مخلص کارکن شبیر بلوچ

caletlmyxqxoxou-800x450-nopad

حمید بلوچ 
بی ایس او آزاد بلوچ معاشرے میں ایک جامعہ کی حیثیت رکھتی ہے۔ جو اپنے قیام سے لیکر آج تک بلوچ نوجوانوں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرکے انہیں شعوری طور پر تیار کرکے قومی غلامی کے خلاف جدوجہد کا درس دے رہی ہے ۔بی ایس او آزاد کی اسی شعوری جدوجہد نے بلوچ قوم کو ایسے ایماندار اور مخلص نوجوانوں سے نوازا ہے جو اپنے قومی آزادی کی جدوجہد میں ہر قسم کی قربانی دینے کے لئے ہمہ وقت تیار رہتے ہیں۔ اور اس جدوجہد میں آنے والی ہر مشکل اور تکلیف کو خندہ پیشانی سے قبول کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور ایسے ہی نوجوان ہی قومی تاریخ کو اپنی جدوجہد سے زندہ رکھتے ہیں ایسے نوجوان امر ہوتے ہیں جو اجتماعی مفادات کو حاصل کرنے کے لئے انفرادی مفادات کو پس و پشت ڈال دیتے ہیں۔ .نوجوانوں کے اسی شعور جذبے اور ہمت نے وقت کے سامراجوں کو خوفزدہ کرکے رکھ دیا ہے۔ ایسے نوجوانوں کو ہی ریاست اپنے لئے سب سے بڑا خطرہ قرار دیکر راستے سے ہٹانے کی کوشش کرتا ہے۔ اور آج بھی لاتعدادباشعور نوجوان ظالم ریاستوں کے لئے خطرہ بنے ہوئے ہیں آج جہاں بھی قومی آزادی کی تحریکیں چل رہی ہے وہاں نوجوان ہی ریاستی پالیسیوں کے سامنے سیسہ پلائی دیوار بنے ہوئے ہیں جن کو راستے سے ہٹانا قابض ریاستوں کے لئے ضروری ہے. بلوچ قومی تحریک جو گزشتہ 70 سالوں سے جاری ہے اس قومی آزادی کی تحریک میں نوجوانوں کا کردار قابل ذکر ہے کہ انہوں نے اپنے جان کی قربانی دیکر قومی تحریک کو زندہ رکھا اور اس تحریک میں بی ایس او آزاد کے نوجوان طالب علموں کا کردار کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ۔ بلوچ قومی تحریک کے ہر دور میں بی ایس او کے طالب علموں نے ہر اول دستے کا کردار ادا کیا اپنے خون سے آزادی کی شمع کو بجھنے نہیں دیا بلکہ اپنے خون سے اس چراگ کو روشن رکھا . ان کی جدوجہد نے بلوچ معاشرے میں سیاسی تبدیلی کی بنیاد رکھی اور آج بی ایس او آزاد کے طالب علم بلوچ نوجوانوں کے آئیڈیل بن گئے ہیں ۔انہی نوجوانوں کے نقش قدم پر چلتے ہوئے بی ایس او آزاد کے سینکڑوں نوجوان اغوا اور شہید ہوگئے ہیں۔شہید کمبر چاکر،شہید حمید، کامریڈ قیوم، رضا جہانگیر، شفیع بلوچ، فدا بلوچ، حاصل قاضی، سالار بلوچ، رسول جان، وحید بلوچ، اور دیگر سینکڑوں نوجوان بی ایس او آزاد کے ہی کیڈر تھے جنھوں نے اپنی ذاتی خواہشات کو اجتماع کی بقاء کے لئے قربان کردیاہے۔ ذاکر جان، مشتاق بلوچ، زاہد بلوچ، آفتاب بلوچ ،وسیم ،ارشاد بھی اسی راستے کے مسافر تھے اور اندھیری رات کو ختم کرنے کے لئے شہیدوں کے نقش قدم پر چل پڑے لیکن ان محبت اور دوستی کے پیغمبروں کو سر زمین سے عشق کی پاداش میں اغوا کرکے غائب کردیا گیا آج تک پتہ نہیں کہ یہ نوجوان کہاں اور کس حال میں ہیں۔ انہی نوجوانوں میں ایک نوجوان شبیر بلوچ عرف لکمیر جو 22سال کے نوجوان طالب علم اور بی ایس او آزاد کے مرکزی انفارمیشن سیکرٹری تھے جنہیں 4 اکتوبر 2016 کو ریاستی خفیہ اداروں کے اہلکاروں نے تربت کے علاقے گورکوپ سے ان کی اہلیہ کے سامنے سے اٹھاکر لاپتہ کردیا گیا ،آج شبیر بلوچ کو آغوا ہوئے دس مہینے کا عرصہ بیت چکا ہے لیکن ان کی کچھ خبر نہیں۔شبیر بلوچ کو بلوچستان کے دوسرے نوجوانوں کی طرح اٹھا کر لاپتہ کردیا گیا لیکن اٹھانے والوں نے یہ نہیں بتایا کہ شبیر بلوچ کا کیا قصور ہے اس سے ایسا کونسا جرم سرزد ہوا ہے کہ اسکی سزا اسے غائب کرکے دی گئی وہ ایک سچا عاشق تھا اپنے سرزمین کا . شبیر بلوچ محبتوں کی سرزمین کا فرہاد تھا جسے سرزمین کی محبت نے جدوجہد کرنے پر مجبور کیا . اس کا صرف ایک ہی قصور تھا کہ اس نے اپنے مظلوم قوم کے لئے آواز اٹھائی وہ نوجوانوں کو کتاب پڑھنے کا درس دیتا تھا اور اغوا کرنے والوں کو بھی معلوم تھا کہ ہم نے کسی دہشت گرد کو نہیں بلکہ کتاب کے رسیا ایک مظلوم پر امن سیاسی کارکن کو اغوا کیا ہے. اور ایسے سیاسی کارکن اس اسلامی ریاست کے لئے سب سے بڑا خطرہ ہے۔ شبیر بلوچ ایک طالب علم اور پرامن سیاسی کارکن تھے وہ ایک سنجیدہ اور باشعور نوجوان تھے قومی غلامی کو انہوں نے بچپن سے ہی محسوس کرلیا تھا اور اسی احساس محرومی اور احساس کمتری کو ختم کرنے کے لئے 2008 میں صرف 15 سال کی عمر میں بی ایس او آزاد کو جوائن کرکے اپنی سیاسی زندگی کا آغاز کیا شال اور آواران زون میں اپنی ذمہداریاں مخلصی اور ایمانداری سے انجام دے چکے ہیں۔آواران زون کے صدر بھی رہے اور 2014 میں انہیں بی ایس او آزاد کی مرکزی کمیٹی کا اعزازی ممبر چن لیا گیا یہ وہ وقت تھا جب بی ایس او آزاد تنظیمی حوالے سے سخت مشکلات کا شکار تھی ایک طرف ریاستی ظلم و جبر اور دوسری طرف سوشل میڈیا میں بی ایس او آزاد کے خلاف منفی پروپگنڈے شدت کے ساتھ جاری تھے۔ لیکن شبیر بلوچ اور بی ایس او آزاد کے مخلص کارکنوں نے اس مشکل دور سے بی ایس او آزاد کو نکالنے میں اہم کردار ادا کیا ۔بی ایس او آزاد کے 20 ویں قومی کونسل سیشن میں وہ بی ایس آزاد کے مرکزی انفارمیشن سیکرٹری کے عہدے پر بلامقابلہ منتخب ہوئے . شبیر بلوچ اپنی ذات سے زیادہ تنظیم کو اہمیت دیتے اور اپنا بیشتر وقت تنظیمی کاموں میں مصروف رہتے ۔شبیربلوچ جب اغوا ہوئے تو وہ زاہد بلوچ اور دوسرے کارکنوں کی طرح غیر مسلح تھے ان کے پاس ایک ہی ہتھیار تھا ،وہ ہتھیار تھا شعور و زانت کا جس سے ہر سامراج خوفزدہ رہتا ہے۔ اور ریاست نے اپنے خوف کو ختم کرنے کے لئے شبیر بلوچ کو اغوا کرلیا۔شبیر کا تعلق ایک ایسے علاقے سے ہے جہاں زندگی کے بنیادی ضروریات ناپید ہیں ،آواران جیسے بڑے ضلع میں صرف دو انٹر کالجز ہیں وہ بھی فوجی کیمپ بن چکے ہیں ،مگر شبیر کی تربیت کا کریڈٹ بی ایس او آزاد کے باشعور نوجوانوں کو جاتا ہے ،یہ رضا ہی تھے جنہوں نے شبیر بلوچ کی لیڈرشپ صلاحیت کو پرکتے ہوئے ایسے کم عمری میں ممبرشپ سے لے کر زونل لیڈرشپ تک لے آئے ۔اگر قابض ریاست نے بلوچوں کو کچھ دیا تھا وہ احساس محرومی ،احساس کمتری ،مسخ شدہ لاشیں ،اور منشیات کا زہر اسکے علاوہ پاکستان نے صرف بلوچوں سے طاقت کے زور پر انکی جدوجہد کو کاؤنٹر کررہی ہے۔ریاست کا یہ عمل کسی بھی شعور یافتہ نوجوان کو اسکی غلامی کا احساس دلاتا اسی غلامی کو ختم کرنے کے لئے اس نے پرامن طور پر سیاسی جدوجہد کرنے کا شعوری فیصلہ کیا ۔بی ایس او آزاد کی شعوری جدوجہد نے شبیر بلوچ کو اس قدر مضبوط بنادیاتھا کہ وہ ریاست کی پالیسیوں کو ناکام بنانے کی مکمل اہلیت رکھتا تھا وہ پاکستان کے استحصالی نظام کا سخت مخالف تھا کیونکہ اسے ادراک تھا کہ استحصالی نظام میں بنائے گئے قوانین بلوچ قوم کی بقاء کے لئے خطرہ ہے اگر اس فرسودہ نظام کے خلاف جدوجہد نہ کی گئی تو بلوچ قوم کا وجود دنیا سے مٹ جائے گا اور اس استحصالی نظام کے خلاف پرامن جدوجہد کررہے تھے کیونکہ استحصالی نظام کا خاتمہ جہد مسلسل سے ہی کیا جاسکتا ہے ۔شبیر بلوچ ایک پرامن سیاسی جہد کار اور انسانیت سے محبت کرنے والے انسان تھے اس کا کسی مسلح تنظیم سے کوئی تعلق نہیں تھا ۔صرف نوجوان طالب علموں کو اس بنیاد پر اغوا کرنا کہ وہ کیوں ریاست کے خلاف آواز اٹھاتے ہیں اور کیوں آزادی کی بات کرتے ہیں شبیر بلوچ ان باشعور نوجوانوں میں شامل تھے جنہیں غلامی سے نفرت اور آزادی سے محبت تھا۔ایسے باشعورنوجوانوں کا لاپتہ ہونا دنیا کے انسانی حقوق کے اداروں کے لئے سوالیہ نشان ہے۔

