ڈاکٹر دین محمد کا لاپتہ ہونا کسی المیہ سے کم نہیں

19510083_144760546088266_505956455147476837_n

حمید بلوچ
اس مفاد پرست دنیا میں جہاں قدم قدم پر خطرات منڈلا رہے ہوں ایسی دنیا میں مظلوم قوموں کے لئے آزادی و خوشحالی سے زندگی گزارنا مشکل ہوتا ہے ۔مگر ان سب کے باوجود یہاں کچھ ایسے انسانوں نے جنم لیا جنھوں نے اپنے سوچ عمل و کردار سے دنیا کو تبدیل کرانے کے علاوہ مظلوموں کو آزادی و خوشحالی سے جینے کا راستہ دکھایا ہے۔ دنیا کے ہر خطے میں ایسے انسانوں نے جنم لیا جو اپنے قوم اور انسانیت کے لئے آزادی کی علامت بن گئے اور اپنے جدوجہد سے قوم کے نوجوانوں کو جدوجہد کا درس دیتے رہے اور اسی جدوجہد کی پاداش میں قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیں ،تشدد برداشت کرکے شہید ہوگئے ،لیکن اپنے مقصد سے پیچھے نہیں ہٹ گئے ۔سیاست کے ماہرین سیاست کو مفادات کا کھیل قرار دیتے ہیں جہاں عالمی طاقتیں اس کھیل کے آرگنائزر ،امپائر اور کھلاڑی ہوتے ہیں ،اور اپنے طاقت کے بل بوتے پرمظلوموں کی زندگی اجیرن بنادیتے ہیں۔ دنیا میں ہر جگہ اپنے مفادات کے لئے طاقتورں نے مظلوموں کے گرد اپنا گھیرا تنگ کیا۔ مظلوموں کی سرزمین پر قبضہ کرکے ان کو اپنا غلام بنایا۔ عالمی طاقتوں کی کینچھا تانی اور مفاداتی کھیل سے بلوچوں کی سرزمین بلوچستان بھی محفوظ نہیں رہا۔27 مارچ 1948کو عالمی طاقتوں کے مفادات کی چوکیداری کے لئے وجود میں آنے والے ملک پاکستان نے اپنے آقاوں کی ایما ء پر بلوچستان پر قبضہ کرکے بلوچ قوم کو غلامی جیسی لعنت کے دلدل میں دھکیلا اس دلدل سے نکلنے کے لئے سرزمین کے سچے فرزندوں نے جدوجہد کا راستہ اپنایا اور خون دیکر آزادی کی تحریک کو زندہ رکھا۔70 سالہ غلامی کے عہد میں ہزاروں کی تعداد میں بلوچ قوم کے فرزندوں کو شہید کیا گیا، جبری طور پر لاپتہ کرکے ٹارچر سیلوں میں اذیتیں دی گئی ،لیکن وطن اور قوم سے محبت کرنے والوں بہادر فرزندوں نے وطن دوستی اور انسان دوستی کی ایک ایسی مثال اپنے جدوجہد سے قائم کی کہ رہتی دنیا تک اس مثال کو فراموش کرنا انسان دوستوں کے لئے ناممکن ہے۔حانی و شئے مرید کی سر زمین کے باسیوں نے اپنی قومی بقا غیرت و حمیت کے لئے ظالم طاقتوں کا مقابلہ کرکے جام شہادت نوش کیا اور خود کو دنیا کی تاریخ میں امر کردیا ۔ہر عہد میں اس سرزمین نے ایسے سچے و بہادر سپوتوں کو جنم دیا جن پر آج بلوچ قوم فخر کرتی ہے ان کی جدوجہد و عمل ہر بلوچ نوجوان کے لئے ایک مشعل راہ ہے. محراب خان، بلوچ خان، یوسف عزیز مگسی، عبدالعزیز کرد، خیر بخش مری، غلام محمد، فدا بلوچ، لالہ منیر، شیر محمد، رضا جہانگیر، جنھوں نے اپنے خون سے آزادی کی شمع کو روشن رکھا۔
