تاریخ ساز

akbar-bugti-620x330

منظور بلوچ 
نواب صاحب ! 
کتنا عرصہ بیت چکا ہے جب آپ نے اپنے فیصلے کے مطابق اپنی شہادت کی راہ چنی ۔۔۔ لیکن آپ کے جانے کے بعد جو حالات رونما ہوئے ‘ ہو رہے ہیں وہ بڑے عجیب و غریب ہیں۔ 
لوگ شاید ۔۔۔ میری بات سے اتفاق نہ کریں ۔۔۔ لیکن بھلا تاریخ کو ہماری کیا پرواہ ۔۔۔ تاریخ تو انہی چیزوں کو محفوظ رکھتی ہے جن کی اہمیت ہو ۔۔۔ باقی سب کاٹھ کباڑ ۔۔۔ جی ہاں ۔۔۔ نواب صاحب ۔۔۔ آپ کے بعد ہم ۔۔۔ اور اکثریت کاٹھ کباڑ کی ہے۔
آپ کے وہ سارے دوست ‘ اقرباء ‘ عزیز ‘ آپ کی محفل میں شریک ہونے والے ‘ آپ سے سب فیض پانے والے ‘ آپ کا دم بھرنے والے ‘ سارے کے سارے ‘ اسی صف میں کھڑے ہیں ۔۔۔ جس میں قاتل بھی ہیں ‘ رہزن بھی ۔۔۔ 
مجھے یاد آتا ہے کہ جب آپ ڈیرہ بگٹی کی بجائے کوئٹہ میں ہوتے تھے تو آپ کے مہمان خانے کی رونق ہمیشہ دوبالا ہوتی تھی ۔۔۔ ہر طرح کے لوگ ۔۔۔ وہاں آتے تھے ۔۔۔ کوئی خود کو سیاسی رہنماء کہلواتا تھا ‘ کوئی آپ کا جانثار ہوتا تھا ۔۔۔ کوئی صحافی کہلاتا تھا کسی کو یہ زعم تھا کہ وہ دانش ور ہے ۔۔۔ 
لیکن نواب صاحب ۔۔۔ آپ نے مزاحمت کا فیصلہ کر کے کچھ اچھا نہیں کیا ۔۔۔ کتنے صاحب دستار لوگ ہیں ‘ جو آج سر بچانے کی فکر میں دستار کھو بیٹھے ہیں ۔۔۔ کتنے آپ کے بزم کے لوگ ہیں ‘ جو رات کی سیاہی کے ہمسفر بنے ۔۔۔ کچھ کے چہروں پر بھی یہ سیاہی نظر آتی ہے ۔۔۔ 
اب آپ کے مہمان خانے کی وہ رونق نہیں رہی ۔۔۔ درست ہے کہ مہمان خانے ‘ اپنے میزبان کی وجہ سے جانے پہچانے جانتے ہیں نواب صاحب ۔۔۔۔۔۔ آپ نے ستم ڈھایا ۔۔۔ آپ کے سارے نام لیوا ۔۔۔ آج صف قاتلوں میں جگہ ڈھونڈتے پھر رہے ہیں ۔۔۔ 
آپ جہاندیدہ تھے ‘ لوگوں کی پہچان بھی تھی لیکن پھر بھی کچھ لوگوں نے اپنے چہروں پر اتنے چہرے سجا رکھے تھے ۔۔۔ کہ ان کے اصلی چہرے اس وقت رونما ہوئے ۔۔۔ جب آپ شہادت کے منصب پر اپنا مقام حاصل کر چکے تھے ۔۔۔ بہت آسانی کے ساتھ ۔۔۔ آپ کے ’’ دوستوں ‘‘ نے وہیں کی راہ لی ‘ جہاں سے ان کا خمیر اٹھاتھا کسی کو سول ایوارڈ ملا ‘ کسی نے عدل کے ایوانوں میں مناصب ہتھیائے ‘ کوئی آپ کے نام کی مالا جینے لگا ۔۔۔ 
جو آپ کی مہربانیوں سے ’’بڑے ‘‘ آدمی بنے تھے ‘ پارلیمنٹ میں دھواں دھار تقاریر کرتے تھے یا وہ جلسوں میں اچھے اچھے سیاسی رہنما?ں کو آنکھیں دکھاتے تھے ایسی باتیں کرتے تھے ‘ گویا وہ چی گویرا کے رشتہ دار ہوں ۔۔۔ لیکن الحمد اللہ ۔۔۔ سارے خیر خیریت سے ہیں۔ مزے کر رہے ہیں۔ پیسے کما رہے ہیں۔ دنیاداری کر رہے ہیں ان میں سے اکثریت کو لوگ بھول چکے ہیں لیکن وہ بیچار ے اب بھی کام کر رہے ہیں ۔۔۔ 
