تاریخ میں طلبا تنظیموں کی کردار

bso-azad

تحریر: میر بلوچ 
تعلیم ایک بنیادی سماجی ادارہ ہے ،طلبا اس کا بنیادی ارکان میں سے ایک ہیں،بنیادی رکن ہونے کے ناطے سماجی اور سیاسی سطع پر نہایت اہم کردار ادا کرتے ہیں۔دوسرے کئی سماجی گروہوں کی طرح طلبہ کے سیاسی کردار کی جھڑیں بھی نشاتہ ثا نیہ سے ملتی ہیں۔ نشاتہ ثانیہ سولہویں صدی کے بعد یورپ میں سیاسی ،سماجی ،اقتصادی ،ثقافتی ،اور علمی میدانوں میں آنے والا ایک جاندار انقلاب تھا۔نشاتہ ثانیہ کے بعد صنعتی انقلاب اور انقلاب فرانس نے قدیم اقتصادی ،سیاسی، اور سماجی اداروں کو یکسر بدل کرکے رکھ دیا۔بادشاہت کی جگہ جمہوریت نے لے لی، جاگیرداری کی جگہ سرمایہ داری آگئی اور چرچ کو ریاستی امور سے ہاتھ دھونا پڑا۔ تبدیلی کی اس ہوا کو عقلیت پسند مصنفین جیساکہ فرانسس بیکن، رہنے ڈیکارٹ، روسو، والیئٹر اور برونو وغیرہ نے مزید توانہ بخشی۔ جمہوریت، قانون کی بالادستی اور سائنسی طرز فکر جیسی کئی نعمتوں کے ساتھ یورپ میں شخصی آزادی ،معاشرتی مساوات ،انصاف ،اور انسان دوستی کی نئی اقدار اور تصورات وجود میں آئے۔ تعلیمی نظام کو چرچ کے تسلط سے آزادی ملی۔ ان سب عوامل نے یونیورسٹیوں کے ماحول میں ڈرامائی تبدیلیاں برپا کیں اور طلبا کو اپنا نقطہ نظر اپنانے، اظہار رائے کرنے اور جمہوری اصولوں پر مبنی تنظیم بنانے کے لیے مناسب ماحول میسر آیا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ سیاسی منظر پر طلبا کا کردار ابھر کر سامنے آیا۔سب سے پہلے جن نظریات نے یورپ کے طلبا کو اکٹھا کیا وہ تھے جمہوریت اور قوم پرستی۔ یورپی ممالک پر نپولین کا حملہ جرمنی اٹلی آسٹریا اور روس کے طلبا کی قوم پرستی کی تحریک کی ایک بڑی وجہ بنا۔ 1815ء میں جینا یونیورسٹی کے جرمن طلبا نے Urburschenshaften نامی ایک یونین بنائی۔ اس تنظیم نے قوم پرستی کے نظریات کو پھیلانے کے لئے کام کیا، اس نے اپنی شاخیں دوسری تمام جرمن یونیورسٹیوں میں بھی پھلا دیئے۔ اس تنظیم کی سرگرمیاں نیم اتحادی جرمن ریاستوں کی حکومت کو بہت خطرناک لگیں اور اسے 1819 ء میں کالعدم قرار دے دیا گیا۔ مگر کالعدم قرار دیئے جانے کے باجود کئی سال تک اس کی سرگرمیاں خفیہ طور پر جاری رہیں۔
1848 میں پیرس، ویانا اور برلن میں انقلاب کی ایک بڑی لہر اٹھی۔ اس انقلابی تحریک میں طلبا صف اول میں شامل تھے۔ بعدازاں اٹلی کے طلباء غیر ملکی دخل انداز یوں کے خلاف متحد ہوگئے اور بطور قوم اٹلی کو متحد کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ روسی طلبا نے زار حکومت کے خلاف جدوجہد کرنے کے لئے انہیں تقلید کی۔
