تلار ایک عظیم کردار

63287

چراگ بلوچ
دنیا میں ایسے ہزاروں جانثار گزرے ہیں جنہوں نے اپنی جدوجہد کے بدولت تاریخ میں مورخ کو اپنی خدمات اور جدوجہدپر قلم اورلب کوشائی کی جانب مبزول کروایا ہے کیونکہ اُن لوگوں کی جدوجہد معاشرے کے اندر ایک جستجو کی موجب بنی ہیں۔ایک جمودزدہ معاشرے میں تجسوس ہی اسُکی جمود کو توڑ کر اُسے ترقی کی جانب سفر پر راغب کراتی ہے۔اسی طرح تاریخ کے اوراق میں سقراط کا ذکر جستجو زادہ معاشروں میں کافی اہمیت حاصل کر چکی ہے ،کیونکہ سقراط ہی وہ ہستی تھے جنہوں نے یونان کی جمود زادہ معاشرے میں بحث و مباحث کی رواج کو پروان چھڑایا ،خود تومعاشرے کو جمود میں رکھنے والوں کی ہاتھوں قتل کردئیے گئے مگر تاریخ نے اُسے سرخروح بنا کر اُن لوگوں کے لئے مشعل راہ بنا دیا جو اپنے اپنے معاشروں میں جستجو کو پروان چھڑھانے کیلئے مصروف بہ عمل ہیں۔
جب ہم تاریخ میں مزید گوطہ زنی کرتے ہیں تو تاریخ ہمیں ایسے بے شمار کرداروں سے روشناس کراتی ہے جو جمود کو توڑنے میں کامیاب رہ چکے ہیں ۔اگر ہم مذاہب کے تاریخ کو کھنگالتے ہیں تو ہمیں نبیوں سے لے کر پادریوں تک ایسے بہتوں کرداروں سے واقف کراتی ہے جو معاشرے میں امن اور خوشحالی لانے کی سہرا اُن کے سر جاتا ہے ۔اسلامی تاریخ میں حضرت محمدﷺ ہی وہ شخص تھے جوعرب معاشرے کی جمود کو توڑ کر وہاں بڑی تبدیلی لانے میں کامیاب ہوچکے تھے ،اُس نے اُس وقت کے جاہل عربوں کو انسان بنایا ہے،وہاں کے جبر وتشدد کے ماحول میں امن وخوشحالی آئی اور انکے دورِ حکمرانی تک برقرار رہی ہے ۔فارس کے تاریخ میں مذہبی رہنما مزدک کی تذکرہ بھی بڑی اہمیت کے حامل ہے جو شہشناہ کے دربار میں ایک قریبی ملازم ہو کر قہت کے دنوں میں شہنشاہ کی جمع پھونجی پر لوگوں کو اجازت دے کر لوگوں کے دل میں ایک نبی کی حیثیت حاصل کرکے لوگ اُسکی پوجھا کرکے اُسے ایک باقاعدہ مذہبی شکل مل جاتی ہے ،کیونکہ جابر بادشاہ کی دربار میں سالوں سے آئے ظلمت سے لوگوں آزاد کراکر اُن کی زندگیوں کو بچاتا ہے۔
عیسائیت کی تاریخ میں جب رومن کیتولک کے پادری سماج کو ترقی کے بجائے تنزلی کی جانب دکیل دیتے ہیں تو اُنکے خلاف ایک اہم کردارکنگ مارٹن لوتر کی شکل میں اپنے95 تیسس پیش کرتا ہے اور اُسکے تیسس عیسائیت کو دو جگہوں میں تقسیم کر دیتا ہے ،لوگ اُن بدگمان،اور کرپٹ پادریوں کے خلاف پروٹسٹ کرکے اپنا خود کا ایک الگ فرقہ بنا دیتے ہیں ،وہ فرقہ آج بھی پروٹسٹینٹ کے نام سے یورپ کے اکثریتی ممالک میں آباد ہیں۔اسی عیسائیت ہی کی تاریخ میں ایک اور کردار آرچ بشپ میکیریس جو ایک پادری ہونے کے ساتھ ایک آزادی پسند جہدکار بھی تھے ،جنہوں نے سائپرس کی آزادی کو اپنے عقیدے کے ذریعے سائپرس کے لوگوں کو ترکی اور یونان دونوں سے ایک ہی وقت میں جنگ کی درس دیا کرتے تھے۔
