بادر باپ کی بہادر بیٹی

19420582_144876516076669_5000700564698474673_n

حمید بلوچ
بہادر وہ نہیں ہوتا جو میدان جنگ میں اپنے مدمقابل کو مات دیتا ہے۔ بلکہ بہادر وہ ہوتا ہے جو زندگی کے تلخ حقیقت کو ثابت قدمی سے برداشت کرتا ہے اور اپنے لئے ایسے کھٹن اور مشکل راستے کا انتخاب کرتا ہے۔ دنیا میں ایسے کئی سچے ایماندار اور بہادر انسانوں نے جنم لیا جنھوں نے انگاروں پر چل کر قوم کے لئے آزادی اور خوشحالی کا راستہ تلاش کیا اپنے سرزمین کی محبت اور چاہت میں انھوں نے ہر دکھ اور تکلیف کو خندہ پیشانی سے قبول کیا۔ایسے عظیم انسان دنیا کی تاریخ میں ہمیشہ اچھے ناموں سے یاد کئے جائیں گے۔ ڈاکٹر چی گویرا ، فیڈل کاسٹرو ، ماؤ زے تنگ، نیلسن منڈیلا، اور انسانیت کی جنگ میں ان کا ساتھ دینے والے اپنے کارناموں اور کردار کی وجہ سے دنیا کے مظلوموں کے لئے ایک مثال بن گئے ہیں۔ ایسے ہی بہادروں اور مخلص لوگوں کا ملک بلوچستان ہے جسکے فرزندوں نے دنیا کے ہر طاقتور اور ظالم ملکوں کا بہادری سے مقابلہ کرکے ان کو اپنی سر زمین سے باہر نکالا ایران، پرتگال، منگول، برطانیہ ،عرب ان سب کا ہمت و بہادری سے مقابلہ کیا ۔ بہادر ہمیشہ مشکل اور کھٹن حالات کا سامنا کرتا ہے اور زندگی کے ہر قدم پر مشکلات کو شکست دیتا ہے۔ برطانیہ سے آزاد ہونے کے بعد ایک اور مشکل و کٹھن حالت بلوچ قوم کی منتظر تھی 9 ماہ کی آزادی کے بعد بلوچ قوم کے سر زمین پر ایک مرتبہ پھر قبضہ کیا گیا۔ اور اس قبضے کے خلاف بہادر سرزمین کے بہادر فرزندوں نے مقابلہ کیا گزرے ہوئے 70 سالوں میں بلوچ قوم نے پاکستانی ریاست کو جنگ اور سیاست کے میدانوں میں اپنی بہتر تنظیمی حکمت عملیوں سے ہر محاذ پر شکست سے دوچار کردیا ہے۔اس شکست سے ریاست اتنی بوکھلا گئی ہے کہ اس نے بلوچ فرزندوں کو مارو اور پھینکو پالیسی کے تحت پہلے اغوا کیا پھر تشدد کا نشانا بنا کر مسخ شدہ لاشوں کی شکل میں ویرانوں ، جنگلوں اور سڑکوں پر پھینکنا شروع کردیا تاکہ بلوچ قوم کو خوفزدہ کرکے تحریک آزادی سے دور کیا جاسکے ۔لیکن یہ مسخ شدہ لاشیں بلوچ قوم کے لئے خوف کے علامت نہیں بلکہ ہمت کی علامت بن گئی اور ان شہدا کے نقش قدم پر چل کر بہادر فرزندوں نے قومی تحریک کو اپنے پرامن اور عالمی قوانین کی پاسداری کرکے اقوام متحدہ اور یورپی پارلیمنٹ تک پہنچایا ۔ شہید بالاچ مری، شہید غلام محمد ، لالہ منیر، شیر محمد، رضا جہانگیر ، امداد بلوچ ، اور ہزاروں بلوچ فرزندانوں نے بہادری و ہمت کی وہ مثال قائم کی جو رہتی دنیا تک یاد رکھی جائے گی ۔ شہید غلام محمد بلوچ قوم وہ لیڈر تھے جنھوں نے اپنی جدوجہد بہادری بلند حوصلہ و ہمت سے ہر طبقہ فکر کے لوگوں کو متاثر کیا اور ان نوجوانوں میں ایک عزم و ہمت کے پیکر ڈاکٹر دین محمد بلوچ تھے جو ایک مخلص ایماندار اور بہادر انسان ہونے کے علاوہ ایک درد دل رکھنے والے فرض شناس ڈاکٹر تھے۔ جس نے دوران ڈیوٹی کبھی اپنے فرائض سے غفلت نہیں برتی بلکہ اپنے فرائض کو ایمانداری سے انجام دینے کے لئے خاندان تک سے دور رہنے کو ترجیح دی ایسے ایماندار اور مخلص لوگ دنیا میں بہت کم پیدا ہوتے ہیں۔ وہ ایک ڈاکٹر ہونے کے علاوہ ایک سیاسی کارکن بھی تھے جو بلوچ نیشنل موومنٹ کے مرکزی کمیٹی کے رکن تھے اور اپنے تنظیمی کاموں کو بھی مخلصی اور ایمانداری سے انجام دیتے تھے ۔ شہید غلام کی شھادت بلوچ قوم کے لئے کسی المیہ سے کم نہ تھا ریاست شہید کو مارنے کے بعد یہ سمجھ چکی تھی کہ اب یہ تحریک باقی بغاوتوں کی طرح دم توڑ دیگی۔ لیکن ریاست یہ بھول چکی تھی کہ بلوچ قوم میں ہزاروں غلام محمد ابھی زندہ ہے جو اپنی جدوجہد سے دنیا کی کسی بھی طاقت کو شکست دینے کی صلاحیت رکتھے
