سیاسی عمل میں چیلنجزاور ان کا سدِ باب

hf_140046_article

:جلال بلوچ

انسانی ارتقاء کو اگر ہم دیکھیں تو ہمیں یہ بات نظر آتی ہے کہ وہ شروع دن سے رکاوٹوں سے نکلنے کی تگ و دو کرتا نظر آئے گا۔ ایک مسئلہ ختم تو دوسرا سر پہ آن پڑا، دوسرا اپنے انجام کو پہنچا تو تیسرا۔سلسلہ یو ں ہی چلتا رہا ہے اور چلتا رہے گا ۔ دنیا میں کامیاب انسان یا بڑی ہستیاں وہ کہلائے جاتے ہیں جنہوں نے اس فطری حقیقت کا خندہ پیشانی سے استقبال کیااور رکاوٹوں کو راہ سے ہٹانے کے لیے ان کے سدِ باب کا ساما ن کیا۔انسان نے جب سے دنیامیں قدم رکھا ہے مشکلات اور رکاوٹوں کا سامنا کرتا چلا آرہا ہے، اگر ہم لمحہ بھر کے لیے سوچ لیں کہ اگر زندگی میں چیلنجز نہ ہوں تو زندگی کیسی ہوگی، یعنی ہر کوئی آرام اور سکون کی زندگی گزار رہا ہو،آیا ایسے میں زندگی پہ جمود طاری نہیں ہوگا اور اگر جمود طاری ہو تو؛ کیاانسان نت نئے تبدیلیوں کا پیش خیمہ بن سکتا ہے یا بن سکتاتھا؟انسان کی اسی سرشت نے چیلینجز قبول کی تو ستاروں کو تسخیر کرنے کے عمل سے گزررہا ہے۔چیلینجز اور رکاوٹوں سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ انسان کی زندگی اس وقت بے رونق ہو جاتی ہے جب اس میں مشکلات اور چیلینجز کا پہلو شامل نہ ہوں۔
سماجی عمل میں رکاوٹوں اورمشکلات پر اگر بات کی جائے تو قلم کی سیاہی خشک ہوگی پر بات اپنے انجام کو پہنچ نہیں پائے گا۔ ہمارا مضمون انقلابی اور سیاسی عمل میں درپیش رکاوٹیں اور ان کے سد باب اور تدارک ہے۔ہم یہ دیکھنے کی کوشش کرینگے کہ سیاسی عمل میں چیلینجز سے کیا مراد لیا جاتا ہے ،یہ مشکلات کیسے آتے ہیں اور ان کے سدِباب کو ممکن کیسے بنایاجاتا ہے؟
ہر سماج جہاں سیاسی یا انقلابی عمل شروع ہوتا ہے یا جہاں لوگ تبدیلی کی بات کرنے کے ساتھ ساتھ عملی طور پر اپنا کردار نبھاتے ہیں ، اس میں رکاوٹوں کاراہ میں حائل ہونا فطری عمل ہے ۔ بعض اوقات قوموں کے عروج و زوال کا جب ہم مطالعہ کرتے ہیں ان کا جنہوں نے عروج حاصل کیایا جو زوال پذیری کا شکار ہوئے توان کے اس عمل میں چاہئے کامیابی ہویا ناکامی، رکاوٹوں کے سدِباب کے عوامل ہمارے سامنے آتے ہیں ، جو فتحیاب ہوئے ان کے تدابیر اور جو ناکام ہوئے ان کے دورانِ عمل کی کمزوریاں عیاں ہوتی ہیں۔
سیاسی عمل میں چیلینجز کے اسباب کے جو بنیادی عوامل ہیں ان میں سماج کی نوعیت ،جس میں جغرافیہ ، آب و ہوا، سماج کا معیار(تعلیمی اور معاشی)،حالات، سماج میں رہنے والے مختلف طبقات کے مقاصد،مخالفین کے مقاصداور دنیا کے حالات قابلِ ذکر ہیں۔ سیاسی کارکن اگر ان عوامل کو پسِ پشت ڈال دے تو وہ کبھی بھی مسئلہ اور اس کی نوعیت کو سمجھ نہیں پائے جس سے مسائل اتنی پیچیدہ صورت اختیار کریں گے کہ مسئلہ یارکاوٹ کئی اور مسائل جنم دینے کے اسباب فراہم کریں گے۔

