بلوچ تحریک میں عورت کا کردار محدود کیوں؟

Untitled-1-copy

دنیا کی مختلف تحریکوں اور بلوچ قومی تحریک کا تقابلی جائزہ
:چراغ بلوچ
مولانا رومی کے بقول عورت خدا کی روشنی ہے، یہ بات اپنی جگہ درست ہے کہ عورت ہی وہ مخلوق ہے جس نے خاندان کوانکی معاشی مسائل سے چھٹکارا دلانے کی خاطر زراعت ایجاد کی ۔عورت ہی وہ مخلوق ہے جس نے زراعت ایجاد کرنے کی شکل میں معاشرتی ترقی میں ایک انقلاب برپا کیا ، معاشی انقلاب سے پہلے پیٹ بھرنے کا واحد ذریعہ شکار تھا ،اور وہ کام خاندان کے اندر مرد سر انجام دیتے تھے۔عورت گھر میں بیٹھ کر بچوں کی پرورش کیا کرتے تھے ۔ زراعت کی ایجاد کے بعد سے عورت کی معاشرے میں ترقی اور فلاح بہبود میں برابری کا حصہ چلی آرہی ہے۔آج کی اس جدید دور میں وہ معاشرے جو ترقی کی عروج پر ہیں اُن معاشروں میں عورتوں نے اپنا برابر کا حصہ ادا کیا ہے۔
درجہ ذیل میں ممالک اور اداروں کی تعمیر میں عورتوں کی کردار کا ایک سرسری جائزہ لیا جائے گا اور انہیں بلوچ سماج میں بلوچ عورتوں کی کردار کے تناظر میں دیکھنے کی کوشش کی جائے گی۔
تاریخ ہمیشہ بہادر اور حوصلہ مند انسانوں پر ناز کرتی ہے، تاریخ کا یہی اصول عورتوں پر بھی لاگو ہوتا ہے۔ بہادر عورتیں چاہے دنیا کے کسی بھی کونے پر اور کسی شعبے سے بھی تعلق رکھتے ہوں۔ انہوں نے دنیا کی تاریخ اور اُن تمام فرسودہ نظریہ اور فلسفوں کو جھوٹا ٹہرایا ہے کہ عورت مرد کے مقابلے کم عقل اور کم ذہین ہے۔ان عورتوں نے یہ ثابت کر دکھایا ہے کہ ہم ہی تو دنیا میں انقلابات کے نقیب ہیں، چاہے وہ ویت نام کے گوریلا ترونگ بہنوں کی شکل میں ہوں ،جنہوں نے ویت نام کی آزادی کی خاطر اپنے قریبی اور اپنی طاقت میں مغرور چین کے شاہ سے لڑ کر تاریخ رقم کی تھی، یا پھر فرانس کی تاریخ میں مقبول عورت جان آف آرک کہ جنہوں نے یونانی فلاسفر سقراط کی طرح اپنے مقصد پے ڈٹے رہ کر موت کو ترجیح دے دی ۔
اگر ہم اسرائیل کی تاریخ کا جائزہ لیں تو ہمیں معلوم ہوگا کہ اسرائیل کی تشکیل میں گولڈا میئر کا کردار مرکزی تھا ۔ گولڈا میئر وہ عورت تھی جس نے مردوں کو پیچھے چھوڑکر اسرائیل کی تشکیل میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ وہ اسرائیل کی تاریخ میں پہلی اور دنیا کی تاریخ میں چوتھی عورت تھی جس نے اپنی قومی تاریخ کے ساتھ ساتھ دنیا کی تاریخ میں بھی گران بہا خدمات سر انجام دئیے ہیں۔وہ دنیا بھر کے یہودیوں سے ایک ایک ڈالر جمع کرکے اسرائیل کے لئے سرگرم عمل رہنے والے جہدکاروں کو مدد فراہم کیا کرتی تھی۔ وہ پمفلٹ لکھتی تھی اسکی اپنی بیٹی سارہ رات کی تاریکی میں اسرائیل کے گلی کوچوں میں دیواروں پر انہیں چپکا دیتی تھی۔
کردوں کی قومی تحریک میں ایک سرگرم تنظیم پی کے کے کی بنیاد رکھنے میں بھی ایک عورت سکینہ کینسز کا نام با نی رہنما ؤں میں شمار ہوتی ہے۔ کردوں کی موجودہ جدوجہد کی کامیابیوں کے پیچھے عورت سیاسی کارکنوں اور گوریلہ جہدکاروں کی ایک بڑی کنٹیربیوشن ہے، کرد جنگجو خواتین آئی ایس آئی ایس کے خلاف وائی پی جے کی پلیٹ فارم سے کمر بستہ ہیں۔ انہی کی جدوجہد کی بدولت کرد قومی تحریک کو عالمی دنیا میں پذیرائی مل چکی ہے۔کرد عورتیں ایک منظم طریقے سے اپنی قومی تحریک کو لیڈ کر رہی ہیں۔آج بھی پی کے کے کی گوریلہ محاز کو ایک عورت سیمل بائک کمانڈ کر رہی ہے،سیمل بائک بھی سکینہ کینسز کی طرح پی کے کے کی بانی رہنماؤں میں سے ایک ہیں جو آج پی کے کے کی عسکری ونگ کی کمانڈنگ کر رہی ہے۔وہ ایک منظم انداز سے اپنے جدوجہد کو مقصد کی جانب لے جارہے ہیں ۔
