گوادرمیں عالمی استحصالی منصوبہ

l_Balochistan-watershortage-crisis-desert-wasteland_10-28-2015_202251_l

صدوبلوچ
گوادر بلوچستان کا ایک ایسا علاقہ ہے کہ دنیا کے کئی ممالک کی نظریں اس پر ٹکی ہوئی ہیں۔ سمندری راستوں اور سنٹرل ایشیا، عرب ممالک اور وسطی ایشیا کو ساتھ ملانے والے راستے پر واقعہ ہونے کی وجہ سے گوادر کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے۔ اس ساحلی علاقے کو تجارت کے لئے ایک اہم روٹ سمجھا جاتا ہے۔ اسی اہمیت کی وجہ سے دنیا کے ممالک کی ہمیشہ کوشش رہی ہے کہ گوادر کو اپنے زیراستعمال لایا جا سکے۔ 70کی دہائی میں جب روس نے افغانستان پر حملہ کیا تو اس کی خواہش تھی کہ آگے بڑھ کر گوادر کو بھی اپنے استعمال میں لا سکے۔ کیوں کہ دنیا کی طاقتور بلا ک کی حیثیت سے روس کو اس خطے میں ایک ایسے علاقے کی ضرورت تھی جہاں سے خطے کی معاشی و فوجی نکل حرکت پر نظر رکھا جا سکے۔
جب 2001میں جنرل پرویزمشرف اقتدارمیں آئے توسنگاپور سے اقتصادی ترقی کے نا م پر معاہدہ کرکے گوادرپورٹ کو 40سال تک سنگاپور کی کمپنی کے حوالے کردیا۔ اس کمپنی کو بلا ٹیکس چالیس سال تک سرمایہ کاری کرنے کی اجازت دی تھی۔ لیکن بلوچستان کی سیاسی حالات اور مزاحمت سے کمپنی اپنا سرمایہ واپس لینے پر مجبور ہوگئی۔ جب پاکستانی حکومت نے کمپنی کے مطالبے پر زمین اور پلاٹوں کی فراہمی سے معذرت ظاہر کیا تو مذکورہ کمپنی نے اس حکومتی عدم دلچسپی کو بطور جواز لیکر اپنا سرمایہ واپس لے لیا۔ یوں گوادر کو سنگاپور کا حوالہ کرکے بڑے پیمانے پر وہاں پنجابیوں کی آبادکاری کا منصوبہ ناکام ہوگیا۔
20اپریل کو چینی صدر شی جن پنگ نے پاکستان کا دورہ کرکے گوادر میں پورٹ تعمیر کرنے سمیت کروڑوں ڈالرز کی سرمایہ کاری کا اعلان کیا۔ سرمایہ کاری کے یہ معاہدات سی پیک (چائنا پاکستان اکنامک کوریڈور) کے نام سے مشہور ہیں۔ اس معاہدے کے کے تحت چین پچاس مختلف شعبوں میں پاکستان میں سرمایہ کاری کرے گا، جن میں اکتیس صرف بلوچستان میں ہیں۔ ان سرمایہ کاریوں پر چینی حکومت 51ملین ڈالر خرچ کررہی ہے۔ اب یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ چین اتنی رقم کیوں خرچ کررہا ہے؟
چینی حکومت اسے خالص معاشی سرمایہ کاری کا نام دے رہی ہے، کیوں کہ چین کو اپنی پروڈکٹ مارکیٹ وسیع کرنا ہے۔ نئی معاشی پالیسی ون بلٹ ون روڈ کے تحت چین نے دنیا کے کئی اور ممالک میں بھی اس طرح کی سرمایہ کاریوں کا اعلان کیا ہے۔معاشی حوالے سے گوادر اس لئے اہم ہے کہ یہ پورٹ سالہاسال تجارت کے لئے دستیاب ورلڈ ٹریڈ زون کی حیثیت رکھتی ہے۔ گوادر پورٹ کے استعمال کے بعد چین کے سفری راستے بہت زیادہ مختصر ہوجائیں گے جس سے چائنا کو وقت اور سرمایہ دونوں کم خرچ کرنا پڑیں گے۔پہلے جو تجارت مشرقی چین میں جنوبی چائنا سمندر اور آبنائے ملاکا کے ذریعے ہوتی تھی ۔ اس کے ذریعے مشرقی وسطیٰ کے سامان تجارت کو 9912 میل کا سفر طے کرناپڑتا ہے۔جبکہ کاشغر سے گوادر تک کے تجارتی راستے کے ذریعے اس سامان تجارت کو مشرقی وسطیٰ سے وسطیٰ چین تک صر.ف 3626میل، جبکہ مغربی چین تک صرف 2295 میل کا سفر طے کرنا پڑے گا ۔ چائنا دنیا میں پٹرول درآمد کرنے والا سب سے بڑا ملک ہے، سفری راستوں کا اختصار چین کی معاشی ترقی کو مزید تیز رفتار بنانے میں معاون ثابت ہو سکتی ہے۔ لیکن اتنی بڑی سرمایہ کاری کا مقصد صرف معاشی مفادات کا حصول نہیں بلکہ فوجی قوت کا پھیلاؤ ہے۔ پاکستان کی شکل میں چینی کمپنیوں کو ایک منڈی مل رہی ہے اور گوادر کی شکل میں چینی فوج کو ایک اہم بیس مل رہا ہے۔
چائنا خود کو امریکہ کے مقابلے میں کھڑا کرنے کے لئے تیزی سے اپنی معاشی اور فوجی صلاحیتوں کو بڑھانے کی کوشش کررہا ہے۔ اندازوں کے مطابق چین کی جی ڈی پی 2050تک 25.33ٹریلین ہوجائے گی، لیکن اس کے مقابلے میں امریکہ کی جی ڈی پی 22.27ٹریلین ہوگی۔عالمی طاقتوں کی اس مقابلہ بازی میں بلوچ سرزمین کا استعمال ہونا کسی صورت بلوچوں کے لئے فائد مند نہیں۔ ان سرمایہ کاریوں کی وجہ سے پاکستان اپنے دیرینہ خواہش، غیر بلوچوں کی بلوچستان میں آبادکاری کو عملی جامہ پہنانے کی کوشش کررہی ہے جو کہ یقینی طور پر بلوچوں کو اقلیت میں بدلنے کی ایک سازش ہے۔ یہ سرمایہ کاریاں بلوچستان کے لئے کسی قسم کی خوش حالی کا باعث نہیں بنیں گی، جس طرح کے اس سے پہلے سیندک کے سونے اور تانبے کی کانیں، سوئی کی گیس سمیت دیگر علاقوں میں سرمایہ کاری خوش حالی کے بجائے غربت کا سبب بن گئے۔ اسی طرح چائنا کی گوادر میں سرمایہ کاری بھی نہ صرف غربت کا باعث بنے گی بلکہ بلوچوں کی آبادی کو بھی تبدیل کرے گی۔

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s