جب نظر دنیا کی آزادی کی تحریکوں کے اوور جاتی ہے تو وہاں مظلوم اقوام کے بہادر سپوتوں کی ایک طویل فہرست مل جاتی ہے کہ جنہوں نے معاشرے کی آزادی کی خاطر ایک انمول کردار نبا کر تاریخ میں سرخ رو ہوئے ہیں۔جن میں کیوبا اور لاطینی امریکہ کی آزادی کے لئے جدوجہد کرنے والا ڈاکٹر چے گویرا،چین کو ایک متحداور آزاد ریاست بنانے والا ماؤے زے تنگ،مزدوروں کو آواز بننے اور اُنہیں متحرک کرنے والاکارل مارکس، یونان کے ڈکٹیٹرشپ پاپاڈوپولس کی استحصال ،ظلم اور جبر کے خلاف اپنے لوگوں کی آزادی کے لئے تاریخ رقم کرنے والے کردار الیگزینڈر پیناگولز ،دنیا کی پہلی کمیونسٹ اور سوشلسٹ ریاست کی بنیاد ڈالنے والا باصلاحیت انسان ولادی میرلینن،امریکی اور فرانسیسی سامراج سے ایک نہ تمنے والا جدوجہد سے ویتنامی عوام کو آزادی کی شاہراہ میں لانے والا دربیش صفت انسان ہوچی من،اوردنیا کے اندر پائے جانے والے نسلی تضادات کو ختم کرنے کی پاداش میں اپنی آدھازندگی جیل میں بسر کرنے والا نیلسن منڈیلاقابل ذکر ہیں،انہی حضرات کی متہین کردہ راستے پر چلتے ہوئے آج دنیا کے تمام مظلوم طبقہ،نسل،اور اقوام اپنی حق اور آزادی کے لئے جدوجہد کر رہے ہیں،چائے وہ اقوام چین کے مظلوم ایغور اورتبتی،ایران،ترکی،شام اور عراق کے کرد ہوں،یا ایران،افغانستان،اور پاکستان کے جبری قبضہ میں رہنے والے بلوچ ہوں،یا پھرہندوستان کے نیکسل وادی ،امان کے ظفاری،نائجریا کے سفاری ہوں اپنے اپنے جدوجہد میں کبھی شدت کے ساتھ آگے آتے ہیں تو کھبی حادثات کے شکار ہوکر سالوں تک میڈیا اور بحث و مباحثوں سے یکسر غائب ہو کر عدم توجہی کے شکار بن جاتے ہیں۔آج امان کے ظفاری اسکی ایک واضع مثال ہے۔کرد اور بلوچوں کی جدوجہد میں بھی وقت و حالات کے مطابق شدت اور حادثات آئے ہیں۔مگر ان میں ہر وقت کرداروں کی کمی محسوس نہیں ہوئی ہے۔بلوچ جدوجہد کی شروعات سے ہی کرداروں کی ایک لمبی لڑہے۔ان کرداروں میں نواب محراب خان سے لے کرنورا مینگل،بابو نوروز،جنرل شروف،بالاچ مری،غلام محمد، رضا جہانگیر،حاجی رزاق،اُستاد صبا دشتیاری تک ایک لمبی فہرست ہے جو بلوچ جدوجہد کو ایک قبائلی معاشرے سے نکال کر ایک ادارہ جاتی معاشرے میں لا کر آزادی کی منزل کو قریب سے قریب تر کرتے جا رہے ہیں۔
راقم کو ایک کردار کی کوج تھی ،اُسی کردار میں راقم کو ان سب کرداروں سے اس لیے تعلقات استوار کرنا پڑھا کہ راقم کا کردار اوپر بیان کئے گئے کرداروں سے مماثلت رکھتے تھے ۔ اگرآج کے بعد اُس کردار کی جدوجہد کو سمجھنے اور پرکھنے کے لئے اُنہیں ایک مورخ نہ تو سہی کم از کم تاریخ کا ایک طالب ہونا پڑھے گا۔
وہ کردار تلار (سلیمان جان) کے علاوہ کون ہو سکتا ہے ۔میرا تلار بھی بلوچستان کے پیناگولزہی تھا۔ابھی کچھ اپنی عظیم کردار کے مالک تلار جان کی جدوجہدکے لئے کچھ رقم کرنے کی جسارت کرتا ہوں ۔تلار (سیلمان) جان ایک سیاسی کارکن تھے ،وہ بلوچ نیشنل موومنٹ کیچ ریجن کے صدر تھے ۔تلار ویہی انسان ہے( جو کیچ خاص کر تربت جو ریاستی رٹ کا گڑ مانا جاتا ہے ،یہاں ایک آئی جی بیٹھا ہے تربت ایک ہیڈکواٹر ہے، کہنے کا مطلب یہ ہے کہ تربت ہی بلوچستان میں قابض فوج کا بلوچستان میں دوسرا مرکز ہے یہاں سے مکمل مکران کی مانیٹرینگ ہوتی ہے بلوچستان میں آپریشنوں کی تیاری یہاں سے کی جاتی ہے اس لئے اس علاقے کو جدوجہد سے پاک کرنا اولین شرط تھی ،اُسی کے تسلسل میں تربت سے بلوچ جدوجہد کاروں کی ایک ختم نہ ہونے والے جبری گمشدگی اور مسخ شدہ لاشوں کا سلسلہ شروع ہوا جس کے زد میں بی این ایم اور بی ایس او آزادکے کہیں لیڈر و کارکنان آئے ہیں۔