نواب صاحب ! آپ نے کمال کر دیا ۔۔۔ وہ سارے ’’ایسے ویسے ‘‘ لوگ ‘ جن کو آپ کی زندگی میں نظریں اٹھانے کی جرات نہ تھی ‘ وہ آج آپ کی قوم کو دھمکیاں دیتے ہیں ۔۔۔ ’’بیچارے لوگ ‘ ‘جو آپ کے لہو سے آج بھی رزق کما رہے ہیں ‘ ان کے ہاں ‘ آپ کے ہی بزم کے لوگ ‘ اسی طرح ملنے جاتے ہیں ۔۔۔ جس طرح کبھی وہ آپ سے ملنے آیا کرتے تھے۔ 
وہ سارے لکھنے والے ‘ صحافی وغیرہ وغیرہ ۔۔۔ اب آپ کو بھول چکے ہیں ۔۔۔ لیکن عام آدمی ‘ محکوم اقوام آپ کو نہیں بھولے آپ ان کے ہیرو ہیں ۔۔۔ تاقیامت رہیں گے .نواب صاحب ۔۔۔ آپ کو معلوم نہ ہو ۔۔۔ کہ آپ کے بعد خیبرپختونخوا میں ایک طالب علم مشال خان کی صرف اس لئے جان لی گئی کیونکہ اس کے ہاسٹل کے کمرے میں آپ کی تصویر بھی تھی ۔۔۔ اور حکمران ‘ اشرافیہ کیلئے یہ بڑی خطرناک بات تھی کہ باچا خان کے عدم تشدد کے فلسفے کے پرچار کرنے والوں میں کوئی آپ کا نام لیوا جنم لے۔
آپ کی شہادت کے بعد ۔۔۔ جس طرح سے سندھ متاثر ہوا تھا ۔۔۔ اس کے بدلے میں 2008ء کے انتخابات میں پیپلز پارٹی کو اقتدار ملا ۔۔۔ ’’بیچارے لوگ ‘‘ کوئی ایم این اے بنا ‘ کوئی وزیراعلیٰ کے منصب پر پہنچا ۔۔۔ لوگوں میں لطیفہ مشہور ہے کہ سائیکل چور بھی وزیر بنے ۔۔۔ 
بہر حال ۔۔۔ زرداری اور پیپلز پارٹی نے خوب مزے کئے ۔۔۔ گو کہ اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے لعنت ملامت کا سلسلہ بھی برابر جاری رہا ۔۔۔ نواب صاحب ۔۔۔ آپ کے لہو نے جن کو بلوچستان میں اقتدار بخشا ۔۔۔ وہ ’’بیچارے ‘‘ تو اندراج ’’سکیم ‘‘ کا شکار ہوئے ۔۔۔ اور پھر ان کی جگہ ۔۔۔ ’’قوم پرست ‘‘ نامی اجنبی لوگوں نے لے لی۔ 
یہ اجنبی ۔۔۔ جنہیں قوم پرستوں کے نام سے پہچانا جاتا ہے سنا ہے کہ کسی زمانے میں آپ کے بھی بہت قریب تھے ۔۔۔ آپ کی سربراہی میں 1988ء میں انہوں نے بھی انتخابات میں حصہ تھا اور کامیاب ہوئے تھے اور میر بزنجو کو شکست دی تھی۔
عجیب معاملہ ہے کہ ان کو اقتدار آپ کی مزاحمت کے نتیجے میں ملا ۔۔۔ لیکن وہ آج کل وفاداری میر بزنجو سے ظاہر کرر ہے ہیں نواب صاحب ۔۔۔ آپ کی شہادت نے ہمیں بھی کہیں کا نہیں چھوڑا ۔۔۔ یہ جو بلوچستان میں چھوٹا سا ایک طبقہ ’’ لکھنے والوں ‘‘کا ہے ان کی حالت بھی دیدنی ہے ۔۔۔ 
