کمال بلوچ کا پیغام بلوچ نوجوانوں کے نام

Screen-Shot-2017-08-04-at-10.56

 میرے کاروا ن کے عظیم ساتھیو،
بلو چ قومی آزادی کی جد وجہد کس جانب گامزن ہے اور اس میں آپ لو گو ں کا کردار کیا ہے اس سے بلوچستان کا ہر شخص بخوبی آگاہ ہے۔ ہم اپنا کر دار مزید کس طر ح بہتر طریقے سے ادا کرسکتے ہیں، یا ہمیں کس طرح کردار کرنا چاہیے اس بات پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔ اس وقت جو تبد یلیاں دنیا میں رونما ہو رہی ہیں اس سے ہمیں با خبر رہنا چا ہیے۔یہ حقیقت ہے کہ طا قتور اور مظلوم کے درمیان جو رشتہ ہے وہ آقا اور غلام کا ہے، اس فلسفے کو سمجھتے ہو ئے ہمیں یہ جاننے میں آسانی ہو تی ہے کہ کیوں بلو چستا ن پر قبضے کے خلا ف آواز بلند کرنے پر ریاست ہمارے خلاف انتقامی کاروائیوں پر اتر آئی ہے۔ ہم آقا اور محکوم کے تفریق کو ختم کرنے کے لئے جدوجہد کررہے ہیں، اس لئے ہمارے لوگ چن چن کر غائب کیے جارہے ہیں اور ہمیں مسخ شدہ لاشیں مل رہی ہیں۔ خاص کر ہر بلوچ طالبعلم کے ذہن میں یہ سوا ل ضرور پیدا ہو نا چاہئے کہ یہ سب کچھ کیو ں اور کس لئے ہو رہا ہے؟ ان سوالوں کے جوابات تاریخ کے صفحات پر موجود ہیں، ہر نوجوان کو ان سوالوں کا جواب تلاش کرنا چاہیے۔ جب ہم تاریخ پر نظر ڈالتے ہیں تو کمزور اور حاکم کے فرق کو ختم کرنے کی جدوجہد کے حوالے سے صفحات کے صفحات بھرے پڑے ملتے ہیں۔ اس میں کوئی حیرانگی کی بات نہیں کہ زندہ رہناالگ بات، محکوم کے مرنے کااختیا ر بھی اس کے اپنے ہا تھ میں نہیں ہو تا ہے۔ بلوچ طالبعلم کی حیثیت سے ہمیں یہ معلوم ہونا چاہیے کہ تا ریخ کو بدلنے والے عظیم انسان عام طرح کے لو گوں میں سے ہوتے ہیں۔کیا معلوم تاریخ میں خود کو سرخرو کرنے کا یہ سہرا کون اپنے سر پر باندھے۔ہم میں سے ہر ایک یہ سو چ لے کامیابی ہم حاصل کرسکتے ہیں،اس کے لئے دن رات ایک کر نے کا جذبہ موجود ہو تو اس بات میں کوئی شبہ نہیں کہ اپنی مقصد میں کامیاب ہوجائیں۔ تاریخ کے اوراق جہد کاروں کو ہمیشہ سنہرے الفاظ میں یاد کرتے ہیں۔
بی ایس او آزاد کے کا رکنان کے ساتھ ہر بلو چ طالب علم پر فر ض بنتا ہے کہ وہ اپنے اند ر قومی جذبہ رکھے۔ کیو نکہ انقلا ب اور تبد یلی لانے والے نوجوان ہی ہو تے ہیں اگر چین، جنوبی کو ریا اور انڈیا کی تاریخ پر نظر ڈا لیں تو نو جو انو ں کا کر دار وہاں نما یا ں نظر آتا ہے۔ بلو چ جد وجہد میں بھی بلوچ طالب علم رہنما ہراول دستے میں موجود ہیں۔ مثال کے طو رپر ڈاکٹر اللہ نظر میر عبدالنبی سمیت دیگر بہت سے کردار ہیں جو آج اہم مقام پر فا ئز ہیں۔