عظیم طلبہ تنظیم ‘‘بی ایس او آزاد‘‘

2BkU-qM5

تحریر : دلدار بلوچ
غلامی کو قبول نہ کرتے ہوئے علم وشعور سے لیس ،لیڈر شپ کی صلاحیت، حوصلہ، پختگی اور ہر قسم کے کٹھن حالات سے مقابلہ کرنے والے بی ایس او آزاد ہی کے کارکن ریاست اور اُن کے گماشتوں کے آگے پہاڑ کی مانند کھڑے ہو کر انکے سیاہ کردار کو قوم کے سامنے آشکار کررہے ہیں اوربلوچ نوجوانوں کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کرکے غلامی جیسی ناسور شے سے چھٹکارہ حاصل کرنے کیلئے عملی میدان میں جدوجہد کررہے ہیں۔جبکہ ریاست اور اُن کے گماشتے علم وشعور سے لبریز بی ایس اوآزاد کے کارکنوں کو راستے سے ہٹانے کیلئے کوئی کسر نہیں چھوڑرہے ہیں ۔بلوچ نوجوانوں کو اغواء کرنا، انکی جسم کو مسخ کرکے لاشوں کو ویرانوں میں پھینکنے کا تسلسل جاری رکھا گیا ہے تا کہ بلوچ نوجوانوں کو زھنی طور پر مفلوج کرکے بی ایس او آزاد اور تحریک آزادی سے دستبردار کرانے پر مجبور کرسکیں۔ مگر بی ایس او آزاد کے نوجوانوں نے شروع دن سے ہی ریاست کے سامنے سرخرو ہوکر ہر قسم کی رکاوٹوں، تشدد، دھمکیوں کو مسترد کرتے ہوئے اپنی جدوجہد کو جاری رکھے ہوئے ہیں۔ 
بلوچستان کے ہر دیہاتوں شہروں میں بی ایس او آزاد کے کارکنوں نے غلامی کے خلاف آواز اٹھاکر کسانوں، مزدوروں، اور ہر طبقہ فکر کے لوگوں میں شعور پیدا کرکے ان کوعملی میدان میں متحرک کیا ہے۔ جو کہ ریاست اور انکے پالے گئے سرداروں کیلئے کسی بڑے پریشانی سے کم نہیں۔خاص کر دیہاتی علاقوں میں پارلیمنٹ پرست جو کے ووٹ حاصل کرنے کے بہانے کسانوں اور سادہ لوح بلوچ عوام کے سامنے بڑے سے بڑا نعرہ لگا کر عوام سے ووٹ حاصل کر کے ہر دور میں عوام ہی کی استحصال کرتے ہیں۔ اور ان پارلیمانی سیاست کرنے والوں نے یہ بات کبھی برداشت نہیں کی ہے کہ کسان کا فرزند تعلیم حاصل کرکے مستقبل میں انکے استحصالی نظام کو قبول نہ کرتے ہوئے انکے شیطانی عزائم کو مسترد کریں۔
اسطرح پارلیمانی سیاست کرنے والے معتبروں اور سرداروں نے پارلیمنٹ میں رہ کر اسکولوں اور دوسرے درسگاہوں پر اپنے لوگوں کو ٹیچر صرف تنخواہ وصول کرنے کیلئے منتخب کیے ہیں تاکہ غریب کے بچوں کو تعلیم سے دور کریں یا تو اسکولوں اور درسگاہوں کو فوجی چھاونیوں میں تبدیل کریں تاکہ یکسر طور پر بلوچ نوجوانوں کو تعلیم سے دور کرکے بلوچ قوم کو مزید غلام بناکر انکی بخوبی استحصال کرسکیں۔
کیونکہ ریاست اور اسکے آلاکاروں کو یہ بخوبی پتہ ہے کہ قلم اور کتاب ہی واحد زریعہ ہے جس کے زریعے غریب کسان کی اولاد میں علم وشعور آتی ہے اور وہ کسی صورت میں انکی طرف سے سرزد کیے گئے استحصالی نظام کے لئے موت کا سبب بنیں گی۔