قوم پرستی نظریات ترقی یافتہ ممالک کی یونیورسٹیوں کے ذریعے ان ممالک کی کالونیوں تک بھی پہنچ گئے۔ ایک اور اہم عوامل یہ بھی تھا کہ ان کالونیوں کی اشرفیہ کے جو نوجوان مغربی یونیورسٹیوں میں پڑھ رہے تھے قوم پرستی، شوشل ازم اور سیکولرازم کے جدید نظریات سے متعارف ہوئے اور واپس آکر نہ صرف انھوں نے ان نظریات کو پھیلایا بلکہ اپنی اپنی اقوام کے راہنما بھی ثابت ہوئے۔
قومی حالات کو دیکھتے ہوئے ان کالونیوں میں قوم پرست طلبا تنظیمیں وجود میں آئیں جو جلد ہی قومی آزادی کی تحریکوں میں بدل گئے۔ غیر ملکی تسلط سے نفرت اور سوراج کی زبردست محرک ثابت ہوئے ،انڈونیشیا کے طلبا اس کی بہترین مثال ہیں۔ انہوں نے قومی آزادی کی جددجہد کے ساتھ ساتھ قوم پرستانہ نظریات کو پھلانے کا کام بھی کیا ۔برصغیر کی تاریخ بھی اس طرح کی مثالوں سے بری پڑی ہے۔1905 میں برصغیر کے طلبا نے بنگال کی تقسیم پر حکومت برطانیہ کے خلاف زبردست احتجاج کیا۔1920 کی تحریک خلافت میں بھی انہوں نے اہم کردا ادا کیا۔ برصغیر کی دو اہم تنظیمیں آل انڈیا اسٹوڈنٹس فیڈریشن اور آل انڈیا مسلم اسٹوڈنٹس فیڈریشن شامل ہیں جو 1936 اور 1937 میں قائم ہوئیں۔ ان تنظیموں نے ہندوستان کی تحریک آزادی میں اہم کردا ادا کیاتھا۔ اس کے علاوہ انقلابی طلباء نے بھی ہندوستان کی تحریک آزادی اور سوشلسٹ انقلاب کے لئے بہت کام کیا۔ عظیم ہیرو بھگت سنگھ بھی ان میں سے ہی ایک تھا۔
بیسویں صدی کا پہلا نصف حصہ دنیا سے کالونیوں کے خاتمے کا دور تھا۔ اسی لئے اس عرصہ میں طلبا تحریکوں کا بنیادی مقصد ملکی آزادی حاصل کرنا ہی تھا۔ جبکہ نصف صدی کے بعد ان کا زیادہ تر رجحان سوشلزم ،مارکسزم اورعمومی سماجی تبدیلی کی طرف زیادہ ہوتا گیا۔ شوشل از م نظریات کے اثرات اتنے گہرے تھے کہ 1991 میں سوشلسٹ بلاک کے انہدام تک تقریبا تمام ترقی یافتہ اور ترقی پزیر ممالک میں طلبا کی سیاست پر ان کی اجارہ داری رہی۔ تاہم کئی مستثات بھی ہیں جیسا کہ انقلاب ایران میں شامل کچھ طلبا گروپ اور مذہبی و نسلی ایجنڈے پر کام والی دائیں کی دیگر کچھ تنظیمیں جیساکہ اسلامی جمیعت طلبا اسلام بالواسطہ یا بلاواسطہ طور پر مغربی طاقتوں کی حمایت یافتہ بھی رہی ہیں تاکہ سرد جنگ میں انہیں روس کے خلاف استعمال کیا جاسکے۔طلبا تنظیموں میں کچھ ایسے تھیں کسی خاص نظریہ کے بجائے خاص حالات و واقعات کے ردعمل میں وجود میں سامنے آئے جیسا کہ جنگ عظیم اول میں یورپی طلبا تنظیموں نے جنگ کے خلاف تحریک چلائی اور جنگ عظیم دوئم میں امریکہ کی شمولیت کے خلاف امریکی طلبا تنظیموں نے تحریک چلائی اور بیسویں صدی کے پہلے نصف میں سیاہ فاموں کے حقوق کے لئے تحریک چلائی گئی۔ مئی 1968 کی تحریک کو کئی تاریخ دان دوسرا انقلاب فرانس کا نام بھی دیتے ہیں۔ مئی 1968 نے فرانس کی قدامت پرست، مذہب، حب الوطنی اور بالادست طبقات کے لئے عزت جیسی اقدار کو روشن خیال مساوات شخصی آزادی اور انسانی حقوق کی اقدار کے ساتھ بدل دیا اور آج فرانس کی پہچان ہیں۔ آج دنیا میں جتنے بھی آزادی تحریکیں چل رہی ہیں ان میں طلبا تنظیموں کا کرداربہت اہم ہیں ،جیسا کہ تبتی تحریک جو چین کے زیر قبضہ ہے اور وہاں بھی ایک سیاسی طلبا تنظیم کی جدوجہد جاری ہے تبت کی طلبا تنظیم ایس ایف ٹی(student for a free tibet) 1994کی قیام عمل میں آیاہے۔ تبت کو چین نے 10مارچ 1959 کو قبضہ کیا تھا اور تبت کی تحریک آزادی میں طلبا و طالبات کے فعال کردار کی کمی کو محسوس کرتے ہوئے چند تبتی آزادی پسند سیاسی کارکنوں اور تبتی اسٹوڈنٹس نے اس تنظیم کی بنیاد رکھی۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ ایس ایف ٹی تبت کے اندر جدوجہد کرنے کے بجائے باہر ممالک میں مقیم تبتی طلبا و طالبات پر مشتمل ایک انٹرنیشنل نیٹ ورک قائم بھی کر چکی ہے۔ جو عالمی سفارتکاری اور لابینگ کی اہمیت کو مدنظر رکھتے ھوئے ایس ایف ٹی کی عالمی سطح پر تنظیم کی ممبر شپ تیزی سے بڑھتی گئی اور دو سال کے اندر دنیا کے مختلف میں اسکے 150 چیپٹرز قائم ہوئے۔ ابتدائی طور پر تنظیم نے اپنی جدوجہد کا محور ساتھی طلبا و طالبات میں تبتی تاریخ و ثقافت، چینی قبضے اور آزادی کی تحریک کے متعلق آگائی مہیم پھلائی گئی اور تیزی سے باہر ممالک میں مقیم تبتی اسٹوڈنٹس کی توجہ کا مرکز بن گیا۔ فی الوقت ایس ایف ٹی 35 ممالک میں پھلی ہوئی ہیں اور دنیا کی مختلف یونیورسٹیوں،کالجوں، اسکولوں اور عام کمیونیٹوں میں اسکے 650 چیپٹرز ہیں۔اور اس تنظیم کا ہیڈکواٹر امریکہ میں ہے اور اس کے علاوہ کینڈا، انڈیا، اور برطانیہ میں بھی اس کے دفاتر موجود ہیں۔چین نے تبت پر 10 مارچ 1959 کو قبضہ کیا تھا اور تبتی اسٹوڈنٹس اس دن کو دنیا کے مختلف جگہوں میں اس دن کے متعلق آگائی مہیم پھلائی جاتی ہیں، اور اپنے اوپر ہونے والے چینی مظالم کے بارے میں تقریریں کرتے ہیں اور ریلیاں نکالتے ہیں۔ کردستان ورکر پارٹی کردستان میں جاری آزادی کی تحریک میں کرد قوم کے ساتھ شانہ بشانہ ہیں کردستان ورکرز پارٹی کا قیام 27 نومبر 1978 میں لائس نامی گاوں میں رکھی گئی جس میں عبداللہ اوجلان نے اہم کردار ادا کیا اور وہی اس کے حقیقی بانی ہے۔ نظریات حوالوں یہ تنظیم انقلابی سوشلزم و کردش قوم پرستی کے نظریات کا مرکب ہے۔ ابتدائی عشروں میں اوجلان نے کرد طالب علموں کو یکجا کرنا شروع کیا اور بعدازاں یہ گروپ ترکی کے جنوب مشرق کے علاقوں میں آباد کردوں سے تعلقات قائم کیے اور خود کو سیاسی جماعت کردستان ورکرز پارٹی کی صورت میں ڈالنے میں کامیاب ہوا۔ 1984 میں جب اس تنظیم نے آزاد کردستان کے قیام اور خصوصا ترکی کی جبری قبضے کے خلاف اپنی جدوجہد کا آغاز کیا تو ترک سرکار نے اس تنظیم کو مکمل طورپر صفایا ہستی سے مٹانے کی ٹھان لی۔ ترکی نے اپنے بین الاقوامی پروپیگنڈے کے تحت اسے محض تنگ نظر و لسانی اور دہشت گرد تنظیم گردانتی ہیں یہ تنظیم امریکہ یورپی یونین سمت متعدد ممالک میں اس تنظیم پر پابندی دی جاچکی ہیں۔