چیلنجز سے نمٹنے کے لئے منطقی سوچ بنیادی اہمیت کا حامل ہوتا ہے ،منطق کے بغیر کام پیچیدگیوں کا سبب بنتا ہے۔
کسی بھی سیاسی انقلابی عمل میں درپیش مسائل کچھ اس انداز میں ہمارے سامنے آتے ہیں ۔
۱۔ سماج میں بسنے والے باشعور،ترقی اورتبدیلی کے حامل لو گ پرانے طریقہ کاریا یوں کہیے کہ فرسودہ طریقہ کار، یا استحصالی نظام سے اتنے دل برادشتہ ہو چکے ہوتے ہیں کہ وہ نئی راہوں کا تعین کرنے کی جانب پیشرفت کرنے پر مجبور ہوجاتے ہیں۔ یہ جانتے ہوئے بھی کہ راہ میں بہت ساری مشکلات آئیں گے ۔ جذبات کی بنیاد پر تو سبھی سماج ایسے مسائل سے نمٹنے کی کوششیں کرتے ہیں ،پر اس امر میں کامیاب ایسے معاشرے ہوتے ہیں جن کے پاس مسائل سے نمٹنے کا منطقی طریقہ کار موجود ہوں ، جو تخلیق اور تسخیرکے ہنر سے آشناء ہوں۔اگر ایسا نہیں ہوا یا انا کے گھٹا ٹوپ اندھیروں میں سماج ڈوبا رہا تو اس کے صفحہ ہستی سے مٹنے کے اسباب بھی اس کے اسی عمل سے شروع ہونگے۔ ابتداء میں جو بنیادی مسائل درپیش آتے ہیں ان میں
1۔ سیاسی جد و جہد میں یہ دورانیہ ہر تحریک کو لاحق ہو ا ہے ، کام یقیناً مشکل ہے جس میں سماج کا پرانے یا روایتی طریقہ کار کو چھوڑ کر نئی روش اختیار کرنا ،وہ بھی کسی ایسے سماج میں جہاں قبائلی طرزِ زندگی ہو، تعلیم کا میعار غیر تسلی بخش ہو اور اگر پڑھے لکھے لوگ ہوں تو وہ بھی بینکنگ نظامِ تعلیم سے فارغ التحصیل ، جنہیں روزی روٹی اور روز گار کے سوا کچھ اور سو جھتا ہی نہ ہو۔اب ایسے سماج میں جہاں لوگ غلامانہ طرزِ زندگی، وہ چاہے انفرادی غلامی کی قسم ہو یا اجتماعی صورت میں ہو، جہاں لوگ انا کی خول میں مقید ہوں یا قبائلی سوچ کی زنجیروں میں جھکڑے ہوئے ہوں ، اب سماج میں اگر ایسی سوچ کے حامل لوگ رہتے ہوں توکسی نئی سوچ کی شروعات یا جدت پرستی کسی صورت کسی چلینج سے کم نہیں ہوگا ۔ سیاسی عمل جہاں تبدیلی کی بات ہورہی ہوتی ہے وہاں عمل کی راہ میں جو رکاوٹیں سامنے آتی ہیں ان میں ابتدائی کردار ایسے معاشروں کا ہی ہوتاہے جو تعمیر نواور عمل کی راہ میں حائل ہوتے ہیں ۔
2۔ غلامانہ سماج میں ایسے افراد اور جماعتیں موجود ہوتے ہیں جو سماج پر اپنی اجارہ داری قرار رکھنے کے لیے غلامانہ سوچ کو پروان چڑھاتے ہیں جنہیں سیاسی اصطلاح میں نام نہاد جمہوری سوچ کے حامل افراد کے القابات سے نوازا جاتا ہے جو مخالفین کے مقاصد کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لیے آکسیجن مہیاء کرتے ہیں ۔ نئی سوچ چونکہ اپنے ارتقائی عمل سے گزر رہی ہوتی ہے اور بلوغیت کی سیڑھی تک پہنچنے سے پہلے نئی سوچ کو ختم کرنے کے لیے ایسے عوامل انتہائی درجے کی کوششوں میں مگن رہتے ہیں ۔