جن میں بی این ایم کے بانی غلام محمد،لالامنیر،شیرمحمد،امدا بجیر،رازق گل ،رضا جہانگیر،کمبر چاکر ،رسول جان سمت کہیں کارکنان بشمول تلار جان بھی شامل ہیں)جب ریاستی کریک ڈاؤن تیز سے تیز تر ہوگئی تو وہاں تلار جان جیسے کرداروں نے علاقے میں حقیقی سیاست جو کہ بلوچ کی آزادی کی ضمانت ہے کو زندہ کرکے اُسے قوت بخش دی۔آزادی کے لئے قربانی سے سرشار لوگوں کو اکھٹا کرکے انکی سمیت کو منزل کی جانب کردیا تھا۔ایک دفعہ پھر تربت کے سیاسی موسم بھال ہوگئی ہر گھر اور دیوان میں آزادی ،جدوجہد کی موضوع گفتگوں کی زینت بن گئی۔ریاست نے کریک ڈاؤن کے ساتھ ساتھ منشیات کے پھلاؤ کو معاشرے میں تیز کر دیا تھا تاکہ نوجوانوں کو قابوں میں رکھا جا سکیں ،تلار اور دوستوں نے نوجوانوں کے ہاتھوں بیئر کی بوتل کی جگہ ڈاکٹر مبارک علی،ڈاکٹر خالد سہیل،عنایت اللہ بلوچ اور پروفیسر حمید بلوچ کی تسانیف مکران،تاریخ اور معاشرہ،تاریخ کے نئے زاویے،سماجی تبدیلی ارتقا و انقلاب،The Problem of Greater Balochistanتما دی ۔جب تربت میں فورسز نے بلوچ عورتوں کو گھیرے میں لے کر اغوا کرنے کی کوشش کی تو تلار ہی وہ نوجوان تھا جس نے ریاستی گناہونے عمل کو بی این ایف کی پلیٹ فارم کے تحت ناکام بنا دیا۔
راقم کا تلار سے پہلی ملاقات مارچ 2015میں ہوئی تھی اُس دو دنوں کی ملاقات میں، میں نے تلار کی قائدانہ صلاحیت کو بہت قریب سے دیکھا ۔اُس شخص کے اندر سخت سے سخت تر حالات میں تنظیم کاری ،ماس موبلائزیشن،رابطہ کاری کی صلاحیت موجود تھے۔وہ اپنے کارکنان اور عوام کو تنظیمی پالیسوں کے تحت کام لینے سے بھی اچھی طرح واقف تھے۔
پارٹی اور تنظیموں میں ایسے کردار کارکنان کے لئے حوصلہ ہوتی ہیں ۔جب بھی حالتِ مایوسی اور بیزاری کی کفیت آجاتی ہے تو وہاں ایسے کردار بیچ میں آکر حالات سے لڑنے کی تلقین کرتے ہیں،اس لئے یہ کہاوت عام ہے کہ ایک کردار بن کر جیو کیونکہ کردار مرتے نہیں ہیں ۔وہ تاریخ کے اوراق میں رہ کر ہمیشہ جدوجہد کے لئے رہنمائی کرنے آتے ہیں۔
آخر میں کامریڈ تلار جان کے چند الفاظ ہمیں اپنے جدوجہد میں طاقت اور عوامی سیلاب کو دشمن کی طرف کرنے کے لئے ایک لازوال قربانی کے لئے تیار رہنا ہوگا ۔قربانی ہی وہ شے ہے جس کے ذریعے ہم اپنے دشمن کے ہر عمل کو ناکام بنا کر عوامی حوصلے میں قوت پیدا کر سکتے ہیں ۔اس کے لئے بی این ایم اور بی ایس او آزاد کے کارکنان کو اس کے لیے خود کو عملی طور پر تیار کرنا ہوگا۔جب ہم آج سے لازوال قربانی کے لیے تیار ہونگے ہماری اندھیری راتوں کو جلد روشنی میسر ہوگی،اور وہ روشنی اس پورے خطے اور انسانیت کی بقا کی ضامن ہوگی۔
تلار نے لازوال قربانی کی راہ میں گامزن ہوتے ہوئے ہمیشہ کیلئے نمیران ہوگئے۔

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s