اس لئے میں آپ لو گو ں سے یہ عرض کر نا چاہتا ہوں کہ اپنے اندر اتنی مضبو طی پیدا کریں کہ کو ئی طا قت آپ لوگوں کوتقسیم نہ کر سکے، کچھ لوگ بی ایس او کے باقی دھڑوں کی موجودگی کو جواز بنا کر یہ سو چتے ہیں آج ہم کیو ں تقسیم ہیں۔ لیکن میر ے خیال میں یہ تا ریخی حقیقت ہے کہ ہم تقسیم نہیں بلکہ ہم دو مختلف نظر یات کے مالک ہیں۔ یہ نظر یہ بلو چ قومی آزادی اور انقلاب کی ہے دوسر ی سوچ وہی ہے جو پا کستان کے ساتھ رہنے کی حمایتی ہے۔اور یہی نظریہ قومی مفادات کی بجائے انفرادی مفا دات کو ترجیح دیتا ہے۔  ایک تا ریخ کے طالب علم ہو نے کے ناطے میں اُن سے یہ کہناچاہتا ہو ں کہ آپ لوگ غلط سمت پر جا رہے ہیں۔ جو تاریخ اس وقت رقم ہو رہی ہے اس سے آپ لوگو ں کو محروم رکھا گیا ہے، آپ غلط راہ کا انتخاب کر چکے ہیں۔ میں اس تحر یر میں بی ایس او پجا ر بی ایس او مینگل کے کا رکنان کو یہ واضح پیغام دینا چاہتا ہوں کہ وہ حقیقی راہ کا انتخاب کر یں۔ اسی میں بلو چ کی نجا ت اور ہما ری بقا ہے۔ کیو ں ہم تاریخ سے واقفیت کے باوجود تاریخ سے سبق حاصل نہیں کرتے؟ ہر کسی کے اشارے پر ادھر اُدھر دوڑنا شروع کردیتے ہیں۔ آئیں اسی راہ کا انتخاب کریں جس سے آزادی کے منزل تک پہنچا جا سکتا ہے، جہاں آزاد وطن و ریاست کے مالک بلو چ عوام رہیں۔ کم از کم اپنے اندر اس بحث کا آغا ز تو کر یں۔ آپ لو گو ں کے ذہن میں یہ بات ڈالی جا چکی ہے کہ بی ایس او آزاد نے غلط راستے کا انتخاب کیا ہے،یہ اس لئے کہا جا رہا ہے کیوں کہ بی ا یس او آزاد تاریخ کا درس دیتی ہے، بی ایس او آزاد اپنے حق پر بات کرنے کادرس دیتی ہے، بی ایس او آزاد کتاب اور قلم کی بات کر تی ہے۔اگر یہ درس غلط ہے تو پھر ہر وہ جہد کار غلط ہے جس نے آزادی کی جدوجہد کی اور ہر وہ حق گو غلط ہے جو حق بات کہنے کی جرات کرتا ہے۔ اگر قومی خوشحالی کی بات کرنا غداری ہے تو مجھ سمیت بی ایس او آزاد کا ہر کارکن غدار ہے۔ ہر بلوچ طالبعلم کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اِس طرز کے منفی پروپگنڈوں کوناکام بنانے کی بھر پور کوشش کرے۔
ممکن ہے کہ کچھ دوست یہ سوچ رہے ہیں کہ کیوں بی ایس او کی لیڈر شپ پہلے کی طرح میڈیا میں نظر نہیں آتی ہے۔ میرے خیال میں یہ سوچ ایک مفروضہ ہے،ہم اپنے کا رکنان کیساتھ ہر وقت بحث مباحثوں میں ایک ساتھ ہیں ہم جہا ں کہیں بھی ہو ں ہر وقت ہم اپنے کا رکنوں کے ہمراہ ہیں اپنی تقریروں، پروگراموں اور تحر یو ں کی شکل میں ہم ایک ساتھ ہیں۔
