رضا محبت کا سمندر ہے

shaheed-raza-jahangir-baloch

تحریر :داس بلوچ
اگر میں یہ کہوں کہ بلوچستان کے تمام علاقے اس شخص کی قدموں کو اپنے سینے میں محسوس کرچکے ہیں تو میں غلط نہیں ہوں گا۔ کیوں کہ رضا نے بلوچستان کے تمام علاقوں میں تنظیم کو منظم کرنے اور عوام کو مربوط رکھنے کے لئے دورے کیے تھے۔ رضا جہانگیر بنیادی طور پر آواران کے رہائشی تھے لیکن زیادہ تر تنظیمی کاموں کے سلسلے میں علاقے سے باہر ہوتے تھے۔ جب کبھی آواران آتے تو آواران بھر میں گھومتے، لوگوں سے ملتے۔ رضا جہانگیر کی عوام سے محبت ریاست کو ایک آنکھ نہ بھاتی، اس لئے رضا کے گھر پر کئی مرتبہ چھاپے پڑے۔رضا جہانگیر اپنی کم عمری کے باوجود ایک منجھے ہوئے سیاسی لیڈر تھے، اپنی عوام سے بے باں محبت کی وجہ سے رضا جہانگیر اْن لوگوں کی محفل میں بھی جاتے جو سیاسی سرگرمیوں میں شرکت کی وجہ سے رضا کے مخالف تھے۔ لوگوں کی باتیں سننے اور پھر اپنی بات دلیل سے رکھنے کی وجہ سے رضا جہانگیر کے سیاسی حلقے میں وسعت آتی گئی، بلوچستان کے باقی علاقوں میں جس طرح رضا جہانگیر نے لوگوں کو تحریک میں کردار ادا کرنے کے لئے متحرک کیا۔ اسی طرح کولواہ، آواران میں رضا جہانگیر کی پختگی اور کمٹمنٹ نے عام لوگوں میں آزادی کی شعور اجاگر کردی۔ رضا جہانگیر کی کئی خوبیوں میں سے ایک یہ بھی تھا کہ وہ کبھی مایوس نہیں ہوتے تھے، شدید ترین حالات میں بھی رضا کے چہرے پر چھائی مسکراہٹ پریشانیوں کو دور بھگاتی تھی۔ جب بی ایس او آزاد نے اپنا انیسواں کونسل سیشن منعقد کیا تو رضا جہانگیر سیکرٹری جنرل کے عہدے پر منتخب ہوگئے۔ سیشن کے چند مہینوں بعد تنظیم کے خلاف پروپگنڈے کا ایک طویل سلسلہ شروع ہوگیا۔ ریاستی کریک ڈاؤن اس سے پہلے جاری تھی۔ لیکن رضا جہانگیر نے ان حالات کا جس یقین اور اعتماد کے ساتھ مقابلہ کیا وہ اب بھی تنظیمی دوستوں کے لئے مشعل راہ ہیں۔رضا جہانگیر محبت کا ایک پیکر تھے، جسے لوگوں سے بے انتہا محبت تھی۔ بے لوث محبت کی وجہ سے جو کوئی رضا سے ملتا اْس کا گرویدہ بن جاتا تھا۔ جب 2013میں تربت میں رضا جہانگیر بلوچ کو فورسز نے شہید کردیا تو جنازے میں ہزاروں افراد بشمول خواتین کی شرکت نے ثابت کردیا کہ رضا کی جدوجہد رائیگاں نہیں گئی ہے۔ عام لوگ جنہیں کل تک اپنی بدحالی کا اگرچہ پتہ تھالیکن اس کا سبب معلوم نہیں تھا، آج وہ سب برائیوں کی جڑ کو پا چکے ہیں اور اس جڑ یعنی غلامی کو کاٹنے کے لئے تحریک میں کسی نہ کسی حوالے سے شریک ہیں۔ 
رضا جہانگیر جیسے لاغر بدن لیکن نظریاتی حوالے سے محکم نوجوانوں کی جدوجہد میرے جیسے طالبعلموں کو یہ پیغام دیتی ہے کہ قومی جذبہ اور لوگوں کی محبت جب شعور کا حصہ بن جائے تو انسان کسی قسم کی مشکل سے نہیں گھبراتی ہے، بلکہ ہر مشکل و مصیبت کا خندہ پیشانی کے ساتھ مقابلہ کیا جا سکتا ہے۔ آج اگرچہ رضا جہانگیر ہمارے درمیان موجود نہیں، لیکن اْس کی تعلیمات بلوچ نوجوانوں کو منزل تک رہنمائی فراہم کرتے رہیں گے۔ 
بقول شاعر
تو پہ سرانی گڈگ ءَ زند ءِ ھیالاناں کشئے
پہ سندگ ءَ داشت کن ءِ پھلاں چہ بوتالانی ءَ

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s