استحصالی نظام کے خاتمے کیلئے ریڈیکل ازم واحد حل ہے

6854_World

تحریر: حمید بلوچ 
دنیا کے ہر عہد میں ظالم و استحصالی ریاستوں نے کمزور ممالک پر قبضہ کرکے ان کو اپنا غلام بنایا۔ طاقت کے غرور میں محکوم اقوام کی ثقافت، زبان، رسم و رواج کو مسخ کیا۔جبکہ اپنا فرسودہ سیاسی و معاشی نظام نافذ کرکے محکوم سماج کو فرسودگی کا شکار بنایا تاکہ وہ احساس کمتری میں مبتلا ہوکر جدوجہد کی صلاحیت سے محروم ہوجائیں اور قابض اپنے قبضے کو آسانی سے طول دے سکیں جبکہ اس فرسودہ نظام کے خلاف آواز اٹھانے والوں کو تشدد کا نشانہ بنا کر خاموش کرانے کی کوشش کی گئی۔ قابض کی ہمیشہ یہ کوشش ہوتی ہے کہ طاقت کے زور پر محکوام اقوام کے طرز حیات کو ہی تبدیل کردیا جائے تاکہ وہ اپنے تاریخ، زبان، رسم و رواج سے بیگانہ ہوجائے۔ کہتے ہیں کہ جب کوئی قوم اپنی تاریخ سے بیگانہ ہونے لگے تو سمجھ جائے اُس قوم کا وجود مٹنے کو ہے۔سامراجوں کے ایسے نظاموں کا مقصد ہی مظلوم کے وجود کو مٹانا ہوتا ہے تاکہ وہ آسانی سے اپنے مفادات کو حاصل کرسکیں ۔ اصل سوال یہاں پیدا ہوتا ہے کہ یہ فرسودہ اور سامراجی نظام کا خاتمہ لبرل اور بنیاد پرستانہ سیاسی رویے سے ختم ہوسکتا ہے تو یقیناًاس کا جواب نفی میں ہی آئے گا۔ ایسے نظام کا خاتمہ صرف ریڈیکل سیاسی رویے سے ہی ممکن ہے کیونکہ ظالم ہمیشہ بندوق کی نوک کو استعمال میں لاتے ہوئے مظلوم کی سرزمین پر قبضہ کرتا ہے اور یہ فطری عمل ہے کہ طاقت کا خاتمہ طاقت سے ہی ممکن ہے۔ ریڈیکل رویہ رکھنے والے سیاسی گروہ یا تنظیم مروج نظام کو اپنے قومی محکومی قرار دیتے ہیں اور اس کے خاتمے کیلئے انقلابی تبدیلی کے لئے مروج قانون سے بالاتر ہوکر جدوجہد کرتے ہیں کیونکہ انہیں ادراک ہے کہ مروج نظام کا خاتمہ قانون کے دائرے کار میں رہ کر ممکن نہیں ہے۔جبکہ استحصالی ریاستیں اپنے نظام کو تحفظ دینے کے لئے ایسے ادارے تشکیل دیتے ہیں جو اس نظام کی بقاء کے لئے مظلوم عوام کو تشدد کے ذریعے خاموش کرانے کی کوشش کرتے ہیں ۔پولیس، فوج، عدلیہ استحصالی نظام کے محافظ ہوتے ہیں انکے قوانین بنانے کا مقصد صرف مظلوم قوم کے استحصال میں اضافہ کرنا ہوتا ہے۔ ریڈیکل گروہ یا تنظیم اس بات سے بخوبی واقف ہے کہ اگر ظالم کے تشدد کا جواب نہ دیا جائے تو اس کا ظلم اور استحصال کی رفتار مزید بڑھ جائیگی اس کا خاتمہ صرف تشدد سے ہی ممکن ہے اور تشدد کرنے والے کانوں سے بہرے لوگ ہوتے ہیں بقول بھگت سنگھ یہ لوگ صرف دھماکوں کی آواز ہی سمجھتے ہیں ۔ دنیاکی ہر کامیاب آزادی کی تحریک نے ریڈیکل سیاسی رویے کے بنیاد پر سیاسی تبدیلی کا آغاز کیا ۔ الجزائر ، ویتنام، انڈیا، گھانا، چین ، ملایشیا، انڈونیشیا، اور دیگر ممالک نے استحصالی نظام کا خاتمہ ریڈیکل سیاسی رویے کے بنیاد پر ہی کیاہے کیونکہ ریڈکل سیاسی رویہ ہی مظلوم اقوام کے بقاء کا ضامن اور اس مسلے کا واحد حل ہے اسکے علاوہ کوئی میکانزم نہیں کہ مظلوم اس سے نجات پاسکیں۔ سارتر ، ارون دھتی رائے، اور فرانز فینن جیسے ترقی پسند ادیب، مصنف اور صحافی بھی اس بات کا اقرار کرچکے ہیں کہ کسی بھی استحصالی نظام کا خاتمہ ریڈکل رویے سے ممکن ہے۔ ہندوہستان کے ترقی پسند صحافی ارون دھتی رائے اپنی انٹرویو میں کہتی ہے کہ “لوگ جانتے ہیں کہ جب ہم ہتھیار اٹھالیتے ہیں تو پھر ایک بدترین قسم کی درندگی کو دعوت دیتے ہیں اور مسلح جدوجہد ہی زندگی کا حصہ بن جاتی ہے اور جب لوگوں کے سامنے راستے بند ہوجاتے ہیں اور وہ ہتھیار اٹھالیتے ہیں تو کیا ہم جیسے صحافی اسکی مذمت کریں ہم ایک ایسے دور سے گزر رہے ہیں جہاں خاموش اور بے عمل ہونے کا مطلب حالت کو قسمت کے رحم و کرم پر چھوڑنا ہے لیکن استحصالی نظام کے خاتمہ کے لئے ایک دردناک قیمت ادا کرنا پڑتی ہے اور میں اس درد ناک قیمت ادا کرنے کی مذمت نہیں کرسکتی۔جبکہ 1830ء میں فرانس نے الجزائر پر طاقت کے زور پر قبضہ کرکے اپنے نظام کو مسلط کیا تو اس قبضے نے الجزائری عوام کے طرزحیات کو ہی تبدیل کرکے رکھ دیا۔الجزائری عوام احساس کمتری اور احساس محرومی کا شکار ہوگئے تھے ۔فرانز فینن ان محرومیوں اور ظالم کے استحصال کو نوآبادیاتی نفسیات میں اس طرح بیان کرتے ہیں ” نو آبادکار جب استحصال شروع کرتا ہے تو وہ عوام پر ظاہر کرتا ہے کہ وہ جاہل وحشی اور غیر مہذہب ہے اور ہمارے یہاں آنے کا مقصد جاہل اور وحشیوں کو تہذہب یافتہ بنانا ہے وہ اپنے ادیبوں اور تاریخ دانوں سے یہ ثابت کرواتے ہیں کہ مظلوم کے ملک میں نہ کوئی تہذہب ہے اور نہ ہی علم و ادب تہذہب و ثقافت اور علم وادب صرف ہمارے پاس ہے اگر تمیں تہذہب یافتہ بننا ہے تو ہمارے تسلط کو قبول کرو وہ مزید کہتا ہے کہ نوآباد کار اس طرح کی پالیسیاں ترتیب دیتا ہے کہ مظلوم اس شکنجے میں بری طرح پھنس جاتا ہے اور اپنی تاریخ تک کو فراموش کردیتا ہے اور اس کا اظہار یہ کہہ کر کرتا ہے کہ ہماری قسمت میں یہی لکھا ہے وہ مختلف گروہ، زبانوں اور مذہب کے لوگوں کو آپس میں لڑاکر خود کو بری الزمہ قرار دیتا ہے۔ تاکہ مظلوم کے غیض و غضب کا شکار مظلوم ہی ہو۔فرانسی قبضے نے الجزائری عوام کی زندگی جانوروں سے بھی بدتر بنادی تھی ان کے پاس صرف دو راستے تھے یا اس استحصالی نظام کو قبول کرکے محرومیوں میں مزید اضافہ کرکے طبعی موت مرجائے یا اس نظام کو جڑ سے خاتمے کیلئے جدوجہد کا آغاز کیا جائے ۔ الجزائر کے شعور یافتہ اور ترقی پسند نوجوانوں نے آزادی کا نعرہ بلند کرکے استحصالی نظام کے خلاف مسلح جدوجہد کا آغاز کیا اس جدوجہد نے جب زور پکڑا تو الجزائری نظام میں تبدیلی کی لہر نے جنم لیا اور اس جنگ کا اختتام فرانس کی شکست پر ہوا ۔ سیاسی تبدیلی کے اس عمل کو فینن اپنی کتاب سامراج کی موت میں ان الفاظوں میں بیان کرتا ہے ’’جب انقلابی ریڈیکل قیادت نے جنگ کا آغاز کرکے اسکو عروج پر پہنچایا تو عوام کا احساس محرومی ہمیشہ کے لئے ختم ہوگیا اب وہ ملت کے جسد واحد سے منسلک ہوگئے استعمار شکست خوردہ ہوگیا اس نے فرسودہ نظام کو عوام پر مسلط کرنے کے لئے ہر طرح کے حربے آزمائے تشدد کا سہارا لیا لیکن ریڈیکل قیادت نے تمام حربوں کو جدوجہدسے نا کام بنایا۔ فینن کہتا ہے یہ مسلح جدوجہد ہی تھی جس نے الجزائری عوام کی غلامی کی زنجیروں کو اتار کر فکری جمود کو توڑا جب فکر روشن ہوا تو الجزائر کے لوگوں کو اپنے خون کے رشتوں سے زیادہ عزیز آذادی تھی اور اس آذادی کے لئے انہوں نے ہر طرح کے مصاہب اور تکلیفوں کو شکست دی اور ان کا دیدہ دلیری سے مقابلہ کیا۔فینن کہتا ہے کہ ظالم کا استحصالی نظام مظلوم کو نفسیاتی مریض بنادیتا ہے اور اس ذہنی مرض کا علاج صرف پُر تشدد جدوجہد ہی کرسکتا ہے جو ظالم کے ظلم کا صیح جواب ہے ۔ ریڈیکل رویہ اپناکر آزادی حاصل کرنے کی ایک اور مثال ویت نام ہے جو اپنی جہد مسلسل کی وجہ سے آج تمام دنیا کے مظلوموں کے لئے ایک مثال ہے جس نے امریکہ، فرانس، چین، پرتگال جیسے طاقت ور ملکوں کو مسلح جدوجہد کے ذریعے عبرتناک شکست سے دوچار کردیا تھا۔ بلوچستان 1948 ء سے ریاستی فرسودہ و استحصالی نظام کا شکار ہے اور اس استحصالی نظام کے خلاف وطن عزیز کے فرزندوں کا جدوجہد 70ء سالوں سے جاری ہے۔ ریاست پاکستان نے اس قبضے کو طول دینے کے لئے اپنے فرسودہ نظام کو مزید مضبوط بنانے کے لئے تشدد کا طریقہ اپنایا اسکے علاوہ مختلف پالیسیوں کے ذریعے بلوچ قوم کی نسل کشی میں اضافہ کیا۔ استحصالی نظام کے خلاف آواز اٹھانے والوں کو اغوا کیا ،تشدد کا نشانہ بنا کر ویرانوں میں پھینکا ،آپریشن میں تیزی لائی گئی ، عورتوں اور بچوں کو نشانہ بنایا گیا اور بلوچستان میں تعلیم کا ایسا نظام رائج کیا جو لوگوں کو صرف حکم کا پابند بنا سکتی ہے ۔جبکہ اعلی سطح کے تعلیمی اداروں کو فوجی چھاونیوں میں تبدیل کرکے بلوچوں کے لئے تعلیمی اداروں کے دروازے بند کردئے گئے ،کتابوں پر پابندی لگائی گئی۔ بلوچوں کو آپس میں لڑانے کے لئے مذہبی ملاؤں کو مضبوط کردیا گیا ذکری نمازی براوہوی بلوچی کے تضادات کو ہوا دی گئی اپنے ڈیتھ اسکواڈ کے ذریعے بلوچ نوجوانوں کا نہ ختم ہونے والاقتل عام کا سلسلہ شروع کیا گیا ۔ اب یہ سوال سر اٹھاتا ہے کہ بلوچستان میں رائج پاکستانی بوسیدہ و فرسودہ نظام کا خاتمہ پارلیمانی سیاست سے ختم ہوگا یا ریڈیکل رویے کے بنیاد پر جدوجہد کرنے سے؟ تو لازما” ایسے نظاموں کا خاتمہ صرف ریڈیکل رویے سے ختم ہوگا اور اسکے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہے کہ بلوچ اس فرسودہ و ناکارہ نظام سے چھٹکارہ پاسکیں ۔ پارلیمانی سیاست کرنے والے پاکستانی گماشتے جو خود کو لبرل کہتے ہیں اور نظام میں تبدیلی کی بات قانون کے دائرے میں رہ کر کرنا چاہتے ہیں جو ایک ناممکن امر ہے کیونکہ پاکستان جیسی ریاستیں صرف تشدد کی زبان سمجھتے ہیں یہ لبرل گماشتے صرف بلوچ عوام کو بیوقوف بنا کر ریاست کے دائرے میں لانا چاہتے ہیں۔بلوچ عوام ایسے لبرل گماشتوں سے خود کو دور رکھے اور ان آزادی پسند ریڈیکل سوچ رکھنے والے تنظیموں کا ساتھ دیں کیونکہ بلوچستان کی آزادی کو صرف ریڈیکل رویے کے بنیاد پر ممکن ہے ۔ بلوچستان کے باسی اس استحصالی نظام کے خاتمے کے لئے آزادی پسند تنظیموں کا ساتھ دیں اور دنیا کے دیگر مظلوم عوام کے لئے خود کو ایک مثال بنائیں۔

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s