جہدِ مسلسل کے علامت’’ شہید سراج بلوچ

Untitled-222

محراب بلوچ
جہد مسلسل پر ایمان کی حد تک یقین رکھنے والے لوگوں کو ہرانا یا پھر مایوس کرنا کسی کی بس کی بات نہیں ہے۔بلوچستان میں ایسے بے شمار کرداروں نے جنم لیا ہے ،جو اپنے مقصد کی خاطر جہد مسلسل کی لمبی داستان لیے ہوئے امر ہوگئے ہیں ۔ان میں سے ایک کامریڈشہید سراج بلوچ ہے۔سراج کو اگر کوئی دیکھتا تو اْسے یہ جج کرنے میں دیر نہیں لگتا کہ یہ نوجوان ایک تاریخ رقم کرنے والے نوجوانوں میں سے ہے ،کیونکہ سراج اپنے ہمسروں سے قدرے مختلف اورایک عظیم سوچ کا مالک تھے۔اسکے رگوں میں آزادی کے خون دوڑے رہے تھے ،اسکی ہر مباحثہ جدوجہد اور آزادی پر محویت تھے۔سراج نے اپنا سیاست کا آغاز بلوچ نوجوانوں کی تنظیم بی ایس او آزاد سے 2011میں کیا۔یہ وہی دورتھا ہر نوجوان آزادی کی خواب لیے تنظیموں سے وابستہ ہونا شروع ہوگئے تھے۔ریاستی بربریت کیسامنے بلوچ نوجوان کوہِ البرز کی ماند کھڑے تھے۔
راقم کا سراج سے بھی اسی دوران ناطہ جوڑا۔ہم ایک ہی ساتھ کام کرتے تھے۔ہماری تعلق آواران کے مختلف چھوٹے چھوٹے گاؤں میں سے تھا۔مگر تنظیم نے ہمیں ہر کسی کو انکے اپنے گاؤں اور جھونپڑیوں سے نکال کر ہماری تربیت کے لیے ہمیں اکٹھا کیا تھا۔ سراج بلوچ جسمانی حوالے سے ہم سب سے لاگر اور کمزور تھا۔مگر اْسکا کمٹمنٹ اکثر سے مضبوط تھا۔سراج جزبہ اور حوصلہ مندی کا ایک پیکار تھا۔جب ریاستی تشدد اپنے حدود سے تجاویز کرگئے ،اکثردوست مالی حالات کا بہانہ کرکے بیرونی ممالک مزدوری کے لئے چلے گئے تو سراج اپنے علاقے اور تنظیم کاری میں مصروف بہ عمل رہے۔ حالات دن بہ دن سیاست کاری کے لیے ناگوارہ رہ گئے۔مگر سراج کا کہنا تھا کہ انقلابیوں کے لیے حالات کا ناسازگار کہنا اْسکی بزدلی کو عیاں کرتی ہے۔
شہیدسراج کا تعلق آواران کے علاقے بزداد میشود سے تھا۔سراج میشود کاچراگ تھا۔سراج اپنے مان باپ کو اتنا عزیز تھا کہ ااْنہوں نے اْسکا نام بندوک رکھا۔بندوک ایک بلوچی لفظ ہے جسکے لفظی معنی منسلک کے ہیں۔والدین نے اپنے اولاد کی کردار کو بچپن ہی سے محسوس کیا تھا ،کہ ہماری بندوک خود کو تاریخ سے منسلک کرے گی اور سراج نے وہ سب کچھ عملًا کر کے دیکھایا ہے۔
سراج بندوک نام سے مشہوررہا ،بندوک ایسا پیارا نام تھا۔ مجھ سمیت ہر کوئی اْسے اسی نام سے متوجہ کرتا۔سراج تنظیم کے زمہ دار کارکنوں میں سے ایک تھا ،بی ایس او آزاد آواران زون کے ہر پروگراموں میں موجود تھا۔آواران میں سراج زیادہ پمفلیٹ اور چاکنگ کی وجہ سے اتنا مشہور ہو گیا کہ پاکستانی آرمی ہمیشہ ہرکسی کو پکڑتا تو بندوک کی جگہ کاپوچھتے تھے ،بندوک کی جگہ وہ اسے بندوق کہہ کر اسکی جگہ اور دوستوں کا پوچھ لیا کرتے کہ بندوق کہاں ہے ؟ اسکا گھر کہاں ہے ؟سراج کی بہادری اور تنظیم سے والیہانہ وابستگی پاکستان آرمی کی سکون اور چھین لے اْڑے تھے ،آرمی نے تین دفعہ سراج کے گھر پر چھاپہ مارا۔ایک بار سراج آرمی کے ہاتھ آنے سے بچ گیا تھا۔جب تیسری مرتبہ سراج کو پیریشر دینے میں ناکام رہے تو پاکستانی بہادر فوج کو سراج بلوچ کی بوڑے والدین کی چھونپڑیوں کو راکھ میں بدل کر راکس کرتے ہوئے واپس اپنی بیرکوں میں چلے گئے۔ فوج ہر وقت کہتا تھا بندوق کہاں ہے۔
سراج بلوچ تنظیمی کاموں کے سلسلے آواران سے کولواہ کی طرف جارہے تھے کہ بزداد لینک میں آرمی کے چپے ہوئے اہلکاروں کی فائرنگ سے زخمی حالات میں آوارن آرمی کیمپ میں شہادت کے عظیم رتبے پر فائز ہوگئے۔
فوج کے نفسیاتی شکست یہاں بلکل واضح ہے کے سراج بی ایس وا آزاد کا ایک ورکر تھا۔سراج کو بھی برداشت نہیں کیا جاتا تھا۔فوج کا کہنا ہے کہ ہر اْس بلوچ ٹارگٹ ہوگی جن کی وابستگی آزادی پسند وں سے ہو،کیوں ہی نہ وہ طالب علم ہو۔ اسطرح کے عمل سے دشمن ہماری تحریک کو کمزور ہونے کے بجائے مزید مظبوط کر رہی ہے۔تحریکیں سر کٹانے سے نہیں بلکہ سر خم کرنے سے ختم ہوتی ہیں۔
ہمارے شاعر عطا شاد کہتے ہیں کہ 
تو پہ سرانی گوڈگ ءَ زندے ھیالا نا کشے
پہ سندگ ءَ داشت کنے پھلاں چہ بو تالانی ءَ 
پھولوں کی خوشبو کو نکالنے سے کوئی روک نہیں سکتا اگر پھول کو مزید چیڑتے ہو یا کاٹتے ہو مزید خوشبو نکلتے ہیں۔

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s