آئی ایم آلسو لیارین

694083-lyarifootballscreenshot-1397162978-616-640x480

مہلب بلوچ
یہ جبلتِ انسانی ہے کہ اُسے اپنا جنم بھومی کی جگہ کا محبت سات سمندر پار بھی اپنی طرف کھینچ لاتی ہے ۔یہ ایک ایسی محبت ہے جو تا ابد ہے ،کھبی بھی اسکی شدت میں کمی واقع نہیں ہوگی۔یہ محبت شاعروں کو اپنی داستان پر شاعری کرنے پر مجبور کر دیتی ہے۔سائنسدانوں کو ریسرچ پہ اُکساتا ہے اور وسائل کے ہوس میں تڑپے لوگوں کو اپنی وسائل کی انبار کو بڑھانے کی خاطر دوسروں کی زمین اور وسائل پر قبضہ کرنے کے لیے ایک بد مست ہاتھی بنا دیتی ہے۔فلسفی حضرات کو کیوں،کیسے،کب،کہاں کی جواب کے تلاش میں مصروف کردیتا ہے۔ایک فرمانبدار اولاد کو اپنے خودمختاری پر مر مٹنے پر تیار کر دیتا ہے۔ایسے ہی میری جنم بھومی کی جگہ بھی مجھے قلم اور کاپی کی رشتے کو سمجھنے کے بعد سے لے آج تک موٹیویٹ کرتی رہی کہ میں بھی اپنی جنم بھومی کی جگہ پر کچھ رقم کر سکوں ۔
خوش قسمتی سے میری تعلق بلوچ سرزمین کا وہ حصہ جسے بلوچ تاریخ میں ایک بڑی اہمیت حاصل ہے ۔وہ ہے شہید اُستاد صبا دشتیاری،اسلم،حاجی رازاق،حکیم بلوچ،یوسف نسکندی،بی ایس او کی جنم بھومی کی جگہ ،بلوچ سیاست میں مرکزی حیثیت حاصل کرنے والا لیاری ہے۔
میرا تعلق ایک ایسے علاقے سے ہے جو اپنے اندر کہیں کردار لیئے چپے ہیں،جس میں فٹبالروں،بوکسروں،شاعروں،فن کاروں ،آرٹسٹوں،اور دانشوروں کی ایک لمبی لسٹ لئے ہے جوہمیشہ سے اپنے باسیوں کے لئے باعثِ فکر کی علامت بنتی رہی ہیں۔
لیاری جو آج ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت ریاستی ادارے اپنے تمام ستونوں کو بروکار لاکر اسکی اصلی امیج کومسخ کرنے پر تلے ہوئے ہیں ۔لیاری وہ علاقہ ہے جس نے بلوچ ادیب ودانشور شہید صبا دشتیاری کی جائے مقام ہے جو بہادری کی علامت بن کر تاریخ میں شمع کی حیثیت حاصل کرکے امر ہوئی ہے ۔صبا جو کراچی پریس کلب کے سامنے استحصالی طبقوں کو انکی اصلیت بتانے پر بضد تھے ،اُیسے ریاستی دھمکیاں بھی اپنے راستے سے ہٹانے میں ناکام رہے ہیں ۔آج بھی لیاری سمیت بلوچستان کی انرجیٹک طبقہ اسکی فکر و فلسفہ کو اپنی منطقی انجام تک پہنچانے کے لئے کمر بستہ ہیں۔
جب ہم بلوچ سیاست کو تاریخ کی تناظر میں دیکھتے ہیں تو ہمیں کماش خیربخش مری ،عطا اللہ مینگل ،غوث بزنجو کے ساتھ ساتھ لیاری ہی کی بے باک دانشور حضرات کی بھی ایک لڑ مل جاتی ہے جس میں لالا لال بخش رند،یوسف نسکندی سمیت کہیں جانباز وں سے واقفیت ہوتی ہے کہ جنہوں نے بلوچ سیاسی تاریخ میں ایک بڑی مقام حاصل کی ہیں ۔لیاری سیاستدانوں اور دانشور کا بسیرا رہا ہے اور وہ تسلسل کو شہید اُستاد صبا دشتیاری، حاجی رازاق،حکیم بلوچ،اسلم بلوچ لیاری سمیت سینکڑوں نوجوان نے اپنے خون سے اُس تاریخی ورثا کو بچائے رکھا ہے ۔
