی، اپنے حق مانگنے کا دعوی کیا ،ایسے ریاست جن کی بقا آپ اور آپکی قوم کا اندھیروں میں رکھنے میں پنہاں ہے۔اس لئے آپ جیسے نوجوانوں کو برداشت نہیں کیا جاتا ہے ،ایسے نوجوانوں سے دو طرح کے سلوک آج کل عام ہے وہ یہ کہ یا تو اُسے اغوا کرکے لاپتہ کردیا جاتا ہے یا پھر آپ کی طرح ٹارگٹ کلنگ کے ذریعے شہید کیا جاتا ہے ۔ راشد آپ نے آزاد بلوچستان کی آزادی کی مانگ کی تھی۔اس مانگ کے تحت آج ہزاروں کی تعداد میں آپ جیسے نوجوان شہید کیے جا چکے ہیں اور ہزاروں کی تعداد میں لاپتہ ہیں۔یہاں آپکی اس حقیقت کو مانے کیلئے کوئی تیار نہیں ہے اسلئے انہوں نے آپ کو شہید کرکے ہم سے جدا کردیا ۔راشد یہ ہیرامنڈی کے فوج کو کیا پتہ کہ راشد ایک سوچ ہے ایک نظریہ ہے ۔سوچ اور نظریہ کو کوئی ختم نہیں کرسکتا ۔ راشد آپ توتاریخ کے اوراخ میں ہمیشہ کیلئے امر ہوگئے ہو مگر وہاں سے آپ ہی کے کچھ دوست تاریخ میں لعنت کے حق دار ٹہرے ہیں۔سنگت آپ نمیران ہے مگر وہ زندہ ہو کر بھی مر چکے ہیں ۔

جنگ تاسی اوڑ ءِ جنگ ءُ جنگ کنوکیں سنگتانی وت مہ وتی گپ ءُ تران۔

bla-fighters
قمربلوچ
تاسی اوڑ ءِ جنگ ءْ جنگ کنوکیں سنگتانی وت مہ وتی گپ ءْ تران۔
(اے جنگ ءِ آسرءَ چار بلوچ پسگ شہید بوتگ)
قمربلوچکمانڈو:(کمانڈو سنگت ءِ کوڈ نام انت ءْ اے جاور آئی چم دیستگیں کسہ انت ،آ ہمے آپریشن ءَ گوں بوتگ ،بلے وتی جنگی ہنر ءُ 4 بہادریں سنگتانی سوبءَ پشت کپتگ ءْ روچ ء مرچی جنگ ءِ بہر انت۔) سنگتاں ہیلی توار انت ءْ توار ءَ چہ زانگ بیت کہ باز انت۔
ملا دیدگ :(شہید نسیم جان ءِ کوڈ نام ملا دیدگ بوتگ ملا جان کیمپ کماندار بیتگ )سنگتان وتارا تیار بہ کن انت ،من اے ناناں گیشن آں کایاں،فیروز (شہید داد جان ءِ کوڈ نام انت) تو سنگتان بزور دیما برو۔ من کمانڈو ءَ زوراں کایاں۔ چراگ (شہید سیلم جان ءِ کوڈ نام انت )دیما انت۔آئی ءَ بہ گوش اے سنگتاں بزو دیما برو۔ پما ودار مکن انت ما وتی دڑا در کپیں۔
داد بکش : جی شر واجہ۔سنگتاں وتی چاگلاں آپ کن اِت۔
(ہیلی سر بنت ،شیلنگ ءْ ماٹر جنئگ بندات کن انت۔ملا وتی ڈنگر ءِ دیما گوں ہیلی آنی ایر کرتگیں فوجی کمانڈو آں کنت کہ آئی ءِ سنگت چہ کوہ ءَ ایر بئیت ءْ آئی ءِ کرا سر بہ بیت ءْ آ بر و اَنت۔
چراگ: ہاں داد بخش جنگ ءِ ھالاں بدئے ملا دیدگ جان کج اِنت؟
داد بکش:ہیلی آں ٹیڈ ءِ سرا ارش کرْتگ ،کمانڈو ٹیڈءَ انت۔
کندیل :(شہید حکیم جان ءِ کوڈ نام انت )ملا ءَ گشت کہ من کمانڈو ءَ چاراں۔شما ادا چہ دیما برو اِت۔
چراگ:دادو تو اے ڈِپ ءِ سرءَ بنند من ءْ کندیل ملا ءَ چاراں،ساچان توگلام ءْ اْستاد کمو دیم ءَ برو اِت۔ شما تاں دیم ءِ چوٹ ءَ بورواِ ت۔ما کائیں شمارا رسینیں۔ بلے اوشتگ ءِ کار ءَ مکن ات۔
کندیل : منی ہیال ءَ آ اِنت کمانڈو پیداک انت۔
چراگ: ہاں کمانڈو جنگ ءْ ملا ءِ ہالاں بدئے ؟
کمانڈو: ملا ءَ جنگ داشتگ منارارکینتگ ءِ ے۔ہیلی باز انت۔ فوجی اش ہم جہلا دور داتگ اَنت۔ ملا جنگ ءَ انت ءْ ملا ءَ منی ڈنگر زرتگ دو فوجی ءِ ے ہم جتگ۔ بلے وت تیر ءِ ے وارتگ۔ منا گوشتگ ءِ ے تو برو۔
چراگ : تو دیما برو اْستاد،غلام ءْ ساچان ءَ بہ سین۔ ما ملا جان ءِ ھال ءَ گریں کائیں۔کندیل آفوجی آں سینپر بہ کن۔ من رواں ملا ءِ نیمگ ءَ داد دوست تو ہمدا بو۔
دادبکش : جی واجہ من وادر کن آں۔
چراگ : کندیل بریں۔
کندیل : بلے واجہ اے منی ہیال ءَ جنئگ بوتگ انت،یا وتارا چیر اش دتگ۔
چراگ: سلامت بات ئے منی شیریں ملا جان سک جنگ ء انت کہ توپانی توار اِنت۔
کندیل : ہو واجہ ملا ءَ ڈنگر گوں انت۔ڈنگر وتی کار ءَ کنت۔
چراگ:راست گوش ءِ ے منی شیر۔ تو نی ہمدءَ ودار بہ کن۔من رواں ملا جان ءِ ہال ءَ گراں پدا کایاں۔تو فوجی سنیپر بہ کن۔ من دیما رواں باں۔
کندیل: جی شر واجہ اللہ ءِ باہوٹ ئے۔
ملا ءِ ڈنگر ءِ توار انگت ہست انت ،ملا ءَ جنگ داشتگ۔
چراگ : ہاں ملا جان ھالاں بدئے چونئے ءْ تیر کجا وارتگ۔ اتک کنئے ؟بیامن ترا بڈا کناں دیم ءَ رویں۔
ملا دیدگ جان:پْل من باز تیر وارتگ نی اتک نہ کناں۔ تو اے ڈنگر ءَ بر گوں 20تیر پشتکپتگءْ ہما سنگتانی ہیال ءَ بدار آ نوک انت۔ ساچان ءْ گلام ءِ ہالاں کن کمانڈ سر بوت پہ سلامتی؟
