خواتین جدوجہد پارٹی تناظر میں

picture-for-blog

کمبر لاسی
اس کرہ ارض کی تاریخ میں عورت کا مقام ہمیشہ سے بلند رہا ہے ۔ عہد قدیم ہو یا عہد جدیدعورت کا کردار سماج کی ترقی میں بنیادی رہا ہے ۔ 
ابتدائی زمانے میں عورت اپنے قبیلے کے سربراہ کی حیثیت سے قبائل کو منظم رکھتے تھے۔ شکار کو آپس میں برابری کے بنیاد پر تقسیم کرنا ، موسم سرما میں اپنے قبائل کے لوگوں کے لیے جانور کے کال کے کپڑے بنا کر آپس میں تقسیم کرنا اور قبائل کے دیگر ضروریات کو مشترکہ جدوجہد سے پورا کرتے تھے ۔جب کاشتکاری کی آغاز ہوئی تو کاشتکاری سے لے کر جانوروں کو پالتو بنانا اور اُن کی دیکھ بال کرنے کی تمام تر ذمہ داریاں عورتوں پر تھے اور معاشرے میں عورت کا مقام مرد سے بلند تھا۔ تاریخ کے ہر موضو ع کو دیکھے چاہے’’ وہ جنگ ہی کیوں نہ ہو‘‘۔ عورت نے تاریخ کے ہر مقام میں بنیادی کردار ادا کیا ہے۔تاریخ کے ہر باب میں ہمیںRani Velu Nachiyarجیسی بہادر عورت ملیں گے۔ Rani Velu Nachiyar پہلی ہندوستانی عورت تھی جس نے برطانیوی سامراج کے خلاف بغاوت کی آواز بلندکیا۔بولیویا میں 1781ء میں ایک خاتون GreGoria Apazaنے ہسپانوی سامراج کے خلاف بغاوت کی رہنمائی کی اور 1782ء میں Bartolina Sisa نے ہسپانوی سامراج کے خلاف بغاوت کو آگے بڑھا یا ہے۔ بعد میں اسے گرفتار کرکے پھانسی دی جاتھی ہے۔ کولمبیامیں 1819ء میں Antonia Santosجو ایک کسان عورت تھی اس نے سوکورو صوبہ میں گوریلہ وں کی بغاوت کو متحرک کیااورہسپانوی فوج کے خلاف جنگ کا آغاز کیا اسے بھی بعد میں گرفتار کر کے اس کے خلاف غداری کا مقدمہ چلایا گیا او ر آخر Antonia Santos کو بھی سزائے موت دی گئی۔Ani Pachen ایک تبتی خواتین تھی جس نے چائنا کے خلاف جنگ میں 600جنگجوں کی قیادت کی۔اگرہم نیپال کی ماو سٹوں کا جائزہ لے تو ان کی گوریلہ کیمپ میں 30فیصد خواتین ہیں ان کو کیمونسٹ پارٹی آف نیپال نے منظم کیا ہے اور ان کو باور کرایا کہ سامراج کی شکست آپ کی جدوجہد پر ہی منحصر ہے اور آپ ہی انقلاب کے ہراول دستہ ہو ۔کیمونسٹ پارٹی کی بدولت عورت مردوں کے شانہ بشانہ جنگ میں برابری کی بنیاد پر اپنا کردار ادا کررہے ہیں ۔اگر ہم کرد قومی تحریک کا جائزہ لیں تو وہاں بھی خواتین گوریلہ محاذ پر برسر پکار نظر آئے گے اور کامیابی سے ہر محاذ پر دشمن کو شکست سے دوچار کررہے ہیں ۔کردوں کی خواتین کو اس طرح منظم کرنے میں کرد ستان ورکرپارٹی نے فیصلہ کن کردار اداکیا ہے اور معاشرہ میں مردوں اور عورتوں کو یقین دلایا ہے کہ غلام قوم کی کوئی روایات نہیں ہوتی ہے اور انقلاب نام ہی فرسودہ روایات کے خاتمہ کا ہے ۔ آج کرد معاشرے میں تر قی پسندانہ فکر اور برابری کی جو روایات ہے وہ کردستان ورکر پارٹی کی فرسودہ روایات اور استحصالی نظام کے خلاف منظم منصوبہ بندی ہے۔کردستان ورکر پارٹی کی منظم منصوبہ بندی کے سبب آج کرد قومی آزادی کے تحریک میں خواتین مردوں کے برابر محاذوں کے قیادت کررہے ہیں۔