آئی آبجیکٹ مائی لارڈ

women-697928_960_720

رژن بلوچ 
جب سے ھوش سنبھالا ہے عورت کو مظلوم پایا ہے۔ اور مرد کو اس صنفِ نازک پر افسوس یا پھر اس کو حوصلہ دیتے ہوئے دیکھا ہے۔ اس بات سے قطع نظر کہ یہ حوصلہ اپنی چار دیواری سے باہر کسی غیر عورت کے لئے ہوتا ہے۔ اب میں جوان ہوکر عورت کو اپنے حقوق کے لئے لڑتے ہوئے دیکھ رہی ہوں، کبھی حقوق کے نسواں کے نام پر تو کبھی لبرلزم کے ہر کسی کا اپنا طریقہ کار ہوتا ہے لڑنے کا یا آواز اُٹھانے کا اور آج کل تو دیواروں پہ لکھنے کا کلچر بہت عام ہے، جس میں عورت کی حوصلہ مندی کے لئے بھی کئی نعرے لکھے ہیں، جیسا کے ” عورت کو آذاد کرو ” ۔
در حقیقت سوال یہ ہے کہ آزادی کیا ہے؟ بقولِ روسی فلسفی برلِن کے ” آذادی وہ ہے جو دوسروں کی زندگیوں میں مداخلت نہیں کرتی ” میں اپنے ہر عمل میں خودمختار ہوں، کوئی بھی فیصلہ لینے کیلئے مجھے کسی کی اجازت درکار نہیں۔ لیکن جنوبی ایشیائی ممالک میں جب بھی انسانی آزادی کا موضوع زیر بحث آتا ہے تو مردوں کے لئیے “سیکس” سروں پہ منڈلانے لگتا ہے ۔ جبکہ عورتیں تو ابھی اِس بات پہ اٹکی ہیں کہ آزادی ہے کیا؟ مولوی حضرات کے نزدیک سات پردوں میں چْھپ کر رہنا ہے یا بقولِ سرمایہ دار برہنہ ہونا؟ وہ اِن چیزوں میں اتنا جھْٹ گئیں ہیں کہ آزادی جیسا گہرا لفظ عورت کی سمجھ سے بالاتر ہوگیاہے ۔ 
مجھ جیسے نا چیز نے ہمیشہ سے ہی حالات کے مارے دانشوروں کو بحث کرتے دیکھا ہے’’ عورت کی آذادی ماری جا رہی ہے ،’’ عورت بیچاری مظلوم ہے۔ لیکن یہ موضوع کبھی زیر بحث نہیں رہا کہ عورت آذادی مانگتی ہی کیوں ہے،؟ کیوں عورت نے اپنے اختیارات کسی اور کے حوالے کیے ہیں ،؟ کبھی یہ سوال نہیں اُٹھایا گیا کہ عورت مانگتی بھی اْسی سے ہی ہے جس نے کبھی دھوکہ دے کر تو کبھی چھین کر عورت کی آزادی سلب کی ہے۔ عورت نے مرد کو کبھی اپنے وجود کے لئے آذادی مانگتے نہیں دیکھا ہے ۔ کیوں کہ مرد زہنی حوالے سے تسلیم کرچکا ہے کہ وہ اپنی زات میں ایک آذاد شخص ہے ۔ لیکن عورت اِس بات کو سمجھنے سے قاصر ہے کہ اُس کی زندگی میں سب سے زیادہ حق اُس کا اپنا ہے، البتہ عورت بیچاری ابھی تک اِس بات پر لڑ رہی ہے کہ مجھے دوپٹہ اوڑھنا ہے کہ نہیں۔ 
میرے نزدیک آذادی کوئی آفاقی شے نہیں ہے آزادی انسان کی زہنیت ہے ۔ عورت اپنی ذات میں یہ تسلیم کریں کہ آزادی کو چھین کر یا منّت کر نہیں لی جا سکتی بلکہ یہ پہلے سے ہی اُنہی کے پاس موجود ہوتی ہے، بس استفادہ کرنا آنا چاہئے۔ 