یہ سارے عمل ریاست کے لئے نیک شگون نہیں تھے تو ریاست کو ہر حال بلوچستان کے لیے اُٹھائے گئے آواز کو روکنی تھی کیونکہ یہ عمل اُسکی وجود سے وابستہ تھی،اسی کی منا سبت سے لیاری جو کہ بلوچ سیاست میں اسے ایک مرکزی حیثیت حاصل تھی ۔اس حیثیت کو ختم کرنے کے لئے وہاں پاکستانی پارلیمنٹرین پارٹیوں جس میں پاکستان پیپلز پارٹی پیش پیش تھی لیاری کو ایک موت اور جوئے کے اڈے میں تبدیل کرنے کے لئے باقاعدہ متحرک ہو گئے ہیں ۔سب سے پہلی ترقیاتی کام پی پی پی نے کی وہ تھی گینگ وارز کی گروہ کی تشکیل،دوسری منشیات کے اڈوں کا قیام ،تیسری بڑی ترقیاتی کام اغوا برائے تاوان،چوتھی بڑی کام انہی گروہ کا لیاری ہی کی گلیوں میں آپس کی لڑائی ۔ 
نوجوان جو ایک قوم میں ریڈ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں انہیں بے حودگی اور منشیات کی جانب دکیل دیئے گئے ۔اُس سے پہلے لیاری کے ہوٹلوں اور میدانوں میں نئے شاعر اپنے لکھے ہوئے شاعروں کو اپنے استادوں کے سامنے حوصلہ افزائی کے لیے پڑھا کرتے تھے،موسیک کار اپنے موسیکی میں مشغول تھے ،فٹبالر اپنے ٹورنامنٹوں کی تیاری میں مصروف تھے ،سیاسی ورکر بلوچستان کی آزادی کے لیے پوسٹرز اور اسٹیکرز چپکانے میں مصروف تھے ،بلوچ رہنما جلسہ و جلوسوں میں اپنے پیغام پہچانے میں گلاہش تھے ۔یہ سارے عمل ایک صحتمند معاشرے کی علامت تھے اور یہ قابعض کی وجود کے لئے چیلنجز تھے تو اُس چیلنجز کو حل کرنے کے لیے ریاست نے لیاری کی پرامن اور خوشحال فضا کو خون آلودہ بنا دیا تاکہ اُسکی وجود کو کوئی مسلہ درپیش نہ ہوں۔
لیاری جو سیاست ،کھیل کود،امن وخوشحالی کا ایک علامت تھا وقت کے قبضہ گیر حکمرانوں نے میرے درھتی کوایک خوف و دہشت کی علامت بنادیا گیا ۔ لیاری کی ہر گلی خون آلودہ ہوگئی ،لیاری کے بوڑے ماں اپنے اکلوتے بیٹھے کی لاش پر اُسکی چیک وپکار نے سارے لیاری کوغم سے نڈھال کر دیا ہے ،شہزاد کی ماں کی چیک و زاری نے کلری کو رولا دیا ہے۔لیاری کے اولاد وں کے لئے چاروں طرف سے گولیاں ہی گولیاں برساہی جا رہی ہیں ایک طرف سے گینگ وار دوسری طرف سے امن کو برقرار پر آئے ہوئے رینجرز کے اہلکاروں کی نشانے میں ٹارگٹ کلنگ کا شکار ہو رہے ہیں۔ایک جانب مذہبی انتہا پسندوں کی شکار میں ہیں۔
آج میرے دھرتی کا اکثریتی نوجوان منشیات کے اڈوں پر ڈھیر سارے چوٹے اپنے جسم پر سجا کر موت کی انتظار میں ہر گلی کے کونے پر کہیں دنوں سے ایک لاش بن کر پڑھے ہیں۔
