پروپیگنڈہ کیا ہے ؟

Propaganda-534x444

حمید بلوچ
پروپیگنڈہ اپنے خیالات نظریات سوچ کو عوام کے سامنے لانے کا ایک آسان طریقہ ہے جیسے سیاسی و مذہبی تنظیمیں اور ریاستی ادارے عوام کے رائے کو متاثر کرنے کے لئے استعمال کرتے ہیں۔ پروپیگنڈہ دور قدیم سے دور جدید تک عوامی معاشرے کا ایک اہم حصہ رہا ہے جس کو ہر دور میں اپنے مطلوبہ مقاصد کو حاصل کرنے کے لئے استعمال کیا گیا ہے۔پروپیگنڈہ کو تفصیل سے بیان کرنے سے پہلے اسکی تعریف، ذرائع اور طریقے اصول بیان کروں تاکہ پروپیگنڈہ کو سمجھنے میں آسانی ہو۔پروپیگنڈہ ایک ایسے طریقے کار کا نام ہے جس کو استعمال میں لاتے ہوئے لوگوں کو ایک مخصوص نظریہ قبول کرنے میں ذہنی و نفسیاتی حوالے سے تیار کیا جاتا ہے۔ پروپیگنڈہ کی اشاعت کے لئے اخبارات، رسائل، ٹی وی، سوشل میڈ،جلسے جلوس، مظاہرے، پمفلٹ اور دیگر ذرائع شامل ہیں۔پروپیگنڈہ کو عوام میں لانے کے کچھ اصول ہوتے ہیں جس کو استعمال کرتے ہوئے کوئی بھی ریاست تنظیم ایک بہتر طریقے سے عوام میں اسکی اشاعت کرسکتاہے۔ تیسری دنیا کے ممالک جو سامراجی تسلط میں تھے اور اب بھی ہے ایسے ملکوں کے عوام تعلیم سے دور ہوتے ہیں اس لئے ان کو سمجھانے کے لئے پروپیگنڈہ آسان زبان میں ہو تاکہ جن کے لئے پروپگنڈہ کیا جارہا ہے وہ اس کو سمجھ کر اس تحریک کا حصہ بن سکے۔دنیا کی تحریکات کی کامیابی میں پروپیگنڈہ کو ایک خاص اہمیت حاصل ہے اسی پروپیگنڈہ کے ذریعے دشمن کے حوصلوں کو پست کرکے اپنے عوام کے حوصلوں کو بڑھاکر انہیں قومی تحریکوں کا حصہ بنایاگیا۔پروپیگنڈہ کو سب سے پہلے مذہبی حلقوں نے اپنے نقطہ نظر کی وضاحت کے لئے استعمال کیا قدیم دور میں جب دنیا جاگیرداری اور ملوکیت کی لپیٹ میں تھا اشرف المخلوقات جاگیردار بادشاہ اور ملاوں کی غلامی میں بری طرح پھنس چکے تھے اس غلامی کو مزید طول دینے کے لئے بادشاہوں، ملاؤں اور جاگیرداروں نے پروپیگنڈہ کے زور پر استحصال کو مزید بڑھاوا دیا تاکہ بغاوت کی نوبت نہ آئے اور انسان اسے خدا کی مرضی سمجھ کر چپ سادھ لے ۔اس ظلمت کی رات کو ختم کرانے میں بھی پروپیگنڈہ نے ایک اہم کردار اداکیا ہے۔ جب سائنس ترقی کرنے لگی چھاپہ خانہ ایجاد ہونے لگے تو روشن خیال اور ترقی پسند لوگوں نے اپنے خیالات عوام میں وضح کرنے کے لئے پروپیگنڈہ کیا کہ پادری حضرات سادہ لوح عوام سے رقم لیکر جنت کے پروانے جاری کرتے ہیں اور گنڈے تعویذ بانٹ کر توہم پرستی کی جال میں پھنساتے ہیں۔پروٹسٹنٹ فرقے کا وجود انہی پروپیگنڈہ کی مدد سے آیا اور ہر جگہ پوپ کی مخالفت شروع ہوئی انہیپروپیگنڈہ نے پورپ میں انقلابی حالات کو جنم دیا جس کا نتیجہ یہ ہوا معاشرے میں طاقت کا توازن بدلا اور تاجروں اور صنعت کاروں نے بھی حکومتی معاملات میں شرکت کا مطالبہ کیا۔ برطانیہ کے تاجروں نے بادشاہ کے خلاف انقلاب برپا کرکے پارلیمنٹ کو آئینی بنایا۔ انقلاب فرانس اور امریکہ کی آزادی میں پروپیگنڈہ نے اہم کردار ادا کیا۔پہلی جنگ عظیم اور دوسری جنگ عظیم میں پروپیگنڈہ کو اتنی ترقی دی گئی کہ پروپیگنڈہ ایک خطرناک ہتھیار بن گیا اور ہر ریاست تنظیم اور ہر ادارے نے اس کا استعمال ایک اہم آلے کے طور پر کرکے اپنے مقاصد آسانی سے حاصل کئے۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا کا سفر ترقی خوشحالی کی طرف بڑھنے لگا اور اسی ترقی نے پروپیگنڈہ کے فن کو بھی ترقی دی اور دنیا کے دو بڑے طاقتوں نے ایک دوسرے کو نیچا دکھانے اور اپنے مفادات حاصل کرنے کے لئے پروپیگنڈہ کو بطور ایک آلے کے استعمال کیا کیونکہ ان کو علم تھا کہ پروپیگنڈہ کا فن ہی انہیں کامیابی سے ہمکنار کرواسکتاہے۔ بقول ایک زانت کار کے کہ اگر آپ نے پروپیگنڈہ میں مہارت حاصل کرلی تو آپ خدا کو اسکے تخت سے نیچے اتار سکتے ہو ۔جنگ عظیم دوئم کے بعد امریکہ کا سب سے بڑا حریف سویت یونین تھا جسے وہ مذہبی ممالک کے سامنے لادین کے لقب سے پکارتاتھا اور سوویت یونین کے خلاف پروپیگنڈہ کے لئے مذہب کو ایک اہم ہتھیار کے طور پر استعمال کیا۔ اسکے علاوہ امریکہ نے فرانس ،یونان اور اٹلی میں کمیونسٹوں کو شکست دینے کے لئے بھاری مالی امداد دی 20ویں صدی کے اختتام پر جب سویت یونین زوال کا شکار ہوئی تو ایک نیا طوفان امریکہ اور دنیا کے سامنے کھڑا تھا تو اس طوفان سے نمٹنے کے لئے امریکہ نے دنیا بھر کے ممالک میں پروپیگنڈہ کیا کہ اسلامی شدت پسندی سے نہ صرف امریکہ کو خطرات لاحق ہے بلکہ پوری دنیا کو اس طالبانائزیشن سے خطرہ ہے اور اس سے نمٹنے کے لئے دنیا کے تمام ممالک امریکہ کا ساتھ دیں۔امریکہ نے ویتنام میں بھی پروپیگنڈہ کے ذریعے قبضے کو طول دینے کی کوشش کی لیکن ویت نامی پارٹی نے ان کی ہرپروپیگنڈہ کا موثر جواب دیکر انہیں ناکامی سے دوچار کیا۔دنیا میں مظلوموں پر جب قبضہ کیا جاتا ہے مظلوموں کی قومی شناخت کو مٹانے کے لئے سامراج مختلف منصوبوں پر عمل پیرا ہوتا ہے۔ اپنے تاریخ دانوں سے پروپیگنڈہ کرواکے اسکی تاریخ، جغرافیہ اور ثقافت کی شکل بگاڑ کر رکھ دیتا ہے اپنے ماہرین نفسیات سے پروپیگنڈہ کرواکے مظلوموں کو جاہل وحشی کند ذہن ثابت کرتا ہے تاکہ مظلوم نفسیاتی دباؤ کا شکار ہوکر جدوجہد کی صلاحیتوں سے محروم ہوسکے۔دنیا کے ہر ظالم و جابر ملک نے جب کسی دوسرے ملک پر قبضہ جمایا تو اسے یا تو تعلیم سے دور رکھا یا اس قوم کو ایسی تعلیم دینے کی کوشش کی کہ وہ’’ یس سر‘‘ کہنے والا روبورٹ بن جائے ۔