چراگ: ہو ملا جان آ سر بوتگ۔ آرا من نوکیں سنگتانی ہمراہ کتگ !
ملا جان:چراگ منی پْل تو برو۔تانکہ منی تپنگ ءِ دپا تیر مان انت زندگ ءَ دستگیر نہ بیت ملا۔برو اللہ ءِ میار ئے۔ سنگتاں سلام کن۔ واجہءَ را بہ گوش ئے من جنگ کْتگ ،4فوجی کشتگ ءْ دو زدگ کْرتگ۔
چراگ :شر ملا جان تو ہم دینار،لالجان،نوروز،شہزادءْ سنگتان سلام بہ کن۔
کندیل:واجہ ھال کن چو ن اَت ملا جان ؟
چراگ: تیر ءِ ے باز وارتگ بلے جنگ ءِ ے داشتگ۔ بریں دادجان ءِ نیمگ ءَ ۔
کندیل: جی ہو بریں کہ داد جان ءِ کرا فوجی سر انت جنگ ءَ اِنت۔
چراگ من پیسر باں۔ تو کور ءَ آیان بہ کن۔ انگو ہیلی اتک نہ کن انت۔ایشانی فوجی پیداک انت۔ ہاں دادپْل چونئے؟
داد بکش :من وشاں۔ادا ہم شوم اتگ اَنت۔ بے وار ایش کرْتگ من دو جتگ بلے باز انت۔
چراگ:کندیل تو دیم ءَ سنگتانی ءَ برو من ءْ داد دوست کایاں۔
کندیل :من واجہ تیر وارتگ شت نہ کناں۔ من جنگ دیاں، شما برو اِت۔
چراگ :اڈے چون کدی ،کجام جاگہ ءَ ؟
کندیل:چپیں دست ءِ چیرا۔کندیل ہندگے جنت ءْ ہمدا کپیت چراگ چارگ ءَ انت۔اودا دینار،سلار،شہزاد،شمبو ءْ مجاہد ودار ءَ نشتگ انت کہ سنگتے الم کئیت مارا جنگ ءِ ھالاں دنت۔تمردانی کسہاں کاریت۔
چراگ: داد پْل بروان سنگت ءِ تپنگ ءَ بزور سنگتانی ءَ رویں۔ نوکین سنگت انت راھاں رد مکن انت۔
داد بکش : بلے واجہ بریں۔
کمانڈو سنگت زرتگ انت چہ وتارا دشمن ءِ گیرا کش اتگ۔ بلے پہ وتی کماندر ءْ سنگتان بے تاہیر انت۔ہمے جیڑگ ءَ انت کہ پدا واتر بیں دیم؂
پہ سنگتاں رادگ بیں۔
داد بکش :واجہ ہیلی آں مارا دیست کمانڈو ایر کنگ ءَ انت۔ کمو ہمدا جل ایں، توپنگ ءَ چٹے جن ایں پدا مارا جنگے دیم ءَ کپتگ۔
چراگ : جوان پْل من وتی تپنگ چٹ جتگ۔ڈنگر ءِ 5تیر پشتکپتگ ،ڈنگر چِٹ جنئگ لوٹیت۔بیا اے گز ءِ توکا تاکہ ما اندیم بہ بیں۔
داد بکش: جی شر واجہ من کایاں، بلے اشاں مارا دیست تیر جنئگ ءَ انت۔
چراگ : تو پل بیا کمو دم بہ کن۔چراگ ءَ ڈنگر ءِ پنچیں تیر جت انت فوجیاں تیر ءِ جنئگ بند کْت،داد دوست ءْ چراگ در کپت اَنت دیم پہ سنگتان بلے ہیلی آنی شیلنگ ایشانی ہمرائی گون اتنت۔کمانڈو پہ سنگتا ں چک ءْ پد ااَت۔ہمے میان ءَ داد دوست ہم تیر وارت زدگ بیت۔بلئے انگت چراگ ءِ ہمراہ اَت۔
داد بکش : واجہ تو سنگتاں بر۔ نی ہیلی مارا نہ گند اَنت۔ من آہستہ آہستہ کایاں۔
چراگ : شر منی پْل من رواں کہ ہیلی سنگتانی نیمگ ءَ شیلنگ ءَ انت۔
کمانڈو : سنگتاں چراگ جان پیداک اِنت،مئے آپ ھلاس بوتگ انت آپ اِش گون۔
گلام: اللہ ءِ ے بیاریت۔آ مئے حوصلہ بیت ،پرچہ کہ پہ سرمچاراں آئی ءِ کماندار مدام حوصلہ مندی ءِ چیدگ اِنت۔ہنچوکہ پہ کارکنان آوانی لیڈر ءِ ساڑی بوہگ آوان مضبوط کنت ،کسانین ذھگ ءِ واستہ ماس ءْ پس حوصلہ ءِ چیدگ انت۔
چراگ:ہاں کمانڈو ھال کن ترا تئی سنگت گونانت ؟،شما چون اِت ؟شمے آپ ھلاس بوتگ انت ؟ منا آپ گوں انت بزور آپاں سنگتاں آ بدئے۔گلام،ساچان شما چون ات؟چراگ کندگے جنت گشیت سنگتاں ہمیش انت جنگ۔اگاں مئے سنگت جنئگ مہ بوتین انت۔ بزاں ما دشمن پروش داتگ اَت۔ بلے ملا جان ،کندیل جان شہید بوتگ انت ما ہم دشمن جتگ۔مرچی لاہور ءْ پنڈی ءِ گسان ہم واہ ءْ زاری بیت۔ مئے مات نازینک جن انت ءْ آیانی پْرس دارنت۔ما پہ یک عظیمیں مقصدے ءِ واستہ شہید باں۔آ بیچارگ پہ 20000ءَ ۔سنگتاں شما آپ بور اِت۔من رواں فیروز جان ءَ تیر وارتگ پیداک انت کاران ءِ ے۔
ساچان:کمانڈو چراگ جان انت پارینے ؟دیر دیر شہید مسونے ءْ دیر ٹپی اے؟
کمانڈو:پْل ملا ءْ کندیل جان شہید مسونو ،فیروز ٹپی اے،چراگ جان فیروز کے ہنانے۔
وھدے چراگ ادا چہ در کپیت پدا دوئیں نیمگاں جنگ بندات بیت۔40منٹ ءَ تان جنگ بیت۔چراگ جان ءْ فیروز جان شہید بنت۔من(کمانڈو) وتی سنگتان زوریں در کپیں۔جنگ روچے ہفت بج ءَ بندات بوتگ نی مگرب انت بلے ہیلی انگت شیلنگ ءَ انت۔ما سرجمیں شپ ءَ سفر کنیں وتارا دا چہ دور کشیں۔ چارمی روچ ءَ سنگت مارا دست گر انت۔من گڈ سر ءَ جنگ ءَ شہید بوتگیں کماندار ءْ سرمچار یں ہمبلاں سْریں دورت پیش کناں۔