آئی آبجیکٹ مائی لارڈ

women-697928_960_720

رژن بلوچ 
جب سے ھوش سنبھالا ہے عورت کو مظلوم پایا ہے۔ اور مرد کو اس صنفِ نازک پر افسوس یا پھر اس کو حوصلہ دیتے ہوئے دیکھا ہے۔ اس بات سے قطع نظر کہ یہ حوصلہ اپنی چار دیواری سے باہر کسی غیر عورت کے لئے ہوتا ہے۔ اب میں جوان ہوکر عورت کو اپنے حقوق کے لئے لڑتے ہوئے دیکھ رہی ہوں، کبھی حقوق کے نسواں کے نام پر تو کبھی لبرلزم کے ہر کسی کا اپنا طریقہ کار ہوتا ہے لڑنے کا یا آواز اُٹھانے کا اور آج کل تو دیواروں پہ لکھنے کا کلچر بہت عام ہے، جس میں عورت کی حوصلہ مندی کے لئے بھی کئی نعرے لکھے ہیں، جیسا کے ” عورت کو آذاد کرو ” ۔
در حقیقت سوال یہ ہے کہ آزادی کیا ہے؟ بقولِ روسی فلسفی برلِن کے ” آذادی وہ ہے جو دوسروں کی زندگیوں میں مداخلت نہیں کرتی ” میں اپنے ہر عمل میں خودمختار ہوں، کوئی بھی فیصلہ لینے کیلئے مجھے کسی کی اجازت درکار نہیں۔ لیکن جنوبی ایشیائی ممالک میں جب بھی انسانی آزادی کا موضوع زیر بحث آتا ہے تو مردوں کے لئیے “سیکس” سروں پہ منڈلانے لگتا ہے ۔ جبکہ عورتیں تو ابھی اِس بات پہ اٹکی ہیں کہ آزادی ہے کیا؟ مولوی حضرات کے نزدیک سات پردوں میں چْھپ کر رہنا ہے یا بقولِ سرمایہ دار برہنہ ہونا؟ وہ اِن چیزوں میں اتنا جھْٹ گئیں ہیں کہ آزادی جیسا گہرا لفظ عورت کی سمجھ سے بالاتر ہوگیاہے ۔ 
مجھ جیسے نا چیز نے ہمیشہ سے ہی حالات کے مارے دانشوروں کو بحث کرتے دیکھا ہے’’ عورت کی آذادی ماری جا رہی ہے ،’’ عورت بیچاری مظلوم ہے۔ لیکن یہ موضوع کبھی زیر بحث نہیں رہا کہ عورت آذادی مانگتی ہی کیوں ہے،؟ کیوں عورت نے اپنے اختیارات کسی اور کے حوالے کیے ہیں ،؟ کبھی یہ سوال نہیں اُٹھایا گیا کہ عورت مانگتی بھی اْسی سے ہی ہے جس نے کبھی دھوکہ دے کر تو کبھی چھین کر عورت کی آزادی سلب کی ہے۔ عورت نے مرد کو کبھی اپنے وجود کے لئے آذادی مانگتے نہیں دیکھا ہے ۔ کیوں کہ مرد زہنی حوالے سے تسلیم کرچکا ہے کہ وہ اپنی زات میں ایک آذاد شخص ہے ۔ لیکن عورت اِس بات کو سمجھنے سے قاصر ہے کہ اُس کی زندگی میں سب سے زیادہ حق اُس کا اپنا ہے، البتہ عورت بیچاری ابھی تک اِس بات پر لڑ رہی ہے کہ مجھے دوپٹہ اوڑھنا ہے کہ نہیں۔ 
میرے نزدیک آذادی کوئی آفاقی شے نہیں ہے آزادی انسان کی زہنیت ہے ۔ عورت اپنی ذات میں یہ تسلیم کریں کہ آزادی کو چھین کر یا منّت کر نہیں لی جا سکتی بلکہ یہ پہلے سے ہی اُنہی کے پاس موجود ہوتی ہے، بس استفادہ کرنا آنا چاہئے۔ 
آج کل بلوچ عورت اور سیاست کے موضوع پر محدود پیمانے پر بحث کی ابتدا ہوچکی ہے ، اور ہو بھی کیوں نہ آخر عورت معاشرے میں 51فیصد یعنی کہ اکثریت ہیں۔ اس موضوع پر چند ایک آرٹیکل پڑھنے کے بعد ایک دوست سے بلوچ عورت اور سیاست پر بحث ہورہی تھی تو دوست نے کچھ یوں کہہ کر عورت کو بری الذمہ قرار دیا “ہماری سیاست میں سرگرم عمل رہنے والی عورتیں ابھی بھی خود کو معاشرتی پابندیوں سے آزاد نہیں کرپائی ہیں۔ ہماری سیاست میں شریک عورتیں آج بھی ایک عام عورت کی طرح ازدواجی زندگی سے منسلک ہونے کے بعد اپنی سیاسی سرگرمیوں سے مکمل کنارہ کش ہوجاتی ہیں، یا پھر اِن سرگرمیوں کو خاندان کے تابع بناتی ہیں۔ سیاست میں عدم شرکت یا کنارہ کشی کی اصل وجہ عورتوں کی ذاتی رائے نہیں ہے بلکہ اس فرسودہ معاشرتی نظام کے اثرات ہیں” اب بات یہاں آکر رک جاتی ہے کہ آخر عورت نے اس فرسودہ معاشرے کو اتنی اجازت ہی کیوں دی ہے کہ اُسے سیاسی سرگرمیوں سے کنارہ کشی کرنے پر مجبور کریں۔ میرے ناقص رائے کے مطابق فرسودہ معاشرتی نظام کے مظبوطی میں عورت برابر کے شریک ہیں جو وہ اپنے سیاسی مستقبل کے لئے مثبت قدم اُٹھا کر مستقل سیاسی عمل کا حصہ بننے کے بجائے فرسودہ نظام کے سامنے دستبردار ہوتے ہیں۔ عورت کو تصوراتی دنیا سے نکل کر یہ تسلیم کر لینی چاہیے کہ سیاست کرنے کے اُتنی ہی حق عورت کو ہے جتنا کہ مرد کو ہے۔ عورت کو بس یہ احساس کرنا ہوگا کہ یہ حقوق کہاں اور کیسے استعمال کریں۔ بلوچ سماج میں عورتیں بھی اُتنی ہی زمہ داریاں نبھائیں جتنا ایک مرد نبھا رہا ہے کیوں کہ یہ سرزمین صرف مردوں کی نہیں ہے، اور اِس تحریک پہ حق صرف مردوں کا نہیں ہے۔ بلکہ اِس تحریک کا ہم عورتوں پر اْتنا ہی حق ہے جتنا اِس کا ایک مرد پر ہے۔ 
آخر میں یہ نہ چیز کچھ مختصر سوالات بلوچستان کے ترقی پسند پارٹیوں کے لیے چھوڑتی ہے۔ کیا ہم بر حق ہے کہ تمام ملبہ عورت پہ ڈالیں ؟ اگر عورت نے اپنا فیصلہ خود نہیں کیا یا اُس کے خوف نے عورت کو یہ قدم اُٹھانے کی اجازت نہیں دی تو اُن تمام تنظیم و پارٹیوں نے کیا کردار نبھایا جو ترقی پسند بلوچستان کا نعرہ لگاتے نہیں تھکتے؟ اگر اُن کی خواتین سیاسی کارکنان فرسودہ نظام کے شکار ہو گئے یا ہورہے ہیں اُن کی سیاسی مستقبل داؤ پہ لگ رہی ہے تو ان ترقی پسند تنظیموں نے اِس سنجیدہ معاملے پر کتنی سنجیدگی کا مظاہرہ کیا ہے ؟ کیا ان تنظیموں نے اپنے کارکنان کے سامنے فرسودہ سماج اور ترقی پسندانہ سماج کے درمیان فرق کو واضح کیا ہے؟ فرسودہ نظام کے ازدواجی زندگی کے خلاف درس و تدریس کا عمل سرانجام دی ہیں؟ اپنے خواتین سیاسی کارکنان کو فرسودہ معاشرتی نظام کے خلاف بغاوت پر آمادہ کیا ہے؟ شاید ہماری نام نہاد ترقی پسندانہ سوچ بھی اِن فرسودہ روایتوں کی نظر ہوگئی ہیں کہ خواتین کسی اور کی ملکیت ہے ۔ 
مجھ جیسا نا چیز یہ سمجھتی ہے کہ یہ تمام سوالات حل طلب ہیں ہر اُس تنظیم و پارٹی کے لئے جو ترقی پسند بلوچ سماج کا خواب دیکھتی ہے ۔پارٹی پلیٹ فارم میں اگر آج اس بحث کی ابتدا نہ کی گئی تو ترقی پسند بلوچ سماج کا خواب ایک خواب ہی