غلامی کے تاریک دنوں میں ویتنام کا بھی یہی حال تھازرین فاطمہ ”ویتنام کی انقلابی جدوجہد ” میں لکھتی ہے کہ ویتنام کا پڑھا لکھا طبقہ فرانسی تسلط کے خلاف لکھتا رہا اور حالات کا تجزیہ کرتا رہا ان کی کوشش تھی کہ ملک میں تعلیم عام ہو یہ وہ وقت تھا کہ ویتنام میں صرف دس فیصد لوگ اخبار پمفلٹ پڑھ سکتے تھے۔جہالت کے خلاف انہوں نے عوام کو بیدار کرنے کے لیے ایک نعرہ لگایا ”ہمیں پڑھنا ہے تاکہ ہم جنگ جیت سکیں ” اس نعرہ نے عوام کو تعلیم کی طرف راغب کرنے میں مدد دی ۔کسان ہر شام ننگے پاوں لالٹین اٹھائے ہوئے کلاسوں میں جانے لگے یہ ویتنامی انقلابی پارٹی کی حکمت عملی تھی کہ عوام بیداری کی طرف راغب ہونے لگی ۔ویتنام کی کمیونسٹ پارٹی نے پروپیگنڈہ ٹولز کو اپنے حق میں استعمال کرکے دنیا کی طاقتور ریاستوں کو شکست سے دوچار کیا۔فرانس نے الجزائر میں انہی سامراجی پروپیگنڈہ کو استعمال کرکے الجزائری عوام کو نفسیاتی مریض بنادیا تھا لیکن ان پروپگنڈوں کو ناکام بنانے کے لئے نیشنل لبریشن فرنٹ کے جہد کاروں نے عوام کو شعوری تربیت دیکر جدوجہد کے لئے تیار کیاپروپیگنڈہ کے ذریعے عوام کو جہد کا حصہ بنایا۔الجزائر کی جنگ آزادی سے قبل الجزائری عوام فرانس کے قبضے میں غلامی کی زندگی بسر کررہے تھے ان کی آزادی میں پروپیگنڈہ نے ایک اہم کردار ادا کیا۔ جب آزادی کی تحریک کا آغاز ہوا تو لبریشن فرنٹ نے ریڈیو کو اپنا ایک اہم آلے کے طور پر استعمال کرکے سامراج کی نیندیں حرام کردیے تھے۔.1954ء سے قبل ریڈیو پر فرانس کا قبضہ تھا اور وہ فرانسی زبان میں اسکے نشریات چلاتے اور مقامی ثقافت کو تباہ کرنے کی پالیسی پر گامزن تھے۔ فرانس نے الجزائری عوام میں ریڈیو تقسیم کئے کیونکہ یہ قابض فرانس کو دو فائدے دیتا تھا ایک یہ کہ وہ اپنے فوجیوں کا حوصلہ بڑھاتا اور دوسرا مقامی لوگوں کو احساس کمتری میں مبتلا کرکے جدوجہد کی صلاحیت سے محروم کردیتا تھا یہ ریڈیو فرانس کی قوت مزاحمت کی
علامت تھا۔ اس ریڈیو کے پروگرام میں فرانس کے قومی ترانے بجائے جاتے تھے اسکے علاوہ ریڈیو میں جھوٹی خبریں پھیلا کر عوام میں مایوسی پھیلائی گئی ۔اگر قابض فوج کسی معصوم الجزائری کو قتل کردیتی تو ریڈیو میں جبر نشر ہوتی کہ فرانس کے فوج نے دہشت گردوں کو ہلاک کردیا ہے۔ریڈیو فرانسیسی فوج کے لئے مزاحمت کی علامت جبکہ الجزائری عوام کے لئے ایک عذاب تھا ۔لیکن جب الجزائری انقلابیوں نے محسوس کرلیا کہ سامراج کے پروپیگنڈوں کا جواب نہیں دیا تو وہ ہماری مقامی کلچر کو تباہ کرنے کے علاوہ عوام کو بھی اپنی طرف کھینچ کر جہد آزادی کو ختم کرسکتے ہیں۔ اس لئے انقلابی قیادت نے تیونس کی تقلید میں الجزائر میں ریڈیو نشریات چلانے کا اعلان کیاالجزائری انقلابیوں نے عوام کو احساس دلایا کہ ریڈیو اپنے مقاصد کو حاصل کرنے کا ایک اہم ذریعہ ہے ۔جب استعمار اسے استعمال کرسکتا ہے تو ہم بھی اپنے آزادی کے لئے بطور پروپیگنڈہ ٹولز اس آلے کو استعمال کرسکتے ہیں۔ اسی ریڈیو نے الجزائری عوام کو خواب غفلت سے جگاکر شعور اجاگر کیا تھا ۔وہ ظالم کے حربوں کو سمجھنے لگے. 1954ء سے قبل ریڈیو الجزائر میں برائی کی علامت تھا لیکن جب یہ انقلابیوں کے ہاتھ آیا تو یہ دوستی اور محبت کی علامت بن گیا۔وہ عوام اور انقلابیوں کے درمیان ایک پل کا کردار ادا کررہی تھی ریڈیو انہیں مجاہدین اور فوجیوں کے درمیان لڑائی کی پل پل خبر پہنچاتا۔ جس سے انکے احساس کمتری ختم ہونے لگی اور وہ زندگی کی طرف لوٹنے لگے ۔اب ریڈیو میں فرانس کے فوجی ترانے نہیں بلکہ الجزائری عوام کو بیدار کرنے کے لئے ایک نغمہ ”میرے بیٹے یہ ماں تجھ پہ واری رہے جنگ جاری رہے جنگ جاری رہے ” اس نغمے نے الجزائری عوام میں ایک نئی روح پھونک دی۔ الجزائری عوام آزادی کے جذبے سے سرشار ہوکر بازاروں میں آزادی زندہ باد کے نعرے لگاتے جس سے انہیں گولیوں کا نشانہ بنایا جاتا لیکن وہ موت سے باخبر ہوکر آزادی کے جذبے سے سرشار تھے۔ یہ انقلابی قیادت کی حکمت عملی تھی کہ انہوں نے ریڈیو کے ذریعے پروپیگنڈہ کرکے عوام کو بیدار کرکے الجزائر کی آزادی حاصل کی ۔پروپیگنڈہ ایک ایسا آلہ ہے جسے وقت کے سامراجوں نے اپنے برے مقصد کے لئے اسے استعمال کیا۔ جبکہ آنقلابیوں اور مظلوم قوموں نے قومی غلامی کو ختم کرنے کے لئے اس کا استعمال کیا۔چین کے ماہر جنگی امور پروپیگنڈے کو جنگ جیتنے کے لیے ایک موثر آلہ قرار دیتا ہے وہ کہتا ہے کہ ” دشمن کو تباہ کرنے سے بہتر ہے کہ اسکی ہمت کو توڑ دو نفسیاتی شکست کھانے کے بعد وہ جنگ جاری نہیں رکھ سکتا۔دنیا کے تمام ظالموں نے جب مظلوم پر قبضہ کیا تو نفسیاتی طور پر ان کا مورال گرانے کے لئے پروپیگنڈہ کیا۔ پاکستانی قبضے کے بعد بلوچستان اور بلوچ قومی تحریک انہی پروپگنڈوں کا شکار ہے پاکستان اپنے اداروں کے ذریعے بلوچ قومی تحریک کے خلاف ہر طرح کی پالیسیوں پر گامزن ہے اور دنیا کے دیگر ریاستوں کی طرح پاکستان کا بھی اہم ہتھیار پروپیگنڈہ ہے۔پاکستان نے جب برطانوی ایما پر بلوچستان پر قبضہ کیا تو ان کا پہلا پروپیگنڈہ ریاست قلات کی آئینی حیثیت پر تھی اس وقت جب خان برسر اقتدار تھے تو خان ایک آئینی حکمران تھے جو جرگے کے ذریعے منتخب ہونے والے سرداروں کے منتخب کردہ آئینی حکمران تھے لیکن انہوں نے انگریزوں کا غلط حوالہ دیکر خان قلات کو کبھی وفاق کا سربراہ کبھی نیم وفاق کا ہیڈ اور کبھی جاگیردار کہا اور اپنے اس غیر آئینی اقدام کا جواز بنایا۔پاکستان بلوچ قومی تحریک کو کاونٹر کرنے کے لئے اپنے پروپیگنڈہ ٹولز کو تیزی سے استعمال کررہا ہے تاکہ بلوچ عوام کو نفسیاتی دباو کا شکار کرکے تحریک سے دستبردار ہونے پر مجبور کریں۔