انٹرویو بابائے بلوچ سردار خیر بخش مری

babamarri-interview.jpegوینگاس یاسمین Veengas Yasmeen ایک ممتاز جرنلسٹ ہے وہ انگلش” ڈیلی دی فرٹےئر پوسٹ “، “ماہانہ دی بولان وائس”اورسندھی “ڈیلی عبرت میں آرٹیکل لکھتی ہیں۔ انہوں نے حال ہی میں ممتاز قوم پرست رہنما بابائے بلوچ سردار خیر بخش مری کا انٹرویو کیا۔

یہ انٹرویو انگلش روزنامہ “دی فرٹےئر پوسٹ 09-05-2013 کو شائع ہوا جس میں کا مکمل اردو ترجمہ قارئین کیلئے شائع کیا جارہا ہے۔
جناب خیر بخش مری نہیں بولتے ہیں اور جب بولتے ہیں تو بہت سے چہر ے ناراض ہوجاتے ہیں وہ کیونکر بولتے ہیں کیا دیکھتے ہیں اور سوچتے ہیں ؟اور بلوچستان انکی نظر میں کیا سوچتا ہے۔
سوال :۔ کیا آپ سمجھتے ہیں کہ دنیا اب تک کولڈ وار میں ہے اور آپ کاابھی تک سیاسی دنیا کے بارے میںnawabmarri-interview.jpg کیا تجزیہ ہے؟
جواب :۔ دنیا کبھی جنگ سے باہر نہیں نکلی ہے، بعض اوقات یہ گرم اور کبھی ٹھنڈی ہوتی ہے ۔ تمام لوگ لڑتے ہیں جنگ میں ، جیسا برطانیہ ، رومن ،صرف یہ دونوں نہیں اس سے پہلے بھی بہت سارے لوگ لڑتے رہے تھے اور دنیا کے دوسرے لوگ بھی جو کو

لڈ وار میں رہے۔
سوال : ۔ کیا دنیا سرد جنگ یا گرم جنگ میں ہے ؟
جواب:۔ کچھ لوگ سرد جنگ میں ہیں اور ہم جیسے لوگ گرم جنگ میں ہیں۔
سوال :۔ یہ گرم جنگ آپ کے لئے کیسی ہے ۔
جواب:۔ (مسکرا کر )بلوچستان میں آپریشن ہورہا ہے ہمیں لاشیں مل رہی ہیں میں یہ کہوں گا کہ یہی تو گرم جنگ ہے ۔ ہمارے لئے ۔
سوال :۔پاکستان کی موجودہ صورتحال یعنی 2013کے الیکشن کے بارے میں آپکی رائے کیا ہے آپ اس سے متفق ہیں یا نہیں ہیں؟
جواب:۔ میں پاکستان کے وجود کو قائم ہوتا نہیں دیکھتا۔
سوال : ۔ لیکن یہ عمل جاری ہے ہر چند کہ ماضی میں آپ بھی اس عمل کا حصہ رہ چکے ہیں آپ کا اس کے بارے میں کیا خیال ہے اور کیا مستقبل کی کوئی گورنمنٹ ہوگی ؟
جواب:۔ میں اسے نہیں سمجھتااس لئے کیا دیکھ سکھونگا۔
سوال : الیکشن 2013؟
جواب:۔ میں پاکستان کے وجود کو قائم ہوتا ہوا نہیں دیکھتا ہوں ۔
سوال :۔ اچھا یہ آپ کا پوائنٹ آف ویو ہے۔ آجکل یہ نظام سیاسی عمل کا ہے اور الیکشن چاروں صوبوں میں ہور ہے ہیں اگر الیکشن ہوگئے اور بلوچستان اسمبلی منتخب ہوتی ہے اور دنیا دیکھتی ہے کہ بلوچستان اسمبلی منتخب ہوچکی ہے اور پھر آپ کہاں کھڑے ہونگے کیونکہ یہ سیاسی عمل ہے اور کوئی بھی اس سیاسی عمل کو رد نہیں کرسکتا ۔ کیا آپ یہ خیال نہیں کرتے؟

nawabmarri2
جواب  بات کرنے دوران خیر بخش مری راضی نہیں دکھائی دے رہیں کہ جواب دیاجائے پھر کہا )مجھے کوئی اندازہ نہیں ہے یا میں اپنے آپ کو بیوقوف یا ہوش مند بنا رہا ہوں ۔ جیسا کہ میں آپ کو بتا چکا ہوں کہ یہ وہ ملک ہے جس کا کوئی وجود نہیں کیا میں اسے ملک کہوں یا گیم یا روبوٹ جسکا اب تک آپریشن ہورہا ہے ۔بنگال کہتا ہے کہ پاکستان امریکہ کا ایجنٹ ہے یا سامراجی طاقت ہے ۔ پاکستان کہاں ہے میں اسے کس طرح پکارو ں، یہ فوج ہے یا پنجاب ہے مجھے افسوس ہے کیا یہ تمہارا ہے یا میراسندھی جملے کا حوالہ دیتے ہوئے یہی کہ سندھی میں سنتے ہیں کہ آپ قوم کو کیا پیغام دینا چاہتے ہیں؟ لیکن پاکستان ہے کہاں پہلے اسے برطانیہ نے چلایا اب امریکہ چلارہا ہے۔اسی لئے کہتا ہوں کہ کونسا پاکستان ہے۔جسے آپ کہہ رہے ہیں۔
سوال :۔ جیسا کہ آپ کہہ رہے ہیں کہ پاکستان کا کوئی وجود نہیں ہے اور ابھی تک امریکہ اور دیگر قوتوں نے اسے سپورٹ کیاہوا ہے ؟