تعلیمی اداروں میں ریاست نے غلامانہ نظام تعلیم کو بلوچ نوجوانوں پر مسلط کیا ہے۔ تاکہ وہ بینکنگ نظریہ ایجوکیشن حاصل کرکے نوکری کرنے کا سوچ رکھ کر صرف اور صرف اپنی زات کیلئے تعلیم حاصل کرکے اپنی سوچ کو محدود دائرے میں بند کرکے زہنی طور پر مفلوج ہو جائے اور نوکری کیلئے میروں اور سرداروں کے جوتوں کو سجدہ کریں اور استحصالی نظام اور قومی غلامی کے خلاف آواز نہ اٹھائیں۔
مگر بی ایس او آزاد ہی نے ریاستی غلامانہ نظام کے طرز تعلیم کو یک سر مسترد کرکے بلوچ نوجوانوں کو علم وشعور سے لبریز کرکے سیاسی طور پر مضبوط اور حوصلہ مند نوجوان پیدا کیں ہیں۔
اسطرح تعلیمی اداروں اور دوسرے علاقوں میں بی ایس او آزاد جیسی عظیم بلوچ طلبہ تنظیم کی موجودگی کو ریاست اور اسکے آلاکاروں نے برداشت نہیں کی ہے۔ اور بی ایس او آزاد کے برعکس خودساختہ تنظیموں کو متحرک کرکے ریاست نے اپنے آلاکاروں کو فنڈنگ کی تاکہ وہ بلوچ طلبہ کو اپنی طرف لاکر اس عظیم طلبہ تنظیم سے دور کریں ۔ مختلف طریقوں میں اپنے آلاکاروں کو سرگرم کیں ہیں مگر اسکے باوجود کسانوں، غریبوں کیلئے آواز بلند کرنے والے تنظیم نے اپنے وجود کو برقرار رکھتے ہوئے ریاستی مشینری کو ناکام کرتے ہوئے اپنے جدوجہد کو جاری رکھے ہوئے ہیں۔
یہ بات واضح ہے کہ گماشتہ تنظیم کوریاست اور انکے آلاکار حوصلہ افزائی کرکے بلکہ ان کہ ہر قسم کی مالی معاونت کررہے ہیں تاکہ خود ساختہ تنظیموں کے زریعے ایک طرف تو پارلیمانی سیاست مضبوط ہو جائے اور دوسری طرف بلوچ طلبہ کی سوچ مفلوج ہوکر رہ جائے۔ 
مگر تعلیمی اداروں میں بی ایس او آزاد کی موجودگی تو دور کی بات ہے صرف اس عظیم بلوچ تنظیم کی نام پر ریاستی آلاکاروں کے پسینے نکلنا شروع ہوتے ہیں۔ اور وہ اس عظیم طلبہ تنظیم کی موجودگی کو کسی طرح برداشت نہیں کرسکتے اور وہاں فوری طور پر فوج اور ریاستی ایجنٹ متحرک ہوتے ہیں کہ کسی نہ کسی طرح اس کے کارکنوں کو کچل سکیں مگر یہ انکی بھول ہے کہ نوجوانوں کو کچلنے سے انکے سوچ اور نظریے کو ختم نہیں کیا جاسکتا۔ جس طرح ڈاکٹر چے گویرا آج ہر نوجوان کے دل میں بسا ہے۔ اسطرح بی ایس او آزاد کے ہزاروں کارکنان کے اغواء کے باوجود روز بہ روز بی ایس او آزاد مضبوط ہوتا جارہا ہے کیونکہ تاریخ گواہ ہے کہ ہر ادوار میں جیت مظلوم کا ہے اور ریاست کتنی ہی طاقت ور کیوں ہی نہ ہو مگر مظلوموں نے ہر طاقت کو شکست دی ہے۔ اور اسطرح بی ایس او آزاد مظلوموں کی آواز ہے، کسانوں کی آواز کو بلند کرنے والے عظیم سوچ اور نظریے کے مالک تشدد اور اغواء کے خوف سے اپنے مقصد سے پھیچے ہٹنے والے نہیں ہیں ۔ ریاست نے اپنی پالیسیوں کو اس طلبہ تنظیم کو کچلنے کیلئے ہر طرح آزمایا ہے مگر انکو اب تک بد ترین ناکامی کا سامنا ہوچکا ہے۔ اور بی ایس او آزاد نے اپنے ساخت کو مضبوط سے مضبوط تر بنایا ہے۔ اور بناتا رہے گا چاہے کسی قسم کی قربانی درکار ہوں ہم اپنے عظیم مقصد کیلئے ڈٹے رہیں گے اور ایک قدم پیچھے نہیں ہٹیں گے!

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s