حوصلہ مند کامریڈ نسیم بلوچ

Baloch-Sarmachar

قمر بلوچ
’’کامریڈز! ہماری کامیابی ہمارے نظم و نسق پر منحصرہے ،کیونکہ ہم گوریلہ ہیں اور گوریلہ جہدکاروں کی کامیابی اُس وقت ممکن ہوتی ہے جب اُنکے نظم و نسق مضبوط ہونگے۔اُنکے ہر عمل نظم ونسق کے اندر ہونگے ہمیں ہماری چالاکی اور مہارت ہمیں دشمن سے سبقت دلائے گی ۔آج کی اس جہدوجہد میں ہم نے کامیابی کے ساتھ کہی محاذوں پر دشمن فوج کو ناکوں چننے چھبائے ہیں۔اُن سب کامیابیوں کا راز ہماری گوریلہ اصولوں کی تعبداری میں ہے۔
میرے قوم کے فرزندوں!!ہماری کالج اور درسگاہ ہماری کیمپ ہے ۔یہاں سے ہماری سیاسی اور عسکری تربیت ہوگی۔ہم یہاں سے تربیت یافتہ ہوکر میدان جنگ میں دشمن کے ساتھ کمربستہ ہونگے اور اپنے اپنے علاقوں میں عوامی موبلائزیشن کا حصہ بنیں گے ۔اسی درسگاہ سے آج ہزاروں کی تعداد میں حمل جیہند ،بالاچ ،اورکمبر کے فرزندان نے بلوچستان کے گلی کوچوں میں دشمن کو شکست سے دوچار کر کے رکھ دیاہے ۔آج دشمن کی فوج اتنی بوکھلاہٹ کی شکار ہے کہ ہماری جھونپڑیوں سے خوف کھاتی ہے ۔یہ ہماری کامیابی ہے کہ دشمن عام بلوچ کو گوریلہ سمجھ کر ٹارگٹ کر رہی ہے وہ یہ سوچ کر یہ سب کچھ کررہی ہے کہ ہماری صفوں میں لوگوں کی شمولیت کم ہوگی مگر یہ سب الٹ ہو رہی ہے‘‘۔
یہ دو پیراگراف شہید نسیم کے ہیں جو اُس کی شہادت کے دن سے مجھے بیتاب کیے ہوئے ہیں کہ کامریڈ نسیم بلوچ کی قومی خدمات کے حوالے سے میں کچھ الفاظ رقم کروں۔ شہید نسیم نے یہ الفاظ میدانِ جنگ میں جنگجوؤں کوحوصلہ دینے اور متحرک کرنے کے لئے کہے تھے۔ 
اس دھرتی ماں نے ہزاروں ایسے نوجوان پیدا کیے ہیں جو ہمیشہ اپنے ماں کی آبرو کو بچانے کی خاطر زندگی جیسی خوبصورت ترین شے کو ہنسی خوشی قربان کر دے دیتے ہیں۔ میں کس کس کا نام لوں،شیہک،سردو،فدا،دینار،سیلم،اور ہمیشہ کامیابیوں کاذکر کرنے والے،دوستوں کو نظم و ضبط کی پابندی کا درس دینے والاکامیریڈ نسیم عرف ملا دیدگ بلوچ جیسے نوجوان پیدا ہوئے ہیں۔ جن قوموں میں قربانی دینے والے نوجوان موجود ہوں ایسے قوموں کو تا دیر غلام نہیں رکھا جا سکتا ہے۔نسیم اپنے طالب علموں کا ایک ہونہاراُستاد اور ایک عظیم ساتھی تھے ،وہ ہمیشہ اپنے نئے آنے والے سپاہیوں کا خیال کرتے تھے ،انہیں ٹریننگ مرکز پر لے جانا ،انہیں ماؤزے تنگ کی گوریلہ تصانیف پڑھانا،بیماری کی صورت میں انکی تیمار داری کرنا،نئے آئے ہوئے سپاہیوں کو شاعری سنانا،انہیں ادب کی دنیا کا سیر کروانا ،وغیرہ کامریڈ نسیم بلوچ کی روزمرہ کی معمولات تھے۔