جواب؛۔ میر ا مطلب ہے کہ یہ ملک یا ریاست جہاں پنجابی اور مہاجر اپنے آپ کو قوم کہتے ہیں کونسی قوم کا ملک ہے یہاں صرف طاقتورکا حکم چلتا ہے ۔
سوال :۔ آپ بین الاقوامی قوتوں کا تذکرہ کرتے ہیں ۔آپ کیسا دیکھتے ہیں جب بین الاقوامی طاقت کبھی پاکستان کو لولی پاپ دیتی ہے اور قوم پرستوں کو چائے کی دعوت تو کیا دوغلی پالیسی نہیں ہے انکی؟
جواب:۔ میں نہیں سمجھتا کہ کون سپورٹ کررہا ہے ۔
سوال :۔ ایک نرم رویہ قوم پرستوں کی طرف جوکہ باہر ممالک میں رہتے ہیں جیسا کہ آپ کا بیٹا حیر بیار مری جواب:۔ (مسکر ا کر)میرے خیال میں یہ ایک اکیلا آدمی ہے جوکہ اخلاقی امداد کرتا ہے ۔

nawabmarri1

سوال:۔ کیا آپ یہ یقین نہیں کرتے کہ امریکہ میں تبدیلی ہورہی ہے اور اب لوگ اوپر آرہے ہیں جو کہ قوم پرستوں کی سیاست کو سپورٹ کرتے ہیں ۔
جواب:۔ (ہنستے ہوئے) میں اس قابل نہیں کہ کچھ کہوں لیکن اب یہ ہورہا ہے ۔
سوال:۔ تب آپ یہ خیال نہیں کرتے کہ بین الاقوامی طاقت بطور بلیک میلنگ یہ ٹول استعمال کررہی ہے اگر آپ ان کے پیچھے نہیں چلیں گے تو وہ قوم پرستوں کو سپورٹ کرینگے۔
جواب:۔ (زور دیتے ہوئے کہتے ہیں)انہیں بلیک میلنگ کرنے کی کیا ضرورت ہے۔ وہ ایک ہی دھمکی سے جلد خوفزدہ ہوجاتے ہیں جیسا کہ اب چائنا انہیں آنکھیں دکھا رہا ہے۔
سوال:۔وہ کون؟
جواب:۔ یہ امریکہ کے غلام
سوال: ۔ آپ کس طرح سے دیکھتے ہیں مشرف ڈکٹیٹر کے کیس کو، جو کہ عدالت میں ہے یہ پہلی بار پاکستان کی تاریخ میں ہورہا ہے جیسا کہ اس کے محل کو سب جیل قرار دیا گیا ہے ۔کیا انتظامیہ اس مقدمہ کو استعمال کرنا چاہتی ہے، ایک ٹشو پیپر کے طورپر تاکہ اس کے چہرے کو صاف کیاجائے ۔
جواب:۔ بلوچستان کیلئے ججز حکم دے چکے ہیں لیکن ان پر توجہ کون دے رہا ہے؟ آپ اسکو کیوں اہمیت دے رہے ہیں؟
سوا ل پر جواب: ۔ تمام دنیا اس کو اہمیت دے رہی ہے ۔
جواب ۔ (تب مسکراتے ہوئے) یہ دنیا بلی ، چوہے ،کتوں اور شیروں کی ہے یہ دنیا تقسیم ہے طاقتور لوگ قتل کرتے ہیں چوہے اور بلیوں کو آپ دیکھ سکتے ہیں سعودی عرب میں اوربین الاقوامی طاقتوروں میں کہ وہ کیا قوت رکھتے ہیں۔
سوال :۔ تو آپ مشرف کے کیس کو اہمیت نہیں دیتے ؟
جواب:۔ مشرف کبھی کہتا ہے کہ سب کچھ آرمی نے کیا ہے اور کبھی کہتا ہے کہ یہ صرف ایک آدمی نے کیا ہے۔ تو یہ کیا ہے؟یہ کس نے کیا ہے کیا سب ان میں ملوث تھے؟ آپ اس طرح کے سوال کیوں پوچھتے ہو
(سوال کرنے والا جواب دیتا ہے) دنیا جاننا چاہتی ہے مشرف کے کیس کو ۔
جواب :۔ کونسی دنیا
سوال :۔آخر کار میں نہیں کہہ سکتی چوہے اور بلی کی دنیا ،میں کہہ رہی ہوں میرے جرنلزازم کی دنیا کو ۔ اُسکا کیس کچھ بھی نہیں آپ کے لئے ۔ جب کہ مشرف نے ایک خونی پالیسی اپنائی بلوچستان میں اب تک کسی بھی ڈکٹیٹر کو کورٹ میں حاضر نہیں کیا گیا یہ پہلا موقع ہے کہ مشرف اند ر ہے کیا ابھی تک یہ آپ کو تبدیلی نظر نہیں آتی ہے خفیہ ہاتھ جس کواسٹبلشمنٹ کہتے ہیں 1948سے بلوچستان میں بہت بُرا کھیل کھیل رہا اور ایک ڈکٹیٹرجیل میں ہے کیا یہ بہت بڑا ڈرامہ ہے ؟
جواب:۔میرے لفظوں میں یہ کوئی تبدیلی نہیں ہے ہاں البتہ تم اسے کہہ سکتی ہو کہ یہ ایک ڈرامہ ہے
سوال : اگر مشرف آپ کے ہاتھ آجائے آپ کیا کرو گے ؟
جواب:۔وہ کبھی بھی میرے ہاتھ میں نہیں دینگے اگر وہ ہاتھ آیا تو پھر سوچوں گاکہ میں اسکے ساتھ کیا کروں گا۔
سوال :۔ مشرف کہتا ہے کہ میں نے بے نظیر اور اکبر بگٹی کو قتل نہیں کیا ہے تو پھر کس نے کیا ہے ؟
