ایران شاہ کے ساواک اور پاکستان کی ایجنسیوں کا ایک تقابلی جائزہ

sheraf-768x372چراگ بلوچ
ْْْ
ویسے تو دونوں انسان دشمن خفیہ ایجنسیاں فرشتوں کی روپ میں ہر گلی کوچے میں موجود تھے/ہیں۔دونوں ایجنسیوں کو انقلابی خیالات رکھنے والے قوتوں سے نفرت تھی/ہے۔ اسی لئے ایسی قوتیں ان ایجنسیوں کے لئے قابلِ برداشت نہیں تھے جو کہ معاشرے کے جمود کو توڑنے کی باتیں کرتے تھے۔ پاکستانی فوج کی سوچ میں اب بھی وہی سوچ حاوی ہے جو شاہ کے ساواک کی سوچ تھی، یعنی مخالفین کو بیدردی سے کچلنا۔ شاید یہی سوچ آج کے ایرانی حکمرانوں میں بھی موجود ہو، لیکن وہ ہماری بحث کا حصہ نہیں ہے۔
ساواک شاہ کی ایک خفیہ فوج تھی جو انقلاب ایران کے بعد ایرانی سماج سے مکمل غائب ہوگئی۔یہ خفیہ تنظیم شاہ ایران رضا شاہ پہلوی کی سب سے سفاک استبدای ادارہ تھی جس نے ایرانیوں کی زندگی اجیرن کر دی تھی۔ساواک کی بنیادشاہ نے امریکہ کے تعاون سے 1957میں اس نیت پر ڈالی تھی تاکہ ایران کے اندراپنی بربریت اور لوٹ مار کو دیر پا بنا یا جاسکے۔ساواک کی فنانس ایران کے دوسرے تمام سرکاری اداروں سے دو گنا تھی ۔اس تنظیم کو ایران کے اندر ہر طرح کے کاروائی کی کھلی چھوٹ تھی۔ساواک کی ممبرشپ اتنی زیادہ تھی کہ ہر آٹھ بالغ شہریوں میں سے ساواک کا ایک ممبر شامل ہوتا تھا۔ساواک کے اثرِ اقتدار کا یہ حال تھا کہ عام چپڑاسی کا تقرر ہو یا صوبائی گورنر اور مرکزی کابینہ کے رکن کے انتخاب کا مسئلہ درپیش ہو،ہر صورت میں ساواک کی منظوری ضروری ہوتی تھی۔ساواک کے اختیارات بہت وسیع تھے،ساواک والے جس شخص کو چاہتے بلا وارنٹ گرفتار کر سکتے تھے اور جب تک چاہتے اپنی حراست میں رکھ سکتے تھے۔ملزموں کو وکیل کرنے کی بھی اجازت نہ تھی۔انکے مقدمات کی سماعت فوجی عدالتوں میں ہوتی تھی،وہ بھی بالکل خفیہ ،جس میں ملزموں کو گواہ پیش کرنے کا حق نہ تھا اور نہ ہی فوجی عدالت کے فیصلوں کے خلاف کسی اعلی عدالت میں اپیل کی جا سکتی تھی۔قیدیوں کوبری طرح تشدد کیا جاتا تھا ۔کسی قیدی کو سیاسی قیدی کا درجہ نہیں دیا گیا تھا۔قیدیوں کو کوڑے مارنا،بجلی سے کرنٹ لگانا،ناخن نکالنا،دانت توڑنا،مقعد میں ابلتا پانی پمپ کرنا،فوطوں سے بھاری وزن لٹکانا،ملزم کو لوہے کی لال تپتی ہوئی چادر پر لٹانا،عورتوں کی نازک جسمانی حصوں میں ٹوٹی بوتل گھسیڑنا اور انکی عصمت دری کرنا یہ سب ساواک والے ایران میں شاہ کے مخالفین کے ساتھ کرتے تھے ۔ان مظالم کی تصدیق ڈاکٹر یسین رضوی جو کہ شاہ کا ایک بڑا حامی تھا، نے اپنی تصنیف میں کی ہے وہ لکھتے ہیں کہ جسم کے نازک حصوں کو زہریلے کیڑوں سے ڈسوانا ،خلاف فطرت حرکتیں کرنا،چاقو سے کھال چھیلنا،اہل خاندان کی عصمت دری کرنا ،روز مرہ کی سزائیں تھیں۔اگر کوئی سخت جان ان تمام اذیتوں کو جھیل جاتا مگر تائب نہ ہوتا تو اس کی بوری بند لاش ایران کی ویرانوں میں مل جاتی تھی۔رضوی اپنی کتاب میں تہران کی ایک مقبول شخص محمد طیب کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ یہ شخص شاہ کی مظا لم کی حمایت نہیں کرتا تھا تو اسے ساواک نے غنڈہ گردی کے جھوٹے الزام میں گرفتار کرکے تشدد کا نشانہ بنایا۔ اسکی سگی بہنوں کی عصمت دری کی گئی، اس کے باوجود بھی جب اس نے شاہ کی حمایت نہیں کی تو اس کو دو بھائیوں سمیت گولی مار کر قتل کر دیا ۔