آج میرے لیاری کے لوگ پانی کی بوند بوند کو ترس رہے ہیں ،جب میرے ماں اپنے ہمسائے کھچیوں کے ہاں پانی بھرنے جاتے ہیں تو وہ جو لیاری کے وارث بھی نہیں ہیں مگر لیاری کے باشندوں کو گالم گلوچ کرکے اُنکی بالٹینوں کوانکے ہاتھوں سے چین کر کہیں دور سڑک پر پھینک دیتے ہیں۔ہمارے لوگوں کی حالات آج روہینگیا کے مسلمانوں اور بنگلادیش کے بہاریوں سے بھی بد تر ہیں۔
جب بات ہو مرے دھرتی لیاری کی اور وہاں بلوچی ادب میں ایک قلیدی کردار کا مالک مراد ساحر کا ذکر نہ ہو تو ناانصافی ہو گی کیونکہ مراد ساحر ہی وہ شاعر تھے جنہوں نے اپنی شاعری کی نوک پر نوجوانوں کو جدوجہد کے لئے متحرک کر رکھا ہے ،اپنے شاعری کے ذریعے بلوچستان کے نااہل اور کمزور میر و نوابوں کی اصلیت سے اپنے عوام کو آگاہی دیتے رہے ۔مراد ساحر کا یہ نظم اُسکی کردار کی پرچار کے لئے کافی ہے۔
نہ المءِ شوک نہ کَوم ءِ دوستی نہ سُددنیا ءِ
چشیں بے جوھر ءُ جاندُز ءُ سُستیں نوجوان ءَ سوچ
ایک دوسرے جگہ علاقے کی کم ظرف میرو متبروں سے متوجہ ہو کے کہتا ہے کہ :
پہ نان ءِ چُنڈے ءَ چورو جنوزام لوگ سد گال اَنت
چشیں کَوم ءِ لجوزیں اے امیر ءُ واجھان ءَ سوچ
بلوچی زبان کے شاعروں کے ساتھ ساتھ میرے لیاری موسیکی اور گلوکاری کا بھی ایک مرکز رہا ہے ۔بلوچی موسیکی پر راج کرنے والا گلوکار اُستاد عبدالستار کا تعلق بھی میرے ہی لیاری سے تھا۔وہ اپنے دُن اور راگوں سے دوسرے قومیت سے تعلق رکھنے والے لوگوں کو بھی اپنی دنیا میں لے جاتا تھا۔میں یوں کہوں کہ بلوچ سماج کے اکثریتی گوہروں کا تعلق اُستاد صبا،حاجی رازق،حکیم اور شہید شہزاد کے لیاری سے ہی تھے۔
آج بھی میرے لیاری میں ٹیلنٹ کی کوئی کمی نہیں ہے ،آرٹسٹ جواد بلوچ اور اُزمہ چہروں پرمسکرائٹ لئے یہ دو نوجوانوں نے دنیا کے کامیاب لیڈروں اور فلمی اداکاروں کی تصاویرکے اسکیچ کرنے کا مقصد دنیا کو یہ تاثر دیناہے کہ دیکھو ہم دنیا کی امن وآشستی کے لیے اپنے فن کے ذریعے اپنا پیغام دنیا تک دینا چاہتے ہیں کہ ہم امن پسند اور پرامن لوگ ہیں ۔یہ خون خوارریاست ہے جو ہمیں دنیا کے سامنے دہشتگرد ظاہر کرکے ہمیں اور ہماری جدوجہد کو ختم کرنے پر تلُا ہوا ہے۔مگر ہم اپنی فن سے دنیا کوکہنا چاہتے ہیں کہ دہشتگرد ہم نہیں بلکہ ریاست خود ہے اور ویہی دنیا کی امن کو تباہ کرنے پر تلا ہے۔دنیا کی نظروں میں سرفرست والے دہشتگرد ہمارے سرزمین میں ہمارے ہی خلاف متحرک کر دیئے گئے ہیں ،کھبی طالبان کی روپ میں آکر اسُتاد صبا کو شہید کر دیتے ہیں تو کبھی امام بیل بن کر لیاری کے نوجوانوں کو منشیات کا آدھی بنا کر انسانیت کے دائرے سے نکال باہر کر دیتے ہیں۔

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s