جواب:۔ اگر اُس نے نہیں کیا ہے تو پھر ہوسکتا ہے کہ وہ اشارہ دے رہا ہو کہ پٹھانوں نے پنجابیوں نے یا آرمی نے (کیونکہ پٹھان بھی تو فوج میں ہیں ) جبکہ ہم بلوچ تو محروم ہیں۔پھر اچانک کہتے ہیں نیا پاکستان میں تمیز نہیں کرسکتا کہ لوگ یہ کہتے ہیں کہ نیا پاکستان بنائیں گے تو پھر آخر بتائیں کہ پرانا پاکستان کیا تھا۔ کیسے موازنہ کروگے ؟
(سوال کرنے والی جواب دیتی ہے)یہ ایک سیاسی نعرہ ہے اب اس پر کچھ نہیں کہتے ہیں ۔
سوال:۔ جناب اختر مینگل 6نکات لائے ہیں اور جب لوگ ان کے 6نکات کو مجیب الرحمن سے موازنہ کررہے ہیں کیا کہتے ہیں آپ اس پر؟
جواب:۔ حقیقی نقطے کو بھول گئے پہلے وہ اپنی حیثیت ظاہر کریں ۔بلوچ باہر کے ممالک میں ہیں ۔ بلوچ پہاڑوں میں ہیں اور بلوچستان میں رہتے ہیں جبکہ اخترمینگل” سرکا ر پاکستان “کے آدمی ہیں ۔
سوال:۔ کونسی سرکار گورنمنٹ؟
جواب:۔ وہ گورنمنٹ جو کہ گورنمنٹ نہیں ہے لیکن گورنمنٹ کہلاتی ہے ۔
سوال:۔ اختر مینگل نے کہا کہ میرے والدکی خواہش تھی۔۔KBMنے مداخلت کی اور کہا کہ آپ مجھے اور انہیں لڑانا چاہتے ہیں
سوال پر جواب:۔ نہیں مری صاحب میں تاریخی ریکارڈ بنانا چاہتی ہوں ۔ جیسا کہ آپ کے پاس تاریخی حوالہ ہے اور آپ اُ سے محفوظ بنانا چاہتے ہیں تاریخ کے اوراق پر ۔
جواب :۔مسکراتے ہوئے اچھا تو یہ جوا ہے ۔
سوال :۔ نہیں ۔ اچھا ، زندگی بذات خود جوا ہے ۔ میں آپ سے پوچھنا چاہتی ہوں کہ بھٹو نے متعارف کرایا قانون سردار ی نظام کے خلاف1976میں لیکن اختر مینگل نے کہا کہ میرا والد راضی تھا کہ سرداری نظام کو ختم کیاجائے جو کہ وہ نہیں کرسکا بھٹو کی وجہ سے کیا آپ کو یقین ہے کہ مینگل راضی ہے اس نظام کو ختم کرنے میں؟
جواب:۔ سرداری نظام صدیوں پر محیط ہے اسے مشکل سے ختم کیاجاسکتا ہے ۔جبکہ یہ بہت وقت لے گا اور اسے جدوجہد کی ضرورت ہے ۔ جو کہ سرداری نظام کے خلاف ہو۔ بھٹو نے کہا تھا کہ جاگیر دارانہ نظام ختم کردونگا لیکن ابھی تک جاگیردارانہ نظام فیوڈل لارڈز کی طاقت کے ساتھ لاگو ہے ۔ صرف سردار ہی کیوں گنے جاتے ہیں ۔یہاں پر چوہدری ، خان ، وڈیرے بھی ہیں لوگ مجھ سے سرداری نظام کے متعلق پوچھتے ہیں ہم اسے ختم کرنا چاہتے ہیں لیکن اس کے لئے تو انقلاب کی ضرورت ہے
سوال :۔ ہم پوچھنا چاہتے ہیں کہ یہاں جاگیردارانہ نظام خاندانی ٹھوس پن کے ساتھ رائج ہے اگر بلوچ انقلاب میں داخل ہوتے ہیں تو کیا قبائلی نظام ختم ہوجائے گا؟
جواب :۔ شاید یہ ختم ہونے میں وقت لے گا۔
سوال :۔ کیا آپ بُرا مانتے ہیں اگر لوگ آپ کو سردار کہیں تو؟
جواب :۔ سردار تہذیبی اور ثقافتی نام ہے آج کل لوگ مجھے نواب کہتے ہیں یہ برٹش گورنمنٹ کی طرف سے تھا لیکن میں برٹش دورِ حکومت میں نہیں تھا۔
سوال : ۔ اگر لوگ آپ کو نواب کہیں تو کیا آپ کو غصہ آئے گا؟
جواب:۔ نہیں ، تمام غصے اب ٹھنڈئے ہوگئے ہیں ۔
سوال:۔ ہم سن رہے ہیں F.I.Rبے نظیر بھٹو مرحومہ اور اکبر بگٹی مرحوم کے لئے لیکن بالا چ مری کے لئے کوئی F.I.Rنہیں
جواب:۔ اگر میں کچھ بے نظیر قتل کیس کے لئے کہوں تو سندھی ناراض ہوجائیں گے ۔ اکبر بگٹی اور بالا چ دونوں کو مشترکہ مفادات کے حصول کے لئے قتل کیاگیا ۔
سوال:۔ بے نظیر کو کس نے قتل کیا؟
جواب:۔ مجھے شک ہے۔میرے پاس گواہ یا شہادت نہیں لیکن میں کہہ سکتا ہوں کہ بے نظیر کو مولویوں نے قتل کیا۔
سوال :۔ آپ کا خیال ہے کہ دہشت گرد ی کے نام پر اسے قتل کیاگیا اور دہشتگردی کی کوئی F.I.Rنہیں ہوتی ؟
جواب : میرے خیال میں دہشت گردی کا مطلب یہ ہے کہ جب لو گ آپ کے نام سے خوف زدہ ہوں۔یہ سرکار کے آلہ کار ہیں اور یہ ٹارگٹ کلنگ ہے انتہاپسند (ملا) بھی ٹارگٹ کلنگ کررہے ہیں ۔ دہشت گردی تو بلوچستان میں ہے جہاں ہم بلوچ روزانہ لاشیں وصول کررہے ہیں آپ سوچ بھی نہیں سکتے جو دہشت گردی بلوچستان میں ہورہی ہے۔