’’بیچارے ‘‘ اب میر بزنجو کے صد سالہ جشن منا رہے ہیں ۔۔۔ کبھی ان کو میر گل خان نصیر کی یاد ستاتی ہے ۔۔۔ کبھی وہ یوسف عزیز مگسی کی شخصیت کے سائے میں پناہ ڈھونڈنے لگتے ہیں۔ 
دھوپ کی ایسی تمازت ہے کہ موم سے بنے چہرے پگھل رہے ہیں ۔۔۔ غالباً عطاء شاد نے ہی کہا تھا کہ ۔۔۔
دھوپ کی تمازت تھی موم کے مکانوں پر 
اور تم بھی لے آئے سائبان شیشے کا 
نواب صاحب ۔۔۔ آپ نے مزاحمت اور شہادت کا فیصلہ کر کے کچھ بھی اچھا نہیں کیا گو کہ آپ کے اس فیصلے سے یاروں کے دسترخواں پھیل گئے ہیں لیکن ان کے چہرون پر ہوائیاں سی اڑ رہی ہیں۔
اور ہاں ۔۔۔ وہ آمر ۔۔۔ پرویز مشرف ۔۔۔ آج کل ۔۔۔ جہاں جاتا ہے ۔۔۔ ’’عزت افزائی ‘‘ کا شکار ہوتا ہے ۔۔۔ 
اور نواز شریف بھی ۔۔۔ ایک بار پھر اسٹیبلشمنٹ کے ہاتھوں خوار نظر آ رہا ہے ۔۔۔ اور یہاں کے نیم پڑھے لکھے ’’سیاسی ‘‘ آج کل عمران خان؂
کی گن گا رہے ہیں یہ سارے پڑھے لکھے ’’بونے ‘‘ سیاسی عمل کی بجائے ری ایکشن کی پیداوار ہیںآج پاکستان بے پناہ بحرانات سے دوچار ہے ۔۔۔ نواز شریف کی رخصتی ‘ عمران خان کے ڈھول تاشے ‘ ٹرمپ کے بیانات ‘ آئے روز ’’سیاسی ‘‘ مسائل ۔۔۔ بڑھ رہے ہیں ۔۔۔ اور لوگ یہ کہنے سے قاصر ہیں کہ اسلام آباد جن بحرانات سے دوچار ہے ان کی جڑیں بلوچستان اور بلوچ قومی جدوجہد سے وابستہ ہیں۔ 
اگر پرویز مشرف بلوچستان میں آگ نہ لگاتے ‘ نواب مری کو گرفتار نہ کرتے ‘ آپ کے خلاف فوجی آپریشن نہ کرتے تو شاید تاریخ بہت مختلف ہوتی ۔۔۔ 
نواب صاحب ۔۔۔ آپ کا شکریہ ۔۔۔ کہ آپ نے ہمیں لوگوں کی اصلیت سے واقف کر دیا ۔۔۔ نام نہاد دانشور ۔۔۔ نام نہاد صحافی ۔۔۔ نام نہاد سیاست دان ۔۔۔ نام نہاد سیاسی جماعتیں ۔۔۔ نام نہاد قوم پرست ۔۔۔ سارے ایک ہی حمام میں ننگے دکھائی دے رہے ہیں ۔۔۔ اور اندھے لوگوں کو بھی ان کی اصلیت نظر آ رہی ہے 
اس تناظر میں دیکھیں تو ۔۔۔ 
آپ ہی ۔۔۔ ایک تاریخ ساز نظر آتے ہیں ۔۔۔ جس نے جعلی معاشرے کی بنیادوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔
اگست کا مہینہ خونی ہو چکا ہے ۔۔۔ اور اس خونی مہینے میں یار لوگوں کی سیاست ‘ اشتہار بازی ‘ ہورڈنگز ۔۔۔ چمچ گری ۔۔۔ سبھی کچھ آئینہ ہو چکا ہے۔ 
نواب صاحب ۔۔۔ موقع ملا ۔۔۔ تو آئندہ بھی آپ سے کچھ کچھ باتیں ہوتی رہیں گی۔

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s