ایک دفعہ ایک چھاپہ مار لڑکی شرف درانی ساواک کے ہاتھوں گرفتار ہوگئی۔ کچھ مہینے بعد وہ لڑکی فرار ہونے میں کامیاب ہوگئی۔ وہ اپنی آپ بیتی میں لکھتی ہے کہ اسے بے انتہا اذیت دی گئی ۔پوچھ گچھ کرنے والے عملے بار بار اسکی عصمت دری کیا کرتے تھے اور کچھ نہ بتانے کی پاداش میں اُس پر سانپ چھوڑے جاتے تھے۔مندرجہ بالا واقعات کی مختصر زکر سے یہ بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ کس طرح ایران کی خفیہ ایجنسی اپنے لوگوں پر بربریت ڈھاتی تھی۔ اسی طرح کی بربریت کا سامنا دنیا بھر کے انقلابیوں اور آزادی پسندوں کو ہوا ہے۔ بلوچستان میں بھی اسلامی فوج کے کارنامے ایرانی ساواک سے کچھ مختلف نہیں ہیں۔
شاہ ایران سیاسی تحریکوں، باالخصوص طلباء یونینز سے بے حد خوف زدہ تھی۔ ایران کے تعلیمی اداروں میں ساواک کے کارندے ہمیشہ موجود رہتے تھے تاکہ طلبا پر کڑی نظر رکھی جا سکے۔ سخت پہرہ داری کے باوجود وہاں طلباء شاہ کے خلاف جدوجہد اور مظاہروں میں پیش پیش تھے۔ بعض دفعہ گرفتاریوں کے بعد بھی طلباء پیچھے نہیں ہٹتے تو طلباء کو منتشر کرنے کے لئے فائرنگ کی جاتی تھی۔ ان فائرنگ کے واقعات سے کئی طلباء ہلاک ہوجاتے۔ بلوچستان کی آج کی صورت حال شاہ ایران کے زمانے کی ایرانی معاشرے سے مختلف نہیں ہے۔ آج بھی بلوچستان کے اسکولوں، کالجز اور یونیورسٹیوں میں فوج بڑی تعداد میں موجود ہے، جن کی موجودگی کا مقصد بلوچ طلباء پر نظررکھنا اور انہیں اغواء کرنا ہے۔ بلوچستان کے لائبریریوں، کتابوں کی دکانوں کو بھی اسی ڈر کی وجہ سے بند کیا جا رہا ہے کہ بلوچ نوجوان روشن خیال ادب کا مطالعہ کرکے معاشرے کی گھٹن اور غلامی کے خلاف جدوجہد کریں گے۔
پاکستانی ایجنسیوں نے بھی اپنے لوگوں پر ظلم کے پہاڑ توڑ دئیے ہیں۔ ترقی پسند تحریکوں، روشن خیال لوگوں اور لبرل لکھاریوں کے لئے پاکستان شروع سے ہی ایک خوفناک ملک رہا ہے۔ ترقی پسند تحریکیں چاہے کسی بھی زمانے میں چلی ہوں، پاکستان میں ایجنسیوں نے بھرپور طاقت کے استعمال سے ہی ان کا قلع قمع کردیا ہے۔ بلوچستان میں ریاست کی جارحیت اپنی انتہاؤں پر ہے۔ قومی تحریکوں کو طاقت سے کچلنے کی کوشش میں باربار ناکامی کے بعد بھی پاکستانی ایجنسیاں بلوچ تحریک کے خلاف طاقت کا استعمال کررہی ہیں۔ یہاں بھی ہر جگہ فرشتے ملیں گے جو عوا م کی حرکات اور سکنات پر نظر رکھے ہوئے ہیں ،جہاں کہیں پر بھی انکی جبر و ظلم کے خلاف اگر کوئی کچھ بھی کہے تو اُسے گرفتار کرنے اور پھر لاپتہ کرنے میں دیر نہیں لگتی ہے۔ یہاں پر بھی تمام اداروں اور عوامی جگہوں پر ان لوگوں کی مختلف شکلوں میں موجودگی رہتی ہے۔پاکستانی خفیہ ایجنسیاں اتنی بااختیار ہیں کہ یہاں بھی شاہ کے ساواک کی طرح اپنی من کے مطابق کسی کو بھی ،چاہے وہ کوئی طالب علم،ڈاکٹر،وکیل،اُستاد،اوردانشور ہی کیوں نہ ہو آزادی کے ساتھ اُٹھایا جاتا ہے۔جیلوں اور اذیت گاہوں میں تشدد کئی گنا زیادہ ہے جسکی مثال سندھیوں ،بلوچوں،مہاجروں اور پختونوں کی مسخ شدہ لاشوں یا پھر اذیتیں جھیل کر بازیاب ہوئے لوگوں سے ملتی ہے۔انہی خفیہ فرشتوں نے بنگلادیش کے بنگالی عورتوں کی آبروریزی اور قتل اور بلوچستان کے علاقوں بولان ،آواران،کولو اہ، ڈیرہ بگٹی، مکران اور کاہان کی خواتین کے اغواء اور قتل سے تاریخ میں اپنا نام سیاہ پنوں میں رقم کردیا ہے۔ کاہان سے اغواء ہونے والی ایک اسکول ٹیچرکی داستان جو منیر مینگل نے جیل سے رہا ہونے کے بعد بتایا تھا۔ ’’منیرمینگل کے مطابق زرینہ مری نامی اُس بلوچ عورت کے ساتھ جیل میں بہت برا سلوک کیا جاتا تھا۔ ہر قیدی سے اس خاتون کی عصمت دری کروائی جاتی تھی ۔ اس عورت کو میرے سامنے بھی اسی نیت سے پیش کیا گیا تھا‘‘ ۔