رہے گا ۔

حوصلہ مند کامریڈ نسیم بلوچ

Baloch-Sarmachar

قمر بلوچ
’’کامریڈز! ہماری کامیابی ہمارے نظم و نسق پر منحصرہے ،کیونکہ ہم گوریلہ ہیں اور گوریلہ جہدکاروں کی کامیابی اُس وقت ممکن ہوتی ہے جب اُنکے نظم و نسق مضبوط ہونگے۔اُنکے ہر عمل نظم ونسق کے اندر ہونگے ہمیں ہماری چالاکی اور مہارت ہمیں دشمن سے سبقت دلائے گی ۔آج کی اس جہدوجہد میں ہم نے کامیابی کے ساتھ کہی محاذوں پر دشمن فوج کو ناکوں چننے چھبائے ہیں۔اُن سب کامیابیوں کا راز ہماری گوریلہ اصولوں کی تعبداری میں ہے۔
میرے قوم کے فرزندوں!!ہماری کالج اور درسگاہ ہماری کیمپ ہے ۔یہاں سے ہماری سیاسی اور عسکری تربیت ہوگی۔ہم یہاں سے تربیت یافتہ ہوکر میدان جنگ میں دشمن کے ساتھ کمربستہ ہونگے اور اپنے اپنے علاقوں میں عوامی موبلائزیشن کا حصہ بنیں گے ۔اسی درسگاہ سے آج ہزاروں کی تعداد میں حمل جیہند ،بالاچ ،اورکمبر کے فرزندان نے بلوچستان کے گلی کوچوں میں دشمن کو شکست سے دوچار کر کے رکھ دیاہے ۔آج دشمن کی فوج اتنی بوکھلاہٹ کی شکار ہے کہ ہماری جھونپڑیوں سے خوف کھاتی ہے ۔یہ ہماری کامیابی ہے کہ دشمن عام بلوچ کو گوریلہ سمجھ کر ٹارگٹ کر رہی ہے وہ یہ سوچ کر یہ سب کچھ کررہی ہے کہ ہماری صفوں میں لوگوں کی شمولیت کم ہوگی مگر یہ سب الٹ ہو رہی ہے‘‘۔
یہ دو پیراگراف شہید نسیم کے ہیں جو اُس کی شہادت کے دن سے مجھے بیتاب کیے ہوئے ہیں کہ کامریڈ نسیم بلوچ کی قومی خدمات کے حوالے سے میں کچھ الفاظ رقم کروں۔ شہید نسیم نے یہ الفاظ میدانِ جنگ میں جنگجوؤں کوحوصلہ دینے اور متحرک کرنے کے لئے کہے تھے۔ 
اس دھرتی ماں نے ہزاروں ایسے نوجوان پیدا کیے ہیں جو ہمیشہ اپنے ماں کی آبرو کو بچانے کی خاطر زندگی جیسی خوبصورت ترین شے کو ہنسی خوشی قربان کر دے دیتے ہیں۔ میں کس کس کا نام لوں،شیہک،سردو،فدا،دینار،سیلم،اور ہمیشہ کامیابیوں کاذکر کرنے والے،دوستوں کو نظم و ضبط کی پابندی کا درس دینے والاکامیریڈ نسیم عرف ملا دیدگ بلوچ جیسے نوجوان پیدا ہوئے ہیں۔ جن قوموں میں قربانی دینے والے نوجوان موجود ہوں ایسے قوموں کو تا دیر غلام نہیں رکھا جا سکتا ہے۔نسیم اپنے طالب علموں کا ایک ہونہاراُستاد اور ایک عظیم ساتھی تھے ،وہ ہمیشہ اپنے نئے آنے والے سپاہیوں کا خیال کرتے تھے ،انہیں ٹریننگ مرکز پر لے جانا ،انہیں ماؤزے تنگ کی گوریلہ تصانیف پڑھانا،بیماری کی صورت میں انکی تیمار داری کرنا،نئے آئے ہوئے سپاہیوں کو شاعری سنانا،انہیں ادب کی دنیا کا سیر کروانا ،وغیرہ کامریڈ نسیم بلوچ کی روزمرہ کی معمولات تھے۔
راقم کاکامریڈ سے باضابطہ پہلی ملاقات اسکی بی ایس او کے زمانے میں ہوئی ہے جب وہ 2012کی سیشن کے سلسلے آواران میں آئے تھے۔ایک دو دن بی ایس او آزاد کے اسیر رہنما کامریڈ شبیر بلوچ کے گھر میں قیام کے بعد سیشن کی مقام پر روانہ ہوگئے۔ اکٹھا سفر کیا سارے سفر کو کامریڈ نے اپنے شاعری اور طنز و مزاح کی وجہ سے آسان بنایا،پانچ دن تک سیشن کے مقام پر کامریڈ کے ساتھ مختلف موضوع زیر بحث رہے،جن میں سیاست،ادب،مذہب،علاقے کی سیاسی صورتحال خاص کر اورماڑہ ،پسنی،اور گوادر زیر بحث رہے،کیونکہ کامیریڈ کا تعلق انہی علاقوں سے تھا۔
اُس ملاقات کے بعد اُس سے نہ ملتے ہوئے بھی ایسا محسوس ہوتا تھا کہ وہ میرے ساتھ بیٹھا ہے ادب لیکچر دے رہا ہے،وہ اس لیے کہ اسکی بحث و مباحثوں میں اتنی جاذبیت تھی کہ اُن کا اثر دیر تک رہتا۔
دو سال کی طویل مدت کے بعد ہم دوبارہ ملے ،جہاں سے ہم نے اپنی مباحثے کو ادھورا چھوڑا تھا وہاں سے دوبارہ شروع کیا۔ اس دوران کامریڈ نسیم سے ملاقات مختصر نہ تھی۔ کامریڈ سے روز دیوان اور مباحثہ ہوتا،دن ہفتوں میں بدل گئے، ہفتے مہینوں میں تبدیل ہو گئے ۔ وقت کا پہیہ آگے کی طرف چلتا گیا اور مہینے سالوں میں بدل گئے۔اس درمیان نہ بدلنے والے ہم تھے ۔ ہماری سرکل کی تعداد سینکڑوں میں بدل گئی۔اُس سرکل میں ہمیشہ دوستوں کو ہنسانے والا شہید لال جان،دوستوں کی پیغام رسانی والا شہید شہباز جان عرف دینار ،دوستوں کی بائیوگرافی لکھنے اور شہدا اور اسیران کی معلومات اکٹھا کرنے والا بی ایس او آزاد جھاؤ زون کے زمہ دار کارکن شہید سلار جان سمیت شہید سیلم جان، شہیدشہزاد،شہیددادبخش،شہیدقندیل،اورشہیدمجاہدبلوچ ہوا کرتے تھے۔جب ہم سب ساتھ ہوتے تو دنیا، ادب، مذہب، سیاست، پر ملا دیدگ طویل بحث شروع کردیتا ۔ ہم سب توجہ سے اُسے سن رہے ہوتے اور ان کی باتوں کو آہستہ آہستہ جذب کر رہے ہوتے تھے۔اُس سرکل سے میرا ناطہ چند مہینے قبل اس وقت چوٹا جب میں تنظیمی کاموں کے سلسلے میں انکی گیدرنیگ کو چھوڑکر اُن کامریڈوں کی نگری سے نکل گیا۔مگراس کے باوجود بھی انکی سرکلوں سے ہمیشہ مستفید رہا ،کیونکہ جب بھی ان میں سے کسی سے رابطہ ہوتا تو ساری معلومات کہیں دور رہ کر بہم پہنچ جاتے تھے ۔اُن دلچسپ اور اہمیت کے حامل اور سبق آموز باتوں اور سرکلوں کے تسلسل کو جھاؤ میں حالیہ تین روزہ خونی آپریشن نے میرے عظیم ساتھی کی شہادت نے توڑا ہے ۔ مگر میں آج بھی فخر سے کہوں گا کہ نسیم کے شاگرد اُس تسلسل کو مذید منظم انداز اور مضبوطی کے ساتھ آگے بڑھائیں گے۔ اور اس تسلسل کوبلوچ نوجوان اپنی منزل تک جاری و ساری رکھیں گے۔
بلوچستان قدرتی طور پر ایک زرخیز خطہ رہا ہے،بشریاتی اور مادی طور پر اُن مادی اشیا نے اس خطے کو ہر کسی کے لیے پُرکشش بنایا ہے ،سائرس اعظم سے لے کر پنجابیوں تک کے عزائم یہی تھے اور ہیں کہ کیسے ا س خطے کو اپنی تابع رکھا جا سکے۔ چاہے اُس کے لیے کتنی ہی مشکلات کیوں نہ درپیش آتی ہوں۔ مگر اس مٹی تلے تمام جاندار اور بے جاں اشیا نے اپنی آبائی علاقے کے لیے سائرس اعظم کی لشکر کے لیے تمام راستوں کو بند کر رکھا تھا اور وہ بیزاری کے عالم میں اپنی جاں کو بچانے کی خاطر اس خطے کو چھوڑ کر چلے گئے تھے۔پُرتگیزیوں کو ساحل بلوچ پر حملے کے بعد حمل جیہند نے پسپا کردیا تھا۔ انگریز کی لشکر کو محراب خان اور ساتھیوں نے بڑی مشکل میں ڈال کر ایک طویل بغاوت کے بعد اپنے خطے سے نکال باہر کروایا تھا۔ اور پنجابی کی عزائم کو خان قلات سے لے کر ،نوروزخان ، نورا مینگل، شیروف مری، بالاچ خان ، شہک، سردو سے ہوتے ہوئے نسیم جاں جیسے ہزاروں نوجوانوں نے شدید مشکلات میں ڈالا ہے۔اس شکست سے بچنے کی خاطر شاطر پنجابی نے کبھی قرآن مجید کا واستہ دیکر اس کی بے حرمتی کی، کبھی اپنے پالے ہوئے اسلام کے نام پر دھبوں جیسے مولویوں کا ۔ کبھی ہمیشہ کے لیے د وھوکہ دہی میں شہرت رکھنے والے بے ضمیر سرداروں اور نوابوں کا سہارا لے کر بھی وہ اس سرزمین کو اپنے زیر نگیں کرنے کی کوششیں کرتا ہے ۔ لیکن ان سب کے باوجود بھی وہ مشکلات کا شکار ہے ۔ آج اسے واضح شکست دیکھائی دے رہی ہے،اس لیے آج اسکی شکست خوردہ فوج کے لیے بلوچ کا ہر بچہ سرمچا ہے ،اور ہر جھونپڑی اُسے ایک گوریلہ کیمپ نظر آتی ہے اس لیے آج تک وہ ہزاورں کی تعداد میں نوجوانوں کو لاپتہ کرنے اور شہید کرنے کے ساتھ ساتھ ہزاورں جھونپڑیاں جلا چکا ہے۔
بلوچ دھرتی نے کبھی بھی اپنے دفاع کے لئے حمل جہیند،شیرو مری ،بالاچ کی کمی محسوس نہیں کی ہے ،کیونکہ بلوچ فرزندوں نے اُس کمی کو اپنے خون سے پورا کر دیا ہے،کبھی کمبر کے روپ میں ،کبھی شہیک کی شکل میں تو کبھی ملا دیدگ (نسیم )جان کی صورت میں حمل ،محراب خان ،اورکمبربن کر بلوچ دھرتی کوبچانے کی جدوجہد میں ہمیشہ کے لئے تاریخ کے اوراق میں نمیران ہوگئے ہیں۔