ایسے افراد اس بات کا بخوبی ادراک رکھتے ہیں کہ نئی سوچ اور طریقہ کار اگر رائج ہوا تو اس سوچ کے حامل افراد گدیوں پر براجمان ہونگے جس کے مثبت اثرات بہت جلد عوام ذہنی طور پر قبول کرینگے ، یہ جانتے ہوئے کہ عوام کا نئی سوچ کی جانب گامزن ہونے سے پرانے طریقہ کاراور اس کے کرداروں کی موت واقع ہوگی اسی لیے وہ عوام کو گمراہ کرنے کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے ہیں۔ بلوچ سماج میں ایسی سوچ ہمیں بلوچ پارلیمانی پارٹیوں میں بکثرت دکھائی دیتی ہے جن میں نیشنل پارٹی، بی این پی (مینگل) اور بی این پی (عوامی) قابل ذکر ہیں۔ان کی تاریخ اور کردار کے بارے میں بہت کچھ لکھا جاچکا ہے اور اگر ان کی حالیہ کارکردگی کو دیکھیں توپا کستان کی پارلیمانی کرسیوں کی بندر بانٹ میں ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کی کوششوں میں لگے رہتے ہیں ۔دراصل یہاں قبضہ گیر کی پالیساں ہوتی ہیں جو انہیں اس نہج پہ پہنچاتی ہیں ، قبضہ گیر کی پالیسیوں کا مقصد عوام کوایسے موضوعات فراہم کرنے کی کوشش ہو تی ہے کہ جس سے عوام نئی سوچ اور طریقہ کار سے دور ہوں۔ ریاستی عمل کے ایسے اثرات ہمیں بکثرت ایسے حالات کے حامل سماج میں، وہ چاہے دنیا کے کسی بھی حصے میں واقع ہوں دیکھنے کو ملتی ہیں ۔
3۔ غیر ترقی یافتہ معاشروں میں یا یوں کہیں کہ ایسے معاشروں میں جن میں لوگ اپنی راہوں کے تعین کرنے کا عزم کرچکے ہوتے ہیں ، استعماری قوتیں مذہب کے ٹھیکداروں کو جدت پسندوں کے مقابل لا کھڑا کرتے ہیں ۔ قدامت پسندمعاشروں میں چونکہ عقیدہ انتہائی حساس معاملہ ہوتا ہے جسے استعمال کرنے کے ہنر سے دشمن آشناء ہوتا ہے۔ عقیدے کا بطور ہتھیار استعمال کرکے دشمن سماج کومذہبی
منافرت کا شکار کرتی ہے جس سے سماج میں افراتفری پھیل جاتی ہے ۔ بلوچ سماج کااگر جائزہ لیا جائے تو ۱۹۸۶ء میں کوئٹہ میں شیعہ مسلک سے تعلق رکھنے والوں پرریاستی حملہ اس وقت کے پولیس ڈی یس پی ہمایوں جوگیزئی کی سربرائی میں شروع ہوئی ۔یہ وہ دورتھا جب بلوچستان میں آزادی پسندوں نے اپنے آپ کو منظم کرنے کے لیے اپنے کیمپ تشکیل دینے کا عمل ایک عرصے کی خاموشی کے بعد پھر سے شروع کی تھی۔ ریاست کو اس بات کا بخوبی علم تھا کہ اس سے پہلے کہ بلوچ سماج اس نئی سوچ کو پروان چڑھائے ان میں ایسی منافرت کو ہوا دی جائے جس سے سماج میں رہنے والوں کی سوچ منقسم ہو۔۱۹۸۶ء سے لیکر آج تک بلوچ سماج کو ریاست کے ایسے اوچھے ہتھکنڈوں کا سامنا کرنا پڑرہا ہے جو کبھی شیعہ سنی ، کبھی بریلوی دیوبندی تو کبھی نمازی ذکری کی صورت میں سامنے آتا ہے ۔اس ریاستی پالیسی میں اب تک ہزاروں افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں اور لاتعدا د لوگ بیرونِ ملک ہجرت کرچکے ہیں جن میں ہزارہ برادری کے افراد قابلِ ذکر ہیں۔ اب تک کی یہ ریاستی پالیسی نئی سوچ کی راہ میں تریاق کا کام کرتی چلی آرہی ہے ۔ابتدائی دور میں تو چند ایک گروہ ہی وجود رکھتے تھے اب جب کہ جہدِ عمل میں برق رفتاری آئی ہے تو مذہبی انتہاء پسندوں کے گروہ بھی ریاستی پشت پناہی میں اسی شدت کے ساتھ بڑھ رہے ہیں۔