 بی ایس او آزاد کے کا رکنو! آج بلو چستان کے حالات کس نہج پر ہیں اس سے آپ لو گ بخوبی باخبر ہیں۔ سیاسی معاملات کا مطالعہ کرنے کے ساتھ آپ ذرائع ابلاغ سے روز خبریں سنتے اور دیکھتے ہیں۔اسی لیئے بلو چستان کیلئے قابض حکمران کی پالیسیاں عالمی برادری یا کسی بھی بیرونی ادارے سے زیادہ آپ لو گو ں پر واضح ہیں۔ اگر آپ قبضہ گیر کی تماتر تر پالیسیوں کا بغور مطالعہ کریں تو آپ بخوبی اندازہ ہو جائے گاکہ ریاست اپنے استعماری مفادات کے حصول کیلئے کس حد تک متحرک ہے۔آج پاکستان اپنے استحصالی پروجیکٹس کی تکمیل کیلئے مختلف قسم کے حربوں کے ساتھ منفی پروپگنڈے بھی کر رہا ہے۔
اگر دیکھا جائے تو اس وقت ریاست کی پوری توجہ گوادرپورٹ کی تعمیر میں ہے۔ایک طرف تو ریاستی میڈیا پورٹ کے نام نہاد فائدے لوگوں کو بتارہی ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہا ں لو گو ں کو زندہ رہنے کیلئے پینے کاپانی تک دستیا ب نہیں ہے۔ تو کیا یہ بات سمجھنے کیلئے کا فی نہیں ہے کہ طاقتور کس طرح جھوٹ کا سہارا لیکر اپنے منصوبوں کو تکمیل تک پہنچانا چاہتی ہے۔لہذا اس دور کے تعلیم یا فتہ نوجوان جو تحقیق پر بھروسہ کرتے ہیں وہ تحقیق کر یں اور وہ بیما ری نکال باہر کر یں جو قومی صحت کیلئے نقصان دہ ہے۔ کہنے کامقصد آسان الفاظ میں آقا اور غلام کے رشتے کو جانناچاہئے کہ وہ رشتہ کیا ہے۔ بطور معاشرے کے زمہ دار طبقہ آج جو ذمہ داری ہم پر عائد ہے، یا جوذمہ داری ہم نے لی ہے، کیا ان پر ہم پو را اُتررہے ہیں؟ میر ے خیا ل میں جو محنت آپ لوگ کر رہے ہیں اس سے پو ری دنیا آگا ہ ہے۔ مگر اس خوش فہمی میں نہیں رہنا چاہیے کہ ہم منطقی منزل تک پہنچ چکے ہیں۔
بی ایس او آزادہزار مشکلات کے باجو د بھی اپنے پیغامات دنیا تک پہنچا رہی ہے۔سالوں سے بی ایس او آزادکے کا رکنان اور لیڈران کو پاکستانی فوج چن چن کر اغو ا کر کے قتل کررہی ہے۔لیکن اسکے باوجود ہما ری تنظیم کے کارکنان کے پاؤں میں لرزش تک نہیں آئی ہے۔ بلکہ اپنے کام میں مزید بہتری لا رہے ہیں۔ سرگرمیوں کو سر انجام دینے کیلئے ہما رے کارکن دن رات محنت کر رہے ہیں جو قابل ستائش ہے۔ جو سیا سی پر ورش آپ لوگوں کی اس پلیٹ فا رم پر ہو رہی ہے اس کا مقصد بلو چ نو جو انو ں میں سیاسی شعور پید اکر نا ہے، حق اور سچ کی راہ دکھا نا ہے تاکہ یہ آگاہی تمام بلوچ سماج اور نوجوانوں میں آ سکے۔ مستقبل کی رہنما آپ لو گ ہیں اگر اپنے مستقبل کیلئے فکر مند ہیں تو آج آپکو لازماََ جدوجہد کرنا ہوگی۔اس وقت بلو چ جنگی اور انقلا بی حالات سے گزر رہی ہے اس نازک صورت حال کو سمجھنے کی ضرورت ہے کہ کس طرح کی پالیسیاں تشکیل دینی چاہیے۔