روایات پرست بلوچ خواتین

_Libya

نازنین بلوچ 
عام طور پر جب ہم روایت پرستی کا ذکر کرتے ہیں تو ہمارا دھیان خود بخود مذہب یا پھر آباء و اجداد کی معاشرتی روایات کی طرف چلا جاتا ہے۔ لیکن اگر اس کو تھوڑا وسیع کرکے دیکھیں تو یہ سوچ ہمیں جدید معاشروں میں بھی نظر آتی ہے جہاں ہم کسی نظریے یا نظام یا طریقہ کار کو مکمل آئیڈیل یا تبدیلی کو عدم گنجائش تصور کرتے ہیں ۔ ہمیں لگتا ہے کہ اس چیز میں تبدیلی کی گنجائش ہو ہی نہیں سکتی یا پھر اس مخصوص چیز میں تبدیلی کا خیال بھی ہمیں خوف میں مبتلا کر دیتا ہے۔ لیکن تبدیلی ایک ارتقائی عمل ہے جسے معاشرے کو چلانے کے لئے انتہائی اہم و ضروری ہے۔ 
اگر ہم بلوچ معاشرے میں روایت پرستی کا تنقیدی جائزہ لیں تو یہاں(بلوچ معاشرے میں) روایت پرست اورروایت شکنی پر مختصر بحث کرتے ہیں ۔ بلوچ 1947ء سے پہلے انگریز اور پھر پاکستان کا غلام رہا، اور تاریخ اس بات کا گواہ ہے کہ قابض کبھی نہیں چاہتا کہ محکوم اقوام باشعور ہو، کیوں کہ قومی شعور استحصالی نظام کے خلاف بغاوت کو جنم دیتی ہے ۔ پاکستان نے بلوچ سماج میں قومی شعور کے اجتماعیت کو نقصان دینے کیلئے بلوچ سماج کو کبھی فرقہ ، کبھی رنگ نسل تو کبھی مذاہب کے نام پر تقسیم کرنے کی کوشش کی ہے۔ لیکن یہ بلوچوں کی استحصالی نظام کے خلاف اجتماعی مزاحمت ہیں کہ جنہوں نے بلوچ کو بحیثیت قوم استحصالی تقسیم سے محفوظ رکھنے کی کوشش کی اور اپنے مقصدمیں درمیانے حد تک کامیاب بھی ہوئے ہیں۔ لیکن ان تمام معاملات میں بحیثیت فرد ایک عام بلوچ (خواتین یا مرد) کا کردار کیا رہا ہے؟
عام طور پر اس کراہ ارض میں مرد ہمیشہ سے ہی مظبوط رہا ہے۔ اس لئے نہیں کہ جب وہ ماں کے پیٹ میں ہوتا ہے تو شاید خواتین کے مقابل زیادہ غذا لیتا ہے بلکہ اس لئے کہ معاشرہ مرد کو ہر چھوٹایابڑا عمل کرنے پر سراہتا ہے اور خواتین کی مرد کے مقابلے میں حوصلہ افزائی انتائی کم جاتی ہے۔ اس معاشرتی رویے کے سبب مرد زیادہ پُر اعتماد اور خواتین قدرے سہمی رہتی ہے۔ مختصراً یہ موضوع جداگانہ بحث کی متقاضی ہے ۔ راقم کی موضوع یہ ہے کہ خواتین نے خود اپنے لیئے کیا کارنامے سر انجام دیے ہیں ؟ 
بلوچ بحیثیت قوم پچھلے 70سالوں سے غلام ہے اور اِس غلامی کے خاتمے کے لئے ہر ممکن جہد کی جارہی ہے۔ لیکن کسی بھی معاشرے میں استحصالی نظام کے خاتمے کی جدوجہد میں معاشرے کے تمام طبقات کی شمولیت لازمی امر ہے کیوں کہ معاشرے کا نصف حصہ جدوجہد کو زندہ تو رکھ سکتا ہے لیکن ایک منظم تحریک کی تشکیل میں ناکام رہتے ہیں۔ بلوچ سماج میں آبادی کا 51 فیصد خواتین پر مشتمل ہے ۔لیکن آج بلوچ قومی جدو جہد میں خواتین مرد کے مقابلے پانچ فیصد سے بھی کم ہیں۔ البتہ آج محدود پیمانے پر بلوچ خواتین جدوجہد میں پیش پیش تو ہے لیکن ان خواتین کی جدوجہد کا دورانیہ محض چند سالوں پر میط ہیں ۔ چند سالوں بعد روایتی طور پر ” پِیا سنگ بیاہ” کر کے چلیں جائے گے، اور پھر؟ 
پھر اُن کی سیاسی زندگی کی اختتام شروع ہوجاتی ہے، کیوں کہ خواتین اپنی سیاسی زندگیوں کا فیصلہ قسمت کے حوالے کرتے ہیں ۔ خواتین نے خود کبھی بھی اپنی سیاسی زندگیوں کے حوالے سے سنجیدگی سے غور و فکر نہیں کیا ہے۔ جس جدوجہد میں اُن کے مرد فکری ساتھیوں نے اپنے زندگی کے تمام آسائشوں کو قربان کرکے اجتماع کو فرد پر فوقیت دی ہے۔ اسی تحریک میں خواتین پانچ سے چھ سال تک فکری حوالے سے جدوجہد کرکے اپنی سیاسی شعور میں محدود پیمانے پر تبدیلیاں لاکر تحریک، جدوجہد اور اپنی سیاسی وابستگی کو فرسودہ روایات کے سامنے دستبردار ہو کر سب کچھ چھوڑ کر چلی جاتی ہے۔ تحریک میں تلخ تجربات یہ ہے کہ لوگ آتے جاتے ہیں ۔لیکن تحریک کیلئے اپنے جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے فکری دوستوں کے جسمانی حوالے سے جدا ہونے کا شاید اتنا افسوس نہیں ہوتا جتنا ان فکری دوستوں کا فرسودہ روایات کے سامنے دستبردار ہونے سے ہوتا ہے۔ شاید بعض اوقات وہ اپنی سیاسی وابستگی کو چھوڑ کر نہیں جانا چاہتے ہیں لیکن فر سُودہ روایت کو کیسے توڑ دیں؟ گھر سے بغاوت کرنے کا خوف اُسے خاموشی پہ مجبور کر دیتا ہے اور وہ خاموش دبے پاؤں چلی جاتی ہے۔ اور باقی تمام کی طرح روایت پرست ہو جاتی ہے۔ 
تمام تر زندگی جو فرسودہ روایتوں کو پاش کرنے کی باتیں کرتی ہے وہ اسی فرسودہ روایت کی نظر ہوجاتی ہے۔ ایسا نہیں کہ بلوچ معاشرے میں کسی نے بغاوت نہیں کی بلکہ ایک واضح مثال ہے جس نے فرسودہ روایات کا پیشہ خندانی سے مقابلہ کیا ہے ۔ کریمہ بلوچ جو تمام بلوچ خواتین کیلئے ایک آئیڈل ہے۔ جس نے نہ معاشرے کی فرسودہ روایات کو خاطر میں لایا اور نہ ہی رشتوں کو اپنے سیاسی وابستگی کے درمیان آنے دیا بلکہ تمام مصائب کا مقابلہ کر کے آج بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن آزاد کی پہلی خواتین چیئرپرسن ہے۔ آج بلوچ خواتین کو انتائی سنجیدگی سے غور و فکر کرنی چایئے ہے کہ جدوجہد ایک محدود دوارنیہ کیلئے کرنی ہے یا اپنے آپ کو جدوجہد کیلئے وقف کرنا چایئے ؟ یا خواتین کو فرسودہ روایات کے سامنے دستبردای کے روایات کے برقرار رکھ کر روایت شکن نہیں ہونا ہے ؟

From Laila to Sammi

Untitled-1

By Shahmeer Baloch

Translated into English by Shayan Baloch

        Laila Khalid was born on 9th April 1944 in Khaifa. In 1948 in result of forcedly drawing out the Palestinians from this place they migrated to Libnan. In age of fifteen years she followed her brother to join Arab Nationalist Movement, which in this region considered the differently separated Arab nation’s structures into a nationalistic sentiment and a single nation. The foundation of this group has been held in 1940 and the Palestinian section of this group moved ahead to became Popular Front for the Liberation of Palestine (PFLP). Laila Khalid has been one of the popular members of PLFP. Laila Khalid is also known as Poster Girl (Poster Girl of Palestinian Militancy) of Palestinian armed militancy.

Laila Khlaid became well known and famous to the public after the incident of 1969’s hijacking which wasthe event of hijacking four aeroplane which is also known as the Black September has broadcasted the picture of Laila Khalid worldwide.

      In august 1966 Laila Khlaid became a part of hijacking team, the TWA flight 840 aeroplane which was flying from Italy to Greek has been hijacked and landed in Damascus and all hijacked passengers had been set free and the flight blown up by an explosive bomb.  

      After the occurrence of this hijacking Laila Khalid became introduced and famous to common public. Most especially the more broadcasted picture of that time which was captured by a journalist known as Edhi Aidmer in which a Palestinian hijacker wearing an Arabian handkerchief and holding a Kalashnikov in hands has been shown. This picture until now along with Palestinian militancy has been famous globally for the contributions of women on the way of occupied nation’s freedom movements.

‘’ the consequence of my insanity surely rises up,

From this gloomy ocean a beam of light rises up’’

    Sammi Baloch is that brave daughter who in struggle appearance of her father has sacrificed her childhood and adulthood. Same like others hundreds women from Balochistan, Sammi Baloch from last previous eight years of her father’s disappearance administrating an appearance expedition. Sammi Baloch’s father, Doctor Deen Mohammad Baloch has been abducted and disappeared on 28 June 2009 by the Pakistan’s secret intelligence agencies. Doctor Deen Mohammad Baloch was a medical officer of OrnachKuzdar governmental hospital. He was very much fond and interested to his profession that he could hardly get to meet his family within the period of three months. Doctor DeenMohammad Baloch was a political leader and a central committee member of liberal political party Baloch National Movement (BNM). From Civil Hospital Ornachthe personnel of secret intelligence clothed in simple dresses dragged him away at 10pm where the eyewitnesses of this incident were on their duty as a security guard at the hospital premises. Upon being informed of her father disappearance Sammi Baloch along with her family cut an FIR nearby police station, filed a petition before the Balochistan High Court and there in front of the Quetta Press Club already held disappeared persons camp added a victim in shape of Sammi Baloch. 