الجزائر کی جدوجہد میں بھی عورتوں کی شمولیت سے ایف ایل این کے قوت کو چار چاند لگ جاتی ہے ۔ جب فرانسیسی جبر اور تشدد حد سے زیادہ بڑھ جاتی ہے تو الجزائر کے جہدکار وں کواپنی جدوجہد کو تیز کرنے میں مشکلات پیش آتی ہے ، وہ جنگ کے لیے تیار عورتوں کی بھرتی شروع کردیتے ہیں ،وہ جہد کار عورتیں جدوجہد کی تمام مشکلات کو آسان کر دیتے ہیں ۔ وہاں عورت نرس بن کر جنگ کے زخمیوں کی تیمار داری کرتے تھے ،دھماکہ خیز مواد ایک جگہ سے دوسرے جگہ پہنچا دیتے تھے ۔ شہری علاقوں اور باروں پر جمیلہ بوہارڈ اور زہرہ داریف کی یونٹس بڑی مہارت سے بمب فکس کرکے دھماکہ کیا کرتے تھے ۔آج اگر الجزائر نے آزادی حاصل کی ہے یہ ساری کریڈٹ جدوجہد میں سرگرم پارٹی لیڈرشپ کو جاتی ہے کہ جنہوں نے عورتوں کی تربیت کر کے انہیں قابض سے آزادی لینے کی جنگ میں متحرک کردیا تھا۔
جب ہم ہندوستان کی تاریخ کا مطالعہ کرتے ہیں تو وہاں ہندوستانی تاریخ ایک عورت اندرا گاندھی پر نازاں ہے۔ کیونکہ اسی عورت کی دورِ وزارت عظمیٰ میں ہندوستان اپنے بنیادی حریف پاکستان سے ایک بڑا جنگ جیت گیا تھا۔بنگلہ دیش کے محاز پر پاکستان کی نوے ہزار فوجیوں کو انڈین فوج نے قیدی بنادیا تھا۔ اندرا گاندھی نے آزادی کی جنگ کے دوران ایک چھاپہ مار مسلح گروہ (منکی برگیڈ) کے نام سے بنا کر قابض کے فوجیوں پر حملہ کرتے تھے۔
مندرجہ بالا کے برعکس جب ہم بلوچوں کی موجودہ 70سالہ جدوجہد پر نظر دوڑائیں گے تو یہاں ہمیں عورتوں کی سرگرمیاں بہت محدود نظر آئیں گی۔ بلوچ تحریک میں خواتین کی شمولیت بہت کم رہی ہے لیکن اس کے باوجود ان کی عملی سرگرمیوں سے حالیہ بلوچ تحریک کے حوالے سے دنیا میں ایک مثبت پیغام پہنچا ہے۔لیکن یہ حقیقت ہے کہ عورتوں کی شمولیت اور ان کی سرگرمیاں آزادی جیسی عظیم مقصد کے حصول کے لئے انتہائی سطحی ہیں۔ تحریک کے تناظر میں اگر عورتوں کی شمولیت کا تنقیدی جائزہ لیا جائے تو اُن کی کردار انتہائی محدود ہے۔بلوچ تحریک سے عورتوں کی کنارہ کشی یا سرے سے ہی محدود پیمانے پر شمولیت کی ایک بڑی وجہ معاشرے میں ریاستی مذہبی شدت پسندی کے اثرات ہیں۔ ریاستی بیانیہ ہمیشہ سے یہی رہی ہے کہ خواتین کے کردارکو گھر کی چاردیواری تک محدود رکھا جا ئے۔ بلوچستان جیسے معاشرے میں کہ جہاں بغاوت کا خطرہ ہر وقت موجود تھا ریاست نے اپنے پروپگنڈہ پھیلانے کے لئے میڈیا، مدرسوں، تبلیغی جماعتوں سمیت بھاری تعداد میں سرمایہ لگایا۔ اسی وجہ سے آج بلوچ معاشرے کے بیشتر حصوں میں عورت گھرکی چاردیواری میں خود کو قید کیے ہوئے ہے۔ عورت نے یہ پابندی رضاکارانہ طور پر قبول کی ہے، نہیں تو اس پابندی کے خلاف کہیں سے آواز اٹھ جانا چاہیے تھا۔