اگر ہم اپنے بلوچ قومی تحریک آزادی پر نظر ڈالیں تو ہمیں بھی ایسے ہی ایک طلبا تنظیم نظر آئی گی جو ہر مشکل حالات میں بڑے سے بڑے مشکلات کا سامنا کرتے ہوئے اپنی جدوجہد جاری رکھا ہوا ہے۔ ویسے تو ریاست پاکستان نے بلوچ قومی تحریک میں جدوجہد کرنے والے تنظیموں کے خلاف پابندی عائد کردی گئی ہے لیکن بی ایس او آزاد کے خلاف کچھ زیادہ ہی اپنی مشنری استعمال کررہا ہے۔ جب ریاست پاکستان نے بی ایس او آزاد پر پابندی عائد کردی تو ان کے کارکنان کو گرفتار کرنا اور یونیورسٹیوں میں ان کے کارکنان کے ہاسٹلوں میں چھاپہ مار کر ان کے کتابوں کو دہشت گرد مواد ظاہر کرنا ریاست کی ناکامی کا منہ بھولتا ثبوت ہے کہ ریاست پاکستان بی ایس او آزاد سے کتنا خوف زدہ ہے۔ اور ریاست نے بی ایس او کو کمزور و ختم کرنے کے لئے تنظیم کے مرکزی جنرل سیکرٹری زضا جہانگیر کو شہید اور تنظیم کے چیئرمین زاہد بلوچ کو لاپتہ کرکے بی ایس او کو کمزور کرنے کی کوشش کی مگر کسی حد تک کامیاب نہ ہوسکے اور بی ایس او آزاد نے 2015 کو اپنا کامیاب سیشن کر کے ریاست کو یہ باور کرایا کہ بی ایس او ایک تحریک کا نام ہے اور وہ ایک نوجوانوں کی تحریک ہے جسے کوئی بھی مٹھا نہیں سکتا۔ بی ایس او نے ایسے بہت سے نوجوان پیدا کیے ہیں جو اپنی قومی آزادی کے لئے کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کرسکتے ۔شہید کامریڈ رضا جہانگیر ہو یا قمبر چاکر، شفیع بلوچ، کامریڈ قیوم، اور دوسرے بہت سے بلوچ نوجوان جو اپنے مقصد سے ذریعہ بھی پیچھے نہیں ہٹھے اور اپنی تنظیم کے لئے قومی تحریک کی خاطر جان کا نذرانہ پیش کردیا گیا۔ آج بلوچ قومی تحریک سیاسی حوالے سے اتنی مضبوط ہیں اس کے پیچھے بی ایس او آزاد کا اہم کردار ہیں۔ کیونکہ طلبہ تنظیمیں ہی اپنی قوم کے نوجوانوں کی تربیت کرتی ہے اور انہیں اپنی قومی تاریخ و ثقافت کے بارے میں معلومات فراہم کرتی ہے اور وہ اپنے تاریخی اہمیت کو جان کر جدوجہد کی طرف مائل ہوجاتا ہے۔ ایک انقلابی تنظیم ہی اپنی قومی تحریک کو اچھی طرح گائیڈ کرسکتا ہے آج تبت تحریک، کرد تحریک اور بلوچ قومی تحریک ان تینوں تحریکوں میں طلبا تنظیموں کا کردار بہت اہم ہیں۔ اور ریاست کی کریک ڈاون کے باوجود بھی بی ایس او آزاد مضبوط اور مستحکم ہوتا جارہا ہے۔ بلوچ نوجوانوں کوچاہیے کہ وہ اپنے قومی تحریک کے ساتھ وابستہ رہے اور بی ایس او کا ساتھ دیں کیونکہ بی ایس او کی جدوجہد بلوچ قومی تحریک کے لئے ہے اور تحریک بلوچ قوم کی بقا سے وابستہ ہے۔

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s