انقلاب ایران

Iran Revolution 1978

تحقیق و ترتیب : مزار بلوچ
کہتے ہیں کہ ایک آزاد ریاست میں عوام کو زندہ رہنے کیلئے تمام بنیادی ضروریات انسانی حقوق میسر ہوتے ہیں۔ آج دنیا میں کچھ ریاستیں ایسے بھی ہیں جو کہنے کو آزاد ہیں لیکن ان کی عوام غلامی سے بدتر زندگی گزر رہے ہیں ان میں سے ایک ریاست ایران بھی ہے۔ جب ہم تاریخ کا مطالعہ کرتے ہیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ ایران کی تاریخ میں اقتدار ہمیشہ طاقتور شخصتیوں کے پاس رہی ہیں۔ جنہوں نے نہ صرف اپنی طاقت میں بے تحاشہ اضافہ کیا بلکہ عوام کوہمیشہ اپنی پاؤں تلے روندتے رہے ہیں۔ رضا شاہ سے لیکر امام خمینی تک عوام کی حالات زندگی میں کبھی بہتری دیکھنے میں نہیں آئی ہے ۔ شاہ کے دور میں حکومتی اقتدار میں شاہ کے اہل خاندان اور شاہ کے من پسند لوگوں کو حکومت میں شامل کیا گیا ، جو شاہ کے ہر فیصلے کا خیر مقدم کرتے رہے ہیں۔ ملک کی اقتصادیات نظام میں کرپشن زوروں پر تھی سیاسی نظام سرے سے وجود نہیں رکھتا تھا، ملکی معاشیات سے شاہ اور اس کے اہل خاندان اور من پسند لوگ مزے لوٹ رہے تھے، عوام کی حالات بد سے بدتر ہو رہی تھی، صنعتی مزدور کسان و دیقان دو وقت کی روٹی کو ترس رہی تھی اگر کسی نے اپنے حق کیلئے آواز اٹھائی تو اسے ملک کے خلاف سازش قرار دے کر اسے زندانوں میں بند کر دیتے یا گولی مار کر ہلاک کردیا جاتا تھا۔ شاہ طاقت کے نشے میں تھا ، شاہ کے استبداد و استحصالی پالیسیاں ہی شاہ کا زوال ٹھرے ۔ جس ملک میں عوام کو بنیادی حقوق نہ ملے، سیاسی نظام نہ ہو، کرپشن زوروں پر ہو، عام عوام تشدد کی ذد میں ہو، وہاں انقلاب لازمی امر ہوتا ہے۔ شاہ کی اقتدارکو ختم کرنے میں سیاسی پارٹیاں ،امام خمینی اور عوام نے اہم کردار ادا کیے ہیں ، شاہ کے اقتدار چھینے کے بعد ایران میں امام خمینی نے اقتدار اپنے ہاتھ میں لیے امام خمینی کو عام عوام اور سیاسی پارٹیوں نے سپورٹ کیا تاکہ ملک میں جمہوری نظام کی بلا دستی ہو عام عوام کی حالات زندگی میں بہتری آئے اور ملک ترقی کرسکے ۔لیکن امام خمینی نے اقتدار اپنے ہاتھ میں لیکر شاہ سے بھی ایک ہاتھ آگے نکل گیا ، پاسدارانِ اسلامی انقلاب کے نام پر اقتدار پر قابض ہوگیا ملکی داخلی و خارجی پالیسیاں سب امام خمینی کے ہاتھ میں آگئے۔ ملکی معاشیات سے امام خمینی اور اس کے من پسند شخص مزے لوٹنے لگے، کرپشن زوروں پر آگئی انقلابی سیاسی پارٹیوں اور پریس کے خلاف قانونی پابندیاں عائد کر دی گئی، عام عوام جس کی حالات شاہ کے دور میں تھی اُس سے بھی بدتر ہوگئی۔ 
قاچاری دور ۔ 
قاچاریوں نے ایران پر سوا دوسو سال تک حکمرانی کی لیکن ایک بھی سرزمینِ ایران کا وفادار نہ ہوا۔ قاچاری اس وقت برسرِ اقتدار آئے جب انقلابِ فرانس کی گونج پورے یورپ کو لرزارہی تھی ۔قاچاری دور میں محمد علی باب کو قتل کر دیا گیا جو بابی تحریک کا رہنما تھا اور بابیوں پر فوج کشی کی گئی جس میں جوان ، بوڑھے ، عورتوں اور بچوں کو بڑی بے دردی سے قتل عام کر دیا گیا قاچاری دور میں ایران پر غیر ملکی کمپنیاں قابض ہوگئی اور ایران میں لوٹ مار کا بازار گرم کرکے عوام کا استحصال کرتے رہے ۔ 
بیداری کی لہر ۔ 
ایران میں بیداری کی لہریں سب سے پہلے آذربائیجان میں اٹھیں جو ایران کا مغربی علاقہ ہے اور جس کی سرحدیں ترکی اور روس سے ملتی ہیں مرزا جعفر نامی ایک آذربائیجانی نے ایران میں ایک چھاپہ خانہ 1818 ء میں تبریز میں قائم کیا اور اس طرح ایران میں افکارِ جدید کی نشر واشاعت کی داغ بیل ڈالی مغربی علوم کی کتابوں کے ترجمے بھی پہلے تبریز میں ہی شائع ہوئی ، ایران میں پہلااخبار جس کا نام ’ اعلان نامہ ‘ تھا 1837 ء میں محمد علی قاچار کے عہد میں تہران سے شائع ہوا ، کچھ عرصے بعد تہران ، تبریز اور شیراز وغیرہ سے بھی متعدد اخبار اور رسالے شائع ہونے لگے ان میں ملکی اور بیرونی خبروں کے علاوہ ایران میں کرپشن اور زبوں حالی کا تذکرہ ہوتا او ر حکومت پر بھی تنقیدکی جاتی تھی مگر سلطان ناصر الدین شاہ قاچار نے تخت پر بیٹھتے ہی ان تمام اخباروں کی اشاعت پر پابندی عائد کردی لیکن ملک کے کئی ممتاز اہل قلم نے قفقاز ، استبول ، مصر ، لندن ، بمبئی ، کلکتہ اور برلن میں پناہ لیکر وہاں سے اخبار اور رسالے شائع کرنے لگے ، یہ اخبار اور رسالے خفیہ طور پر ایران بھیجے جاتے اور بڑے شوق سے پڑھے جاتے تھے اورسیاسی انقلابی پارٹیوں نے بھی اپنی سرگرمیاں خفیہ طور پر جاری رکھی تھی تاکہ عام عوام سے ان کا رشتہ مضبوط ہو اور عوام شاہ کے ظلم و جبر کے خلاف اٹھ کھڑے ہوکر اپنے حقوق کیلئے عملی طور پر جدوجہد میں شامل ہو جائے 
مشروطہ کی تحریک ۔ 
