شہید آغا عابد شاہ بلوچ

S_GQ0Nkj

بلک بلوچ
آغا عابد شاہ بلوچ 1980ء کے دہائی میں بلوچستان کے علاقے پنجگورمیں ڈاکٹرسعیدعلی کے یہاں پیدا ہوئے۔ انہوں نے بنیادی تعلیم ماڈل سکول پنجگور سے حاصل کیا ۔ ڈگری کالج پنجگور سے انٹر میڈیٹ و گریجویٹ کی ڈگری حاصل کی اور سوشیالوجی کے شعبہ میں جامعہ بلوچستان سے ماسٹر کی ڈگری حاصل کی ۔اس دوران بلوچستان میں نوجوانوں کی سیاسی و سماجی شعور کے حوالے سے بی ایس او اہم کردار ادا کر رہا تھا۔ آغا عابد شاہ بھی بی ایس او کی عملی سیاست سے متاثر ہوکر 1993 ء کو باقاعدہ بی ایس او میں شمولیت اختیار کی۔ بی ایس او کا بلوچ سماج اور سیاست میں ہمیشہ سے ایک متحرک اور منظم کردار رہا ہے اور بی ایس او ہمیشہ پاکستان اور اس کے کاسہ لیسوں کے لیئے عملاً رکاوٹ رہاہے ۔ بی ایس او کے فعال اور منظم کردار کے سبب ریاست اور پارلیمانی سیاست کرنے والے ریاست کے کاسہ لیسوں کا ہمیشہ سے کوشش رہا ہے کہ بی ایس او کو غیر فعال کیا جائے اور ہمیشہ بی ایس او کے اندرونی معاملات میں مداخلت کی کوشش کیا اور بعض اوقات بی ایس او کو وقتی صورت متاثر کرنے میں کامیاب بھی رہے ہیں ۔جبکہ پارلیمانی سیاست کرنے والوں نے ہمیشہ اپنا لیے پاکٹ ونگ بنا رکھے اور ان پاکٹ ونگز کو بی ایس کے نام دیتے رہے ۔ لیکن حقیقی بی ایس او ہمیشہ ریاست اور اس کے کاسہ لیسوں کی مخالفت میں سب سے آگے تھا کیونکہ وہ صرف بلوچ قوم کی بقا اور شناخت کو بچانے کے لئے جد وجہد کر رہی تھی تو شہید آغا عابد نے بھی پارلیمانی اور باقی تمام دہڑوں کو مسترد کرتے ہوئے بی ایس او کے باشعور دوستوں ہمراہ ہوتے ہوئے اس نے یہ فیصلہ کیا کہ وہ اپنے قوم کی بقاء کی جنگ لڑے گے۔ اس لیئے اس نے حقیقی بی ایس او کی پلیٹ فارم سے سیاست شروع کی جوبلوچ قوم کی مستقبل اور بقا کی جنگ لڑ رہی تھی۔
وہ اپنے انتک محنت اور خلوص کی وجہ سے 2006 کی کونسل سیشن میں باری اکثریت سے ووٹ لیکر بی ایس او آزاد کی وائس چیئرمین منتخب ہوئے ۔انہوں نے اپنے قومی فکر علم وزانت اور محنت سے بی ایس او کو بلوچستان بھر میں فعال کرنے کی کوشش کی اور کسی حدتک اس میں کامیاب رہے۔ اسطرح وہ 2009 ء میں اسٹوڈنٹس سیاست کو خیرباد کرتے ہوئے بلوچ نیشنل مومنٹ (بی این ایم ) میں شامل ہوگئے بی این ایم کے سنٹرل کمیٹی کے ممبر کے عہدے میں ہو کر قومی جہد کو آگے لیجانے میں اہم کردار ادا کیا ۔آغا عابد شاہ نے تمپ میں شہید خالد اور شہید دلوش کے شہادت کے پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ جہد شعوری اور سائنسی بنیاد پر رواں دوا ں ہے۔ قومی جہد کے لیے نوجوان مختلف طریقے سے جہد کررہے ہیں ۔شہادت کے فلسفہ پر بات کرتے ہوے انہوں نے کہا کہ مرنا ایک بہت مشکل عمل ہے لیکن وہ سرمچار، وہ بلوچ نوجوان جو نظریاتی پختگی سے اپنے زندگیوں کا نظرانہ پیش کررہے ہیں اس سے ایک بات واضح ہوجاتی ہیں قومی آزادی جیسے عظیم مقصد کیلئے زندگیوں کو قربان کرنا ایک معمولی عمل ہے۔ انہوں نے مزہد کہا کہ بی ایس او (آزاد) قومی جہد میں بہت اہم کردار ادا کررہا ہے اور یہ جدو جہد آنے والی کل کی خوشحالی کے لیئے ہے۔ اس جدو جہد کی ہربلوچ کو حمایت کرنی چاہیے اور ہر بلوچ کو اس میں اپنا حصہ ڈالنا چاہئے ۔ہربلوچ چاہئے وہ لکھاری ہو، شاعر ہو، ادیب ہو، استاد ہو، اور زندگی کے تمام شعبہ جات سے تعلق رکھنے والے اگر اپنی حیثیت کے مطابق اپنا حصہ ڈالے تو یہ میرا ایمان ہے کہ بلوچ جہد اپنی کامیابی طرف ایک قدم آگے بڑئیگی۔آغا اپنے زندگی میں قوم کی خوشحالی اور آزادی کیلئے ہمیشہ سرفہرست رہے ہیں۔ یقیناً آپ نے جو قربانیا دی ہیں وہ تاریخ میں رقم ہیں اور کھبی بھی فراموش نہیں کیے جائینگے ۔آغا طلبہ سیاست سے لیکر عوامی سیاست تک بلوچ قومی آزادی کے موقف پر ڈٹے رہے اور ان کی بلوچ جہد سے انتاء کی لگاؤ نے دشمن کی نیندیں حرام کردی تھے۔ دشمن ان سے خوف، خطرہ محسوس کررہاتھا کیونکہ وہ شعوراور فکر کو پروان چڑا رہے تھے ۔
اسطرح پاکستان کے خفیہ ایجنسیوں اورفورسز نے 15 اگست 2010 کو انہیں ان کے دوست ماسٹر سفیر بلوچ، ماسٹر عبدالستار کے ہمراہ دن دھاڑیں چتکان بازار پنجگور سے اغوا کر دیا۔ 9 ماہ تک انہیں ٹارچرسیل میں دوستوں کے ہمرہ اذیتں دیتے رہیں لیکن وطن مادر کے بہادر بیٹوں نے دشمن کے سامنے سر تسلیم خم کرنے سے انکار کی وجہ سے انہیں مارکر پنجگور کے کسی ویرانے میں پیھنک دیئے تھے ۔11 مئی 2011 کو ان کی گولیوں سے چلنی پرانی لاشیں ان کے ورثہ کو ملے جنہیں بعد میں پنجگور کے علاقے چتکان میں مادر سرزمین کے آغوش میں دفنا دیئے ۔

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s