بلوچ تحریک میں جس محدود پیمانے پر عورتوں کی شمولیت ہوتی ہے، وہ بھی وقتی طور پر ہے۔ تھوڑا عرصہ ساتھ رہنے کے بعد عورتیں تنظیم اور پارٹیوں سے ایسے دور چلے جاتے ہیں، اور خود تحریک سے بھی لاتعلق کردیتے ہیں۔وہ تنظیم کے مجرم کی طرح پارٹی سرگرمیوں سے دوررہتے ہیں۔ اسکے پیچھے بھی بہت سارے وجوہات کارفرما ہیں ۔
ان وجوہات میں سے ایک یہ کہ ہماری سیاست میں سرگرم عمل رہنے والی عورتیں ابھی بھی خود کو معاشرتی پابندیوں سے آزاد نہیں کرپائی ہیں۔ ہماری سیاست میں شریک عورتیں آج بھی ایک عام عورت کی طرح ازدواجی زندگی سے منسلک ہونے کے بعد اپنی سیاسی سرگرمیوں سے یا مکمل کنارہ کش ہوجاتی ہیں، یا پھر اِن سرگرمیوں کو خاندان کے تابع بناتی ہیں۔ سیاست میں عدم شرکت یا کنارہ کشی کی اصل وجہ عورتوں کی ذاتی رائے نہیں بلکہ اس میں معاشرتی دباؤ کا بھی بہت بڑا کردار ہے ۔ صرف عورت ہی نہیں بلکہ معاشرے کا ہر فرد اپنی ذاتی رائے بنانے سے اتنا اثر انداز نہیں ہو سکتا کہ جتنا وہ ایک مشترکہ سرگرمی میں حصہ ڈالنے سے مثبت کردار ادا کر سکتا ہے ۔ وہ خواتین جو سیاست میں شرکت کے بعد ذاتی زندگی کا چناؤ کرتی ہیں، اس حوالے بلوچ پارٹیوں کو منصوبہ سازی کرنا چاہیے ، کیوں کہ موجود انقلابی جنگ بلوچ معاشرے کو بڑی حد تک روایتی سوچ کے خلاف اکسا چکی ہے ۔ لیکن روایتی سوچ کے خلاف کس طرح معاشرے کے تمام افراد بشمول خواتین کو متحرک کیا جائے ، اس حوالے سے حتمی کردار بلوچ لیڈران کو ادا کرنا چاہیے ۔
عورتوں کی عدم شمولیت کی ایک اور وجہ جدوجہد میں سرگرم عمل پارٹیاں اور تنظیمیں ہیں ۔ ان اداروں نے عورت کی وہ تربیت نہیں کی جو انہیں کرنا چاہیے تھا۔ تحریک نے عام لوگوں کے خا ندانوں کو باور نہیں کرایا ہے کہ عورتوں کے بغیر جدوجہد اپنی منزل مقصود تک نہیں پہنچ سکتی، عورتیں جب سرگرم عمل نہیں ہوتی ہیں تو آنے والے ادوار میں اُنہیں جدوجہد کی رہنمائی کرنے میں مشکلات کے ساتھ قبضہ گیر کی حقیت کا پتہ بھی نہیں چلتا۔جب ریاستی جبر کا رخ انکی طرف ہوگی تو وہ اُسے برداشت کرنے کے قابل نہیں رہیں گے۔
اب ہمارے سارے اداروں کو چاہیے کہ اُن سب خاندانوں کو جدوجہد کی اہمیت آسان الفاظ میں واضح کرنا چاہیے،آج تک حاصل ہونے والے کامیابیوں سے انہیں آگاہ کرنا چاہیے تاکہ وہ جدوجہد سے بیزاری ظاہر نہ کریں،دنیا کی ساری تحریکوں میں وقوع پذیر ہونے والے جبر اور تشدد کی عکس بندی کرکے اُنہیں دکھائیں تاکہ وہ خود کو آنے والے مشکلات کے لیے ذہنی طور پر تیار کر سکیں اورمایوسی اور کنارہ کشی کی نوبت نہ آئے۔
بلوچ پارٹیوں کو اپنے خواتین سیاسی کارکنوں کو نظر یاتی اور فکری حوالے سے لیس کرکے معاشرے میں موبلائزیشن کے عمل کو تیز کرکے ممبرسازی کرنا چاہیے۔ انہیں سیاست میں سرگرم عمل لوگوں کو آنے والے جبر کے لیے تیار کرنے ہونگے۔ آج بلوچ تحریک میں سرگرم عمل پارٹیوں میں عورتوں کی محدود پیمانے پر شمولیت تحریک کے لئے کسی المیے سے کم نہیں، اگر حالات ایسے رہے تو معاشرے کی نصف آبادی کو تحریک میں متحرک نہیں کیا جا سکتا، اس جدید دور میں عورتوں کی تحریک میں عدم شمولیت سے تحریکیں ناکامی کا شکار بھی ہو سکتی ہیں

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s