مشروطہ کی تحریک مظفر شاہ کی دور میں شروع ہوئی۔ ایران اس وقت غیر ملکی سرمایہ دار وں کے قرضے سے ڈوب رہا تھا، مہنگائی آسمان کو چھو رہی تھی، تاجر دکاندار اگر سامان مہنگے دام بیچتے تو سرعام کوڑے پڑتے۔ تہران کے حاکم علاؤالدولہ کی ظلم و ستم کے خلاف تاجروں اور علماء دین نے احتجاج کے طور پر 13 دسمبر 1904 ء کو زاویہ حضرت عبدالعظیم میں پناہ لی احتجاجیوں کا مطالبہ فقط یہ تھا کہ علاؤالدولہ کو بر طرف کیا جائے اور مقدمات کیلئے عدالت خانے قائم کیے جائیں ۔ مظفر الدین شاہ کو آخر کار یہ مطالبات ماننے پڑے اور 12 جنوری 1906 کو ایک فرمان شاہی دستخط سے جاری ہوا۔ لیکن اہل بست جب زاویہ عبدالعظیم سے گھروں کو لوٹ آئے تو شاہ اپنے دستخطی اعلان سے منحرف ہو گیا۔ دوسری بست کا آغاز 6 جولائی 1906 ء میں ہوئی ہزاروں تاجروں ادیبوں نے برطانوی سفارتخانے کے احاطے میں پناہ لی مشروطہ کی یہ تحریک ایک ماہ تک جاری رہی اور 5 اگست کو آئین کے حق میں ایک شاہی فرمان جاری ہوا۔ 19 اگست کو ایک مجلس نمائندگان کا قیام عمل میں آیا ستمبر میں انتخابات ہوئے ۔3 ماہ بعد مظفر الدین شاہ انتقال کر گئے اور 19 جنوری 1907 ء کو اس کا بیٹا محمد علی شاہ تخت نشین ہوا ۔مشروطہ تحریک کی ناکامی ایران کی نوآبادتی معیشت تھی جو استعماری طاقتوں کے ہاتھ میں تھی وزارت اور مجلس شورائی دونوں میں عناِن اختیار فیوڈل عناصر کے ہاتھوں میں تھی مشروطہ پہلے ہی دن سے سیاسی اقتصادی بحرانوں میں پھنس گیا عوام کے مسائل جمہوری اقدار فروغ دینا تو دور کی بات مشروطہ کوئی پائیدار حکومت بھی قائم نہ کر سکا ۔ 
امریکی عمل دخل ۔ 
مشرق وسطیٰ میں ایران کو جو اہمیت حاصل ہیں وہ سب جانتے ہیں اس لئے امریکہ کے پالیسوں کے پیش نظر ایران 1942 ء سے امریکہ کے نظروں میں تھا۔ مشرق وسطیٰ میں سعودی عرب کے بعد سب سے ذیادہ تیل ایران کے پاس ہے اس لیے امریکی حکومت یہ کبھی نہیں چاہتا تھاکہ ایران کے تیل پر کوئی اور طاقت قابض ہوسکے خاص کر سوویت یونین ۔لہذا امریکہ نے خلیج فارس کی باقاعدہ ایک کمان بنائی اور تیس ہزار امریکی سپاہی ایران لائے گئے انھوں نے ایرانی بندرگاہوں کی مرمت کی ، ہوائی اڈے بنائے ، سڑکیں تعمیر کیں اور خلیج فارس کے ساحل سے تہران تک ریلوے لائن بچھائی اور بیشتر ان کی سرگرمیاں خلیج فارس کے ساحلی علاقوں تک جہاں تیل کے چشمے ہیں مرکوز رہیں اس کے علاوہ شاہ نے جو بھی قدم اٹھائے ہیں اچھے ہو یا برے امریکہ ہمیشہ شاہ کے ساتھ رہا ، 1946 ء اور 1947 ء میں آذربائیجان اور کردستان کی صوبائی خودمختاری کی تحریکوں کو کچلنے میں امریکہ نے ساتھ دیا ہے ۔ 
پہلوی ریاست کا کردار ۔ 
رضا شاہ پہلوی خود شرکتی سرمایہ دار تھے ریاست وہ خود تھا۔ جس کا کام صرف اپنی سرمائے میں اضافہ کرنا تھا۔ شاہ امریکہ ، برطانیہ اور مغربی جرمنی کی بین الاقوامی کارپوریشنوں کے جونیئرپارٹنر کی حیثیت سے کاروبار کرتے تھے۔ شاہ اپنے ملک میں بورژوا طبقے کے شرکتی سرمایہ داروں کی ہمیشہ حوصلہ افزائی کرتا تھا لیکن ریاستی امور میں شریک کار بنانے کا خیال بھی نہیں کرتا تھا ۔ریاستی امور کے پالیسیاں شاہ اور امریکہ کے ہاتھوں میں تھی ۔رضا شاہ پہلوی 1953 ء میں سی ۔ آئی ۔ اے اور ایرانی فوج کی مدد سے برسرِاقتدار آئے تھے۔ انھوں نے سرمایہ داری نظام کے حدود میں رہ کر ریاست کے استبدادی اداروں کو مضبوط بنایا ہیں۔ 1970 ء میں تیل کی آمدنی بڑی تو رضا شاہ نے اپنی فوجی طاقت اتنی بڑھائی کہ مشرقِ وسطیٰ میں کوئی اس کا ہمسر نہ رہا ۔فوجی آمریت میں ریاست کا کنٹرول فوج کے ہاتھوں میں ہوتا ہے لیکن رضا شاہ ریاست بھی خود تھے اور فوجی کنٹرول بھی شاہ کے ہاتھوں میں تھی جوبھی فوجی یا سیاستدان شاہ کے فیصلوں کے خلاف بغاوت کرتا یا آواز اٹھاتا اسے گرفتار کرکے زندانوں میں ڈال دیا جاتا، جھوٹے مقدمات کے تحت گولی مارنے کا حکم بھی دیتے تھے۔ پہلوی ریاست کے استبدادی ادارے ایران کے علاوہ مشرقِ وسطیٰ میں عمان کے سلطان قابوس کے خلاف ظُفار کے صوبے میں عوامی تحریک شروع ہوئی تو شاہ نے سلطان کی حمایت میں کئی ہزار ایرانی سپاہی اور جنگی اسلحہ عمان روانہ کیے نومبر 1971 ء میں خلیج فارس کے تین جزیروں پر زبردستی قبضہ کرلیا ۔شاہ کی سب سے سفاک استبدادی تنظیم ساواک جس نے ایرانیوں کی زندگی عذاب بناکر رکھ دی جس نے ظلم کی انتہا کردی ہے کئی ہزار بے گناہ شہریوں کے قتل سے اپنی تاریخ رقم کردی ہے۔
پہلوی دور کی سیاسی تنظیمیں 
1920 ء میں تودہ پارٹی قائم ہوئی مگر 1928 ء میں تودہ پارٹی پر پابندی عائد کردی۔ رضا شاہ اول کی معزولی کے بعد تودہ پارٹی کے علاوہ ایران پارٹی ، فدائیان اسلام ، نیروئے سوم ، حزب زحمت ، کشان ملت ایران ، اور پین ایران پارٹی وجود میں آئی جبہ ملی ( نیشنل فرنٹ ) اکتوبر 1949 ء میں بنا مگر کئی پارٹیوں کا متحدہ محاذ تھا جس کے بانی ڈاکٹر مصداق تھے ، یونیورسٹی کے کئی طلباء بھی جبہ ملی کی سیاسی جدوجہد میں برابر ساتھ رہے ہیں ۔ملیون اور مردم دونوں پارٹی شاہ نے بنائے جو شاہ کے حکم کی بجا آوری کرتے تھے ایران میں سیاسی پارٹیاں بہت کمزور تھی جو عوام کے اندر موجود تو تھی لیکن عوام کو سیاسی طور پر منظم نہ کر سکی ۔ 
ایران کی سوشلسٹ تحریک ۔ 
ایران میں سوشلسٹ نظریات و تحریک سوویت یونین و بالشویک پارٹی کی مرہون منت تھیں کیونکہ سوشلسٹ نظریات ذیادہ تر کارخانوں کے مزدوروں میں پائی جاتی تھی۔ مزدوروں نے اپنی ٹرئیڈیونین بنائے یہ ٹرئیڈ یونین بڑنے لگی ایران میں تمام مزدوروں کی ٹرئیڈ یونین بنی اور اپنے حق کیلئے احتجاجوں کے ذریعہ آواز بلند کرنے لگی ،ان کو سوویت یونین اور بالشویک پارٹی کی مکمل سپوٹ حاصل تھی ۔کیونکہ روسی مزدور آذربائیجان میں تفلس اور باکو کے مقام پر تیل کے ہی کارخانوں میں کام کرتے تھے وہاں ان کا ملنا جلنا ہوتا تھا۔لیکن شاہ یہ ہرگز نہیں چاہتا کہ ایران میں سوشلسٹ نظریات کا پرچار ہو اس لیے شاہ نے جو بھی سوشلسٹ نظریات کی بات کرتا یا اگر ان کی حمایت کرتا تو شاہ کا ظلم اس پر نازل ہوتا شاہ نے ان پر ظلم کے پہاڑ گرا دیے، بہت گرفتار کرلے گئے اور بہت سے ایران چھوڑ کر بیرون ممالک چلے گئے۔ 
