غلام کی عید

vfbmp-kar-demo-6

حمید بلوچ
عید خوشیوں کا ایک تہوار ہے جسے دنیا بھر کے مسلمان اپنے رسم و رواج کے مطابق مناتے ہیں عید کے دن نئے کپڑے پہن کر شکرانے کی نماز ادا کرکے دوستوں اور رشتے داروں سے عید ملنے جا تے ہیں ۔بچوں کو عیدی دینا ،دوستوں اوررشتہ داروں کو دعوت پر بلانا، ان کی دعوت کھانا، غریب و نادرا لوگوں کی مدد کرکے اپنی خوشیوں میں شامل کرنا وغیرہ عید کے خوشگوار لمحات میں شامل ہوتے ہیں۔عید نام ہے خوشی اور مسرت کا۔ اس مسرتوں بھرے لحمات کو ہر طبقے کے لوگ جی بھر کہ انجائے کرتے ہیں ۔
عید اللہ کی طرف سے مسلمانوں کے لئے ایک تحفہ ہے جسے وہ اپنے پیارے بندوں کو انعام کے طور پر دیتاہے ،لیکن شیطان کے چیلوں نے مظلوم و کمزور قوموں کو اس انعام سے ہمیشہ محروم رکھا ہے ۔شیطان کے چیلوں نے ہر عہد میں کمزوروں پر اپنے شکنجے گھس کر انہیں اپنا غلام بنایا .۔آزادی عید سے بھی بڑی خوشی اور تہوار ہے اور دنیا کے ہر انسان اور ہر قوم کو آزادی سے زندگی کے ہر لمحات کو انجوائے کرنے کا حق حاصل ہے بقول روسو کہ انسان آزاد پیدا ہوا ہے اور اسے آزادی سے زندگی گزارنے کا حق حاصل ہے لیکن دنیا میں موجود سرکشوں کے ٹولے نے بشر کو آزادی اور خوشی کے لمحات انجوائے کرنے سے یکسر محروم کرکے خدا کے انعام و کرام سے بھی محروم کردیا ہے ۔
کمزور و غلام قوموں کی عیدیں تفریح مقامات پر نہیں بلکہ پریس کلبوں اور سڑکوں پر احتجاج کرکے گزر جاتی ہے۔آج کے اس گلوبل ولیج کے دور میں بھی انسان غلامی جیسی لعنت کا شکار ہے۔ ظالموں اور سرکشوں کے ٹولے نے غلامی کو اس قدر مضبوط کردیا ہے ،کہ پسماندہ و کمزور ملک ان کے شکنجے سے آزاد ہونے کی جدوجہد تو کررہی ہے لیکن ظالم دنیا میں ان کی آواز سننے والا کوئی موجود نہیں۔ دنیا کی تاریخ ہمیں اس حقیقت سے روشناس کراتی ہے کہ مظلوم و کمزور قوموں نے اپنی ہمت جدوجہد سے وقت کے فرعونوں سے اپنی آزادی حاصل کی آج وہ قومیں عید کے پرمسرت لحمات کو بھرپور انجوائے کررہے ہیں ۔اس سے قبل غلامی کے عہد میں ان کی زندگی اجیرن بن چکی تھی اور وہ روتے بلکتے اپنے پیاروں کو یاد کرکے اس پرمسرت لحمات کو بے بسی اور مایوسی سے صرف محسوس کرسکتے تھے، لیکن ان کی آج کی زندگی ماضی سے مختلف ہے.ظالم کے تشدد اور خوشیاں چیھننے میں پاکستان سر فہرست ہے جس نے دنیا میں دہشتگردی کو ہوا دیکر دنیا کی امن تہو و بالا کردیا ہے۔ اسلام کے نام پر وجود میں آنے والے ملک نے بلوچستان پر قبضہ کرکے گزشستہ 70 سالوں سے بلوچ قوم کو اس پرمسرت لحمات سے محروم کردیا ہے ۔معدنی وسائل سے مالا مال سرزمین میں بسنے والے غریب عوام عید کی خوشیوں سے محروم ہیں۔اس غلامی کے عہد میں بلوچ قوم کے لئے خوشیاں کوئی اہمیت نہیں رکھتی ،کیونکہ غلام کی عید عیدالفطر و عیدالاضحی نہیں بلکہ اُسکی آزادی ہے ۔