راقم کاکامریڈ سے باضابطہ پہلی ملاقات اسکی بی ایس او کے زمانے میں ہوئی ہے جب وہ 2012کی سیشن کے سلسلے آواران میں آئے تھے۔ایک دو دن بی ایس او آزاد کے اسیر رہنما کامریڈ شبیر بلوچ کے گھر میں قیام کے بعد سیشن کی مقام پر روانہ ہوگئے۔ اکٹھا سفر کیا سارے سفر کو کامریڈ نے اپنے شاعری اور طنز و مزاح کی وجہ سے آسان بنایا،پانچ دن تک سیشن کے مقام پر کامریڈ کے ساتھ مختلف موضوع زیر بحث رہے،جن میں سیاست،ادب،مذہب،علاقے کی سیاسی صورتحال خاص کر اورماڑہ ،پسنی،اور گوادر زیر بحث رہے،کیونکہ کامیریڈ کا تعلق انہی علاقوں سے تھا۔
اُس ملاقات کے بعد اُس سے نہ ملتے ہوئے بھی ایسا محسوس ہوتا تھا کہ وہ میرے ساتھ بیٹھا ہے ادب لیکچر دے رہا ہے،وہ اس لیے کہ اسکی بحث و مباحثوں میں اتنی جاذبیت تھی کہ اُن کا اثر دیر تک رہتا۔
دو سال کی طویل مدت کے بعد ہم دوبارہ ملے ،جہاں سے ہم نے اپنی مباحثے کو ادھورا چھوڑا تھا وہاں سے دوبارہ شروع کیا۔ اس دوران کامریڈ نسیم سے ملاقات مختصر نہ تھی۔ کامریڈ سے روز دیوان اور مباحثہ ہوتا،دن ہفتوں میں بدل گئے، ہفتے مہینوں میں تبدیل ہو گئے ۔ وقت کا پہیہ آگے کی طرف چلتا گیا اور مہینے سالوں میں بدل گئے۔اس درمیان نہ بدلنے والے ہم تھے ۔ ہماری سرکل کی تعداد سینکڑوں میں بدل گئی۔اُس سرکل میں ہمیشہ دوستوں کو ہنسانے والا شہید لال جان،دوستوں کی پیغام رسانی والا شہید شہباز جان عرف دینار ،دوستوں کی بائیوگرافی لکھنے اور شہدا اور اسیران کی معلومات اکٹھا کرنے والا بی ایس او آزاد جھاؤ زون کے زمہ دار کارکن شہید سلار جان سمیت شہید سیلم جان، شہیدشہزاد،شہیددادبخش،شہیدقندیل،اورشہیدمجاہدبلوچ ہوا کرتے تھے۔جب ہم سب ساتھ ہوتے تو دنیا، ادب، مذہب، سیاست، پر ملا دیدگ طویل بحث شروع کردیتا ۔ ہم سب توجہ سے اُسے سن رہے ہوتے اور ان کی باتوں کو آہستہ آہستہ جذب کر رہے ہوتے تھے۔اُس سرکل سے میرا ناطہ چند مہینے قبل اس وقت چوٹا جب میں تنظیمی کاموں کے سلسلے میں انکی گیدرنیگ کو چھوڑکر اُن کامریڈوں کی نگری سے نکل گیا۔مگراس کے باوجود بھی انکی سرکلوں سے ہمیشہ مستفید رہا ،کیونکہ جب بھی ان میں سے کسی سے رابطہ ہوتا تو ساری معلومات کہیں دور رہ کر بہم پہنچ جاتے تھے ۔اُن دلچسپ اور اہمیت کے حامل اور سبق آموز باتوں اور سرکلوں کے تسلسل کو جھاؤ میں حالیہ تین روزہ خونی آپریشن نے میرے عظیم ساتھی کی شہادت نے توڑا ہے ۔ مگر میں آج بھی فخر سے کہوں گا کہ نسیم کے شاگرد اُس تسلسل کو مذید منظم انداز اور مضبوطی کے ساتھ آگے بڑھائیں گے۔ اور اس تسلسل کوبلوچ نوجوان اپنی منزل تک جاری و ساری رکھیں گے۔