ہیں۔ غلام محمد اور بلوچ لیڈران کی شہادت کے بعد بلوچ نوجوانوں نے اپنی ذمہداریاں کھٹن اور مشکل حالات میں بہادری اور ہمت سے ادا کرکے ریاست کو پریشانی میں مبتلا کردیا تھا۔ اور اب یہ نوجوان ریاست کو کھٹکنے لگے تھے انہی شعور سے لیس نوجوانوں میں ڈاکٹر دین محمد بھی شامل تھے جن کی جدوجہد سے خوفزدہ ہو کر ریاست نے انہیں خضدار اورناچ کے اسپتال میں دوران ڈیوٹی اغوا کرلیا۔ ڈاکٹر دین محمد بلوچ کو اغوا ہوئے 8 سال کا عرصہ بیت چکا ہے لیکن بلوچ قوم کے بہادر مخلص اور ایماندار فرزند کا کوئی پتہ نہیں چل سکا کہ وہ کہاں اور کس حالت میں ہے۔ بلوچ قوم کی تحریک آزادی جس نے بلوچ قوم اور مظلوموں کو بہادر ایماندار اور مخلص نوجوانوں کو نوازا اسی طرح اس تحریک آزادی نے ایسی بہادر زالبولوں کو جنم دیا بانک کریمہ بلوچ ، بلوچ انسانی حقوق کی تنظیم کے چیرپرسن بی بی گل بلوچ ، اپنے بھائی کے لئے 3000 کلومیٹر کا فاصلہ طے کرنے والی بانک فرزانہ بلوچ اور سمی بلوچ جنہوں نے اپنے جدوجہد سے دنیا کی دیگر مظلوم عورتوں کے لئے ایک مثال قائم کیا ۔ سمی بلوچ ڈاکٹر دین محمد بلوچ کی بیٹی جس نے اپنے بہادر باپ کے نقش قدم پر چلتے ہوئے جدوجہد کو اپنا شعار بنالیا۔.28جون2009کو انکے والدڈاکٹردین محمدبلوچ کوریاستی اداروں نے اغوا کرلیا۔ جس بچی کی عمر بارہ سال ہو اور اسکے باپ کو اغوا کرکے غائب کردیا جائے تو اس بچی اور اسکے خاندان والوں کے لئے زندگی کتنی اذیت ناک و غضبناک ہوتی ہے اس کا جوب متاثرہ خاندان ہی دے سکتے ہیں۔ کتنے ہی لوگ اس پر کھٹن اور مشکل حالات سے گھبرا کر چپ سادھ لیتے ہیں لیکن کچھ بہادر اور ہمتی لوگ ان مشکل حالات کا خندہ پیشانی سے مقابلہ کرکے خود کو دنیا کی تاریخ میں اس قابل بناتے ہیں کہ انہیں ہمیشہ یاد کیا جائے انہی کرداروں میں ایک بہادر کردار سمی بلوچ ہے۔ جس نے اپنے والد کے اغوا ہونے کے بعد اپنی جدوجہد کا سلسلہ 8 سال قبل شروع کیا جو ہنوز جاری ہے۔ جب سمی بلوچ نے اپنی جدوجہد کا سلسلہ شروع کیا تو انکی عمر مشکل سے 13 سال تھی جو ایک بچی کے کھیلنے کھودنے شرارتیں کرنے اور پڑھنے لکھنے کے دن ہوتے ہیں لیکن بہادر باپ کی تلاش میں اس نے شال سے کراچی اور کراچی سے اسلام آباد میں ہر جگہ اپنے بابا کو تلاش کیا اغوا کرنے والے ملک کے اعلی اداروں کو رپورٹ کیا ،میڈیا والوں کے ضمیر کو جگانے کی کوشش کی، عالمی اداروں سے اپیل کی، بھوک ہڑتالی کیمپ لگایا مسنگ پرسن کے کیمپ میں بیٹھی رہی، لیکن ان کے والد بازیاب نہیں ہوئے۔ لیکن اس جدوجہد نے سمی بلوچ کو اس قدر مضبوط بنادیا ہے کہ سمی ہر مشکل و کٹھن راستوں پر چلنے کے لئے تیار ہے ۔ کچھ لوگ دنیا میں ایسے ہوتے ہیں جو لوگوں کو اپنے کردار و عمل سے متاثر کرتے ہیں سمی بلوچ میں یہ تمام خوبیاں پائی جاتی ہے.۔سمی علامت ہے بہادری ہمت کی جس نے اپنا بچپن جدوجہد کرتے ہوئے گزارا اور سمی ایک مثال ہے ایسے کمزور و بے ہمتی لوگوں کے لئے جو جدوجہد کرنے سے گھبراتے ہیں ۔ سمی بلوچ اپنے بابا کے نقش قدم پر چلتے ہوئے ایک تحریک بن چکی ہے وہ صرف ڈاکٹر دین محمد کی آواز نہیں ہے بلکہ تمام لاپتہ بلوچوں کی آواز ہے۔

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s