سیاسی کارکنوں پر تشدد سے پاکستانی آئی ایس آئی شاہ کے ساواک کے کردار کو دہرا رہی ہے۔ بلوچستان، سندھ اور دیگر علاقوں سے برآمد تشدد زدہ لاشیں اپنے اوپر ہونے والے تشدد کی گواہی دیتے ہیں۔
ڈاکٹر یٰسین رضوی اپنی تصنیف میں ساواک کی ظلم کا ذکر کرتے ہوئے کہتا ہے کہ جب کوئی قیدی ڈٹ کر اپنی دوستوں کی راز نہیں دیتا تو وہ اُسے قتل کرکے لاش کو بوری میں بند کردیتے اورہیلی کاپٹروں کے ذریعے ایران کے ویرانی علاقوں میں پھینک دیتے تھے۔ لاشوں کو ویرانوں میں پھینکنے سے پاکستانی خفیہ ایجنسی دنیا کی تمام ایجنسیوں پر تقریباََ سبقت حاصل کرچکا ہے۔پاکستان کے مقتدرہ طبقے، عدلیہ اور سول سوسائٹی کے لوگ بھی یہ ماننے پر مجبور ہوچکے ہیں کہ ہزاروں سیاسی کارکنوں کو اغواء کے بعد قتل کرکے ایجنسیوں نے ان کی لاشوں کو ویرانوں میں پھینک دیا ہے۔ 2009کو بلوچ نیشنل موومنٹ کے بانی چیئرمین کی ساتھیوں سمیت اغواء اور ان کی مسخ شدہ لاشوں کی برآمدگی سے پاکستانی خفیہ ایجنسیوں نے مارو اور پھینکو کی پالیسی کا باقاعدہ آغاز کردیا تھا۔ اس پالیسی کے تحت اب تک طلبا، داکٹرز، انجینئرز، سیاسی کارکنوں، صحافیوں سمیت زندگی کے تمام طبقہ ہائے فکر کے لوگوں کو اغواء کے بعد قتل کیا جا چکا ہے۔ لاشیں پھینکنے کے علاوہ پاکستان کی ایجنسیاں مغوی بلوچوں کی لاشیں اجتماعی قبروں میں بھی دفناتے ہیں۔ 2014کو توتک، اس کے بعد پنجگور، ڈیرہ بگٹی سے برآمد ہونے والی اجتماعی قبروں سے سینکڑوں مغوی کارکنوں اور عام لوگوں کی لاشیں برآمد ہوچکی ہیں۔
ساواک اور پاکستانی خفیہ ایجنسیوں کی انسان دشمن کاروائیوں میں خاص فرق نہیں، سوائے اس کے کہ ساواک کو شاہ براہ راست کنٹرول کرتی تھی، اور پاکستانی خفیہ ایجنسیاں جی ایچ کیو سے کنٹرول ہوتی ہیں۔ جی ایچ کیو سے ہی خفیہ ایجنسیوں کی غیرقانونی سرگرمیوں کو قانونی بنانے کے لئے مسودے پارلیمنٹ کو بھیجے جاتے ہیں۔ ان نئے قوانین کو نہ ماننے کا اختیار پھر کسی سیاسی پارٹی کو نہیں ہے۔ حالیہ دنوں میں فوجی عدالتوں کی قیام پر اعتراض کے باوجود بھی تمام پاکستانی پارٹیوں نے اس پر دستخط کردیا تھا، جس سے ایک مرتبہ پھر پاکستان میں جی ایچ کیو کے لامحدود اختیارات واضح ہوگئے۔
یہ تقابلی جائزہ صرف دو ایجنسیوں کا نہیں بلکہ اُن طبقات کے درمیان ہے جن کی آپس میں کبھی نہیں بنتی۔ ظالم طبقے چاہے وہ آئی ایس آئی کی شکل میں ہوں، یا ایرانی ساواک کی یا کہ کسی دوسری شکل میں، ان سب کے سامنے مظلوموں پر حکمرانی کرنے اور ان کی جدوجہد کو زیرکرنے کے لئے ایک آزمودہ ہتھکنڈہ ’’طاقت کا استعمال‘‘ ہمیشہ پہلی اور آخری ترجیح ہوتا ہے۔ لیکن یہ بات طے ہے کہ طاقت کے استعمال سے کسی قوم کو زیر کیا جا سکتا ہے اور نہ کہ کسی نظریاتی جدوجہد کو شکست تسلیم کرنے پر مجبور کیا جا سکتا ہے۔

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s