انقلابی ہلچل ۔ 
شاہ کے غیر ترقیاتی مصارف اقتصادی بحران 1976 ء ۔ 1977 ء کا بجٹ پہلی بار خسارے کا بجٹ ثابت ہوا جو ڈھائی ارب ڈالر کا تھا۔ ملک بحران میں گرا ہوا تھا عوام بے روزگاری کی چکی میں پیس رہی تھی۔ شاہ اور اس کے اہل خاندان سمیت جو شاہ کے پسندیدہ شخص عوام کا استحصال کر کے مزے لوٹ رہے تھے اور عام عوام پر ظلم کے پہاڑ توڑے جارہے تھے سنسر پر پابندی سیاسی لوگوں کو گرفتار کرکے بند کردینا ظلم اتنا بڑ چکا کہ عوام کے صبر کا پیمانہ ٹوٹ گیا ۔سیاسی پارٹیاں اور عام عوام سڑکوں نکل گئی امام خمینی بھی شاہ کے خلاف عام عوام کو جدوجہد تیز کرنے کی تلقین کررہا تھا ۔ایک طرف شاہ اپنے تخت کو بچانے کیلئے ظلم و تشدد کا استعمال کر رہا تھا دوسری طرف عام عوام سیاسی پارٹیاں شاہ کے ظلم و تشدد کے آگے ڈٹے رہے اور آخر کا ر شاہ کو گٹنے ٹیکنے پڑے 1979ء شاہ کو ایران چھوڑ کر بھاگنا پڑا ۔ 
انقلاب ایران کے محرکات و اسباب ۔ 
شاہ نے ایران میں استبداد و استحصال کی انتہا کردی شاہ اقتدار کے ہوس میں اپنا ہوش کوہ بیٹھا امیروں کی حوصلہ افزائی جو غریب شکایت کرتے انھیں اذیت ناک سزائیں دی جاتی ۔انسانوں کے وحشی درندوں کی طرح تشددکرنا پہلوی سلطنت کا معمول بن گیا تھا ۔کریشن زوروں پر تھی جیتنے بھی شعبے یا محکمہ تھے سب رشوت خوری سے چل رہے تھے۔ سب سے بڑا رشوت خور بدریانت شاہ اور اس کے اہل خاندان کے لوگ تھے جنہوں نے ملک اور عوام کی دولت کو بڑی بے دردی سے لوٹا ۔شاہ اور اس کے اہل خاندان کی ملک سے باہر اثاثوں کی مالیت 22 ارب ڈالر تھی۔ یہ رقم شاہ کو غیر ملکی کمپنی کو ملک جو ٹیکے دیے تھے ان کی کمیشن وصول کی گئی تھی ۔یہ تمام عوامل انقلاب ایران کے بنیادی اسباب تھے ۔ 
ایرانی انقلاب کے نتائج 
ایران کا انقلاب جابر بادشاہ کے خلاف سمیت تمام سامراجی طاقتوں کیلئے بھی بڑا دھچکا تھا ۔ایرانی عوام جو صدیوں سے شاہ جیسے بادشاہوں کی غلامی میں پیس رہی تھی آخر کار اُٹھ کھڑی ہوئی۔ اور شاہ جیسے ظالم بادشاہ کو شکست سے دوچار کر دیا اب شاہ کو شکست دے کر انقلاب ایک قدم آگے تو بڑھی لیکن طاقت کانشہ انسان کو اندھا کر دیتا ہے۔ اسی طرح خمینی بھی طاقت کے نشے میں اندھا ہوگیا۔ شاہ نے ایرانی عوام پر جو ظلم و جبر کئے تھے اسی طرح خمینی بھی ایک ہاتھ شاہ سے آگے نکل گیا۔ انقلاب سے پہلے شاہ نے ایرانی عوام پر ظلم کے پہاڑ توڑے تھے ،ملکی ترقی رک گئی تھی، بے روز گاری اور کرپشن عام تھی ،ملک بحرانی کیفیت سے دوچار تھی، سیاسی کارکنوں کی گرفتاریاں و قتل جاری تھی، پریس و سیاسی پارٹیوں پر خلاف قانون پابندی عائد کردی گئی تھی، عام عوام دو وقت کی روٹی کیلئے ترس رہی تھی، اور شاہ اپنے اہل خاندان سمیت من پسند لوگوں کے ساتھ ایران کی معیشت کو لوٹ کر مزے کررہا تھا ۔عام عوام یہ سوچ کر انقلاب میں شامل ہوگئی کہ آج ہم یہ غلامی کی زندگی گزار رہے ہیں ہما رے آنے والے نسل کو یہ دن دیکھنا نہ پڑے شاہ کے بعد امام خمینی اقتدار پر قابض ہوگیا۔ امام خمینی نے اقتدار سھنبالتے ہی وہی پالیسی اختیار جو شاہ کررہا تھا جو بھی اپنے حقوق کیلئے آوا ز اٹھائے اس کی آواز کو ہمیشہ کیلئے بند کرنا، سیاسی پارٹیوں اور پریس پر پابندی عائد کردی گئی، سیاسی کارکنوں کو گرفتار کرکے قتل کرنا عام ہوگئی، ایرانی عوام جو شاہ کے دور میں ظلم و جبر کی زندگی گزار رہی تھی امام شاہ سے ایک ہاتھ آگے نکل گیا ۔پاسداران اسلامی انقلاب کے نام پر عام عوام سے دھوکا کیا گیا ۔ 
انقلاب کے دوران لوگوں کی زبان پر ایک صرف لفظ شاہ کو تخت سے اٹھنا اور امریکی عمل دخل ختم کرنا تھا۔ عوام اگر اپنے ملک کی اقتصادی بحالی اور ترقی کا مطالبہ کریں تو یہ عوام کا حق ہے اور ایران میں اتنے وسائل تھے جس سے ملکی تعمیر نو اور عوام کی حالات میں بہتری آسکتی تھی لیکن جہاں استحصالی نظام ہو کرپشن ، لوٹ مار ، اورمہنگائی آسمان کو چھو رہی ہو وہاں سماج ترقی کے بجائے پسماندگی کی طرف چلی جاتی ہے ان حالات میں انقلاب ناگزیر ہو تا ہے اور ایران میں انقلاب کا سبب یہی حالات تھے۔ ایرانی انقلاب دراصل سامراج دشمن انقلاب تھا لیکن حالات اس کے برعکس ہوگئے شاہ کے بعد ایران پر خمینی جیسا سامراج قابض ہوگیا عوام کی حالات انقلاب سے پہلے جو تھی ویسے ہی انقلاب کے بعد خمینی کے اقتدار میں آنے سے بدتر ہوگئی ۔انقلاب سوشلسٹ ہو یا اسلامی انقلاب اپنے اصولوں پر قائم نہ رہے وہ انقلاب کبھی کامیاب نہیں ہوتی۔ ایرانی انقلاب جو شاہ کے خلاف شروع ہوئی عوام نے بڑی جرات کے ساتھ اس انقلاب میں اپنا کردار ادا کیا آخر تک لڑتے رہے اور اس انقلاب کو کامیاب بنایا ۔ شاہ جیسے کئی جابروں نے ایران پر حکمرانی کرکے عوام کا استحصال کرتے رہے تھے ۔لیکن اس انقلاب کے کامیاب ہونے پر عوام کے حصے میں کیا آیا عوام تو اپنے بنیادی حقوق کیلئے اس انقلاب میں شامل ہوئی تھی جو ظلم و جبر شاہ نے عوام پر ڈھائے تھے استحصالی نظام ، کرپشن ، لوٹ مار ، تشدد ، بے روزگاری سے عوام کی زندگی عذاب بن گئی تھی انقلاب کے بعد امام خمینی کے اقتدار میں بھی وہی استحصالی نظام ، کرپشن ، لوٹ مار ، تشدد ، مہنگائی اور بے روزگاری عام ہوگئی جو تشدد شاہ نے ساواک کے زریعہ عوام پر کیے تھے وہی تشدد امام خمینی نے پاسدارانِ اسلامی کے زریعہ عوام پر ڈھائے جارہے ہیں ۔