سدِباب:۔ بلوچ سماج میں گزشتہ تحریکوں کی کاکرکردگی کا اگر جائزہ لیں تو سماج اور موجودہ تحریک پہ اس کے اثرات کے بہت سارے عوامل سامنے آئینگے اگر غیر جانبداری سے تحقیق ہو تو اس سے ہم نتیجہ اخذ کرسکیں گے کہ گزشتہ ادوار میں جس انداز سے تحریک کی آبیاری ہونی تھی نہیں ہو پائی ، ہمیں جس انداز میں نئی سوچ کا پرچار کرنا چاہیے تھا وہ نہیں ہوا، سیاسی عمل میں جن طریقہ کار کو اپنانا چا ہیے تھا ہم اس سے روگردانی کرتے رہے ۔ جس کی وجہ سے تحریک کی راہ میں مشکلات یا اکثر جو ہمیں دیکھنے کو ملتی ہے وہ ہے گزشتہ ادوار میں تحریک میں تسلسل کا نہ ہونا۔جن کی وجہ سے اغیار نے ہر موقع پہ زہر اگلنے کے عمل کو جاری رکھا۔ جس کے اثرات سماج میں ہمیں مختلف طریقوں میں دیکھائی دیتی ہیں۔جیسا کہ اوپر ذکر ہوچکاہے یعنی روایتی سوچ، وفاق پرستی اور مذہبی انتہا پسندی ۔
ان چلینجز سے نمٹنے کے لیے سیاسی عمل میں جب تک سیاسی ثقافت پروان نہیں چڑھتی اس وقت تک نشیب و فراز کا یہ سلسلہ ختم نہیں ہوگا۔ چلینجز اور مشکلات سے مقابلہ کرنے اور ان سے گلوخلاصی کے لیے سیاسی رہنماوں کو اس جانب جو اقدام کرنے چاہیے وہ ہیں
1۔ اداروں کا قیام اورانہیں مستحکم بنیادوں پہ استوار کر نے سے سیاسی عمل میں تعمیر اور ترقی کی راہوں کا تعین کرنا ممکن ہوجاتا ہے کیو نکہ فیصلے فرد سے اداروں کو منتقل ہوتے ہیں جس میں ہمیشہ اجتماعی سوچ پروان چڑھتی ہے جو سماج میں تبدیلی کے آثار کا پیش خیمہ ثابت ہوتی ہے۔ اداروں کے قیام اور ادارتی طرز اپنانے سے جلد عوام کا اعتماد حاصل ہوتا ہے جس سے عوام اور رہنماء مسائل ایک ہی صف میں نظر آئینگے۔ جو عمل اور تحریک کی آبیاری میں کلیدی کردار کا حامل ہے جس سے راہ میں حائل رکاوٹوں کا خاتمہ اور مقصد کاحصول ممکن ہوجاتا ہے۔
2۔ جب اداروں کا قیام عمل میں لایا جاتا ہے تو اس سے کام کی تقسیم کا عمل آسان ہوجاتا ہے جس سے کام میں خلل کے آثار کے امکان بہت کم ہوں گے اور اس سے جو عمل کرنے جارہے ہو اس کے متاثر ہونے کے امکانات محدود ہوجاتے ہیں۔ہاں البتہ اس ضمن میں مشکلات یہ درپیش آتی ہیں کہ سیاست کے مختلف شعبہ جات سے تعلق رکھنے والے یااپنے کام میں ماہرین کی قلت ہوسکتی ہے ، لیکن اس کمی کو پورا کرنے کے لیے جنہیں ذمہ داریاں سونپی جائے ان کے ساتھ کمک کار( ایسے افراد جو ممکن ہے کہ اس سیاسی عمل میں پیش پیش نہ ہوں لیکن کام جو ہو رہا ہے اس میں مہارت حاصل ہوں) ہونے چاہیے۔ ایسے افراد کی مشاورت اس کمی کو کسی حد تک پورا کرسکتی ہے ۔