        Despite of conducting press conference in press clubs and knocking the door of High and Supreme Court, she went to every that institutes which are built to provide justice and in expedition of his father’s appearance she was a participant of historic on foot long march initiated by Vice For Baloch Missing Persons (VBMP) which marched from Quetta to Karachi and finally from Karachi to Islamabad.  

      What do a well-wisher daughter eventually want? Why on occasion of sacred days of Eid she is on a protest in front of the press clubs? At least for what?  It is a question for world’s human defenders and philanthropists, whither the demands of this daughter of a Baloch are not legal that her father to be released or to be appeared and if he is a culprit to be brought before the court for lawful proceedings. 

   The role of women in our society has always been neglected and treated with worthless consideration and women has always been introduced as a symbol of weakness, as for as this title is concerned I am talking about those two personalities who are known as a form of symbol for whole world. Laila Khalid who is known worldwide as a power of women and secondly SammiBaloch, a symbol of continuous struggle on land of Baloch. Sammi Baloch for all those women is a sagacity of proud who come out from unnatural jails to a field of practical struggle.   

ایک مخلص سنگت’’ سالار بلوچ‘‘

14641957_1162201060526010_2008015594858344453_n

محراب بلوچ
دنیا کے شاعروں،فلسفیوں،اور دانشواروں نے خوبصورتی کو دو جگہوں میں تقسیم کیا ہے ،ایک اندورونی اور ایک بیرونی خوبصورتی ہوتی ہے ۔ماضیِ بعید میں لوگوں کو بیرونی خوبصورتی رکھنے والے جاندار اشیا پسند تھے ،اور انہیں حاصل کرنے اور اپنی جاگیر رکھنے کی پاداشت میں کہیں دفعہ دو بھائیوں،قبیلوں،اور اقوام کے بیج لڑہیاں لڑی گئی ہیں۔شاعر اُن خوبصورتیوں کو اپنی شاعری کا زینت بناتے تھے ،شہنشاہ اپنے محلوں کوسنوارتے تھے تاکہ دوسروں کو متاثر کر سکیں،ہندوستان میں تاج محل کا بنانا کا مقصد اس خوبصورتی سے دنیا سے داد اور تعارفیں وصول کرنا مقصود تھا۔یوں یوں دنیا ترقی کرتی رہی خوبصورتی کی دوسری قسم آسان الفاظ میں سیرت یا پھر اندرونی خوبصورتی کی جانب روجہانات بڑھتے گئے۔آج دنیا ترقی کی جس دہلز پر کھڑی ہے اُس سب کا کریڈٹ اندورونی خوبصورتی رکھنے والے لوگوں کو ہی جاتا ہے۔
جس سماج سے راقم کا تعلق ہے وہاں بھی ایسے بے شمار اشخاص پائے گئے ہیں جنہوں نے اپنی ذہانت کی بدولت اپنی آزادی کی جدوجہد میں تاریخ رقم کر گئے ہیں ۔جس کا میں اپنے اس چند الفاظ کی تحریر میں ذکر کرنے جا رہا ہوں وہ ہے کامریڈ خمار (سالار )بلوچ،سالار کا تعلق بی ایس او آزاد سے تھا۔سالار تنظیم کا ایک ذمہ دار کارکن ہونے کے ساتھ ساتھ ایک کل وقتی سیاسی کارکن بھی تھے،ہمیشہ ماس موبلائزیشن میں مصروف بہ عمل تھے۔سالار کی برادشت میں نے بہت کم لوگوں میں پایا ہے،وہ اس لئے کہ اندورنی خوبصورتی رکھنے والے شخص برداشت ، صبر وتحمل ،معاملہ فہمی،اور دور اندیشی کے مالک ہوتے ہیں۔آج تک میں کسی کو یہ کہتے ہوئے نہیں سنا ہے کہ سالار سے یہ کمزوری سرزد ہوئی ہے،یا اُسکی تنظیم میں سختی سے کسی ممبر نے شکوے کیے ہوں،سالار خود کو تنظیم کاموں اتنا مصروف کر دیتا کہ وہ ہمیشہ کہتا کہ یار معلوم نہیں ہوپارہا ہے دن رات میں بدل جاتے ہیں،ایسے ہفتے ،مہینے،اور سال ہوجاتے ہیں مگر ہم ابھی تک وقت اور حالات سے سیکھ نہیں رہے ہیں۔آج بھی اتنے لیڈروں کی شہادت اور جبری گمشدگیوں نے ہماری اجتماہی انا اور ہٹ درمی کو کمزور نہیں کیا ہے ۔اسی کی تناظر میں آج ہم نے بہت نقصان اُٹھایا ہے۔
سالار سے ملاقات تو 2014میں ہوئی تھی مگر ہماری بازابطہ مجلس بی ایس او آزاد کی بیسویں قومی کونسل سیشن میں ہوئی، جو سالار جان کی شہادت سے ایک مہینہ پہلے تک جاری رہی اس دوران راقم کو سالار سے بہت کچھ سیکھنے کو ملی ہے۔سالار ایک بہادر اور نظریاتی سنگت تھے۔جب بھی اکھٹا ہوجاتے تو میں سالار سے دنیا کی موجودہ سیاسی صورتحال پر ایک لیکچر کی التجا کرتا تو وہ کچھ کہے بنا اپنا تجزیہ شروع کردیتا ،جتنے لیکچر سالار نے دئیے ہیں اُن میں سالار بلوچ خطے پر وقوع پذیر ہونے والے موجودہ اورمستقبل قریب آنے والے عالمی سرمایہ داروں کی سرمایہ کاری اور انکے اثرات بلوچ جدوجہد پر خاصی اہمیت کے حامل تھے۔سالاراپنے ہر سرکلز اور لیکچروں میں اس بات پر ہمیشہ نقطہ چینی کرتے تھے کہ ہمیں آنے والے شیعہ اورسُنی تضادات کے لئے تیار رہنا ہوگا،ریاست ہماری جدوجہد کو کاؤنٹر کرنے کے لئے ہماری ہی سرزمین میں ایران اور سعودی پروکسیز کو ہمارے خلاف استعمال میں لائے گی۔
سالار کو میں نے ہر وقت تنظیمی کاموں میں مصروف دیکھا،کبھی یونٹوں کے سرکلز میں ،کبھی سینئر باڈی میں،تو کھبی عوامی اجتماع میں ۔وہ ہر وقت تربیت کے عمل میں تھا ، صرف بی ایس او کے کارکنان کی تربیت میں نہیں عوام کی زہین سازی اور موبلائزیشن میں مصروف تھے ۔ایک
دفعہ میں نے سالارکو کہا آج کاموں کو چھوڑدو مزاق شغل میں توڑا وقت کی گھڑی کو آگے بڑھائیں گے، سالار نے جواب میں کہا محراب ہمارے پاس وقت اتنے ہوتے ہیں کہ ہم خود کو اور اپنے ممبروں کو پڑھائے۔ہم دوستوں کی اصرار پر راضی تو ہو گئے مگر اُس نے کہا کہ کھیل کی چنوتی میرے سر ہوگا ہم سب دوست بھی رضا مند ہوگئے ،میں اور کمبر خوشی سے پھلیں نہیں سما پا رہے تھے کہ کم از کم ایک مہینے سرکل سے آج تو جان چوٹ جائے گی ،آج کا دن ہنسی خوشی میں گزر جائے گی،اور اس دن کو میں اپنے ڈیئری کا زینت بناؤں گا۔
میں اسی خیالوں میں تھا کہ سالار نے کہا کہ گیم آدھا گھنٹے کی ہوگی ،آپ سب دوست راضی ہو،ہم نے ایک لمہ انتظار نہیں کیا اور مشترکہ طور پر کہا ہاں ہم راضی ہیں ،تو سالار جان نے کہا کہ گیم شروع ہیں۔ سب دوست موجودہ سیاسی صورتحال پر اپنا اپنا تجزیہ لکھ کر ڈاکٹر شے سب کی تجزیوں کو چیک کریگا ،جس نے اچھا تجزیہ لکھا اسکے کہنے کے مطابق ہم اپنا کل کا منصوبہ تشکیل دینگے۔میں کمبر کو دیکھنے لگا اور وہ مجھے باقی دوست اپنے تجزیات قلم بند کرنے میں مصروف تھے تو ہم نے ہمت کر ڈالا وہاں سب سے اچھا تجزیہ خود سالار کا پایا گیا تو کل کا منصوبہ بھی سالار کو کرنا تھا۔ہم سب منصوبے کے انتظار میں تھے کہ کل کیا کرنا ہوگا تو سالار نے کہا کہ کل ہم کورک اسکول کا دورہ کرنے کے ساتھ وہاں یونٹ کی دیوان بھی کریں گے۔ایک مخلص سیاسی ورکر کا منصوبہ بھی تنظیم ،تنظیم کاری،اورموبلائزیشن ہی ہونگے اور یہ سب سالار میں تھے۔
سالار اپنے پروگراموں کی وجہ سے دشمن کے تشکیل کردہ ڈیتھ اسکواڈ کے آنکھوں میں سوئی کی طرح ہمیشہ چھبا کرتے تھے۔ وہ سالار کو راہ راست سے ہٹانے کی در پے تھے کیونکہ سالار اُنہی کے علاقوں میں جا کر لوگوں کو انکی حقیقت سے روشناس کردیتے تھے۔اسی کی بنا پر ریاستی ڈیتھ اسکواڈ نے اسے شہید کرکے اپنے راستے صاف کرنا چاہتے تھے ۔مگر اُن حیوان صفت انسانوں کو کیا پتہ تھا کہ سالار ایک فرد نہیں بلکہ ایک نظریہ اور فکرہے ،فکر اور نظریہ فرد کے شہادت سے ختم نہیں ہوتے ہیں۔شہدائے آزادی کی خون کھبی رائیگاں نہیں جائے گا ۔اُنکی خون آزاد بلوچستان کی ضامن ہونگے۔