استحصالی نظام کے خاتمے کیلئے ریڈیکل ازم واحد حل ہے

6854_World

تحریر: حمید بلوچ 
دنیا کے ہر عہد میں ظالم و استحصالی ریاستوں نے کمزور ممالک پر قبضہ کرکے ان کو اپنا غلام بنایا۔ طاقت کے غرور میں محکوم اقوام کی ثقافت، زبان، رسم و رواج کو مسخ کیا۔جبکہ اپنا فرسودہ سیاسی و معاشی نظام نافذ کرکے محکوم سماج کو فرسودگی کا شکار بنایا تاکہ وہ احساس کمتری میں مبتلا ہوکر جدوجہد کی صلاحیت سے محروم ہوجائیں اور قابض اپنے قبضے کو آسانی سے طول دے سکیں جبکہ اس فرسودہ نظام کے خلاف آواز اٹھانے والوں کو تشدد کا نشانہ بنا کر خاموش کرانے کی کوشش کی گئی۔ قابض کی ہمیشہ یہ کوشش ہوتی ہے کہ طاقت کے زور پر محکوام اقوام کے طرز حیات کو ہی تبدیل کردیا جائے تاکہ وہ اپنے تاریخ، زبان، رسم و رواج سے بیگانہ ہوجائے۔ کہتے ہیں کہ جب کوئی قوم اپنی تاریخ سے بیگانہ ہونے لگے تو سمجھ جائے اُس قوم کا وجود مٹنے کو ہے۔سامراجوں کے ایسے نظاموں کا مقصد ہی مظلوم کے وجود کو مٹانا ہوتا ہے تاکہ وہ آسانی سے اپنے مفادات کو حاصل کرسکیں ۔ اصل سوال یہاں پیدا ہوتا ہے کہ یہ فرسودہ اور سامراجی نظام کا خاتمہ لبرل اور بنیاد پرستانہ سیاسی رویے سے ختم ہوسکتا ہے تو یقیناًاس کا جواب نفی میں ہی آئے گا۔ ایسے نظام کا خاتمہ صرف ریڈیکل سیاسی رویے سے ہی ممکن ہے کیونکہ ظالم ہمیشہ بندوق کی نوک کو استعمال میں لاتے ہوئے مظلوم کی سرزمین پر قبضہ کرتا ہے اور یہ فطری عمل ہے کہ طاقت کا خاتمہ طاقت سے ہی ممکن ہے۔ ریڈیکل رویہ رکھنے والے سیاسی گروہ یا تنظیم مروج نظام کو اپنے قومی محکومی قرار دیتے ہیں اور اس کے خاتمے کیلئے انقلابی تبدیلی کے لئے مروج قانون سے بالاتر ہوکر جدوجہد کرتے ہیں کیونکہ انہیں ادراک ہے کہ مروج نظام کا خاتمہ قانون کے دائرے کار میں رہ کر ممکن نہیں ہے۔جبکہ استحصالی ریاستیں اپنے نظام کو تحفظ دینے کے لئے ایسے ادارے تشکیل دیتے ہیں جو اس نظام کی بقاء کے لئے مظلوم عوام کو تشدد کے ذریعے خاموش کرانے کی کوشش کرتے ہیں ۔پولیس، فوج، عدلیہ استحصالی نظام کے محافظ ہوتے ہیں انکے قوانین بنانے کا مقصد صرف مظلوم قوم کے استحصال میں اضافہ کرنا ہوتا ہے۔ ریڈیکل گروہ یا تنظیم اس بات سے بخوبی واقف ہے کہ اگر ظالم کے تشدد کا جواب نہ دیا جائے تو اس کا ظلم اور استحصال کی رفتار مزید بڑھ جائیگی اس کا خاتمہ صرف تشدد سے ہی ممکن ہے اور تشدد کرنے والے کانوں سے بہرے لوگ ہوتے ہیں بقول بھگت سنگھ یہ لوگ صرف دھماکوں کی آواز ہی سمجھتے ہیں ۔ دنیاکی ہر کامیاب آزادی کی تحریک نے ریڈیکل سیاسی رویے کے بنیاد پر سیاسی تبدیلی کا آغاز کیا ۔ الجزائر ، ویتنام، انڈیا، گھانا، چین ، ملایشیا، انڈونیشیا، اور دیگر ممالک نے استحصالی نظام کا خاتمہ ریڈیکل سیاسی رویے کے بنیاد پر ہی کیاہے کیونکہ ریڈکل سیاسی رویہ ہی مظلوم اقوام کے بقاء کا ضامن اور اس مسلے کا واحد حل ہے اسکے علاوہ کوئی میکانزم نہیں کہ مظلوم اس سے نجات پاسکیں۔ سارتر ، ارون دھتی رائے، اور فرانز فینن جیسے ترقی پسند ادیب، مصنف اور صحافی بھی اس بات کا اقرار کرچکے ہیں کہ کسی بھی استحصالی نظام کا خاتمہ ریڈکل رویے سے ممکن ہے۔ ہندوہستان کے ترقی پسند صحافی ارون دھتی رائے اپنی انٹرویو میں کہتی ہے کہ “لوگ جانتے ہیں کہ جب ہم ہتھیار اٹھالیتے ہیں تو پھر ایک بدترین قسم کی درندگی کو دعوت دیتے ہیں اور مسلح جدوجہد ہی زندگی کا حصہ بن جاتی ہے اور جب لوگوں کے سامنے راستے بند ہوجاتے ہیں اور وہ ہتھیار اٹھالیتے ہیں تو کیا ہم جیسے صحافی اسکی مذمت کریں ہم ایک ایسے دور سے گزر رہے ہیں جہاں خاموش اور بے عمل ہونے کا مطلب حالت کو قسمت کے رحم و کرم پر چھوڑنا ہے لیکن استحصالی نظام کے خاتمہ کے لئے ایک دردناک قیمت ادا کرنا پڑتی ہے اور میں اس درد ناک قیمت ادا کرنے کی مذمت نہیں کرسکتی۔جبکہ 1830ء میں فرانس نے الجزائر پر طاقت کے زور پر قبضہ کرکے اپنے نظام کو مسلط کیا تو اس قبضے نے الجزائری عوام کے طرزحیات کو ہی تبدیل کرکے رکھ دیا۔الجزائری عوام احساس کمتری اور احساس محرومی کا شکار ہوگئے تھے ۔فرانز فینن ان محرومیوں اور ظالم کے استحصال کو نوآبادیاتی نفسیات میں اس طرح بیان کرتے ہیں ” نو آبادکار جب استحصال شروع کرتا ہے تو وہ عوام پر ظاہر کرتا ہے کہ وہ جاہل وحشی اور غیر مہذہب ہے اور ہمارے یہاں آنے کا مقصد جاہل اور وحشیوں کو تہذہب یافتہ بنانا ہے وہ اپنے ادیبوں اور تاریخ دانوں سے یہ ثابت کرواتے ہیں کہ مظلوم کے ملک میں نہ کوئی تہذہب ہے اور نہ ہی علم و ادب تہذہب و ثقافت اور علم وادب صرف ہمارے پاس ہے اگر تمیں تہذہب یافتہ بننا ہے تو ہمارے تسلط کو قبول کرو وہ مزید کہتا ہے کہ نوآباد کار اس طرح کی پالیسیاں ترتیب دیتا ہے کہ مظلوم اس شکنجے میں بری طرح پھنس جاتا ہے اور اپنی تاریخ تک کو فراموش کردیتا ہے اور اس کا اظہار یہ کہہ کر کرتا ہے کہ ہماری قسمت میں یہی لکھا ہے وہ مختلف گروہ، زبانوں اور مذہب کے لوگوں کو آپس میں لڑاکر خود کو بری الزمہ قرار دیتا ہے۔ تاکہ مظلوم کے غیض و غضب کا شکار مظلوم ہی ہو۔فرانسی قبضے نے الجزائری عوام کی زندگی جانوروں سے بھی بدتر بنادی تھی ان کے پاس صرف دو راستے تھے یا اس استحصالی نظام کو قبول کرکے محرومیوں میں مزید اضافہ کرکے طبعی موت مرجائے یا اس نظام کو جڑ سے خاتمے کیلئے جدوجہد کا آغاز کیا جائے ۔ الجزائر کے شعور یافتہ اور ترقی پسند نوجوانوں نے آزادی کا نعرہ بلند کرکے استحصالی نظام کے خلاف مسلح جدوجہد کا آغاز کیا اس جدوجہد نے جب زور پکڑا تو الجزائری نظام میں تبدیلی کی لہر نے جنم لیا اور اس جنگ کا اختتام فرانس کی شکست پر ہوا ۔ سیاسی تبدیلی کے اس عمل کو فینن اپنی کتاب سامراج کی موت میں ان الفاظوں میں بیان کرتا ہے ’’جب انقلابی ریڈیکل قیادت نے جنگ کا آغاز کرکے اسکو عروج پر پہنچایا تو عوام کا احساس محرومی ہمیشہ کے لئے ختم ہوگیا اب وہ ملت کے جسد واحد سے منسلک ہوگئے استعمار شکست خوردہ ہوگیا اس نے فرسودہ نظام کو عوام پر مسلط کرنے کے لئے ہر طرح کے حربے آزمائے تشدد کا سہارا لیا لیکن ریڈیکل قیادت نے تمام حربوں کو جدوجہدسے نا کام بنایا۔ فینن کہتا ہے یہ مسلح جدوجہد ہی تھی جس نے الجزائری عوام کی غلامی کی زنجیروں کو اتار کر فکری جمود کو توڑا جب فکر روشن ہوا تو الجزائر کے لوگوں کو اپنے خون کے رشتوں سے زیادہ عزیز آذادی تھی اور اس آذادی کے لئے انہوں نے ہر طرح کے مصاہب اور تکلیفوں کو شکست دی اور ان کا دیدہ دلیری سے مقابلہ کیا۔فینن کہتا ہے کہ ظالم کا استحصالی نظام مظلوم کو نفسیاتی مریض بنادیتا ہے اور اس ذہنی مرض کا علاج صرف پُر تشدد جدوجہد ہی کرسکتا ہے جو ظالم کے ظلم کا صیح جواب ہے ۔ ریڈیکل رویہ اپناکر آزادی حاصل کرنے کی ایک اور مثال ویت نام ہے جو اپنی جہد مسلسل کی وجہ سے آج تمام دنیا کے مظلوموں کے لئے ایک مثال ہے جس نے امریکہ، فرانس، چین، پرتگال جیسے طاقت ور ملکوں کو مسلح جدوجہد کے ذریعے عبرتناک شکست سے دوچار کردیا تھا۔ بلوچستان 1948 ء سے ریاستی فرسودہ و استحصالی نظام کا شکار ہے اور اس استحصالی نظام کے خلاف وطن عزیز کے فرزندوں کا جدوجہد 70ء سالوں سے جاری ہے۔ ریاست پاکستان نے اس قبضے کو طول دینے کے لئے اپنے فرسودہ نظام کو مزید مضبوط بنانے کے لئے تشدد کا طریقہ اپنایا اسکے علاوہ مختلف پالیسیوں کے ذریعے بلوچ قوم کی نسل کشی میں اضافہ کیا۔ استحصالی نظام کے خلاف آواز اٹھانے والوں کو اغوا کیا ،تشدد کا نشانہ بنا کر ویرانوں میں پھینکا ،آپریشن میں تیزی لائی گئی ، عورتوں اور بچوں کو نشانہ بنایا گیا اور بلوچستان میں تعلیم کا ایسا نظام رائج کیا جو لوگوں کو صرف حکم کا پابند بنا سکتی ہے ۔جبکہ اعلی سطح کے تعلیمی اداروں کو فوجی چھاونیوں میں تبدیل کرکے بلوچوں کے لئے تعلیمی اداروں کے دروازے بند کردئے گئے ،کتابوں پر پابندی لگائی گئی۔ بلوچوں کو آپس میں لڑانے کے لئے مذہبی ملاؤں کو مضبوط کردیا گیا ذکری نمازی براوہوی بلوچی کے تضادات کو ہوا دی گئی اپنے ڈیتھ اسکواڈ کے ذریعے بلوچ نوجوانوں کا نہ ختم ہونے والاقتل عام کا سلسلہ شروع کیا گیا ۔ اب یہ سوال سر اٹھاتا ہے کہ بلوچستان میں رائج پاکستانی بوسیدہ و فرسودہ نظام کا خاتمہ پارلیمانی سیاست سے ختم ہوگا یا ریڈیکل رویے کے بنیاد پر جدوجہد کرنے سے؟ تو لازما” ایسے نظاموں کا خاتمہ صرف ریڈیکل رویے سے ختم ہوگا اور اسکے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہے کہ بلوچ اس فرسودہ و ناکارہ نظام سے چھٹکارہ پاسکیں ۔ پارلیمانی سیاست کرنے والے پاکستانی گماشتے جو خود کو لبرل کہتے ہیں اور نظام میں تبدیلی کی بات قانون کے دائرے میں رہ کر کرنا چاہتے ہیں جو ایک ناممکن امر ہے کیونکہ پاکستان جیسی ریاستیں صرف تشدد کی زبان سمجھتے ہیں یہ لبرل گماشتے صرف بلوچ عوام کو بیوقوف بنا کر ریاست کے دائرے میں لانا چاہتے ہیں۔بلوچ عوام ایسے لبرل گماشتوں سے خود کو دور رکھے اور ان آزادی پسند ریڈیکل سوچ رکھنے والے تنظیموں کا ساتھ دیں کیونکہ بلوچستان کی آزادی کو صرف ریڈیکل رویے کے بنیاد پر ممکن ہے ۔ بلوچستان کے باسی اس استحصالی نظام کے خاتمے کے لئے آزادی پسند تنظیموں کا ساتھ دیں اور دنیا کے دیگر مظلوم عوام کے لئے خود کو ایک مثال بنائیں۔