سچے اور سرزمین کی محبت سے سرشار فرزندوں نے بلوچ نوجوانوں کو سچائی کا راستہ دکھایا ان شہدا کے نقش قدم پر چلتے ہوئے ہزاروں بلوچ فرزندوں نے زندان کی سختیاں جھیلیں ان وطن کے سچے فرزندوں میں ایک ڈاکٹر دین محمد بلوچ ہے جنہیں آج سے 8 سال قبل پاکستانی سیکریٹ اداروں نے اورناچ خضدار سے لوگوں کے سامنے اٹھاکر لاپتہ کردیا جن کا آج تک کوئی پتہ نہیں۔ڈاکٹر دین محمد بلوچ بلوچستان کے علاقے مشکے میں پیدا ہوئے ابتدائی تعلیم اپنے آبائی علاقے سے حاصل کی مزید پڑھنے کے لئے عطا شاد ڈگری کالج تربت گئے.یہاں سے اپنی سیاسی زندگی کا آغاز کیا ،ڈاکٹری کی تعلیم حاصل کرنے کے لئے بولان میڈیکل کالج شال گئے۔ ڈاکٹر دین محمد بلوچ نے نوجوانی میں ہی اپنے عوام کی بے بسء اور لاچاری کو محسوس کرلیا تھا کیونکہ ٹیکنالوجی کے دور میں امیر سرزمین کے باسی صحت اور تعلیم کی سہولتوں سے محروم ہے اور اس محرومی کی وجہ بلوچ عوام کی غلامی ہے جب تک غلامی کا وجود ہے بلوچ قوم ایسے ہی بے موت مرتی رہے گی ،اسی درد کو محسوس کرتے ہوئے انہوں نے قوم کی آواز بننے کا فیصلہ کیا بلوچ نیشنل موومنٹ کے پلیٹ فارم سے قومی غلامی کے خلاف جدوجہد کاآغاز کیا ۔ دنیا کی ہر ظالم ریاست جدوجہد کرنے والوں سے خوفزدہ رہتی ہے اور ایسے آوازوں کو دبانے کے لئے سرگرم عمل رہتی ہے ،کیونکہ ایسے لوگ ظالموں اور سرکشوں کے لئے خطرناک ہوتے ہیں جو اپنی جہد کے ذریعے ظالموں کی حقیقت دنیا تک پہنچاتے ہیں۔ قوم کی آواز بننے پر ڈاکٹر دین محمد کو جبری طور پر لاپتہ کردیا گیا جن کا سراغ آج تک نہیں مل سکا کہ وہ کہاں اور کس حال میں ہے.ان کی جبری گمشدگی کی FIR اورناچ تھانے میں درج کرائی گئی بلوچستان ہائی کورٹ، سپریم کورٹ میں ان کا کیس پیش کیا گیا لیکن کوئی بھی نتیجہ سوائے امید کہ برآمد نہیں ہوا ۔
ڈاکٹر دین محمد بلوچ کی بیٹی سمی بلوچ نے اپنے والد کی بازیابی کے لئے وائس فار بلوچ مسنگ پرسن کے کیمپ کو اپنا گھر بنالیا اور اس امید میں بھیٹی رہی کہ شاید ان کی آواز پاکستانی اداروں تک پہنچ جائے اور ان کے والد بازیاب ہو کر اپنے گھر پہنچ جائے ،اور سمی دوبارہ اپنی تعلیم جاری رکھ سکیں۔ ان آٹھ سالوں میں ایک معصوم بچی جس کی عمر 20 سال ہے کبھی اسلام آباد کبھی کوئٹہ اور کبھی کراچی میں پریس کانفرنس کے ذریعے اپنی آواز گزشتہ 8 سالوں سے متعلقہ ادراوں تک پہنچانے کی کوششوں میں لگی ہوئی ہے لیکن ان دل کے کالوں اور بہرے لوگوں کو سمی کی معصوم آواز نہیں سننے سے غافل ہیں۔سمی بلوچ نے والد کی بازیابی کے لئے وائس فار بلوچ مسنگ پرسن کے تاریخی لانگ مارچ جو 3000 کلو میٹر تک محیط تھی شرکت کی لیکن والد کا کچھ پتہ نہیں چل سکا۔
ڈاکٹر دین محمد بلوچ ایک دہشتگرد نہیں بلکہ عوام کے مسیحا ہے، ایک فرض شناس ڈاکٹر و سیاسی کارکن ہے، جنھوں نے اپنے فرض کے لئے خاندان سے دور رہنے کو ترجیح دی ۔ بی بی سی اردو کے کالم نگار محمد حنیف اپنے مضمون (ڈاکٹر کی بیٹی )میں کہتے ہیں کہ سمی بلوچ نے انہیں بتایا کہ ڈاکٹر دین محمد نے خود کو مریضوں کے لیے وقف کردیا تھا وہ کہا کرتے تھے کہ اگر میں مریضوں سے دور رہوں تو انہیں دیکھے گا کون ؟
ڈاکٹر دین محمد بلوچ ایک بہادر سیاسی کارکن کے ساتھ ساتھ ایک ایماندار میڈیکل آفیسر تھے،اپنے جبری طور پر لاپتہ ہونے تک اپنے فرض منصبی سے کھبی بھی غافل نہیں رہا،ڈاکٹر جیسے لوگوں کا لاپتہ ہونا یقین کسی المیہ سے کم نہیں ہے۔

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s