بلوچ قوم اس دن کو عام دنوں کے طور پر مناتی ہے کیونکہ غلامی کے خلاف جدوجہد کرتے ہوئے ان کے پیارے غائب کردئیے گئے ہیں۔ ہزاروں بلوچ فرزندان اس جرم کی پاداش میں ٹارچر سیلوں میں اذیتیں برداشت کررہے ہیں ،ہزاروں شہید کردئیے گئے ہیں، ہزاروں خاندان در بدر کی زندگی گزارہے ہیں ۔ تو اس غلامی اور کرب ناک دنوں میں بلوچ عید منائیں تو کیسے اور کس کے ساتھ منائیں؟ بلوچ کی عید دنیا کے دیگر غلام قوموں کی طرح پریس کلبوں کے سامنے احتجاج میں گزر جاتی ہے۔ اسکی مثال عید کے پہلے دن کراچی پریس کلب کے سامنے 8 سال قبل لاپتہ ہونے والے ڈاکٹر دین محمد بلوچ کی جبری گمشدگی کے خلاف ان کے فیملی کی طرف سے لگائی جانے والی بھوک ہڑتالی کیمپ ہے۔جب اس کیمپ کو لگایا جارہا تھا تو پریس کلب کے سیکورٹی گارڈ نے کہا کہ آج عید کا دن ہے آپ لوگ کیمپ کل لگادو آج کے دن دوستوں یاروں اور رشتے داروں سے ملو اور اس پل کو انجوائے کرکے کل کیمپ لگادو یہ بات سنکر ذہن میں خیال آیا کہ کونسے دوست و رشتے دارویہی جنہیں آپ کے ریاستی اداروں نے غائب کردیا ہے یا وہ دوست ویار جنہیں آپکی اداروں نے شہید کرکے لاشوں کو ویرانوں میں پھینک دیا گیا ہے ،یا وہ رشتے دار جن کے گھروں کو جلا کر انہیں در بدر کی زندگی گزارنے پر مجبور کردیا گیا ہے ۔کیسے عید مناسکتا ہے وہ بیٹا جس کا بابا 3 سالوں سے غائب ہے ۔بلوچ قوم کے لئے ویسے تو ہر دن ماتم کا دن ہے لیکن عید کے لحمات میں یہ درد اور بڑھ جاتا ہے کہ کب ہمارے پیارے اپنے گھروں کو لوٹ آہیں گے ۔ ہزاروں بلوچ فرزندوں نے قوم کے بہتر مستقبل کے لئے اور اس کربناک دور کو ختم کرنے کے لئے پر امن سیاسی جدوجہد کا آغاز کیا تاکہ دنیا کے دیگر اقوام کی طرح آزادی اور خوشی سے زندگی اور عید کے پرمسرت لحمات کو بھرپور طریقے سے انجوائے کرسکیں لیکن اپنے فطری حق کے جدوجہد کی پاداش میں لاپتہ کردیا گیا، کہ اب تک ان کا کچھ پتہ نہیں ان کی بازیابی کے لئے ان کے اہل خانہ کبھی کراچی پریس کلب کبھی اسلام آباد اور کبھی کوئٹہ میں پریس کانفرنس اور مظاہرے کرکے اپنا احتجاج ریکارڈ کراتی ہے ،اور کبھی بھوک ہڑتالی کیمپ کے ذریعے اپنی آواز دنیا تک پہنچانے کی جدوجہد کررہی ہے۔
زاہد بلوچ، ذاکر جان، شبیر بلوچ ،مشتاق بلوچ، ڈاکٹر دین محمد بلوچ سمیت ہزاروں بلوچ فرزندان ریاست کی کال کھوٹھریوں میں بند ہے ۔ رضا جہانگیر،شکور،امیرالملک،حق نواز، بالاچ مری ،غلام محمد، امداد بلوچ ،کمبر چاکر،اُستاد علی جان،پروفیسر صبا دشتیاری سمیت ہزاروں کی تعداد میں نوجوان شہید کردئے گئے، تو اس ماتمی ماحول میں بلوچ قوم کیسے عید منائیں؟ عید کے لحمات کو بچے بڑوں سے بھی زیادہ انجوائے کرتے ہیں ،نئے کپڑے پہنتے ہیں ،عید کی باتیں کرتے ہیں ،بڑوں سے عیدی لیکر انجوائے کرتے ہیں ،اور اپنے گھر والوں کے ساتھ تفریح مقامات پر بھرپور مزہ لوٹتے ہیں ۔لیکن غلامی کے ماحول میں بلوچ بچے اور بچیوں کی عید کیسے کرب ناک حالت میں گزرتی ہے اس کا اندازہ وہی انسان کرسکتا ہے جو ظالم کے غضبناک ظلم کا شکار ہوا ہے .سمی بلوچ، مہلب بلوچ، حیدر علی، کمسن کمبر و دودااس انتظار میں بیھٹے ہوئے ہیں کہ کب ان کے بابا آہیں گے اور وہ عید کے ان بھرپور لمحات اپنے گھر والوں کے ساتھ منائیں گے ۔بلوچ شہدا کی خاندان کا عید صرف اور صرف بلوچ قوم کی آزادی ہے ۔ جب بلوچ قوم آزاد ہوکر اپنی سر زمین کا مالک خود ہوگی اُس دن اُسکی عید ہوگی۔اپنے عید جسے خوشیاں اور مسرتیں لانے کے لئے ضروری ہے کہ ہم متحد ہو ں،اتحاد ہی ہماری آزادی کی نعم البدل ہوگی۔

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s