سرکش ریاستیں

135841499

خالد بلوچ 
دنیا کی تاریخ کا مطالعہ کریں تو یہ حقیقت آشکار ہوتی ہے کہ دنیا کے قبضہ گیر ریاستوں نے ہمیشہ محکوم اقوام کا استحصال کیا اور انکے سرزمین پر لوٹ گھسوٹ ماحول گرم کرکے مظلوموں کا استحصال کیا۔ لیکن محکوم اقوام نے ہمیشہ قابض کے خلاف انقلابی تحریکیں شروع کرکے ان سر کش ریاستوں کو عبرتناک شکست سے دوچار کرکے یہ ثابت کردیاکہ ظالم جتنابھی طاقتور ہو مظلوم اپنی مستقل مزاج جہد سے قابض کو شکست سے دوچار کرسکتاہے۔ دنیا کے بیشتر خطوں میں مظلوموں کی جدوجہد نے سرکش ریاستوں کو مجبور کیا کہ وہ اپنی پالیسیوں کو تبدیل کردیں اسی کے سبب مظلوموں سے عبرتناک شکست سے دوچار ہونے کے بعد ظالم ریاستوں نے ظلم کے نئے نت طریقے ایجاد کرکے معاشی و عسکری پالیسیوں کے نام پر مظلوم اقوام کا استحصال کررہے ہیں ۔ سرکش ریاستیں وہ جنونی ریاستیں ہیں جو کسی بین الاقوامی قانون کی پابند نہیں ہوتے ہیں اور ہمیشہ دوسرے ریاستوں کے خودمختیاری کو روند کر خودساختہ عالمی بادشاہیت کے دعویدار ہوتے ہیں۔ ان ممالک میں امریکہ ،برطانیہ فرانس، روس اور چین سمیت دیگر بہت سے سرکش ریاستیں ہیں جنہوں نے عالمی و علاقائی بالادستی قائم کی ہے تاکہ ان کے مفادات کے کوئی نقصان نہ ہوسکے۔ سرکش ریاستیں باتیں تو انسانی حقوق کی کرتے ہیں لیکن انسانی تاریخ میں جتنے قتل و غارت انہی ریاستوں نے کیے ہیں شاید کیسی اور نے کی ہوں۔ برطانیہ 19 صدی دہشت کے ذریعے دنیا کے ہر کونے میں اپنے فوجی طاقت اور استحصالی منصوبوں کے تحت مظلوم عوام کے سرزمین پر قبضہ لوٹ گھسو ٹ سے محکوم اقوام کا استحصال کرتا رہا ہے۔ دنیا کے تجزیہ نگار کہتے ہیں برطانیہ کا قبضہ اتنا وسیع تھا کہ سورج مشرق سے نکل کر مفرب میں غروب ہوجاتا ہے لیکن برطانیہ کا قبضہ اس سے زیادہ وسیع تھا۔ ایشیاء ، افریقہ اور امریکہ کے متعدد ممالک برطانیہ کے کالونی تھے۔ سرکش برطانیہ کا پالیسی تھا تقسیم کرو اور حکومت کرو جب برصغیر میں ایسٹ انڈیا کمپنی راج کررہی تھی اُس وقت برطانیہ نے ہندوستان میں مذہبی فسادات اور ذات پات کے نام پر تقسیم کا عمل شروع کردیا تھا۔ برطانیہ نے جس ملک پر قبضہ کیا وہاں کہ عوام کو یہ باور کروانے میں کامیابی حاصل کی کہ آپ جائل ہو ہم آپ لوگوں انسان بنانے آئے ہیں۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد سرکش فرانس نے افریقی ممالک میں ظلم کے پہاڑ برسائیں اسے پہلے فرانس نے 132 سال تک الجزائر پر اپنا قبضہ قائم رکھا۔ لیکن الجزا ئر کے انقلابی لیڈروں نے آزادی کی تحریک شروع کی تو سامراج فرانس کو مجبور کردیا کہ الجزائریوں کے سرزمین کو چھوڑ دے۔ سرکش امریکہ جو خود کو امن کا داعی کہتا ہے لیکن دوسری جنگ عظیم کے بعد امریکی فوجی بربریت نے دنیا کو جنگ کے نئے دلدل میں دھکیل دیا ہے۔ اور امریکہ نے اپنے دہشتگردانہ پالیسی کے ذریعے مغرب اور خصوصاً اپنے عوام کو یہ باور کروانے میں کامیابی حاصل کی ہے کہ کمیونسٹ لادین اور اور بربریت پسند ہوتے ہیں۔ امریکہ نے دنیا کو گمراہ کرنے کے لیے کمیونسٹوں کو ظالم اور دہشتگرد ظاہر کردیا تا کہ امریکی کی استعماری اور معاشی مفادات کو کوئی خطرات نہ ہو ۔ اگر محکوم اقوام نے اپنے بنیادی حقوق کے لیے جنگ کیا تو امریکہ کی دہشتگردانہ پالیسیوں نے ان تحریکوں کو اپنے ملک کی سیاست سے ایسے غائب کردیا کہ آج امریکہ میں ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہاں کبھی سوشلزم کی بنیاد پر کوئی تحریک یا جماعت اپنا وجود نہیں رکھتی تھی۔ جبکہ 60ء کے دہائی کے دوران براعظم امریکہ میں بہت سے سوشلزم اور کمیونسٹ تحریکیں ابھری تھی ۔ان ممالک میں کیوبا اور ویتنام سرفہرست ہے۔ اگر ہم کیوبا کی مثال لے تو امریکی ریاست نے کیوبا کے عوام پر ظلم کے پہاڑ برسائے ایک امریکی پولیس افسر کہتا ہے کہ ہم کیوبن لاگوں کی لاشوں کے حوالے سے عوام کو مبہم تعداد بتاتھے تاہم ہلاکتیں بہت زیادہ ہوئی تھیں ۔لیکن کیوبن عوام اور انقلابی لیڈروں نے سر کش امریکہ کے خوابوں کو شرمندہ کردیا ۔اس سے ثابت ہوتا ہے کہ طاقت کے ذریعے کسی بھی قوم کو غلام نہیں بنایا جاسکتا ہے۔ کیوبا جب 1898ء تک ایک طویل جدوجہد کے بعد سپین سے آزادی حاصل کرلی تھی اس وقت امریکہ کے نظر میں اس ملک کی اہمیت میں اضافہ ہوا۔ ایک بیان میں امریکی حکمرانوں نے کیوبا کا ذکر کرتے ہوئے کہا تھا یہ ایک کچا پھل ہے اور یہ جلد پک جائے گا جب پھل پکے گا تو ہماری جولی میں آ گرے گا اس بیان کے بعد امریکہ نے کیوبا پر اپنی طاقتور فوج کے زریعے سن 1902 ء میں باقائدہ اپنے قدم جمع لیے۔ سر کش ریاست کے خلاف کیوبا کے انقلابی لیڈروں نے جنگ کرکے آخر کار سر کش ریاست کو مجبور کردیا کہ وہ ملک چھوڑ دے۔ 1959ء امریکی فوج کیوبا سے بائر ہوگے لیکن امریکی حکمرانوں کو یہ بات ہضم نہیں ہوا۔ اس لئے 1961ء میں کیوبا کے خلاف یک طرفہ امریکی معاشی پابندی لگادی اور تاریخ میں طویل ترین ہے اور اس کا یہ بھی منفرد پہلو ہے کہ غذا اور ادویات پر بھی پابندی عائد کردی ۔لیکن اس کے باوجود کیوبا کے انقلابی حکومت نے ناقابل یقین نظام صحت کو قائم کرکے امریکہ کو دنیا بھر میں شرمندہ کیا۔اگر کوئی بین الا قوامی و علاقائی تنظیم امریکی پالیسی کے مفاد میں کام نہیں کرتی تواس کے باقی رہنے کا جواز بہت کم ہوتے ہیں ا ورمریکی ریاست نے مشرقی اور جنوب ایشیا میں لاکھوں اموات کا باعث بننے والی مہلک منشیات تیار کی ہیں ان ملکوں کو معاشی پابندی کی دھمکی دے کر نہ صرف ان پریکٹس کو قبول کرنے بلکہ انکی تشہیر کرنے پربھی مجبور کیاگیا ہے۔ امریکہ جب عراق پر حملے کرنے جارہا تھا اس حملے کی ہر طرف سے مخالفت ہورہی تھی لیکن سر کش ریاست حملے کے دن کا یوں انتظار کررہے تھے جیسے نئے سال کا جشن منانا ہو اس ظالمانہ روائی کے بعد عالمی و علاقائی تنظیمیں خاموش تماشائی رہے ہیں۔امریکی ریاست بڑی ہی آسانی کے ساتھ بڑے پرسکون انداز میں ‘ انسانی دوستی کے نام پر مقامی باشندوں اور ان کے تہذیب کو نیست نابود کردیتا ہے ۔جب امریکہ نے ویتنام پر قبضہ کردیا تو اپنی مراعات یافتہ دانشوروں کے ذریعے ویتنام کے انقلابیوں کو ظالم لکھا۔ یہاں تک کے60ء کی دہائی تک امریکی عوام دل سے یہ یقین رکھتے تھے کہ ہمارے حکمران ویتنام میں بربریت اور دہشت گردی کے خلاف ایک عظیم جنگ لڑرہے ہیں ویتنام کے جنگ کے دوران امریکی فضائیہ نے ان گھنے جنگلوں میں ڈائی اوکسین اورنج نامی گیس کا سپرے کیا تھا جہاں شمالی ویتنام کے جنگجوں پناہ لیتے تھے اس گیس سے متاثر ہونے والے کئی لوگ آج بھی زہنی اور جسمانی بیماریوں میں مبتلا ہیں اور اس جنگ میں ویتنام کے 30 لاکھ لوگ اور امریکہ کے 58 ہزار فوجی مارے گئے تھے لیکن ویتنامی انقلابی لیڈروں نے سرکش ریاست کے تمام حربوں کو ناکام بنائے ۔اور آج بلوچ بھی انہی حالات سے گذر رہا ہے ۔بلوچستان میں پاکستان کے قبضے کے خلاف انقلابی تحریک جاری ہے اب بلوچ قوم بھی اپنے جدوجہد کے ذریعے پاکستان کو اپنے سرزمین سے بے دخل کریں گے۔ پاکستانی ریاست بھی بلوچستان میں امریکی پالیسیوں جیسے پالیسی متعارف کروانے میں مصروف ہے۔ امریکہ نے ویتنام کی تحریک میں کمیونسٹوں کو جائل بربریت پسند قرار دیا پاکستانی ریاست بھی بلوچ قومی تحریک کو کاوئٹر کرنے میں اپنی مذہبی منصوبوں کے تحت بلوچ قوم کو مذہبی دہشتگردی فرقہ ورانہ جنگ کروانے میں مصروف ہے”لیکن بلوچ قومی کے عظیم فرزند ریاست کے تمام حربوں کو ناکام بنانے کے لیے اپنا کردار ادا کررہے ہیں آج بلوچ اس فلسفے پر یقین رکھتے ہے آزادی اپنی ہی دم سے حاصل کی جاتی ہے نہ کہ بیرونی طاقتوں سے بیرونی طاقتیں ہمیشہ محکوم اقوام کا استحصال کرتے ہیں بقول بانک کریمہ کہ ہم عالمی دنیا سے اخلاقی ہمدردی چاہتے ہے ہمارے تحریک کو اخلاقی کمک کریں آزادی کی جنگ ہم خود لڑیں گے تاریخ اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ جس قوم نے اپنے سرزمین اور ثقافت کے لیے جنگ کیا تو ایسے دنیا کی کوئی طاقت شکست نہیں دے سکتی۔