سوال :۔ بلوچستان جل رہا ہے اوراب ایک الیکشن ہونے جارہے ہیں ؟
جواب:۔(مسکراتے ہوئے) کونسے الیکشن؟
سوال:۔ آپ نے دہشت گردی کے متعلق کہا ہے ۔ حالیہ دنوں میں بلوچستان میں ہزارہ کمیونٹی کو لشکر جھنگوی کی جانب سے دہشت گرد حملوں کا سامنا ہو اس کے پیچھے کیا عوامل کار فرما ہیں کچھ لوگ کہتے ہیں یہ پہلے سے طے شدہ ہے اور بلوچستان کے حقیقی ایشو سے توجہ ہٹانے کے لئے ہے ؟
جواب:۔ یہ گورنمنٹ کے قریبی لوگ ہیں ایران اور سعودیہ عربیہ کے بلوچستان میں اپنے مفادات ہیں ان کے لئے بلوچ بہت بڑی رکاوٹ ہیں ۔وہ سمجھتے ہیں اگر بلوچستان پاکستان کے ساتھ قائم نہیں رہتا تو پھر پاکستان بھی نہیں رہے گا۔
سوال : ۔ آپ نے بڑا وقت افغانستان میں گذارا ہے کیا آپ فرق بتا سکتے ہیں کہ دیسی افغان اور طالبان یا مجاہدین کیا یہ دونوں طرف سے سکّے کے ایک ہی رخ ہیں؟
جواب :۔ دیسی افغان کونساہزارہ ، پشتون ، ازبک یا تاجک
سوال :۔ پھر آپ کس کو کہو گے ؟
جواب:۔ تو آپ دوبارہ مجھے ان سے لڑواؤ گے ۔
سوال :۔ نہیں صرف واضح کرنا چاہتی ہوں ۔
جواب:۔ میں کیا کہہ سکتا ہوں ۔
سوال :۔ افغانستا ن میں کچھ قبائلی انڈیا کے قریب ہیں ؟
جواب:۔ اگر میں سوال کررہاہوتا تو آپ کا جواب کیا ہوتا۔
سوا ل  مسکراتے ہوئے )نہیں شکریہ میں سوال پوچھ رہی ہوں۔
جواب:۔ کیا آپ مجھے ان سے لڑانا چاہتی ہیں۔
سوال: ۔ اچھا تو پھر کیا ڈرامہ ہے؟
جواب:۔ ظاہر ہے انڈیا پاکستان کو ٹف ٹائم دے گا اور جن قوموں کے بارے میں آپ جو پوچھ رہی ہیں میرے خیال میں ان پر لوگوں کو تحقیق کرنا ہوگا۔
سوال :۔ میں نے پڑھا ہے کہ اگر انڈ یا اور ایران چابہارمیں ایئر پورٹ بنا تے ہیں اور پھر اسے ایران اور افغانستا ن سے ملائیں گے تو پھر پاکستان کے راستے کی کوئی اہمیت نہیں ہوگی ۔ کیا یہ تبدیلی بنائے گی ساؤتھ ایشیاء میں ؟
جواب:۔ پاکستان کہاں ہے ۔یہ صرف طاقتور بین الاقوامی کھلاڑی ہیں ۔
سوال :۔ آپ پاکستان کے وجود کو مسترد کرتے ہیں اور اگر الیکشن ہوتے ہیں اور پھر پاکستان گورنمنٹ کہی گی کہ بلوچ لوگ پارلیمنٹ کے نظام سے راضی ہیں اور ہر ووٹ کی اہمیت ہے جو کہ سیاسی عمل کا حصہ ہے ۔ آپ کیسے سامنا کریں گے ؟
جواب:۔ پاکستان کہتا ہے کہ بلوچ مسلمان اور ہمارے دوست ہیں کیا کسی کے پاس ثبوت ہیںیہ تو وقتی طور پر چل رہا ہے ہم حامد کرزئی کی گورنمنٹ کو دیکھتے ہیں افغانستان میں کیا ہم کہہ سکتے ہیں کہ یہ عوام کی گورنمنٹ ہے ۔
سوال :۔ لوگ کہتے ہیں کہ جو پہاڑوں میں ہیں وہ جلد تھک جائینگے کیا واقعی ایسا ہی ہوگا؟
جواب:۔ اگر نوجوان تھک جائیں تو ہم بوڑھے بہت ہی تھک جائینگے ۔چلیں دیکھتے ہیں کیا ہم تھک جائیں گے یا پھر پہاڑوں میں رہ جائیں گے۔
سوال : ۔ اگر اختر مینگل پارلیمنٹ کا حصہ بنتا ہے اور کہتا ہے کہ بلوچوں کے مسائل کا حل پارلیمنٹ میں ہے تو کیا آپ کا رویہ ان کے لئے نرم ہوگا یا پھر سخت گیر موقف ۔ جو کہ اسٹبلشمنٹ کے ساتھ ہے ؟
جواب:۔ بلوچ اٹھ کھڑے ہوئے ہیں ایسے ہی اٹھ کھڑے رہیں گے ، صرف ایٹم بم ہی انہیں ختم کرسکتے ہیں ۔
سوال :۔حل کہاں ہے پہاڑوں میں یا مذاکرات کی میز پر ؟
جواب:۔ مجھے معلوم نہیں اور نہ ہی میں کہہ سکتا ہوں لیکن اگر ہم مذاکرات کے میز پرآتے ہیں اورتحریک اسکے لئے راستہ بناتی ہے تب ہم دیکھیں گے ۔ بہر حال یہ علاقہ بہت ہی ڈسٹرب ہے اور اس علاقہ کو ہم تباہی کا علاقہ کہہ سکتے ہیں کون جیتے گا کون ہارے گا ۔ایران ،چائنا اور افغانستان میں کبھی بھی امن حاصل نہیں کرے گا وہ کبھی بھی اس علاقے میں امن سے نہیں بیٹھے گا۔