آج کل بلوچ عورت اور سیاست کے موضوع پر محدود پیمانے پر بحث کی ابتدا ہوچکی ہے ، اور ہو بھی کیوں نہ آخر عورت معاشرے میں 51فیصد یعنی کہ اکثریت ہیں۔ اس موضوع پر چند ایک آرٹیکل پڑھنے کے بعد ایک دوست سے بلوچ عورت اور سیاست پر بحث ہورہی تھی تو دوست نے کچھ یوں کہہ کر عورت کو بری الذمہ قرار دیا “ہماری سیاست میں سرگرم عمل رہنے والی عورتیں ابھی بھی خود کو معاشرتی پابندیوں سے آزاد نہیں کرپائی ہیں۔ ہماری سیاست میں شریک عورتیں آج بھی ایک عام عورت کی طرح ازدواجی زندگی سے منسلک ہونے کے بعد اپنی سیاسی سرگرمیوں سے مکمل کنارہ کش ہوجاتی ہیں، یا پھر اِن سرگرمیوں کو خاندان کے تابع بناتی ہیں۔ سیاست میں عدم شرکت یا کنارہ کشی کی اصل وجہ عورتوں کی ذاتی رائے نہیں ہے بلکہ اس فرسودہ معاشرتی نظام کے اثرات ہیں” اب بات یہاں آکر رک جاتی ہے کہ آخر عورت نے اس فرسودہ معاشرے کو اتنی اجازت ہی کیوں دی ہے کہ اُسے سیاسی سرگرمیوں سے کنارہ کشی کرنے پر مجبور کریں۔ میرے ناقص رائے کے مطابق فرسودہ معاشرتی نظام کے مظبوطی میں عورت برابر کے شریک ہیں جو وہ اپنے سیاسی مستقبل کے لئے مثبت قدم اُٹھا کر مستقل سیاسی عمل کا حصہ بننے کے بجائے فرسودہ نظام کے سامنے دستبردار ہوتے ہیں۔ عورت کو تصوراتی دنیا سے نکل کر یہ تسلیم کر لینی چاہیے کہ سیاست کرنے کے اُتنی ہی حق عورت کو ہے جتنا کہ مرد کو ہے۔ عورت کو بس یہ احساس کرنا ہوگا کہ یہ حقوق کہاں اور کیسے استعمال کریں۔ بلوچ سماج میں عورتیں بھی اُتنی ہی زمہ داریاں نبھائیں جتنا ایک مرد نبھا رہا ہے کیوں کہ یہ سرزمین صرف مردوں کی نہیں ہے، اور اِس تحریک پہ حق صرف مردوں کا نہیں ہے۔ بلکہ اِس تحریک کا ہم عورتوں پر اْتنا ہی حق ہے جتنا اِس کا ایک مرد پر ہے۔ 
آخر میں یہ نہ چیز کچھ مختصر سوالات بلوچستان کے ترقی پسند پارٹیوں کے لیے چھوڑتی ہے۔ کیا ہم بر حق ہے کہ تمام ملبہ عورت پہ ڈالیں ؟ اگر عورت نے اپنا فیصلہ خود نہیں کیا یا اُس کے خوف نے عورت کو یہ قدم اُٹھانے کی اجازت نہیں دی تو اُن تمام تنظیم و پارٹیوں نے کیا کردار نبھایا جو ترقی پسند بلوچستان کا نعرہ لگاتے نہیں تھکتے؟ اگر اُن کی خواتین سیاسی کارکنان فرسودہ نظام کے شکار ہو گئے یا ہورہے ہیں اُن کی سیاسی مستقبل داؤ پہ لگ رہی ہے تو ان ترقی پسند تنظیموں نے اِس سنجیدہ معاملے پر کتنی سنجیدگی کا مظاہرہ کیا ہے ؟ کیا ان تنظیموں نے اپنے کارکنان کے سامنے فرسودہ سماج اور ترقی پسندانہ سماج کے درمیان فرق کو واضح کیا ہے؟ فرسودہ نظام کے ازدواجی زندگی کے خلاف درس و تدریس کا عمل سرانجام دی ہیں؟ اپنے خواتین سیاسی کارکنان کو فرسودہ معاشرتی نظام کے خلاف بغاوت پر آمادہ کیا ہے؟ شاید ہماری نام نہاد ترقی پسندانہ سوچ بھی اِن فرسودہ روایتوں کی نظر ہوگئی ہیں کہ خواتین کسی اور کی ملکیت ہے ۔ 
مجھ جیسا نا چیز یہ سمجھتی ہے کہ یہ تمام سوالات حل طلب ہیں ہر اُس تنظیم و پارٹی کے لئے جو ترقی پسند بلوچ سماج کا خواب دیکھتی ہے ۔پارٹی پلیٹ فارم میں اگر آج اس بحث کی ابتدا نہ کی گئی تو ترقی پسند بلوچ سماج کا خواب ایک خواب ہی

رہے گا ۔

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s