ایک منتظر بیٹی

19510353_1199201576857256_6537917858722152618_n

ایک منتظر بیٹی
نودان بلوچ
برطانوی سامراج کے بعد پاکستانی قبضہ گیریت اور بے رحمانہ تقسیم نے جہاں بلوچوں کو عرصہ دراز سے اُن کی سرزمین سے محروم کیے رکھا ہے، وہیں دوسری جانب غیر انسانی مظالم کا شکار بھی۔ قبضہ گیر کی طرف سے ڈھائے گئے مظالم سے جنم لینے والے مسائل میں ایک سنگین مسئلہ لاپتہ بلوچوں کا بھی ہے۔ ہزاروں کی تعداد میں لاپتہ کیے گئے اِن بلوچوں کا تعلق کسی ایک مخصوص طبقہ سے نہیں، بلکہ اِس فہرست میں طلبا، اساتذہ، ڈاکٹر، ادیب، مزدور نیز سماج کے ہر طبقے اور شعبے سے تعلق رکھنے والے افراد شامل ہیں۔ ہاں البتہ اِن تمام اافراد میں ایک بات ضرور مشترک ہے، اور وہ اِن سب کا بلوچ ہونا ہے۔
لاپتہ افراد کی اِس طویل مگر نا مکمل فہرست میں ایک نام مشکے سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر دین محمد بلوچ کا بھی ہے۔ جنہیں ریاستی اداروں کی طرف سے آج سے آٹھ سال قبل خضدار ، اورناچ سے اغوا کیا گیا تھا ۔ کرب اور اذیت سے بھر پور اِن آٹھ سالوں کی طوالت کا حساس کسی اور کو ہو یا نہ ہو۔ مگر اپنے ابو کی لاڈلی بیٹی مہلب کو ضرور ہے۔ جب ڈاکٹر دین محمد اغوا ہوئے، اُس وت مہلب بس نوسال کی تھی۔اگر مہلب کے والد اغوا نہ ہوتے تو یقیناََ اُس کے یہ آٹھ سال کسی عام بچی کی طرح سکون اور آسائشوں میں گزر جاتے۔ مگر اپنے والد کی تلاش میں سرگرداں اِس بیٹی نے اپنی بہن کے ہمراہ زندگی کا یہ وحشت ناک حصہ پریس کلبوں، مظاہروں اور عدالتوں کے چکر کاٹتے گزار دیا۔
مہلب کی مسافت کے اس عرصے میں بلوچستان کی سرزمین اور اُس پر رہنے والوں پر تقریباََ وہ تمام تجربات کیے گئے جن سے انسانی روح کانپ اُٹھے ۔ سینکڑوں لاپتہ افراد کی تعداد دیکھتے ہی دیکھتے بیس ہزار سے تجاوز کر گئی، مسخ شدہ لاشوں سے رستا لہو مرگاپ کے پہاڑوں سے لے کر بلوچستان کی شاہراہوں تک پہنچ گیا، کتنے ہی اقبالوں کی مائیں اپنے لخت جگر کی آمد کا آس سینے میں لئے کوچ کر گئیں اور کتنے ہی بچے یتیمی کے محرومانہ احساس سے شُناسا ہوگئے ۔ مگر انہی مسخ شدہ لاشوں، خون کے قطروں، سسکیوں اور تلخ حقائق کے بیچ رہنے کے با وجود مہلب کی منتظر آنکھیں اپنے ابو کی آمد سے مایوس نہ ہوئیں۔ مگر کسے خبر کہ اِس کرب و اذیت کی مسافت میں اُس نے اپنی بچپن کے کتنے ہی معصوم خوابوں، رنگوں اور لمحوں کا گلا گھونٹ دیا ہوگا ، کتنی مرتبہ اپنے ابو کا لمس محسوس کیا ہوگااور کتنی بار خود کلامی میں اپنے ابو سے مخاطب ہوئی ہوگی، روئی ہو گی۔
مہلب کی طویل مسافت اب تک اُسے اُس کے والد سے ملانے میں تو ناکام ہی رہی مگر زندگی کی تلخ سچائیوں، محرومیوں اور کٹھن راہوں نے اُسے اپنی عمر سے زیادہ سنجیدگی ضرور عطا کی ہے۔ وہ اپنے لاپتہ ابو کے متعلق بات کرتے ہوئے اکثر خاموش ہوجاتی ہے۔ شاید الفاظ اُس کے احساسات کو بیان کرنے میں بے بسی کا مظاہرہ کرتے ہوں۔
مگر باقی تمام حقائق کے ساتھ یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ مضطرب آنکھوں کے اِس ہجوم میں مہلب کی آنکھیں کسی لحاظ سے بھی تنہا نہیں۔ کیونکہ بلوچستان سے تعلق رکھے والی ہزاروں ماؤں، بہنوں اور بیٹیوں کی آنکھیں بھی اِنہی خاموش راہوں کی جانب برسوں سے دیکھ رہی ہیں جن کی جانب مہلب کی معصوم آنکھوں کا رُخ ہے۔ اِن خاموش راہوں کو تکنے کا ناخوشگوار تجربہ آج بلا شبہ بلوچستان کی ہزاروں مہلب کر رہی ہیں۔
اس سال مہلب کی تلاش ، جدوجہد اور مسافت کو آٹھ سال مکمل ہوجائیں گے۔اور کچھ ہی دن کے بعد اُسکا انتظار ایک اور طویل، بے چین
اور کربناک سال میں داخل ہو جا ئے گا۔ مگر جدو جہد اور انتظار کی اِس شاہراہ پر سب سے اذیت ناک احساس کا تعلق اُس نادیدہ منزل سے ہے جس کے متعلق کسی کو کچھ بھی خبر نہیں، نہ مہلب اور نہ ہی بلوچستان کے دوسرے باسیوں کوکہ آخر اُن کے طویل انتظار کا نتیجہ کیا ہوگا؟
گمشدہ کرداروں کی پُر اسرار سرزمین بلوچستان ڈاکٹر دین محمد جیسے انگنت کرداروں سے بھری پڑی ہے۔نجانے کتنے ہی مہلب اپنے ابو کی آمد کا آس لئے برسوں گزار چکی ہیں۔ کتنے ہی فرزانہ اپنے گمشدہ بھائی کی تلاش میں میلوں کی مسافت طے کر چکی ہیں۔ مگر کون جانے کہ اِن گمشدہ کرداروں میں سے کتنے کردار زنداں کی خون آلود دیواروں میں مقید ہیں اور کتنے ہی نامعلوم اجتماعی قبروں میں مدفون ۔ یقیناََ یہ گمان نا قابل برداشت ہے، مگربے بنیاد نہیں۔

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s