سوال :۔یہ کون کرے گا ؟
جواب:۔وہ لوگ جو کہ بلوچستان میں کررہے ہیں ۔
سوال :۔ آپ کا مطلب یہ ہے کہ جو پہاڑوں میں ہیں وہ انہیں کبھی بھی پرسکون راستہ نہیں دینگے؟
جواب میں کچھ بھی نہیں کہہ سکتا ہوں ۔
سوال ؛۔آپ نیپ کے ممبر بھی رہے تھے جس پر بعدمیں پابندی لگ گئی تھی اورآپ افغانستان چلے گئے تھے اس کے بارے میں آپ کچھ بتانا پسند کرینگے ؟
جواب:۔ وہ میری پرائمری لائف کے دن تھے ۔
سوال:۔ کیا افغانستان کے بلوچستان میں اثرات ہیں ؟
جواب: ۔یقیناًاثرات ہیں لیکن اب ایران اور افغانستان دونوں بلوچستان کو قید کرنا چاہتے ہیں کیونکہ افغانستان ، ایران ، سندھ اور تمام جگہوں پر بلوچ قوم کی زمین موجود ہے اورسندھ جس کے بارے میں جی ایم سید نے کہا تھا کہ زمینی سرحدات کے حوالے سے بات نہ کی جائے ۔ ایک دفعہ بالا چ نے بھی کراچی کے بارے میں کہا تھا کہ کراچی بھی ہماری مقبوضہ زمین ہے ۔ لیکن سندھیوں نے کہا کہ سرحدات کو ڈسٹر ب نہ کیاجائے ۔ فی الحال اس موضوع پر خاموشی اختیار کرنے میں ہی اتفاق رائے بہتر ہے ۔
سوال:۔ لاپتہ افراد کو بازیاب کرانے کا حل کیا ہے ۔ اور کہاں سے بازیاب ہونگے ؟
جواب :۔ انہیں قبرستانوں سے واپس لایاجائے گا۔
سوال : کون لائے گا۔
جواب:۔ امریکہ کے غلام ۔جو خود کہہ چکے ہیں کہ مہاجر جناح صوبے کا کلیم (claim)کرتے ہیں۔
سوال:۔مثال کے طورپر اگر بلوچستان آزاد ہوتا ہے اور پاکستان تقسیم ہوتا ہے آپ کاکیا خیا ل ہے کہ ریاستوں میں لڑائی شروع ہوگی۔
جواب:۔میرا مطلب ہے کہ سول وار ہوگا۔ جیسا کہ ماضی میں اس براعظم میں دیکھا گیا تھا ۔ جبکہ ہم اس ریجن میں مسائل کا سامنا کررہے ہیں ۔
سوال:۔ آپ کا مطلب سندھی اور بلوچوں کے درمیان ۔
جواب۔ نہیں ریاست اورریاست کے درمیان
سوال:۔ میں کہنا چاہا رہی ہوں اگر کسی طرح پاکستان تقسیم ہوتا ہے اور تمام ریاستیں آزاد ہوتی ہیں جو کہ ایک دوسرے کے ساتھ منسلک ہیں ؟ تو کیا وسائل کیلئے جنگ ہوسکتی ہے؟
جواب:۔ ہاں جنگیں اس علاقہ میں ہوتی رہی ہیں تمام بڑے طاقتور کھلاڑیوں کو دوسروں کے وسائل پر اختیار حاصل ہے۔
سوال:۔ آپ کیوں امریکہ پر تنقید کرتے ہیں جبکہ وہ بلوچ جو بیرونی ممالک میں رہتے ہیں وہ ان جمہوری ممالک کے بارے میں نرم رویہ رکھتے ہیں جبکہ آپ مارکسٹسوں کی پیروی کرتے ہیں ۔ کیا آپ اور ان بلوچوں کے درمیان کمیونیکشن گیپ موجود ہے؟
جواب:۔میں صاف اور سیدھی گفتگو کرتا ہوں آپ جیسے لوگ آتے ہیں مجھ سے بات چیت کرتے ہیں ۔امریکہ اور روس دونوں شیر ہیں اور طاقتور کمزور کو نقصان پہنچاتے ہیں ۔ شیر کبھی چوہے نہیں کھاتا بلکہ چوہوں کو کوئی اور کھاتا ہے۔
سوال:۔ یہاں جنگ ہوگی یا امن
جواب:۔ شاید جنگ اور امن دونوں
سوال:۔ لوگ پوچھتے ہیں کہ بلوچ لیڈر ترقیاتی کام نہیں کرتے ہیں جبکہ مشرف گورنمنٹ اور پی پی پی گورنمنٹ سے بہت سے فنڈز ملے ۔
جواب:۔ طاقت ور ہمیشہ کمزور کو کہتے ہیں ہم نے انہیں ترقی دی ہوئی ہے وہ ہمیں کمزور بنا رہے ہیں اور کالونیز اور وہ کیوں کالونی بناتے ہیں ہمیں غلام بنانے کیلئے کیا کسی حکمراں نے اپنے گھر سے رقم دی ہے اور کون دیتا ہے ہسپتال اور سڑکیں جو کہ غریبوں کیلئے ہوں۔جب برطانیہ آیا اور انڈیا کو طلائی چڑیا (سونے کی چڑیا) کہا اور لوٹنے کے بعد اسی خطے کی چڑیا کو بغیر بال وپر کہا ۔
سوال : ۔ اکثر لوگ کہتے ہیں کہ قبائلی لوگ ترقی میں رکاوٹ بنتے ہیں ؟