غلام کی عید

vfbmp-kar-demo-6

حمید بلوچ
عید خوشیوں کا ایک تہوار ہے جسے دنیا بھر کے مسلمان اپنے رسم و رواج کے مطابق مناتے ہیں عید کے دن نئے کپڑے پہن کر شکرانے کی نماز ادا کرکے دوستوں اور رشتے داروں سے عید ملنے جا تے ہیں ۔بچوں کو عیدی دینا ،دوستوں اوررشتہ داروں کو دعوت پر بلانا، ان کی دعوت کھانا، غریب و نادرا لوگوں کی مدد کرکے اپنی خوشیوں میں شامل کرنا وغیرہ عید کے خوشگوار لمحات میں شامل ہوتے ہیں۔عید نام ہے خوشی اور مسرت کا۔ اس مسرتوں بھرے لحمات کو ہر طبقے کے لوگ جی بھر کہ انجائے کرتے ہیں ۔
عید اللہ کی طرف سے مسلمانوں کے لئے ایک تحفہ ہے جسے وہ اپنے پیارے بندوں کو انعام کے طور پر دیتاہے ،لیکن شیطان کے چیلوں نے مظلوم و کمزور قوموں کو اس انعام سے ہمیشہ محروم رکھا ہے ۔شیطان کے چیلوں نے ہر عہد میں کمزوروں پر اپنے شکنجے گھس کر انہیں اپنا غلام بنایا .۔آزادی عید سے بھی بڑی خوشی اور تہوار ہے اور دنیا کے ہر انسان اور ہر قوم کو آزادی سے زندگی کے ہر لمحات کو انجوائے کرنے کا حق حاصل ہے بقول روسو کہ انسان آزاد پیدا ہوا ہے اور اسے آزادی سے زندگی گزارنے کا حق حاصل ہے لیکن دنیا میں موجود سرکشوں کے ٹولے نے بشر کو آزادی اور خوشی کے لمحات انجوائے کرنے سے یکسر محروم کرکے خدا کے انعام و کرام سے بھی محروم کردیا ہے ۔
کمزور و غلام قوموں کی عیدیں تفریح مقامات پر نہیں بلکہ پریس کلبوں اور سڑکوں پر احتجاج کرکے گزر جاتی ہے۔آج کے اس گلوبل ولیج کے دور میں بھی انسان غلامی جیسی لعنت کا شکار ہے۔ ظالموں اور سرکشوں کے ٹولے نے غلامی کو اس قدر مضبوط کردیا ہے ،کہ پسماندہ و کمزور ملک ان کے شکنجے سے آزاد ہونے کی جدوجہد تو کررہی ہے لیکن ظالم دنیا میں ان کی آواز سننے والا کوئی موجود نہیں۔ دنیا کی تاریخ ہمیں اس حقیقت سے روشناس کراتی ہے کہ مظلوم و کمزور قوموں نے اپنی ہمت جدوجہد سے وقت کے فرعونوں سے اپنی آزادی حاصل کی آج وہ قومیں عید کے پرمسرت لحمات کو بھرپور انجوائے کررہے ہیں ۔اس سے قبل غلامی کے عہد میں ان کی زندگی اجیرن بن چکی تھی اور وہ روتے بلکتے اپنے پیاروں کو یاد کرکے اس پرمسرت لحمات کو بے بسی اور مایوسی سے صرف محسوس کرسکتے تھے، لیکن ان کی آج کی زندگی ماضی سے مختلف ہے.ظالم کے تشدد اور خوشیاں چیھننے میں پاکستان سر فہرست ہے جس نے دنیا میں دہشتگردی کو ہوا دیکر دنیا کی امن تہو و بالا کردیا ہے۔ اسلام کے نام پر وجود میں آنے والے ملک نے بلوچستان پر قبضہ کرکے گزشستہ 70 سالوں سے بلوچ قوم کو اس پرمسرت لحمات سے محروم کردیا ہے ۔معدنی وسائل سے مالا مال سرزمین میں بسنے والے غریب عوام عید کی خوشیوں سے محروم ہیں۔اس غلامی کے عہد میں بلوچ قوم کے لئے خوشیاں کوئی اہمیت نہیں رکھتی ،کیونکہ غلام کی عید عیدالفطر و عیدالاضحی نہیں بلکہ اُسکی آزادی ہے ۔
بلوچ قوم اس دن کو عام دنوں کے طور پر مناتی ہے کیونکہ غلامی کے خلاف جدوجہد کرتے ہوئے ان کے پیارے غائب کردئیے گئے ہیں۔ ہزاروں بلوچ فرزندان اس جرم کی پاداش میں ٹارچر سیلوں میں اذیتیں برداشت کررہے ہیں ،ہزاروں شہید کردئیے گئے ہیں، ہزاروں خاندان در بدر کی زندگی گزارہے ہیں ۔ تو اس غلامی اور کرب ناک دنوں میں بلوچ عید منائیں تو کیسے اور کس کے ساتھ منائیں؟ بلوچ کی عید دنیا کے دیگر غلام قوموں کی طرح پریس کلبوں کے سامنے احتجاج میں گزر جاتی ہے۔ اسکی مثال عید کے پہلے دن کراچی پریس کلب کے سامنے 8 سال قبل لاپتہ ہونے والے ڈاکٹر دین محمد بلوچ کی جبری گمشدگی کے خلاف ان کے فیملی کی طرف سے لگائی جانے والی بھوک ہڑتالی کیمپ ہے۔جب اس کیمپ کو لگایا جارہا تھا تو پریس کلب کے سیکورٹی گارڈ نے کہا کہ آج عید کا دن ہے آپ لوگ کیمپ کل لگادو آج کے دن دوستوں یاروں اور رشتے داروں سے ملو اور اس پل کو انجوائے کرکے کل کیمپ لگادو یہ بات سنکر ذہن میں خیال آیا کہ کونسے دوست و رشتے دارویہی جنہیں آپ کے ریاستی اداروں نے غائب کردیا ہے یا وہ دوست ویار جنہیں آپکی اداروں نے شہید کرکے لاشوں کو ویرانوں میں پھینک دیا گیا ہے ،یا وہ رشتے دار جن کے گھروں کو جلا کر انہیں در بدر کی زندگی گزارنے پر مجبور کردیا گیا ہے ۔کیسے عید مناسکتا ہے وہ بیٹا جس کا بابا 3 سالوں سے غائب ہے ۔بلوچ قوم کے لئے ویسے تو ہر دن ماتم کا دن ہے لیکن عید کے لحمات میں یہ درد اور بڑھ جاتا ہے کہ کب ہمارے پیارے اپنے گھروں کو لوٹ آہیں گے ۔ ہزاروں بلوچ فرزندوں نے قوم کے بہتر مستقبل کے لئے اور اس کربناک دور کو ختم کرنے کے لئے پر امن سیاسی جدوجہد کا آغاز کیا تاکہ دنیا کے دیگر اقوام کی طرح آزادی اور خوشی سے زندگی اور عید کے پرمسرت لحمات کو بھرپور طریقے سے انجوائے کرسکیں لیکن اپنے فطری حق کے جدوجہد کی پاداش میں لاپتہ کردیا گیا، کہ اب تک ان کا کچھ پتہ نہیں ان کی بازیابی کے لئے ان کے اہل خانہ کبھی کراچی پریس کلب کبھی اسلام آباد اور کبھی کوئٹہ میں پریس کانفرنس اور مظاہرے کرکے اپنا احتجاج ریکارڈ کراتی ہے ،اور کبھی بھوک ہڑتالی کیمپ کے ذریعے اپنی آواز دنیا تک پہنچانے کی جدوجہد کررہی ہے۔
زاہد بلوچ، ذاکر جان، شبیر بلوچ ،مشتاق بلوچ، ڈاکٹر دین محمد بلوچ سمیت ہزاروں بلوچ فرزندان ریاست کی کال کھوٹھریوں میں بند ہے ۔ رضا جہانگیر،شکور،امیرالملک،حق نواز، بالاچ مری ،غلام محمد، امداد بلوچ ،کمبر چاکر،اُستاد علی جان،پروفیسر صبا دشتیاری سمیت ہزاروں کی تعداد میں نوجوان شہید کردئے گئے، تو اس ماتمی ماحول میں بلوچ قوم کیسے عید منائیں؟ عید کے لحمات کو بچے بڑوں سے بھی زیادہ انجوائے کرتے ہیں ،نئے کپڑے پہنتے ہیں ،عید کی باتیں کرتے ہیں ،بڑوں سے عیدی لیکر انجوائے کرتے ہیں ،اور اپنے گھر والوں کے ساتھ تفریح مقامات پر بھرپور مزہ لوٹتے ہیں ۔لیکن غلامی کے ماحول میں بلوچ بچے اور بچیوں کی عید کیسے کرب ناک حالت میں گزرتی ہے اس کا اندازہ وہی انسان کرسکتا ہے جو ظالم کے غضبناک ظلم کا شکار ہوا ہے .سمی بلوچ، مہلب بلوچ، حیدر علی، کمسن کمبر و دودااس انتظار میں بیھٹے ہوئے ہیں کہ کب ان کے بابا آہیں گے اور وہ عید کے ان بھرپور لمحات اپنے گھر والوں کے ساتھ منائیں گے ۔بلوچ شہدا کی خاندان کا عید صرف اور صرف بلوچ قوم کی آزادی ہے ۔ جب بلوچ قوم آزاد ہوکر اپنی سر زمین کا مالک خود ہوگی اُس دن اُسکی عید ہوگی۔اپنے عید جسے خوشیاں اور مسرتیں لانے کے لئے ضروری ہے کہ ہم متحد ہو ں،اتحاد ہی ہماری آزادی کی نعم البدل ہوگی۔

