’کیا تم ساز کو توڑ کر سْر کو مٹا سکو گے‘

Saba_baloch

ریاض سہیل
صبا دشتیاری ریاستی اداروں کے ساتھ پاکستان کے دانشوروں، ادیبوں اور صحافیوں کے بھی بڑے نقاد تھے اور انہیں بلوچستان کی موجودہ صورتحال کا ذمہ دار سمجھتے تھے۔
’قلم تلوار سے زیادہ طاقتور ہے‘ بلوچستان یونیورسٹی کے استاد اور بلوچ دانشور صبا دشتیاری اسی فکر کے پیروکار تھے۔ دیگر سرکاری ملازمین کے برعکس وہ کھل کے اپنا نقطہ نظر بیان کرتے تھے۔
ان کے ایک طالب علم صحافی ملک سراج کا کہنا ہے کہ پروفیسر صبا یونیورسٹی کے اندر ایک دوسری لبرل یونیورسٹی تھے جن کے گرد طالب علموں کا مجمع لگا رہتا تھا۔ روشن خیالی اور لبرل سوچ کے ساتھ بحث مباحث ہوتے جس دوران سیاست، انقلاب، قوم پرستی سے لے کر سیکس اور ہم جنس پرستی جیسے موضوع بھی زیر بحث آتے جن پر معاشرے میں بات کرنے سے اجتناب برتا جاتا ہے۔
پروفیسر صبا دشتیاری کراچی کے علاقے لیاری کے ایک غریب خاندان میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے مقامی سکول سے ابتدائی تعلیم حاصل کی اور بعد میں پرائیوٹ گریجوئیشن کی۔ اسی دوران وہ حاجی عبداللہ ہارون سکول میں بطور استاد بھی فرائص سر انجام دیتے رہے۔
کراچی یونیورسٹی کے شعبہ اسلامک اسٹڈیز سے ماسٹرز کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد وہ بلوچستان یونیورسٹی میں بطور لیکچرار تعینات ہوئے۔
وہ بیس کے قریب کتابوں کے مصنف تھے، جن میں اکثر مذہب اور فلسفے کے بارے میں ہیں۔ انہیں بلوچی کے ساتھ اردو، فارسی اور عربی زبان پر بھی عبور حاصل تھا۔ اس کے علاوہ وہ شاعری بھی کیا کرتے اور ادبی محفلوں میں باقاعدگی سے شریک ہوتے تھے۔
پروفیسر صبا دشتیاری کا موقف تھا کہ پاکستان کے دو مسئلے ایسے ہیں جس کو مقتدر حلقے اور سول سوسائٹی سمجھنے سے قاصر ہے۔ ایک یہ کہ بلوچستان اور پاکستان کا رشتہ ایک قبضہ گیر اور غلام کا رشتہ ہے۔ دوسری بات یہ کہ یہاں کا دانشور ذہنی طور پر آلودگی کا شکار ہے دیگر الفاظ میں وہ شاھ دولا کا چوہا ہے جس کے ذہن میں اسٹیبلشمنٹ جو کچرا ڈالتی ہے اسی کا اظہار وہ ہر جگہ کرتا ہے۔
بلوچستان میں جاری صورتحال نے ان کے خیالات کو اور بھی بھڑکا دیا تھا اور وہ لاپتہ بلوچوں کی رہائی کی جدوجہد کا عملی حصہ بن گئے تھے۔ وہ ان خاندانوں کے مظاہروں اور بھوک ہڑتالوں میں شریک ہوا کرتے تھے۔
کراچی پریس کلب میں لاپتہ بلوچوں کے بارے میں ایک پروگرام میں انہوں نے میڈیا پر بھی کھل کر تنقید کی اور الزام عائد کیا کہ میڈیا کا کردار بلوچستان کے حوالے سے اس قدر مجرمانہ ہے کہ جس کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔ ’پاکستانی پریس اس قدر گندی ہوگئی ہے کہ وہ سچائی اور حقیقت کی عکاسی کے بجائے دکانداری کا مظہر نظر آتی ہے۔‘
اسی پروگرام میں جب انہوں نے خان آف قلات سے پاکستان کے معاہدے اور تاریخ پر تنقید کی تو ایک خاتون صحافی نے ڈائس پر آ کر انہیں مزید تقریر کرنے سے روکنے کی کوشش کی جس پر وہ ڈٹے رہے اور کہا کہ حقیقت سننا پڑے گی۔
پروفیسر صبا دشتیاری بلوچی زبان اور ادب کے پھیلاو میں بڑی دلچسپی رکھتے تھے۔ انہوں نے شادی نہیں کی۔ اپنی تنخواہ کا ایک بڑہ حصہ انہوں نے کتابوں کی اشاعت، جرائد اور ادبی تنظیمیوں کی مدد کے لیے مختص کر رکھا تھا۔
صبا دشتیاری کی وفات پر ان کے ایک دوست نے اپنے خیالات کا اظہار شیخ ایاز کے سندھی میں شعر سے کیا۔
چھا توں ساز کھے ڈھائے سْر کھے مٹائے سگھندیں
توڑی چاھیندیں سْر تنجھے وس میں ناھی
یعنی
کیا تم ساز کو توڑ کر سْر کو مٹا سکو گے
تمہارے چاہتے ہوئے بھی سْر تمہارے بس میں نہیں
بشکریہ
بی بی سی اُردو

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s