جواب:۔ قبائلی طاقتور بننے سے پہلے بے یارومددگار ہیں اور یہ ان کے غلام ہیں ایک برطانوی شخص سنڈیمن نے دلال چاہا اور کئی لوگوں نے دلال بن کر ان کی مدد کی ۔
سوال :۔ مہذب دنیا دہشت گردی کے خلاف ہے لیکن بجائے اسکے کہ دہشت گردی ختم ہو دہشت گرد غیر ریاستی (Non State) ایکٹر ہیں جو کہ مملکت کے کرتا دھرتا سے زیاد ہ طاقتور ہیں کیا وجہ ہے یہ دنیا میں اُبھر رہے ہیں ؟
جواب:۔بین الاقوامی طاقتور کھلاڑی چائنا ، روس، یورپ ، امریکہ بذات خود دہشت گرد ہیں اور یہی دہشت گرد بھی پیدا کررہے ہیں ۔
سوال؛ ۔ آپ سعودی عربیہ کے کردار کو کہاں رکھتے ہو؟
جواب:۔ سعود ی بھی تو USAکے غلام ہیں ۔
سوال:۔کیا آپ یقین رکھتے ہیں کہ روس اب بھی خاموش رہے گا جبکہ امریکہ افغانستان میں داخل ہوگیا ہے اور دہشت گردی کے خلاف جنگ شروع کی ہوئی ہے۔ کیونکہ ماضی میں مجاہدین کے دور میں رشیا کو افغانستان میں شکست ہوئی تھی؟
جواب:۔ مجھے یقین نہیں لیکن میری خواھش ہے کہ روس شاید امریکہ کیلئے مسائل کھڑے کریگا کیونکہ یہ انسانی جبلت ہے۔
سوال :۔ صرف افغانستان ہی کیوں برطانیہ ، روس امریکہ کی محبوب ترین سرزمین ہیں۔
جواب:۔ میں نے سنا ہے کہ یہ افغانستان کے ذریعے گرم پانی تک پہنچنے کے خواہش مند ہیں اور آپ نے سینٹرل ایشیا اور ساؤتھ ایشیا کے نا م لئے ہیں یہا ں کی دولت پر ان کی نظر ہے۔
سوال : ۔ آپ صرف امریکہ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہیں NATOبھی تو طاقتور کھلاڑی رکھتے ہیں یہ امریکہ فوبیہ تو نہیں ؟
جواب:۔(ہنستے ہوئے)ہاں ہمارے بہت سے بادشاہ ہیں لیکن حتمی فیصلہ امریکہ کرتا ہے اس لئے تنقید کرتا ہوں ۔ آپ کیوں بین الاقوامی سوالات کررہی ہیں ؟
(سوال کرنے والی کا جواب) میں آپ کی تنقید یہ سن کر حیران ہو جاتی ہوں جبکہ قوم پرستوں کی سیاست کے لئے نرم گوشہ بین الاقوامی طاقت میں ہوتا ہے کیا آپ اسے مسترد کر دیں گے جب بین الاقوامی طاقتور ملک بلوچوں کو سپورٹ کرتا ہے (لیڈر) جو کہ اب بھی باہر کے ممالک میں رہائش پذیر ہیں جب کہ بلوچستان کیس بین الاقوامی منظر پر آیا ہے ۔
سوال:۔جبکہ ایک کو تنقید کرتے ہوئے دوسروں کو چھوڑ دیتے ہیں مثال کے طور پر یہاں تمام جاگیردار لوٹ کھسوٹ کررہے ہیں جبکہ آپ ایک اور صرف ایک کو تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں کیا یہ انصاف ہے ؟
جواب:۔ کیا دنیا انصاف رکھتی ہے آپ مجھے کیوں زحمت دیتی ہیں ہو۔
سوال :۔ تو پھر بلوچوں کو کون سپورٹ کرتا ہے ؟
جواب :۔ آپ کے خیال میں کون اور کون ہوگا۔
سوال:۔ مجھے یہ وجہ معلوم نہیں میں پوچھ رہی ہوں ؟
جواب:۔ کیا میں جھوٹ بولوں یا سچ۔
سوال:۔ مجھے یقین ہے کہ آپ سچ بولیں گے آپ اپنے اصولوں پر قائم رہنے والے رہنماہیں ہاں ہم پوچھتے ہیں کہ ہمیں شک ہے کہ انڈیا افغانستان میں ہے تو شاید انڈیا سپورٹ کرتا ہے؟
جواب:۔ کیا انڈیا صرف بلوچستان کیلئے ہے ۔ میں قیاس کرتا ہوں انڈیا وہاں پر صرف تجارت اور راستے کیلئے ہے۔
سوال:۔کیا یہ ممکن ہے کہ انڈیا ساؤتھ ایشیا میں چائنا سے زیادہ اختیار حاصل کرے؟
جواب:۔شاید، اگر بین الاقوامی طاقتیں اسکی مدد کریں ۔
سوال:۔انڈیا یا چائنا؟
جواب:۔ میں مارکیٹ جاتا ہوں تو چائناکی چیزیں نظر آتی ہیں ۔ یہی چائنا ہے جو ہمارا سونا بھی لے جارہا ہے اور ہماری پورٹ پر بھی اختیار حاصل کرچکا ہے۔
سوال:۔کیا بھٹو ہمیشہ اس شخص سے برہم رہے جو کہ ان سے متفق نہیں تھے یا پھر صرف ملٹری نے یہ سب لانچ کیا ؟