بادر باپ کی بہادر بیٹی

19420582_144876516076669_5000700564698474673_n

حمید بلوچ
بہادر وہ نہیں ہوتا جو میدان جنگ میں اپنے مدمقابل کو مات دیتا ہے۔ بلکہ بہادر وہ ہوتا ہے جو زندگی کے تلخ حقیقت کو ثابت قدمی سے برداشت کرتا ہے اور اپنے لئے ایسے کھٹن اور مشکل راستے کا انتخاب کرتا ہے۔ دنیا میں ایسے کئی سچے ایماندار اور بہادر انسانوں نے جنم لیا جنھوں نے انگاروں پر چل کر قوم کے لئے آزادی اور خوشحالی کا راستہ تلاش کیا اپنے سرزمین کی محبت اور چاہت میں انھوں نے ہر دکھ اور تکلیف کو خندہ پیشانی سے قبول کیا۔ایسے عظیم انسان دنیا کی تاریخ میں ہمیشہ اچھے ناموں سے یاد کئے جائیں گے۔ ڈاکٹر چی گویرا ، فیڈل کاسٹرو ، ماؤ زے تنگ، نیلسن منڈیلا، اور انسانیت کی جنگ میں ان کا ساتھ دینے والے اپنے کارناموں اور کردار کی وجہ سے دنیا کے مظلوموں کے لئے ایک مثال بن گئے ہیں۔ ایسے ہی بہادروں اور مخلص لوگوں کا ملک بلوچستان ہے جسکے فرزندوں نے دنیا کے ہر طاقتور اور ظالم ملکوں کا بہادری سے مقابلہ کرکے ان کو اپنی سر زمین سے باہر نکالا ایران، پرتگال، منگول، برطانیہ ،عرب ان سب کا ہمت و بہادری سے مقابلہ کیا ۔ بہادر ہمیشہ مشکل اور کھٹن حالات کا سامنا کرتا ہے اور زندگی کے ہر قدم پر مشکلات کو شکست دیتا ہے۔ برطانیہ سے آزاد ہونے کے بعد ایک اور مشکل و کٹھن حالت بلوچ قوم کی منتظر تھی 9 ماہ کی آزادی کے بعد بلوچ قوم کے سر زمین پر ایک مرتبہ پھر قبضہ کیا گیا۔ اور اس قبضے کے خلاف بہادر سرزمین کے بہادر فرزندوں نے مقابلہ کیا گزرے ہوئے 70 سالوں میں بلوچ قوم نے پاکستانی ریاست کو جنگ اور سیاست کے میدانوں میں اپنی بہتر تنظیمی حکمت عملیوں سے ہر محاذ پر شکست سے دوچار کردیا ہے۔اس شکست سے ریاست اتنی بوکھلا گئی ہے کہ اس نے بلوچ فرزندوں کو مارو اور پھینکو پالیسی کے تحت پہلے اغوا کیا پھر تشدد کا نشانا بنا کر مسخ شدہ لاشوں کی شکل میں ویرانوں ، جنگلوں اور سڑکوں پر پھینکنا شروع کردیا تاکہ بلوچ قوم کو خوفزدہ کرکے تحریک آزادی سے دور کیا جاسکے ۔لیکن یہ مسخ شدہ لاشیں بلوچ قوم کے لئے خوف کے علامت نہیں بلکہ ہمت کی علامت بن گئی اور ان شہدا کے نقش قدم پر چل کر بہادر فرزندوں نے قومی تحریک کو اپنے پرامن اور عالمی قوانین کی پاسداری کرکے اقوام متحدہ اور یورپی پارلیمنٹ تک پہنچایا ۔ شہید بالاچ مری، شہید غلام محمد ، لالہ منیر، شیر محمد، رضا جہانگیر ، امداد بلوچ ، اور ہزاروں بلوچ فرزندانوں نے بہادری و ہمت کی وہ مثال قائم کی جو رہتی دنیا تک یاد رکھی جائے گی ۔ شہید غلام محمد بلوچ قوم وہ لیڈر تھے جنھوں نے اپنی جدوجہد بہادری بلند حوصلہ و ہمت سے ہر طبقہ فکر کے لوگوں کو متاثر کیا اور ان نوجوانوں میں ایک عزم و ہمت کے پیکر ڈاکٹر دین محمد بلوچ تھے جو ایک مخلص ایماندار اور بہادر انسان ہونے کے علاوہ ایک درد دل رکھنے والے فرض شناس ڈاکٹر تھے۔ جس نے دوران ڈیوٹی کبھی اپنے فرائض سے غفلت نہیں برتی بلکہ اپنے فرائض کو ایمانداری سے انجام دینے کے لئے خاندان تک سے دور رہنے کو ترجیح دی ایسے ایماندار اور مخلص لوگ دنیا میں بہت کم پیدا ہوتے ہیں۔ وہ ایک ڈاکٹر ہونے کے علاوہ ایک سیاسی کارکن بھی تھے جو بلوچ نیشنل موومنٹ کے مرکزی کمیٹی کے رکن تھے اور اپنے تنظیمی کاموں کو بھی مخلصی اور ایمانداری سے انجام دیتے تھے ۔ شہید غلام کی شھادت بلوچ قوم کے لئے کسی المیہ سے کم نہ تھا ریاست شہید کو مارنے کے بعد یہ سمجھ چکی تھی کہ اب یہ تحریک باقی بغاوتوں کی طرح دم توڑ دیگی۔ لیکن ریاست یہ بھول چکی تھی کہ بلوچ قوم میں ہزاروں غلام محمد ابھی زندہ ہے جو اپنی جدوجہد سے دنیا کی کسی بھی طاقت کو شکست دینے کی صلاحیت رکتھے
ہیں۔ غلام محمد اور بلوچ لیڈران کی شہادت کے بعد بلوچ نوجوانوں نے اپنی ذمہداریاں کھٹن اور مشکل حالات میں بہادری اور ہمت سے ادا کرکے ریاست کو پریشانی میں مبتلا کردیا تھا۔ اور اب یہ نوجوان ریاست کو کھٹکنے لگے تھے انہی شعور سے لیس نوجوانوں میں ڈاکٹر دین محمد بھی شامل تھے جن کی جدوجہد سے خوفزدہ ہو کر ریاست نے انہیں خضدار اورناچ کے اسپتال میں دوران ڈیوٹی اغوا کرلیا۔ ڈاکٹر دین محمد بلوچ کو اغوا ہوئے 8 سال کا عرصہ بیت چکا ہے لیکن بلوچ قوم کے بہادر مخلص اور ایماندار فرزند کا کوئی پتہ نہیں چل سکا کہ وہ کہاں اور کس حالت میں ہے۔ بلوچ قوم کی تحریک آزادی جس نے بلوچ قوم اور مظلوموں کو بہادر ایماندار اور مخلص نوجوانوں کو نوازا اسی طرح اس تحریک آزادی نے ایسی بہادر زالبولوں کو جنم دیا بانک کریمہ بلوچ ، بلوچ انسانی حقوق کی تنظیم کے چیرپرسن بی بی گل بلوچ ، اپنے بھائی کے لئے 3000 کلومیٹر کا فاصلہ طے کرنے والی بانک فرزانہ بلوچ اور سمی بلوچ جنہوں نے اپنے جدوجہد سے دنیا کی دیگر مظلوم عورتوں کے لئے ایک مثال قائم کیا ۔ سمی بلوچ ڈاکٹر دین محمد بلوچ کی بیٹی جس نے اپنے بہادر باپ کے نقش قدم پر چلتے ہوئے جدوجہد کو اپنا شعار بنالیا۔.28جون2009کو انکے والدڈاکٹردین محمدبلوچ کوریاستی اداروں نے اغوا کرلیا۔ جس بچی کی عمر بارہ سال ہو اور اسکے باپ کو اغوا کرکے غائب کردیا جائے تو اس بچی اور اسکے خاندان والوں کے لئے زندگی کتنی اذیت ناک و غضبناک ہوتی ہے اس کا جوب متاثرہ خاندان ہی دے سکتے ہیں۔ کتنے ہی لوگ اس پر کھٹن اور مشکل حالات سے گھبرا کر چپ سادھ لیتے ہیں لیکن کچھ بہادر اور ہمتی لوگ ان مشکل حالات کا خندہ پیشانی سے مقابلہ کرکے خود کو دنیا کی تاریخ میں اس قابل بناتے ہیں کہ انہیں ہمیشہ یاد کیا جائے انہی کرداروں میں ایک بہادر کردار سمی بلوچ ہے۔ جس نے اپنے والد کے اغوا ہونے کے بعد اپنی جدوجہد کا سلسلہ 8 سال قبل شروع کیا جو ہنوز جاری ہے۔ جب سمی بلوچ نے اپنی جدوجہد کا سلسلہ شروع کیا تو انکی عمر مشکل سے 13 سال تھی جو ایک بچی کے کھیلنے کھودنے شرارتیں کرنے اور پڑھنے لکھنے کے دن ہوتے ہیں لیکن بہادر باپ کی تلاش میں اس نے شال سے کراچی اور کراچی سے اسلام آباد میں ہر جگہ اپنے بابا کو تلاش کیا اغوا کرنے والے ملک کے اعلی اداروں کو رپورٹ کیا ،میڈیا والوں کے ضمیر کو جگانے کی کوشش کی، عالمی اداروں سے اپیل کی، بھوک ہڑتالی کیمپ لگایا مسنگ پرسن کے کیمپ میں بیٹھی رہی، لیکن ان کے والد بازیاب نہیں ہوئے۔ لیکن اس جدوجہد نے سمی بلوچ کو اس قدر مضبوط بنادیا ہے کہ سمی ہر مشکل و کٹھن راستوں پر چلنے کے لئے تیار ہے ۔ کچھ لوگ دنیا میں ایسے ہوتے ہیں جو لوگوں کو اپنے کردار و عمل سے متاثر کرتے ہیں سمی بلوچ میں یہ تمام خوبیاں پائی جاتی ہے.۔سمی علامت ہے بہادری ہمت کی جس نے اپنا بچپن جدوجہد کرتے ہوئے گزارا اور سمی ایک مثال ہے ایسے کمزور و بے ہمتی لوگوں کے لئے جو جدوجہد کرنے سے گھبراتے ہیں ۔ سمی بلوچ اپنے بابا کے نقش قدم پر چلتے ہوئے ایک تحریک بن چکی ہے وہ صرف ڈاکٹر دین محمد کی آواز نہیں ہے بلکہ تمام لاپتہ بلوچوں کی آواز ہے۔

