مخلص کارکن شبیر بلوچ

caletlmyxqxoxou-800x450-nopad

حمید بلوچ 
بی ایس او آزاد بلوچ معاشرے میں ایک جامعہ کی حیثیت رکھتی ہے۔ جو اپنے قیام سے لیکر آج تک بلوچ نوجوانوں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرکے انہیں شعوری طور پر تیار کرکے قومی غلامی کے خلاف جدوجہد کا درس دے رہی ہے ۔بی ایس او آزاد کی اسی شعوری جدوجہد نے بلوچ قوم کو ایسے ایماندار اور مخلص نوجوانوں سے نوازا ہے جو اپنے قومی آزادی کی جدوجہد میں ہر قسم کی قربانی دینے کے لئے ہمہ وقت تیار رہتے ہیں۔ اور اس جدوجہد میں آنے والی ہر مشکل اور تکلیف کو خندہ پیشانی سے قبول کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور ایسے ہی نوجوان ہی قومی تاریخ کو اپنی جدوجہد سے زندہ رکھتے ہیں ایسے نوجوان امر ہوتے ہیں جو اجتماعی مفادات کو حاصل کرنے کے لئے انفرادی مفادات کو پس و پشت ڈال دیتے ہیں۔ .نوجوانوں کے اسی شعور جذبے اور ہمت نے وقت کے سامراجوں کو خوفزدہ کرکے رکھ دیا ہے۔ ایسے نوجوانوں کو ہی ریاست اپنے لئے سب سے بڑا خطرہ قرار دیکر راستے سے ہٹانے کی کوشش کرتا ہے۔ اور آج بھی لاتعدادباشعور نوجوان ظالم ریاستوں کے لئے خطرہ بنے ہوئے ہیں آج جہاں بھی قومی آزادی کی تحریکیں چل رہی ہے وہاں نوجوان ہی ریاستی پالیسیوں کے سامنے سیسہ پلائی دیوار بنے ہوئے ہیں جن کو راستے سے ہٹانا قابض ریاستوں کے لئے ضروری ہے. بلوچ قومی تحریک جو گزشتہ 70 سالوں سے جاری ہے اس قومی آزادی کی تحریک میں نوجوانوں کا کردار قابل ذکر ہے کہ انہوں نے اپنے جان کی قربانی دیکر قومی تحریک کو زندہ رکھا اور اس تحریک میں بی ایس او آزاد کے نوجوان طالب علموں کا کردار کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ۔ بلوچ قومی تحریک کے ہر دور میں بی ایس او کے طالب علموں نے ہر اول دستے کا کردار ادا کیا اپنے خون سے آزادی کی شمع کو بجھنے نہیں دیا بلکہ اپنے خون سے اس چراگ کو روشن رکھا . ان کی جدوجہد نے بلوچ معاشرے میں سیاسی تبدیلی کی بنیاد رکھی اور آج بی ایس او آزاد کے طالب علم بلوچ نوجوانوں کے آئیڈیل بن گئے ہیں ۔انہی نوجوانوں کے نقش قدم پر چلتے ہوئے بی ایس او آزاد کے سینکڑوں نوجوان اغوا اور شہید ہوگئے ہیں۔شہید کمبر چاکر،شہید حمید، کامریڈ قیوم، رضا جہانگیر، شفیع بلوچ، فدا بلوچ، حاصل قاضی، سالار بلوچ، رسول جان، وحید بلوچ، اور دیگر سینکڑوں نوجوان بی ایس او آزاد کے ہی کیڈر تھے جنھوں نے اپنی ذاتی خواہشات کو اجتماع کی بقاء کے لئے قربان کردیاہے۔ ذاکر جان، مشتاق بلوچ، زاہد بلوچ، آفتاب بلوچ ،وسیم ،ارشاد بھی اسی راستے کے مسافر تھے اور اندھیری رات کو ختم کرنے کے لئے شہیدوں کے نقش قدم پر چل پڑے لیکن ان محبت اور دوستی کے پیغمبروں کو سر زمین سے عشق کی پاداش میں اغوا کرکے غائب کردیا گیا آج تک پتہ نہیں کہ یہ نوجوان کہاں اور کس حال میں ہیں۔ انہی نوجوانوں میں ایک نوجوان شبیر بلوچ عرف لکمیر جو 22سال کے نوجوان طالب علم اور بی ایس او آزاد کے مرکزی انفارمیشن سیکرٹری تھے جنہیں 4 اکتوبر 2016 کو ریاستی خفیہ اداروں کے اہلکاروں نے تربت کے علاقے گورکوپ سے ان کی اہلیہ کے سامنے سے اٹھاکر لاپتہ کردیا گیا ،آج شبیر بلوچ کو آغوا ہوئے دس مہینے کا عرصہ بیت چکا ہے لیکن ان کی کچھ خبر نہیں۔شبیر بلوچ کو بلوچستان کے دوسرے نوجوانوں کی طرح اٹھا کر لاپتہ کردیا گیا لیکن اٹھانے والوں نے یہ نہیں بتایا کہ شبیر بلوچ کا کیا قصور ہے اس سے ایسا کونسا جرم سرزد ہوا ہے کہ اسکی سزا اسے غائب کرکے دی گئی وہ ایک سچا عاشق تھا اپنے سرزمین کا . شبیر بلوچ محبتوں کی سرزمین کا فرہاد تھا جسے سرزمین کی محبت نے جدوجہد کرنے پر مجبور کیا . اس کا صرف ایک ہی قصور تھا کہ اس نے اپنے مظلوم قوم کے لئے آواز اٹھائی وہ نوجوانوں کو کتاب پڑھنے کا درس دیتا تھا اور اغوا کرنے والوں کو بھی معلوم تھا کہ ہم نے کسی دہشت گرد کو نہیں بلکہ کتاب کے رسیا ایک مظلوم پر امن سیاسی کارکن کو اغوا کیا ہے. اور ایسے سیاسی کارکن اس اسلامی ریاست کے لئے سب سے بڑا خطرہ ہے۔ شبیر بلوچ ایک طالب علم اور پرامن سیاسی کارکن تھے وہ ایک سنجیدہ اور باشعور نوجوان تھے قومی غلامی کو انہوں نے بچپن سے ہی محسوس کرلیا تھا اور اسی احساس محرومی اور احساس کمتری کو ختم کرنے کے لئے 2008 میں صرف 15 سال کی عمر میں بی ایس او آزاد کو جوائن کرکے اپنی سیاسی زندگی کا آغاز کیا شال اور آواران زون میں اپنی ذمہداریاں مخلصی اور ایمانداری سے انجام دے چکے ہیں۔آواران زون کے صدر بھی رہے اور 2014 میں انہیں بی ایس او آزاد کی مرکزی کمیٹی کا اعزازی ممبر چن لیا گیا یہ وہ وقت تھا جب بی ایس او آزاد تنظیمی حوالے سے سخت مشکلات کا شکار تھی ایک طرف ریاستی ظلم و جبر اور دوسری طرف سوشل میڈیا میں بی ایس او آزاد کے خلاف منفی پروپگنڈے شدت کے ساتھ جاری تھے۔ لیکن شبیر بلوچ اور بی ایس او آزاد کے مخلص کارکنوں نے اس مشکل دور سے بی ایس او آزاد کو نکالنے میں اہم کردار ادا کیا ۔بی ایس او آزاد کے 20 ویں قومی کونسل سیشن میں وہ بی ایس آزاد کے مرکزی انفارمیشن سیکرٹری کے عہدے پر بلامقابلہ منتخب ہوئے . شبیر بلوچ اپنی ذات سے زیادہ تنظیم کو اہمیت دیتے اور اپنا بیشتر وقت تنظیمی کاموں میں مصروف رہتے ۔شبیربلوچ جب اغوا ہوئے تو وہ زاہد بلوچ اور دوسرے کارکنوں کی طرح غیر مسلح تھے ان کے پاس ایک ہی ہتھیار تھا ،وہ ہتھیار تھا شعور و زانت کا جس سے ہر سامراج خوفزدہ رہتا ہے۔ اور ریاست نے اپنے خوف کو ختم کرنے کے لئے شبیر بلوچ کو اغوا کرلیا۔شبیر کا تعلق ایک ایسے علاقے سے ہے جہاں زندگی کے بنیادی ضروریات ناپید ہیں ،آواران جیسے بڑے ضلع میں صرف دو انٹر کالجز ہیں وہ بھی فوجی کیمپ بن چکے ہیں ،مگر شبیر کی تربیت کا کریڈٹ بی ایس او آزاد کے باشعور نوجوانوں کو جاتا ہے ،یہ رضا ہی تھے جنہوں نے شبیر بلوچ کی لیڈرشپ صلاحیت کو پرکتے ہوئے ایسے کم عمری میں ممبرشپ سے لے کر زونل لیڈرشپ تک لے آئے ۔اگر قابض ریاست نے بلوچوں کو کچھ دیا تھا وہ احساس محرومی ،احساس کمتری ،مسخ شدہ لاشیں ،اور منشیات کا زہر اسکے علاوہ پاکستان نے صرف بلوچوں سے طاقت کے زور پر انکی جدوجہد کو کاؤنٹر کررہی ہے۔ریاست کا یہ عمل کسی بھی شعور یافتہ نوجوان کو اسکی غلامی کا احساس دلاتا اسی غلامی کو ختم کرنے کے لئے اس نے پرامن طور پر سیاسی جدوجہد کرنے کا شعوری فیصلہ کیا ۔بی ایس او آزاد کی شعوری جدوجہد نے شبیر بلوچ کو اس قدر مضبوط بنادیاتھا کہ وہ ریاست کی پالیسیوں کو ناکام بنانے کی مکمل اہلیت رکھتا تھا وہ پاکستان کے استحصالی نظام کا سخت مخالف تھا کیونکہ اسے ادراک تھا کہ استحصالی نظام میں بنائے گئے قوانین بلوچ قوم کی بقاء کے لئے خطرہ ہے اگر اس فرسودہ نظام کے خلاف جدوجہد نہ کی گئی تو بلوچ قوم کا وجود دنیا سے مٹ جائے گا اور اس استحصالی نظام کے خلاف پرامن جدوجہد کررہے تھے کیونکہ استحصالی نظام کا خاتمہ جہد مسلسل سے ہی کیا جاسکتا ہے ۔شبیر بلوچ ایک پرامن سیاسی جہد کار اور انسانیت سے محبت کرنے والے انسان تھے اس کا کسی مسلح تنظیم سے کوئی تعلق نہیں تھا ۔صرف نوجوان طالب علموں کو اس بنیاد پر اغوا کرنا کہ وہ کیوں ریاست کے خلاف آواز اٹھاتے ہیں اور کیوں آزادی کی بات کرتے ہیں شبیر بلوچ ان باشعور نوجوانوں میں شامل تھے جنہیں غلامی سے نفرت اور آزادی سے محبت تھا۔ایسے باشعورنوجوانوں کا لاپتہ ہونا دنیا کے انسانی حقوق کے اداروں کے لئے سوالیہ نشان ہے۔

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s