جواب:۔ یہ بھٹو اور ملٹر ی دونوں نے کیا اور کوشش کی کہ اپنی حکومت کو جائز بنایاجائے ۔ پھر بھٹو نے نعرہ لگایا روٹی کپڑا اور مکان کا اور اس پر کیا عمل کیا ۔ اور اب غریب آدمی باقی نہیں رہے اور بلاول بھٹو زرداری وہ کیا کرچکے ہیں ۔
سوال: ۔ ہم دوبارہ تاریخ کی طرف چلتے ہیں جیسا کہ ہمارے علم میں ہے کہ بلوچستان میں ذوالفقار علی بھٹو کے ملٹر ی آپریشن پر تنقید کی جاتی ہے کیا وہ بلوچستان میں آپریشن کرانے پر آزاد تھا؟
جواب:۔ میں نہیں سمجھتا کہ وہ بلوچستان میں ملٹری آپریشن کرنے پر آزاد تھا لیکن وہ بہت چالاک اور ظالم شخص تھا۔
سوال:۔ کیا بھٹو بنگال کے قضیے میں ملوث تھا۔
جواب:۔ میں نے سنا ہے۔
سوال:۔ آپ کیوں کہہ رہے ہیں؟ کہ آپ نے سنا ہے۔ آپ اُس وقت ان حالات کا تجزیہ کرتے تھے ۔؟
جواب:۔ حقیقت اور تجزیہ میں فرق ہوتا ہے جیسا کہ لوگ کہتے ہیں کہ امریکہ اور انڈیا ہماری مدد کرتا ہے لیکن کس نوعیت کی ہم مدد لے رہیں ؟ ہم غلام نہیں بننا چاہتے ہیں آزادی حاصل کرنے سے پہلے یہ مدد کی قسم نہیں چاہیے ہم زندہ رہیں یا مرجائیں ۔
سوال:۔ بنگال میں کون ملوث تھا کیا انہیں مجیب کے چھ نکات ہضم نہیں ہوئے یا وہ ناانصافی کو برقرار رکھنا چاہتے تھے؟
جواب:۔ وہ بنگال کی غلامی کو مزید برقرار رکھنا چاہتے تھے لیکن انڈیا نے انہیں آزاد کرایا۔
سوال:۔ آپ نے آزادی کا لفظ استعمال کیا کیا بنگال غلام تھا؟
جواب:۔ اگر انڈیا نہ آتا تو بنگال کو غلام ہی رکھتے۔
سوال:۔ آپ کیا محسوس کرتے ہوئے ڈکٹیٹر شپ اور جمہوریت جو کہ پاکستان میں ہے ؟
جواب:۔کیا ہمیں پارلیمنٹ کی ضرورت ہے جیسا کہ اختر مینگل کہتا ہے یا کہ ہمیں علاج کی ضرورت ہے انہوں نے ڈکٹیٹر شپ کو قانون بنا کر جائز قرار دیا ان کی پانچ سال کی جمہوریت نا انصافی پر مشتمل ہے ۔ بغیر فوج کے وہ کچھ کرنے کے قابل نہیں ہیں فوج کی اپنی حد ہوتی ہے جو کہ یہاں نہیں ہے ۔
سوال :۔2013الیکشن آپ کے نظر میں ؟
جواب:۔ پہلے وہ ہر حال میں سرمایہ داری کیلئے کام کرنا چھوڑ دیں ۔
سوال :۔ آپ کے فلسفے میں سرمایہ داری کیا ہے ؟
جواب:۔ کوئی اکیلا شخص کسی دوسرے انسان کا غلام نہ ہو۔ اور جہاں کسی کا استحصال نہ ہو۔
سوال:۔ کس فلسفہ کی لمبی زندگی ہوتی ہے تشدد کی یا عدم تشدد کی جیسا کہ ہمارے سامنے مہاتما گاندھی کی مثال ہے ؟
جواب:۔ کوئی شک نہیں مہاتما نے اپنی زمین کو ہموار کیا اورچیزوں کو تبدیل کیالیکن کوئی بھی عدم تشدد بعد میں تشدد میں ہی تبدیل ہوا۔
سوال : ۔ آپ اکبر بگٹی اور عطااللہ مینگل کو کس طرح دیکھتے ہیں؟
جواب :۔ میں نے بگٹی کے ساتھ طالب علمی کا وقت گزاراہے میں عطا اللہ مینگل کے متعلق کچھ نہیں کہہ سکتا کیونکہ وہ نہ تو سوشلسٹ ہیں نہ قوم پرست ۔
سوال :۔ پھر وہ کیا ہیں؟
جواب:۔ آپ میرے لئے مسئلہ مت بنا ئیں
سوال :۔ انتہا پسند عناصر ابھر رہے ہیں سندھ اور بلوچستان میں کیا وجہ ہے کچھ لوگ کہتے ہیں کہ انہیں ان کاؤنٹر کے لئے بنایا جارہا ہے ۔
جواب: مجھے معلوم نہیں ،ہوسکتا ہے کہ یہ مقررہ وقت کے لئے بنایا جارہا ہے اور تصادم کے لئے ہو۔

nawabmarri3.jpg

سوال: ۔ آپ سندھ اور بلوچستان کی سیاست کو کس طرح دیکھتے ہیں؟
جواب:۔ سندھ تعلیم یافتہ ہے مجھے امید ہے وہ زیادہ طاقت ور اور با شعور قوم پرست ہیں ۔جبکہ ہم بلوچ ہمت و حو صلے والے ہیں ۔
سوال:۔ حوصلے کب تک زندہ رہیں گے ؟
جواب:۔ ہم انہیں جگا رہے ہیں ہمارے لوگوں کے پاس حوصلے بہت ہیں ۔ لیکن تعلیم کی بھی ضرورت ہے۔ صرف ڈگریوں کی نہیں بلکہ سوشلسٹ تعلیم ۔ ہمارے محدود وسائل ہیں لیکن ہمارے جذبات ہمیں زندہ رکھے ہوئے ہیں۔