بلوچستان قدرتی طور پر ایک زرخیز خطہ رہا ہے،بشریاتی اور مادی طور پر اُن مادی اشیا نے اس خطے کو ہر کسی کے لیے پُرکشش بنایا ہے ،سائرس اعظم سے لے کر پنجابیوں تک کے عزائم یہی تھے اور ہیں کہ کیسے ا س خطے کو اپنی تابع رکھا جا سکے۔ چاہے اُس کے لیے کتنی ہی مشکلات کیوں نہ درپیش آتی ہوں۔ مگر اس مٹی تلے تمام جاندار اور بے جاں اشیا نے اپنی آبائی علاقے کے لیے سائرس اعظم کی لشکر کے لیے تمام راستوں کو بند کر رکھا تھا اور وہ بیزاری کے عالم میں اپنی جاں کو بچانے کی خاطر اس خطے کو چھوڑ کر چلے گئے تھے۔پُرتگیزیوں کو ساحل بلوچ پر حملے کے بعد حمل جیہند نے پسپا کردیا تھا۔ انگریز کی لشکر کو محراب خان اور ساتھیوں نے بڑی مشکل میں ڈال کر ایک طویل بغاوت کے بعد اپنے خطے سے نکال باہر کروایا تھا۔ اور پنجابی کی عزائم کو خان قلات سے لے کر ،نوروزخان ، نورا مینگل، شیروف مری، بالاچ خان ، شہک، سردو سے ہوتے ہوئے نسیم جاں جیسے ہزاروں نوجوانوں نے شدید مشکلات میں ڈالا ہے۔اس شکست سے بچنے کی خاطر شاطر پنجابی نے کبھی قرآن مجید کا واستہ دیکر اس کی بے حرمتی کی، کبھی اپنے پالے ہوئے اسلام کے نام پر دھبوں جیسے مولویوں کا ۔ کبھی ہمیشہ کے لیے د وھوکہ دہی میں شہرت رکھنے والے بے ضمیر سرداروں اور نوابوں کا سہارا لے کر بھی وہ اس سرزمین کو اپنے زیر نگیں کرنے کی کوششیں کرتا ہے ۔ لیکن ان سب کے باوجود بھی وہ مشکلات کا شکار ہے ۔ آج اسے واضح شکست دیکھائی دے رہی ہے،اس لیے آج اسکی شکست خوردہ فوج کے لیے بلوچ کا ہر بچہ سرمچا ہے ،اور ہر جھونپڑی اُسے ایک گوریلہ کیمپ نظر آتی ہے اس لیے آج تک وہ ہزاورں کی تعداد میں نوجوانوں کو لاپتہ کرنے اور شہید کرنے کے ساتھ ساتھ ہزاورں جھونپڑیاں جلا چکا ہے۔
بلوچ دھرتی نے کبھی بھی اپنے دفاع کے لئے حمل جہیند،شیرو مری ،بالاچ کی کمی محسوس نہیں کی ہے ،کیونکہ بلوچ فرزندوں نے اُس کمی کو اپنے خون سے پورا کر دیا ہے،کبھی کمبر کے روپ میں ،کبھی شہیک کی شکل میں تو کبھی ملا دیدگ (نسیم )جان کی صورت میں حمل ،محراب خان ،اورکمبربن کر بلوچ دھرتی کوبچانے کی جدوجہد میں ہمیشہ کے لئے تاریخ کے اوراق میں نمیران ہوگئے ہیں۔

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s