اسی طرح اگر ہندوستان کی ماو ئسٹ موومنٹ کی بات کریں تو وہاں بھی خواتین ہر محاز پر دشمن سے نبرد آزما ہیں اگر ہم ماو ئسٹوں کی حالیہ واقعاتوں کا ذکر کرے تو ہمیں ہندوستان کی پولیس پر حملے نظر آتے ہیں۔ حالیہ دنوں میں پولیس پر حملے میں 40 پولیس اہلکار ہلاک ہوئے ۔اس واقعہ کی رپورٹ کے مطابق اس حملہ میں 300گوریلہ شامل تھے ان میں سے 70فیصد خواتین گوریلہ تھی۔ماو ئسٹوں کو منظم کرنے میں بھی ان کی پارٹی نے اہم کردار ادا کیا ہے ۔ مختصر اًیہ ہے کہ ان تمام تحریکوں میں خواتین کی فعال کردار پارٹیوں کے فیصلہ کُن کردار کے نتائج ہیں۔اب اصل موضوع کی جانب آتے ہیں بلوچستان کے آزادی پسند پارٹیوں اور تنظیموں کا جائزہ لیتے ہیں کہ انہوں نے قومی آزادی کی تحریک میں عورتوں کو کتنامنظم کیا ہے۔بلوچ نیشنل موومنٹ بلوچستان کی واحد پارٹی ہے جس کی جڑیں عوام میں پیوست ہے اور ہم سیاسی کارکنان بی این ایم کو بلوچستان کی مستقبل سمجھتے ہیں۔ بحیثیت سیاسی کارکن ہم حق بجانب ہے کہ بلوچ قومی تحریک میں پارٹی (بی این ایم) کردار کے تمام پہلو وّں کے نیک نیتی سے جائزہ لیں۔ بلوچ قومی تحریک میں عورتوں کے کردار کے حوالے سے بلوچ نیشنل موومنٹ کے پالیسی شائد واضح ہوں لیکن عملاً اس کے لیے زمین تیار نہیں کی گئی ۔بی این ایم میں چند ایک خواتین سیاسی کارکنان موجود ہیں جو پارٹی پروگرام کو پھیلانے میں دن رات ایک کررہے ہیں یقیناًان خواتین سیاسی کارکنان کی جدوجہد قابل ستائش ہیں لیکن یہ تلخ حقیقت اپنی جگہ موجود ہے کہ بی این ایم عوامی سطح پر خواتین کو پارٹی کا حصہ بنانے میں ناکام رہا ہے اور اس حقیقت کو جتنی دیر سے تسلیم کرینگے نقصانات اتنے زیادہ ہونگے ۔ بلوچ قومی تحریک میں ایک بد نصیبی یہ بھی رہا ہے کہ خواتین سیاسی کارکنان ایک محدود وقت کے لیے پارٹی یا تنظیموں کا حصہ ضرور ہوتے ہیں لیکن اپنے سیاسی مستقبل کے حوالے سے مبہم کا شکار رہتے ہیں۔ بی ایس او آزاد کے پلیٹ فارم میں نوجوان خواتین سیاسی کارکنان اپنے طالب علمی کے زمانے میں انتائی متاثر کن کردار کے مالک ہوتے ہیں ، بی ایس او آزاد کے پلیٹ فارم میں ایسے سینکڑوں خواتین سیاسی کارکنان موجود تھے اور شائد آج بھی ہے جن میں قائدانہ صلاحیت موجود ہے لیکن یہ نوجوان خواتین سیاسی کارکنان اپنے سیاسی مستقبل کو خاندان و قبائلی رسم و رواج کے سامنے قربان کرتے ہیں ۔ شائد یہ تنظیمی تربیت کا فقدان ہو یا پارٹی کا فرسودہ روایات کے خلاف سخت موقف اختیار نہ کرنے کے سبب کے آج بلوچ قومی تحریک میں خواتین کے کردار کے حوالے سے یہ المیہ موجود ہے۔ بہر حال یہ اجتماعی کمزوریاں بلوچ قومی تحریک کے تنظیم و پارٹی میں موجود ہیں ۔ میرے ناقص رائے کے مطابق بی ایس او آزاد و بی این ایم اس خلا ء کو پُر کرنے کیلئے انتائی سنجیدگی سے سر جوڑ کر بیٹھے اور خاندانی و قبائلی فرسودہ روایات کے خلاف مصلحت کے بجائے واضح و سخت موقف اختیار کریں ۔

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s