جون 8بلوچ مسنگ پرسنز ڈے

voice-for-baloch-missing-persons1

عبداللہ حسین
بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن آزاد ایک طلباء تنظیم ہے، لیکن اپنے کارکنوں اور آرگنائزیشنل منیجمنٹ کی وجہ سے بلوچستان کی سب سے فعال سیاسی تنظیموں میں بی ایس او آزاد کا شمار ہوتا ہے۔ شاید ہی کوئی ایسی تنظیم ہو جو غلط فیصلوں یا کمزوریوں سے مبرا ہو، اسی طرح بی ایس او آزاد سے بھی بطور آرگنائزیشن ضرور ایسی غلطیاں ہوئی ہیں جن پر قلم اٹھایا جا سکتا ہے، لیکن 2006کی کونسل سیشن کے بعد سے خصوصاََ بی ایس او آزاد نے بلوچستان میں اپنے کردار کی وجہ سے اپنا جو مقام بنایا ہے اُسے کوئی لاکھ چاہے بھی جھٹلا نہیں سکتا۔ 2012تک تمام سیاسی جماعتیں بلوچستان م، جن کے کارکن شہروں اور دیہاتوں میں اپنا پارٹی پروگرام مشتہر کرنے کے لئے اپنے طریقوں سے مشغول تھے۔ لیکن اس کے بعد رفتہ رفتہ دوسری سیاسی جماعتیں معدوم ہوگئیں، اور اُن کا دائرہ اثر صرف چند علاقوں تک محدود ہوگیا۔ اس ساری صورت حال سے بی ایس او آزاد بھی متاثر ہو گئی لیکن 2012کی کونسل سیشن اور نئی قیادت کے بعد بی ایس او آزاد سنبھل گئی۔ چیئرمین زاہد بلوچ نے سخت حالات میں بی ایس او آزاد کو نہ صرف سنبھالا دیا بلکہ بلوچستان کے مختلف علاقوں میں فعال بھی کردیا۔ چیئرمین زاہد بلوچ کے ناقدین اُن پر چند سال پہلے تک ترند و تیز تنقید کرتے رہے، لیکن انہوں نے ان تنقیدوں کا جواب کبھی بھی اُس انداز سے نہیں جس زبان میں تنقید ہورہی تھی۔ یہ وہ زمانہ تھا جب بلوچ تحریک کی تمام اکائیاں ایک دوسرے سے عملاَََ دور تھیں، اس دوری کا نشانہ بی ایس او آزاد بھی بن گیا کیوں کہ منظم انداز میں کیے جانے والے پروپگنڈے سے یہ تاثر عام کیا جارہا تھا کہ بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن ایک جانبدار تنظیم ہے۔ بی ایس او آزاد نے اُن حالات کا مقابلہ کیا اگرچہ تنظیم کے چند زمہ داران اُن کے عہدوں سے فارغ کردئیے گئے اور چند زونل رہنماء بھی بی ایس او آزاد سے الگ ہو گئے۔ لیکن اس منظم مہم کا بی ایس او آزاد نے جس طرح مقابلہ کیا وہ تنظیم کو بچانے کے اہم کارناموں میں سے ایک ہے۔ اس دوران بی ایس او آزاد کے دو گروہوں میں منقسم ہونے کے دعوے بھی سامنے آئے، تنظیم کی قیادت کو غیر آئینی کہہ کر بی ایس او آزاد کی تقسیم کو جواز فراہم کرنے کی کوشش کی گئی، لیکن آج دو سال کے قلیل عرصے میں یہ ثابت ہوگیا کہ بی ایس او آزاد سے علیحدگی کی بنیاد پر ایک اور تنظیم بنانے والے اپنی سنجیدگی سے کم دوسروں کی باتوں سے زیادہ متاثر تھے۔ آج وہ بی ایس او اخباروں میں بھی موجود نہیں دو سال پہلے اس بی ایس او آزاد کے مقابل کھڑا کرنے کی کوشش کی گئی۔
ایک مباحثے میں ایک دوست نے لاطینی امریکی ممالک کا مثال دیتے ہوئے کہا کہ وہاں Down with imprialismلکھنے کے جواب میں سوشلسٹ کارکن قتل کردئیے گئے۔ یہ مثال چند سال پہلے تک بلوچستان کے نوجوانوں کے لئے باعث حیرت اور ناقابل یقین تھا، لیکن اب نہیں۔کیوں کہ پچھلے چند سالوں سے بلوچستان کے سیاسی کارکن سخت ترین حالات کو نہ صرف اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں بلکہ اُن کا مقابلہ بھی کررہے ہیں۔ بی ایس او آزاد کے وہ نوجوان جو یونیورسٹیوں اور کالجو ں میں زیر تعلیم ہیں، انہیں ان حالات کی سختیوں کا تجربہ بھی ہے۔ بی ایس او آزاد نے دو مہینہ قبل ہم میڈیا والوں کوایک ڈیٹیل رپورٹ فراہم کی تھی اس کے مطابق تنظیم کے 100کے قریب اہم ترین زمہ دار مارے جا چکے ہیں اور 20متحرک کارکن بشمول چیئرمین، وائس چیئرمین اور انفارمیشن سیکرٹری اغواء ہوئے ہیں۔ بلوچستان کی وہ سیاسی پارٹیاں جو حالات کی سختیوں کو بطور جواز پیش کرتے ہیں، اُن کے لئے بی ایس او آزاد کے کارکن مثال ہیں۔ بلوچستان کی سیاسی تنظیموں میں سب سے زیادہ کارکن بی ایس او آزاد کے اغواء یا قتل کیے گئے ہیں، ان میں سے بیشتر اہم ترین مرکزی عہدوں یا زونل عہدوں کے زمہ دار تھے، اس کے باوجود بی ایس او آزاد بلوچستان کے بیشتر علاقوں میں نہ صرف وجود رکھتی ہے بلکہ اُن کی سرگرمیاں بھی ہورہی ہیں۔ حال ہی میں ڈان اخبار نے سوشل میڈیا میں متحرک کالعدم تنظیموں میں بی ایس او آزاد کو پہلے پانچ ناموں میں منتخب کیا۔ بی ایس او آزاد کو کالعدم کرنے کا فیصلہ ریاست نے صرف اس بنیاد پر کیا کہ ریاستی اداروں کے لئے بی ایس او آزاد کے کارکنوں کو مارنے یا اغواء کرنے کا راستہ ہموار ہو سکے، اور تنظیم آزادی کے ساتھ اپنی سیاسی سرگرمیاں
جاری نہ رکھ سکے۔اس کا ایک مقصد یہ بھی تھا کہ پاکستان بی ایس او آزاد کی سرگرمیوں کا آئینی جواز بھی ختم کرے تاکہ تنظیم پاکستانی عدالتوں سے رجوع نہ کرسکے، ان عدالتوں کا بی ایس او آزاد نے پہلے ہی بائیکاٹ کررکھا تھا۔
بی ایس او آزاد پر چند حلقے تنقید کرتے ہیں کہ ایک طلباء تنظیم ہوتے ہوئے وہ ایسی سرگرمیوں کا اعلان کرتی ہے جو کہ اس کے دائرہ اختیار میں نہیں آتی ہیں۔ لیکن تنقید کرنے والے کسی اور جماعت کا نام نہیں لے سکتے جو بی ایس او آزاد کی اُن سرگرمیوں کو جاری رکھ سکے جن کے وہ معترض ہیں۔ اگر بی ایس او آزاد 13نومبر کا بطور یومِ شہدا اعلان نہ کرتی، 2مارچ کو بطور کلچر ڈے منانے کا فیصلہ نہ کرتی، 2013میں زلزلہ زدگان کی فوری امداد کا فیصلہ نہ کرتی تو شاید بلوچ قومی تحریک ان اہم فیصلوں سے آج محروم ہوتی ۔ یہ فیصلے بی ایس او آزاد نے لئے لیکن آج چند پارٹیوں کے علاوہ بیشتر تنظیمیں اور عوام کا بہت بڑا حلقہ بی ایس او آزاد کی کال کے بعد ان دنوں کو انہی مناسبت سے منا رہی ہے۔2مارچ کو بطور کلچر ڈے بی ایس او آزاد کے نظریاتی مخالف بھی منا رہے ہیں۔
8جون کو بی ایس او آزاد نے بلوچ مسنگ پرسنز کی مناسبت سے منانے کا جو فیصلہ لیا ہے، یہ فیصلہ اگرچہ دیر سے آیا ہے، لیکن درست ہے۔ کیوں کہ بلوچ مسنگ پرسنز کا معاملہ بلوچستان کے اہم ترین مسئلوں میں سے ایک ہے، وہ پارٹیاں جو اس دن کے منانے پر ابہام کا شکار ہیں، انہیں چاہیے تھا کہ وہ اس طرح کے اعلانات خود کرتے ، کیوں کہ ایک اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن اس طرح کی زمہ داریاں اگرچہ ادا کرسکتا ہے لیکن یہ زمہ داری اُن کی دائرہ اختیار کے حوالے سے بہت بھاری ہے۔ گزشتہ چند دنوں سے سوشل میڈیا میں بی ایس او آزاد کے کارکن جس طرح سے متحرک ہیں، یہ ایک مرتبہ پھر ثابت کررہی ہے کہ بی ایس او آزاد نے اگرچہ روایتی مظاہروں اور طریقہ احتجاج میں تبدیلی لائی ہے، لیکن بی ایس او آزاد کے نوجوان اب بھی بہت متحرک ہیں۔ بی ایس او آزاد ریاست کی پروپگنڈوں، بلوچستان میں ہونے والی آپریشنز اور اہم دنوں کی مناسبت سے پروگرام کررہی ہے جو کہ ایک اہم اقدام ہے، لیکن تنظیم کو چاہیے کہ وہ تعلیمی مسئلوں پر بھی خصوصی توجہ دے تاکہ طلباء کے خلاف جو پالیسیاں بن رہی ہیں اُن کا آئندہ وقتوں میں مقابلہ کیا جا سکے

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s