لیلیٰ سے سمّی تک

Untitled-1

شاہ میر بلوچ
لیلیٰ خالد 9اپریل 1944ء کو حائفہ میں پیدا ہوئی۔ 1948ء میں فلسطینیوں کو اس علاقے سے بیدخل کرنے کے سبب ہجرت کر کے لبنان چلے گئے۔ 15سال کی عمر میں بھائی کے نقش قدم پر چل کے عرب نیشنلسٹ مو ؤمنٹ میں شمولیت اختیار کی ،جو خطے میں بسے مختلف ریاستی ڈھانچوں میں تقسیم ہوئے عربوں کو اپنے قوم پرستی کے جذبات کے تحت ایک قوم تصور کرتی تھی۔اس جماعت کی بنیاد 1940ء میں رکھی گئی ۔اسی جماعت کی فلسطینی شاخ آگے چل کر پاپولر فرنٹ فار دی لیبریشن آف فلسطین (پی ایف ایل پی)بنی۔لیلیٰ خالد پی ایف ایل پی کی ایک مقبول ممبر رہی ۔لیلیٰ خالد کو فلسطین مسلح مزاحمت کا پوسٹر گرل(پوسٹر گرل آف فلسطین ملی ٹینسی)بھی کہا جاتا ہے۔
لیلیٰ خالد 1969ء میں ہونے والی ہائی جیکنگ میں عوام کے سامنے متعارف اور مقبول ہوئیں ۔4ہوائی جہازوں کی ہائی جیکنگ کے واقعات کہ جسے بلیک ستمبر بھی کہا جاتا ہے اس میں ہونے والے پہلے واقعے میں لیلیٰ خالد کی تصاویر دنیا بھر میں شائع ہوئیں۔
اگست 1966ء کو لیلی خالد ہائی جیکنگ ٹیم کا حصہ بنی ٹی ڈبلیو اے فلائٹ 840کی ہوائی جہازجو اٹلی سے یونان کی پرواز پہ تھا اسے ہائی جیک کر کے دمشق پہ اتارااس جہاز کو اتارنے و تمام مغوی مسافروں کو رہا کرنے کے بعد بمب سے جہاز کو اڑا دیا گیا۔
اس ہائی جیکنگ کے بعد ہی لیلیٰ خالد عام عوام میں متعارف و مقبول ہوئیں ۔خصوصاً اس مشہور زمانہ تصور کی توسط جو ایدھی ایڈمز نامی صحافی نے کھینچی تھی کہ جس میں ایک فلسطینی ہائی جیکر کو عربی رومال پہنے ہاتھوں میں کلاشنکوف تھامے دکھایا گیا تھا۔یہ تصویر اب تک فلسطینی مزاحمت کی علامت کیساتھ ساتھ دنیا بھر میں مظلوم اقوام کی جہد آزادی میں عورتوں کے کردار کی وضاحت کرنے کے سبب مشہور ہے
’’مرے جنوں کا نتیجہ ضرور نکلے گا
اسی سیاہ سمندر سے نور نکلے گا‘‘
سمی بلوچ وہ بہادر بیٹی ہے جو اپنے بابا کی بازیابی کے جدوجہد میں اپنے بچپن اور جوانی کو قربان کرچکی ہے ۔ بلوچستان کی سینکڑوں خواتین کی طرح سمّی بلوچ بھی آٹھ برس سے اپنے لاپتہ والد کی بازیابی کی مہم چلا رہی ہے۔ سمی بلوچ کے والد ڈاکٹر دین محمد کو 28 جون 2009ء کو پاکستانی خفیہ ایجنسیوں نے اغواء کر کے غائب کیا ۔ ڈاکٹر دین محمد بلوچ خضدار کے علاقے اورناچ کے سرکاری ہسپتال میں میڈیکل افسر تھے۔ انہیں اپنے پیشے سے اتنا لگاؤ تھا کہ ہر تین ماہ میں محض چند روز ہی اپنے خاندان سے ملنے کے لیے نکال پاتے تھے۔ ڈاکٹر دین محمدبلوچ ایک سیاسی رہنما بھی تھے اور ترقی پسند سیاسی جماعت بلوچ نیشنل موومنٹ (بی این ایم) کی مرکزی کمیٹی کے رکن تھے۔ سول اسپتال اورناچ سے رات کے اوقات سادہ وردیوں میں ملبوس خفیہ اداروں کے اہلکارڈاکٹر دین محمد بلوچ کو اٹھا کر لے گئے ،اس واقعے کے چشم دید گواہ اسپتال میں ڈیوٹی پر معمور سیکورٹی گارڈ تھے، اپنے والد کے لاپتہ ہونے کی اطلاح ملتے ہی سمی بلوچ اپنے خاندان کے ہمراہ پولیس اسٹیشن میں ڈاکٹر دین محمد بلوچ کے لاپتہ ہونے کا FIRدرج کرواتی ہے ،بلوچستان ہائی کورٹ میں درخواست دائر کرکے کوئٹہ پریس کلب کے باہر لگے لاپتہ افراد کے وارثوں کے کیمپ میں سمی بلوچ کی شکل میں ایک اور متاثر ین کا اضافہ ہوتا ہے۔ پریس کلبوں میں پریس کانفرنسز، سپریم کورٹ آئی کورٹ کے چکر لگاتی ہے ۔پاکستان کے ہر اس ادارے میں جو انصاف کے نام پر تعمیر کی گئی ہیں ان کے در تک گئے اپنے والد کے بازیابی کی خاطر وہ وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے تاریخی لانگ مارچ میں شریک ہوئی(جو کوئٹہ تا کراچی،کراچی تا اسلام آباد تک تھی) تاکہ اس کے والد کو منظر عام پر لایا جائے ۔
ایک خاطر خواہ بیٹی آخر چاہتی کیا ہے؟ کیوں عید کے مقدس دنوں میں وہ پریس کلبوں کے سامنے احتجاج کر رہی ہے ،آخر کیوں ؟یہ سوال د نیا میں انسان دوست انسانیت کے علمبرداروں سے ہے ،کیا اس بیٹی کے مطالبات درست نہیں کے اس کے والد کو بازیاب کیا جا ئے،کیا اس بیٹی کے مطالبات درست نہیں کہ اس کے والد کو منظر عام پہ لایا جائے ’’اگر وہ مجرم ہیں تو اسے قانونی سزا دی جائے ‘‘
عورتوں کی کردار کو ہمیشہ سے ہمارے معاشرے نے نچلے نگاؤں سے دیکھا گیاہے ہمیشہ سے عورتو ں کو کمزوری کی علامت کے طور پر متعارف کروایا گیا ہے ،یہاں اس موضوع میں دو ایسے شخصیت کا ذکر کر رہا ہو ں جو دنیا میں علامات کے طور پر جانی جاتی ہیں۔ لیلی خالد جو دنیا میں عورتوں کی طاقت کی علامت کے طور پر جانی جاتی ہے تو دوسری جانب سمی بلوچ ،بلوچ دیار میں جہد مسلسل کی علامت ہے ۔سمی بلوچ ان تمام عورتوں کے لیے باعث فکر ہے جو غیر فطری قید سے نکل کر عملی میدان میں جدوجہد کررہے ہیں۔

A Deep Distress Humanised My Soul

DClBo_DUAAA0aDQ

Naznain Baloch

It was last day of school and I was really very happy that I will spend delectable time with my family, specially with my father, my hero and my friend. But I wasn’t well those days, my throat pain was on peak, I told my father that I am really pained

he said: I am being very late I’ve to go, other patient are waiting for me

His Hospital was at another district, he had to leave up on 3PM

Uff Baba what Benefit do I have to be your doctor ? I said annoyedly

Hahaha my sweet little Daughter, their are many more children who need me more

That moment I thought my dad cared more for Nation, as compare to us. But this didn’t made me sad but more happy, because my father was for Nation.

The thing which I’ve learned from my dad was think for others, never act self-centred. My Dad himself was a Dr at Ornach,Khuzdar.

As Days gone my throat pain was going on edges. I went to my father’s hospital. He checked me out and suggested for a better city for medical treatment that he had no facilities at Ornach. He said you have to operate your throat, as infection is exceeding day by day.

I was really fear of operation. I wasn’t so courageous girl.

But My father spirited me up.

My mom and uncle took me to shaal.

Your Name? Attendant asked

Shantul, I said

Go to Room No. 5, he guided.

Dr said, you’ve high throat infection, you have to operate your throat

27June: My operation occurred in 10 o’clock in the morning

I was very much happy that I was feeling better but couldn’t talk much.

at 9PM Dr discharged me

Me and mom went to my cousins home at Sariab Road.

I woke up on 5AM due to thirst, outside I felt someone is weeping, I went to see, she was my mom. Crying on balcony of her room. What happened mom ? I asked

Go and sleep. She ordered me

Please tell me mom, I requested.

She started weeping more

Oh mom I am being really worried, please tell me

You father has been abducted by security personnels, she continued crying. I frozen , didn’t knew how to act, what to say. Mom hugged and said everything will be alright, don’t worry but She was continuously weeping. I knew as my mom is weeping, nothing will be alright.

7AM: I lied on my bed, closed my eyes and started figuring out, what was my fathers mistake ? Why he has been abducted?

My father was not only a Doctor but also a political activist, with a majestic personality and such a human lover. He was performing duty at Ornach, Ornach is very much destitute area where Drs mostly avoid to perform duty but my baba went to serve humanity their. He was one of bibliophiles, he studied loads of world revolutionary movements and histories. He was a great politician and a great friend of mine. He always wanted to taught me chess ” learn chess my dear, it will help you to take great decisions in life ” I had tears in my eyes. Aah! Why? Why God? Why my Dad? I want to scream so high that my dad can hear me, but I can’t. I can’t do anything , anything which bring my dad back to me.

28June: My uncle went to Ornach for FIR registration.

What’s the matter? SSP asked

My brother was abducted last night, from near Hospital , my uncle said nervously

Name? SSP investigated more

Dr Deen Mohammad

Any doubt on someone? SSP asked further

On Security forces, my uncle said confidently

Okay we will try to trace your brother.

But SSP’s this arrogant behaviour didn’t satisfied my uncle.

Hello Shantul, listen to me carefully, my uncle called me on 28June at 1PM

Yes uncle ? I said distressfully

You have to go with your mother and cousin at Quetta Press Club. Uncle said

I before heard the name of Press Club but never went. On 28June at 5PM we first hold a Press Conference and talked to Media about enforced disappearance of my father.

Feared little girl , sitting beside my mom and watching journalist questioning my cousin about my father. On that moment I felt a hope, may be my father will be back after this talk with media.

Today , again it’s 28June , and again I am at Press Club, I my self talking to Media, but today it’s Karachi Press Club , and it’s 2017 and I am 20.