پاکستان اپنے پرنٹ و الیکٹرانک میڈیا کے ذریعے سی پیک کو خوشحالی اور ترقی کا سنگ میل قرار دیتی ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ سی پیک بلوچ قوم کے لئے ترقی نہیں بلکہ اسکی موت کا پروانہ ہے۔ سی پیک کی کامیابی سے بلوچ قوم اقلیت میں تبدیل ہوکر اپنے موت آپ مرجائیگی لیکن پاکستان بلوچ عوام اور عالمی دنیا کے سامنے اسپروپیگنڈہ میں مصروف ہے کہ سی پیک قوم کی ترقی ہے۔پاکستان بلوچ تحریک کو کاونٹر کرنے میں کوئی بھی موقع اپنے ہاتھ سے جانے نہیں دیتا۔ جب تربت میں اور پشکان میں FWO کے کارندوں کو بلوچ آزادی پسند قتل کرتے ہیں تو پاکستانی اداروں میں بھونچال آجاتا ہے وہ بلوچ تنظیموں کو دہشت گرد ظاہر کرنے کے لئے میڈیا میں پروپیگنڈہ کرتا ہے کہ سندھی مزدوروں کو مارا جارہاہے۔ ان ریاستی اہلکاروں کے لئے اپنے حمایتی لوگوں سے ریلیاں اور مظاہرے کرواتا ہے تاکہ بلوچ تحریک کو دنیا بھر میں دہشتگرد ظاہر کریں اور دنیا کو دکھادیں کہ بلوچ عوام پاکستان کے ساتھ ہیں یہ آزادی پسند چند انڈین ایجنٹ ہے جن سے پاکستان کی ترقی نہیں دیکھی جاتی ۔اس لیے وہ بلوچستان میں دہشت گردی کو ہوا دے رہے ہیں۔پاکستانی اداروں نے بلوچ تحریک کے خلاف حالیہ دور میں اپنے پروپگنڈہ مہم کو اور تیز کردیا ہے جب کوئی کمزور لوگوں نے ہتھیار پھینکنے کا عمل شروع کیا تو میڈیا نے اسکی خوب تشیہر کی کہ باغی ہتھیار پھینک کر قومی دھارے میں شامل ہورہے ہیں۔ یہ تمام پروپیگنڈ ے ریاستی مقاصد کے حصول کے لئے کئے جارہے ہیں تاکہ بلوچ تحریک سے عوام بدظن ہو.۔ پروپیگنڈہ کو جس طرح مظلوم نے اپنے مقاصد کو استعمال کرکے سامراجی پالیسیوں کو ناکام بنایا آج بلوچ قومی تحریک کی کامیابی کے لئے یہ نفسیاتی حربہ اہمیت کا حامل ہے اسکا مثبت استعمال بلوچ تحریک کو اپنے مقاصد کے حصول کے لئے بہت کارآمد ثابت ہوسکتاہے۔ جس طرح الجزائر، ویتنام اور دیگر انقلابیوں نے بہتر حکمت عملی اورپروپیگنڈے کا مثبت استعمال کرکے اپنے مقاصد حاصل کئے آج بلوچ بھی اس کا صیح استعمال کرکے عوام اور دنیا تک اپنی آواز پہنچاسکتے ہیں۔بلوچ آزادی پسند تنظیمیں عوام کو شعور یافتہ اور خواندہ بنانے کے لئے موثر حکمت عملی بنائیں تاکہ وہ بھی ریاست پاکستان کے نفسیاتی حربوں کو سمجھ کر انہیں ناکام بنائیں۔ جس طرح ویتنامی انقلابیوں نے اپنے عوام کو پڑھایا اور شعوری طور پر تیار کیا۔آج بلوچ قومی تحریک کی ضرورت ہے کہ بلوچ عوام ریاستی دلال پارٹیوں کے چنگل سے نکل کر بلوچ قومی تحریک میں شامل ہوکر اپنی آوز عالمی اداروں تک پہنچاہیں۔بلوچ سیاسی پارٹیاں عوام کو پروپیگنڈے کے اہمیت سے آگاہ کریں کہ یہ تحریکوں کے لئے ایک اہم ہتھیار ہے اور اس کا صیح اور مثبت استعمال ہمیں کامیابی سے ہمکنار کراسکتاہے ۔

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s