سوال:۔ بلوچستان میں جرنلسٹوں کو قتل کیا جارہاہے۔ لوگ کہتے ہیں کہ آزادی کی جنگ لڑنے والے انہیں مار رہے ہیں ۔ میرے پاس کوئی شہادت نہیں لیکن میں حقیقت جاننا چاہتی ہوں؟
جواب:۔ میں قتل کرنے پر یقین نہیں رکھتا اور مجھے اس بارے میں کچھ معلوم نہیں۔ (اچانک نواب خیر بخش مری کے ایک ساتھی نے مداخلت کرتے ہوئے کہا کہ مسلح دفاع والوں نے جرنلسٹوں کے قتل کی ذمہ داری قبول کی ہے)
سوال:۔ آپ نے کہا کہ مذہبی عناصر نے بینظیر بھٹو کو قتل کیا ۔کیا آپ سوچتے ہیں کہ انتہا پسند اتنے طاقتور ہوگئے کہ وہ کسی کی مدد و تعاون کے بغیر یہ اقدام کرسکیں ؟
جواب:۔ یہ کہنا میرے لئے مشکل ہے لیکن آرمی میں مذہبی انتہا پسند موجود ہیں اور آئی ایس آئی میں بھی ۔ امریکہ نے ان کی مدد نہیں کی لیکن آرمی مذہبی ہے۔
سوال :۔ سیاست کسے کہتے ہیں؟
جواب:۔ آزادی ، انصاف اور انسانیت
سوال :۔ بلوچستان کی سیاست کیا ہے ؟
جواب:۔ اختر مینگل اور رئیسانی پاکستانی سیاست کو پسند کرتے ہیں اور یہ خود غرض موقع پرست لوگ ہیں ۔کیا جمہوریت ان لوگوں پر بھروسہ کرسکتی ہے اور ان لوگوں کی ضرورت ہے وہ بلوچ جو پہاڑوں میں ہیں و ہی بلوچستان کے لئے کام کرتے ہیں اختر مینگل کہتے ہیں کہ وہ ووٹ کے ذریعے تبدیلی چاہتے ہیں اور وہ آگاہ نہیں تھے جب نواز شریف نے دھماکہ کیا ۔ ہم بندوق اٹھا ینگے اگر دوسرے کے پاس بندوقیں ہیں اور اگر کوئی بات کرتا ہے تو ہم بھی بات کرینگے ۔
سوال:۔ بلوچستان اور سندھ کی صورتحال میں کون سبقت لے گا؟
جواب:۔ مجھے امید ہے دونوں مل کر جدوجہد کرینگے اور اپنے مشترکہ مسائل حل کرلیں گے۔
سوال:۔ آپ کہہ چکے ہیں کہ آپ قتل سے نفرت کرتے ہیں لیکن جو پہاڑوں پر ہیں اور جنگ لڑرہے ہیں کیا آپ نہیں سوچتے کہ اب وقت آگیا کہ مسئلہ کا حل سیاسی بات چیت کے ذریعے حل کیا جائے؟
جواب:۔ میں بوڑھا آدمی ہوں اور ان کی طرف سے بات چیت نہیں کرسکتا ۔ لیکن کئی دفعہ پاکستان کے حکمرانوں /فوجیوں نے ہمارے ساتھ دھوکہ کیا ۔ نواب نوروز خان اور نیپ کے ساتھ انھوں نے کیا کیا۔وہ قرآن لائے لیکن طاقت کے ظالمانہ ا قدام کو نہ روکا۔ ہم بات نہیں کرینگے ۔ایک جگہ نیلسن مینڈیلا لکھتے ہیں کہ سفید آدمی (انگریز )سے ہم بات کرنا چاہتے ہیں تو انھوں نے یہ فرض کرلیا کہ یہ تو تھک چکے ہیں اور یہ نشانی ہے شکست کی۔ اسی لئے ہم کبھی بات نہیں کرینگے ۔
سوال:۔ آپ لڑنے کو ترجیح دیتے ہیں ؟
جواب:۔ ہمارے پاس سوائے جنگ کے دوسرا کوئی اور آپشن نہیں ہے ذاتی طور پر میں یقین کرتا ہوں کہ یہ بات کرنے کا وقت نہیں ہے۔
سوال : ۔ کیا جناح سیکولر تھا؟
جواب: ۔ آپ نے اس کے چھو ٹے بھائی (بھٹو ) کے بارے میں پوچھا تھا اور اب مسٹر جنا ح کے بارے میں۔ آپ اس کے رشتہ دارووں سے پوچھیں مجھے معلوم نہیں ۔
سوال :۔11مئی کو انتخابات ہورہے ہیں ؟
جواب:۔ جو پاکستان کو چاہتے ہیں ووٹ کرینگے اور جو نہیں چاہتے وہ کبھی ووٹ نہیں کرینگے ۔
سوال:۔ 11مئی کو آپ اور بلوچ کیا کرینگے ۔
جواب:۔(مسکراتے ہوئے )آپ زیر زمین معلومات حاصل کرنا چاہتی ہیں۔
سوال :۔ 11مئی کو بلوچستان میں لوگ کیا کرینگے کیا وہ T.Vدیکھیں گے
جواب:۔ میں صرف یہ کہہ سکتا ہو ں کہ بلوچ اپنی زندگیاں دے چکے ہیں اور صرف ان کی وجہ سے بلوچ کو ووٹنگ سے پہلے سوچنا چاہیے میں ان سے کہونگا کہ ووٹ نہیں ۔
سوال:۔ شکریہ
جواب:۔ میں خوش ہوں شکریہ

One comment on “انٹرویو بابائے بلوچ سردار خیر بخش مری

  1. मैं  कुछ खास  तो नही हुँ ☝

    लेकिन, मेरे जैसे  लोग  कम है..
    मो०हमज़ा अस्थान्वी

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s