خواتین بلوچ قومی تحریک میں

bso-azad-countinue-his-protest-for-free-zakir-majeed-110609-1

تحریر :سیوت بلوچ
تاریخ کامطالعہ کرنے سے ہمیں بہت سی ایسی مثالیں ملیں گے کہ خواتین نے قبائل، گروہ، سماج اور ریاستوں کی سربراہی کی ہیں۔ انسانی سماج کے تمام شعبہ جات میں خواتین نے نمایاں کردار ادا کی ہیں اور کررہے ہیں۔ جبکہ عورتوں کی فعال کردار ہمیں بلوچ قومی تاریخ میں بھی ملیں گی۔ حتی کہ انہوں نے اندرونی اور بیرونی مسائل بھی حل کی ہیں یا حل کرنے میں مدد دی ہیں۔لیکن ہمیں بلوچ سماج میں خواتین کے کردار انفرادی حوالے سے نظر آتے ہیں تاریخ میں کئی بھی یہ درج نہیں ہے کہ بلوچ سماج میں سماجی تبدیلی کیلئے خواتین اجتماعی طورپر ابھر کر سامنے آئے ہو۔
قومی آزادی کی تحریکیں پارٹی و تنظیموں کے بغیر نہیں لڑی گئی ہیں یعنی پارٹی و تنظیموں کے بغیر کوئی بھی تحریک نہیں لڑی جاسکتی ہیں۔ اور تلخ حقیقت یہ ہے کہ خواتین کے شمولیت کے بغیر تنظیم اور پارٹیاں قومی تحریکوں میں کوئی خاطر خواہ کامیابی حاصل نہیں کر سکتے ہیں ۔بلوچ قومی تحریک میں سیاسی پارٹیوں کے اندر دیکھا جائے خصوصاً بی این ایم اور بی آر پی میں تو قیام سے لے کر آج تک ان میں ایسی کوئی خواتین قیادت نظر نہیں آتی ہیں جو اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا کر بلوچی قومی تحریک میں نمایاں کردار ادا کر سکیں۔
قومی اور انقلابی تحریکوں میں طلباء تنظیموں کا ایک بہت بڑا کردار ہوتاہیں۔وہ اس لئے کہ یہ طلباء تنظیم نوجوانوں کو سیاسی تربیت کے ذریعے سیاسی محاذکے لئے تیار کرتے ہیں۔یہ غلط نہیں ہوگا اگر میں کہوں کہ قومی جدوجہد کو آکسیجن فراہم کرنے والے یہی طلباء تنظیمیں ہوتی ہیں۔ اسی طرح بلوچ قومی جدوجہد میں بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن آذاد یہی عمل تسلسل کے ساتھ سرانجام دے رہا ہے۔چونکہ بی ایس او کی تاریخ طویل ہے اگر ہم بی ایس او کو ماضی اور حال کے تناظر میں دیکھے تو ہمیں بی ایس او میں خواتین کی کردار نمایاں نظر نہیں آئے گی۔البتہ بی ایس او آزاد میں چیئرپرسن کریمہ بلوچ کی کردار روشن باب کی مانند ہے لیکن اجتماعی حوالے سے المیہ یہ ہے کہ بی ایس او آزاد کی ابتدائی ایام سے تاحال بی ایس او آزاد میں کریمہ بلوچ کے علاوہ کوئی خواتین قیادت نظر نہیں آتی ہے۔آخر وہ کون سی وجوہات ہیں کہ ہمارے تحریک کے اندر کئی سال گزرنے کے باوجود خواتین کا کردار نہ ہونے کے برابر ہے۔ میری ناقص رائے کے مطابق اس المیہ کی بہت سی وجوہات ہوسکتے ہیں۔جیسا کہ ہم نے باقاعدہ طور پراجتماعی صورت میں عورتوں کو تحریک کے لئے تربیت نہیں دی ہے بلکہ ان سے صرف محدود پیمانے کے تنظیمی کام لئے گئے ہیں۔خواتین کارکنان کو یہ تربیت نہیں دی گئی ہے کہ خواتین کیا کردار ادا کر سکتے ہیں۔ حالانکہ ہمارے پالیسی ساز ادارے اس چیز سے بخوبی واقف ہیں کہ جتنے حالات سخت ہونگے اور اتنی زیادہ خواتین فعال کردار ادا کرسکتے ہیں۔ لیکن اس کے باوجود انفرادی طور پر جو خواتین تحریک میں شامل ہو جاتے ہیں پھر کچھ وقتوں کے بعد تحریک سے کنارہ کش ہو کر خاموشی اختیار کرتے ہیں۔میرے ناقص رائے کے مطابق یہ ہماری پارٹی پالیسیوں میں کمزوری کی علامات ہیں ۔میں بطور سیاسی کارکن اس المیہ کی زمہ داری سیاسی پارٹیوں پر عائد کرتی ہوں۔ ہمارے پارٹی لیڈر خواتین کی کاکردگی کی بات تو کرتے ہیں لیکن خواتین کو اجتماعی حوالے سے تحریک کا حصہ بنایا جائے اس حوالے سے کوئی عملی اقدام نہیں اُٹھایا گیا ہے ۔پارٹی کے ساتھ بی ایس او آذاد کے فیصلہ ساز اداروں پر بھی یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کیونکہ بحیثیت انقلابی طلباء تنظیم بی ایس او آزاد نوجوان خواتین سیاسی کارکنان کیلئے پارٹیوں میں عوامی سیاست کرنے کیلئے اُن کی سیاسی سمت واضح کرنے میں ناکام رہا ہے۔ 
آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ہمارے ادارے منظم انداز میں خواتین سیاسی کارکنان میں سیاسی شعور پیدا کریں سیاسی شعور حاصل کرنے کے بعد خواتین معاشرتی پابندیوں کو تھوڑ کر عملی اور اجتماعی طور پر اپنے کرداروں کو اجاگر کریں گے اگرچہ یہ ایک طویل سیاسی عمل ہے مگر آنے والے وقتوں میں اس کے نتائج آنا شروع ہو نگے کیونکہ اب عورتیں چاردیواری سے نکل کر کھلی دنیا میں آگئیں ہیں۔اس بات پر غور کرنا ہوگا کہ ہم اپنے عورتوں کو کس طرح سے سماجی طور پر ان روایات، اقدار اور اور فرسودہ نظریات سے آزاد کریں گے۔ان کی سیاسی حیثیت بہتر بنانے کے لیے ان کو اجتماعی طور پر متحد کر کے زیادہ سے زیادہ سیاسی سرگرمیوں میں حصہ دینا ہوگا ان کی منظم سیاسی تربیت کرنا چاہئے تاکہ وہ گوریلہ جنگ اور سیاسی میدان میں منظم انداز میں حصہ لے سکیں ان موجودہ حالات میں خواتین کو متحرک کرنا لازمی امر ہو گیا ہے۔

Students for Free Tibet (SFT)

Students_for_a_Free_Tibet_Protesters_marched_to_Lafayette_Park_from_the_Chinese_Embassy_in_D

By: Ruzn Baloch

           Youth always played an apparent role in the revolutionary struggles in past, and continue to do so today as well. Involvement in politics leads a student toward an active participation in political ruffles and fiscal crisis in the country. Students always meet the world with histories. It’s either Latin America or Africa; students had stood on first queue to defend their sovereignty.

            Tibet is an autonomous region of China, which is also called as the “Roof of the World” because it shares Mt. Everest with Nepal. But, Tibetan claims that Tibet is an independent state under the illegal occupation of China. 

             In 1912, the 13th Dalai Lama—Tibet’s political and spiritual leader—issued a proclamation reaffirming Tibet’s independence, and the country maintained its own national flag, currency, stamps, passports and army.  Dalai Lama further says; “China and Tibet are two different nations, their relation is just based on religion.” Before 1912, Tibet was under the Qing dynasty’s rule from 1720 to 1912. During the Qing rule of Tibet, the region was structurally, militarily and administratively controlled by the Qing dynasty. 

            In 1950, the newly established Communist regime in China entered in Tibetan borders and invaded Tibet. Today, Tibet is under Chinese occupation. The Chinese government justifies its occupation by claiming: “Old Tibet was backward and needed China to liberate it”. But all these are political tactics; either it’s Mao’s China or Union of Soviet Socialist Republicans (USSR), each preferred their own national interests first, and contemplated for others then. 

            Students-politics always made histories for any struggle. We, even, can say that students-politics is main ingredient for mass struggle. Students-for-Free-Tibet (SFT) works in solidarity with the Tibetan people in their struggle for freedom and independence. 

           Students-for-Free-Tibet (SFT) was founded in New York City in 1994 by a group of Tibetans, young students and supporters. The concept of SFT was adopted from the understanding of the critical role of students and youth who had played historical role in freedom struggles throughout the world history.

            Since that time, SFT has grown into an international network of students and non-students in more than 35 countries. Today, they have more than 650 high school, university and community chapters and one full-time office in New York City. There are few satellites offices and organizing hubs; SFT Canada has an office in Toronto, SFT India has an office in Dharmsala and SFT UK has an office in London. They work in solidarity with the Tibetan people in their struggle for freedom and independence. Their role is to empower and train youth as leaders in the worldwide movement for social justice. They believe every individual has the right to be free. Those who enjoy freedom have power and responsibility to make positive changes in the world.

            Interestingly, SFT’s leading leap is under women. Today, Pema Yoko is the acting executive director of SFT and National Network Leaders are: Tenzin Tselha, National Director SFT-India; Sonam Chokey, National Director SFT-Canada; Ellen Lees, National Director SFT-UK. 

           SFT has vividly spoken up about membership, finance, officers (leadership) and amendments in the preamble of its constitution. Membership of SFT is open to students of all grades, and funds of SFT are used to bring in speakers and activists advocating for the rights of the Tibetan people. 

          SFT achieved many goals and became most famous political organization in world. In 1996, SFT participated in the first Tibetan freedom concert in San Francisco, which drawn the attention of over 100,000 people towards the Tibetan cause. In 1998, SFT organized high-profile demonstrations across North America during the visits of then Premier Zhu Rongji and President Jiang Zemin of China. In 2001, SFT organized public gatherings, entitled “Mobilization for Tibet”, which marked as ‘a week of powerful demonstrations and civil disobedience’—just prior to the President Bush’s first-ever visit to China—-in Washington DC to draw attention towards the Tibet issue. In 2005, SFT began a worldwide campaign targeting the Canadian Corporation Bombardier for supplying the Chinese government with specialized technology needed to build a rail link connecting Tibet with China.

By partnering the Chinese government on the construction of the railway, SFT claimed that Bombardier has made themselves a partner in the occupation of Tibet by China. On July 1, 2006, the inauguration of the Gormo Lhasa Railway-3, Free Tibet Activists unfurled a banner over the Beijing railway station reads: “China’s Tibet Railway, Designed to Destroy.”

Tibetans, inside and outside of Tibet, opposed the Gormo Lhasa Railway on the grounds that it is a tool whom Beijing will use to overwhelm the Tibetan population, exploit Tibet’s resources, dilute Tibetan culture and devastate the Tibetan environment. In 2008, San Francisco, SFT activists captured the world’s attention with a daring action when they climbed the cables of the Golden Gate Bridge and unfurled a massive banner proclaiming China’s official Olympics slogan, “One World, One Dream”, and another banner with their answer, “Free Tibet.”

The dramatic action made global headlines and news footages were made broadcasted live worldwide. At least two Olympic torchbearers made bold statements in support of Tibet during their run with the torch. In January 2011, SFT and other US-based Tibetan organizations held a three-day protest in Washington. DC as Chinese President Hu Jintao made his first official state visit.

SFT used #TibetFlagChallenge as a social media campaign which went viral with participants from at least 48 cities in 18 countries who had shown the Tibetan flag in their own unique ways. This challenge was introduced in the commemoration of the third annual Tibetan Independence Day on February 13, 2015.

The flag, which is banned in Tibet and China, is an enduring symbol of the Tibetan people’s struggle for freedom and independence, and through the #TibetFlagChallenge participants were able to secure this symbol in their efforts to shape their future for a free Tibet.

On October 15, 2016, despite heavy security, SFT-India successfully parachuted a giant banner reading “Free Tibet” on the popular Western Coast of Goa, where the BRICS Summit was held and attended by Chinese President Xi Jinping. This action made “Tibet” a media focus. 

                On Press Freedom Day, SFT registered a report at Amnesty International against China for abducting Tibetan writers and intellectuals. 

Khenpo Kartse, a respected religious teacher who was abducted in 2013 by Chinese forces, efforts and protests of SFT pressurized china to release Khenpo, after spending two and a half years in prison.

                Every nation has a civil identity which tells that a nation is different from other, and every nation has the right to have a democratic and secular state. Struggle for Free Tibet will be continued till the day when Tibetan gets its sovereignty back.