3۔تعلیم و تربیت کے بنا کسی سوچ کی ترقی “خام خیالی سے زیادہ کچھ نہیں” ۔ کسی بھی سیاسی پارٹی کو اگر اپنے مقاصد احسن طریقے سے حاصل کرنے ہیں تو ان کی پہلی ترجیح اپنے ورکرز کی تعلیم و تربیت کے حوالے سے ہونی چاہیے۔ اس حوالے سے ان کی ہر ممکن کوشش ہوکہ ورکرز کو وقت و حالات کے مطابق بہتر سے بہتر تعلیم و تربیت کے مواقع فراہم کریں۔سیاسی تحریکیں جہاں آزادی کی سوچ اور عمل دونوں موجود ہوں تو ایسے میں سیاسی ورکروں کے لیے ریاستی اداروں میں تعلیم کے دروازے بند کیے جاتے ہیں جس کی تازہ مثال بلوچ سٹوڈنٹس آرگنائزیشن (آزاد) جو کہ خالص طلباء تنظیم ہے اس پر ریاستی پابندی جس سے طلباء کے لیے ریاست میں موجود تمام اداروں میں تعلیم کے دروازے بند ہوگئے ہیں۔ایسے حالات دنیا کی دیگر آزادی پسندوں کو بھی پیش آئیں ہیں ، سوچنا یہ ہے کہ ایسے مواقع پہ کونسے اقدام کرنے چاہیے جس سے تعلیم کا سلسلہ چلتا رہے۔ مشکلات اور مسائل تو بے شمار آئینگے۔ جن میں ماہرین کی کمی، تدریسی مواد کا انتخاب، تدریسی مواد کی منتقلی، معیشت اور دیگر جن کا حالات تقاضہ کرتی ہے۔لیکن اگر سوچ منطقی ہو تو ہر مسئلے کا حل احسن طریقے سے ممکن ہے۔
چار الفاظ لکھنے یا ان کے پڑھنے سے یہ ممکن ہی نہیں کہ ہم آنے والے یا موجودہ چلینجزکا خندہ پیشانی سے مقابلہ اور ان کے تدارک کے لیے کوئی جامہ حکمت عملی وضع کریں جب تک ہم اس حقیقت کو من و عن تسلیم نہیں کریں گے کہ دنیا میں شاید ہی کوئی ایسا عمل موجود ہو جسے پایہ تکمیل تک پہنچانے کے دوران چیلنجز کا سامنا نہ کرنا پڑتا ہو۔اسی طرح سیاسی عمل میں ہر قسم کے چیلینجزکا آنا سیاسی عمل کا حصہ ہوتا ہے۔چیلینجز کے مثبت اثرات بہت زیادہ ہوتے ہیں جن کا اگر ہم بغور تجزیہ کریں تو اس کے دنیا میں آزاد ہونے والوں پہ جو اثرات پڑے ہیں وہ آج سب کے سامنے عیاں ہیں ۔دراصل اس عمل میں کامیاب وہ ادارے یا سماج ہوتے ہیں جہاں سیاسی ثقافت مضبوط ہوتی ہے سیاسی سوچ کی وجہ سے وہاں چینجز کو مثبت انداز میں دیکھا جاتا ہے کیونکہ وہ اس با ت کو بخوبی جانتے ہیں کہ اگر چیلنجز نہ ہوں تو ترقی ممکن نہیں یا نئی سوچ کا پروان چڑھنا ممکن نہیں ، تعمیر اور تخلیق ممکن نہیں ، آگے بڑھنے اور کام کرنے کا جذبہ اجاگر نہیں ہوگا، اگر چیلنجز نہ ہوں تو عمل اور عمل کرنے والوں پہ جمود طاری ہوگی۔ ان کی ذہن سازی نہیں ہوگی، ان کے لیے وقت و حالات کو پرکھنے کے مواقع دستیاب نہیں ہونگے۔
جب ہم مثبت انداز میں چلینجز کو ذہنی طور پر قبول کرتے ہیں تو ہر مشکل کا سدِباب ہمارے لیے ممکن ہوگا وہ چاہے سمتِ مخالف سے آنے والی کوئی بھی پالیسی اور عمل ہو۔

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s