بلوچستان میں نظام تعلیم ایک الگ بحث ہے کہ بلوچو ں کیلئے تعلیم کا دروازہ قبضہ کے پہلے دن سے بند رہا ہے۔اسی وجہ سے بلوچستان کے اکثر علا قوں میں پر ائمری تعلیمی ادارے ہی نہیں ہیں تو نوجوان کس طرح یورنیو رسٹیز جا سکیں گے۔ بیشتر اسکولوں میں پا کستان پرست نیشنل پارٹی اور دیگر پارلیمانی جماعتوں کے سفارشی بھر تی کیے ہوئے ٹیچرز تعینات ہیں۔ اس طرح کی مثالیں بلو چستان کے طول و عرض میں موجود ہیں۔ کہنے کا کا مقصد یہ ہے کہ ریا ست کبھی بھی یہ نہیں چاہتی ہے کہ بلوچ معیاری تعلیم حاصل کر یں۔بلکہ وہ بلوچوں کو جاہل رکھ کر صدیوں پیچھے دھکیلنا چاہتا ہے۔بلوچوں نے ماضی میں جس طرح ہر چیلنج کا سامنا کیا اور سرخرو رہے ہیں، اسی طرح آج کے زمانے کے چیلنجز کا سامنا کرکے بلوچ سرخرو نکلیں گے۔
تعلیم کا معیار پا کستان کی تعلیمی اداروں میں ہمیشہ نیچے ہی رہا ہے۔ اُس کے دانشوار خود اس با ت کو تسلیم کر تے ہیں کہ یہا ں سیا سی معاشی بحران کے ساتھ ساتھ اخلاقی بحران بھی اپنے عروج پر ہے۔ان تما م حالات کاجا ئز ہ لیں تو پاکستان کی اجتماعی صورت حال کو سمجھنا ہمارے لئے آسان ہوگا۔ چوں کہ پاکستان کی تشکیل قومی بنیادوں پر نہیں بلکہ مسلم بھائی چارگی کے نام نہاد نظریے کی تحت پر ہوئی ہے۔)یہاں اس بات کی وضاحت کرنا ضروری ہے کہ مختلف قومیتوں کے تشخص کو ختم کرکے انہیں مذہب کے نام پر یکجا کرنے کی دلیل کمزور ترین دلیل ہے(۔ اسی لئے آج ایک مخصوص طبقے کے علاوہ عام سندھی، پنجابی، پشتون اور دیگر قومیتیں بھی معاشی، سیاسی، ثقافتی استحصال کا شکار ہیں۔ اُن قوموں کو بلوچوں کی جدوجہد سے رہنمائی حاصل کرنا چاہیے۔ کیونکہ بلوچوں نے  ایک کٹھن راستے کا اتخاب ایک عظیم مستقبل کیلئے کیا ہے۔
ریاست کے نام نہاد د دانشور بلوچ قومی جد وجہد پر انتہائی منفی پر وپیگنڈا کر کے اسے غلط ثابت کر نے کی ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں۔ دوسری طرف پاکستان پر ست پا رٹیو ں کی جانب سے یہ پروپگنڈا رعام ہے کہ بلو چ خا نہ جنگی کا شکار ہیں۔وہ یہ بات ہر خاص و عام کو باور کرانا چاہتے ہیں کہ بلوچستان خانہ جنگی کا شکار ہے۔ مگر اس طرح کے خیالات حقیقت سے کو سوں دور محض اندازے ہیں۔ اس طرح کی باتیں پھیلانے کا بنیادی مقصد بلو چ تحر یک کو ختم کر نے کی ایک ناکام کوشش ہے۔ سیاسی کارکن ہونے کے ناطے ہمارے لئے ضروری ٹھرتا ہے کہ دشمن کے ہر منفی پروپگنڈے کو ناکام بناتے ہوئے تمام تر سیاسی تقاضوں، حقائق، کمزوریوں اور تغیرات کو مد نظر رکھ کر قومی آزادی کی جدو جہد میں بہتر سے بہتر کردار ادا کریں۔  ان معاملات کو سمجھنے اور ان مسائل کو حل کرنے میں دنیا کے تحریکوں اور اقوام کی تاریخ بہترین رہنماء ہے۔

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s