کراچی میں بلوچ نسل کشی

adil

عادل بلوچ
تاریخ کے اوراق میں کلاچی سے کراچی تک کا سفر کڑوا حقیقت ہونے کے ساتھ دردناک بھی ہے ۔بلوچ جغرافیائی حدود ، تاریخی ورثہ ، زبان ، ثقافت پر یلغار سے کلاچی کا کراچی میں تبدیل ہونا ایک طویل بحث کا متقاضی ہے۔میرا اپنے اس مختصر کالم میں، اس طویل کہانی کو زیر بحث لائے بغیر یہاں کے بلوچوں کی موجودہ حالتِ زندگی کے ہزاروں مشکلات میں سے صرف ایک ’’بلوچ نسل کشی‘ کو زیر بحث لانے کا مقصد گذشتہ کئی سالوں سے جاری بلوچ نسل کشی کے طویل منصوبے اور بحثیت مجموعی اپنی بے حسی کو خود پر آشکار کرنا ہے۔
ہر دورمیں مشکلات و مصائب کے باجود کراچی بلوچوں کی سیاسی ، سماجی ، ادبی سرگرمیوں کا مرکز رہا ہے ۔بلوچوں کی سب سے زیادہ آبادی والا شہر ہونے کے سبب بلوچ قومی تحریک میں کراچی کا ایک فعال کردار رہا ہے ،اور یہی سیاسی جدوجہد ریاست کیلئے دردِ سر تھی جبکہ ریاست کی ہمیشہ کو شش تھی /ہے کہ بلوچ قومی تحریک کے حوالے سے کراچی میں سیاسی خلا ء پیدا کیا جائے ۔ لیکن ہر دور میں ریاستی جبر کے سامنے بلوچ سیاسی کارکنان ڈٹے رہے ، میر عبدلعزیز کرد ، میر یوسف عزیز مگسی ، محمد حسین عنقا کی لیاری میں ابتدائی سیاسی و ادبی سرگرمیوں سے بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کا ظہور،بابا خیر بخش مری، میر غوث بخش بزنجو، سردار عطااللہ مینگل کی لیاری سے وابستگی سے نیپ کی تحریک تک، لالا لال بخش رند ، یوسف عزیز نسکندی،شہید غلام محمد ، شہید صبا دشتیاری سے تاحال بلوچ قومی تحریک کی جڑیں کراچی سے وابستہ ہیں ۔
ایوب خان کے دورِ حکومت میں ریاست نے کراچی سے بلوچ نیشنل ازم کے جڑوں کو کمزور کرنے کیلئے لیاری میں ’’ڈاکو راج ‘‘ نافذ کرنے کی کوشش کی۔ چونکہ لیاری اُس وقت سیاسی ، سماجی و ادبی سرگرمیوں کا مرکز تھا ،بلوچ سیاسی قیادت نے لیاری سے الیکشن لڑنے کا فیصلہ کیا ،میر غوث بخش بزنجوں لیاری سے رُکن اسمبلی منتخب ہوئے ۔ ایوب خان نے بلوچ سیاسی قیادت کے مقابلے کیلئے بھٹو کو لیاری بھیجا ، چونکہ لیاری میں بلوچ نیشنل ازم کی مضبوطی کے سبب ابتدائی دور میں بھٹو کو ناکامی کا سامنا رہا ،لیکن در حقیقت بھٹو کی انٹری طویل ریاستی منصوبے کا حصہ تھا ۔منشیات ، چوری ڈکیتی و دیگر چھوٹے موٹے جرائم کا آغاز ہوگیا ، اور دیکھتے دیکھتے لیاری ادب ، سیاست ، کھیل کے میدانوں سے جرائم کے مرکز میں تبدیل ہوگیا ۔
ابتدائی دور میں منشیات کو عام کیا گیا ، پھر منشیات فروشوں کے گرہ بنائے گئے ، ان گروں کو مضبوط کرکے آپس میں ان کا آمنا سامنا کرایا ، کالا ناگ ، بابو، شیروک ، دادل ، حاجی لالو لیاری میں خوف کے نام سے جانے لگے ۔ اس دور میں منشیات فروشو ں کو کھلی چوٹ دی گئی ، بلوچ نوجوانوں کو نیشنل ازم، سیاست ، ادب ، تاریخ ، ثقافتی سرگرمیوں سے نکال کر منشیات کی جانب لے جانے کا ایک سلسلہ شروع کیا گیا۔ لیکن اس دور میں بھی سیاسی کارکنان کی جدوجہد جاری رہی ، جب جب سیاسی جدوجہد تیز ہوتی گئی ریاست منشیات فروشوں کو تیزی سے مضبوط کرتا گیا ۔ ریاست کی ابتدائی پالیسیوں میں یہ بھی شامل تھی کہ بلوچ تحریک کے خلاف بلوچوں میں منشیات فروش پیدا کیے جائیں ،اور ریاست تواتر کے ساتھ منشیات کو عام کرتا گیا اور نوجوان تیزی سے منشیات کی جانب گئے ۔ ہزاروں نوجوان منشیات فروش اور منشیات کے عادی ہوگئے ، ریاست بلوچوں کی سب سے بڑی آبادی والے شہر میں زہر پھیلاتا رہا ۔ جبکہ اس دوران بلوچ سیاسی قیادت کی بنیادی غلطی ریاست کی ’’ تقسیم کرو، حکومت کرو‘‘ کی پالیسی سے نہ آشنائی تھی ۔ ریاست عام بلوچ نوجوانوں کو بابو، کالاناگ، شیروک، دادل بناتا رہا ، اور لیاری کو منشیا ت کے گڑھ میں تبدیل کرتا رہا لیکن بلوچ سیاسی قیادت ان کو روکنے میں مکمل طور پر ناکام رہی ۔ گرزتے وقت کے ساتھ دادل ، شیروک ماضی کے بدنام زمانہ کردار بن گئے ۔ پھر نیا دور شروع ہوادادل کا بیٹا رحمن ، حاجی کا لو کا بیٹا ارشد پپو کا ظہور ہوا۔ یہ دور دادل و شیروک کے دور سے بھیانک تھا ۔ منشیات کے ساتھ ساتھ اسلحہ کی دوڑ شروع ہوئی ،پھر دیکھتے ہی دیکھتے ریاست نے پیٹرن کو بدل دیا ۔ اب بلوچ نوجوانوں کو منشیات کے بجائے بندوق کی گولی سے قتل کا سلسلہ شروع ہوا ۔بلوچ نوجوانوں کے بھیانک قتل عام کا سلسلہ شروع ہوا، گلی ، محلوں میں بوری بند اورسرکٹی ہوئی لاشیں برآمد ہونا شروع ہوگئے ، اور یہ سلسلہ دن بہ دن شدت اختیار کرتا گیا ، لیاری کی سیاسی فضا ء میں خاموشیاں چھاگئیں ، ادبی ، سماجی سرگرمیاں ماند پڑگئے ۔ بھٹوخاندان سیاسی سرداری کے چکر میں ریاست کی پالیسیوں کا حصہ بن کر ’’لیاری ‘‘ کے پیٹھ پیچھے ’’تیر ‘‘ گونپ دیا ۔ اب کے لیاری سید ظہور شاہ ہاشمی، اُستاد ستار، جاڑوک، یوسف نسکندی ، لالا رند کے بجائے رحمن ، پپو، غفار اور لاڈلا کے نام سے جاننے لگا۔ریاست شطرنج کے مانند کھیل رہا تھا ، بلوچ نوجوان انتہائی سفاک طریقے سے قتل کیے جارہے تھے ، رحمن کا قتل ہوا، عزیر کو لیاری کا کنگ بنایا گیا ۔ریاست نے گلی ، کوچوں جگہ جگہ ’’مقتل گاہ ‘‘ بنانے کے حکم نامے جاری کیے ، متقل گاہوں میں بلوچوں کو جانوروں کی طرح زبح کیا جاتا رہا ، ہم نے تو نجی اذیت گاہوں یا جیلوں کا سن رکھا تھا ، لیکن اس دور کے لیاری میں’’ نجی قبرستان ‘‘قائم کیئے گئے ، لاشوں کی ٹکڑے ٹکڑے کرکے دفنانے کے فرائض بھی خود ہی انجام دیتے تھے ۔ عزت و ناموس کی بدترین پامالیاں ہوتی رہی ، سرکاری اسکولیں ، لائبریریاں ، پبلک پارک، فٹبال گرانڈ و دیگر سماجی سرگرمیاں ماضی کے قصہ بن گئے ۔
ریاست بلوچ کے خون کا پیاسا بن چکا تھا ، لیاری کے خون سے ریاست کی آبیاری نہیں ہورہی تھی۔ گینگ وار کو کراچی کے دیگر بلوچ علاقوں میں منتقل کرنا شروع کردیا ۔ ملیر ، گڈاپ، ڈالمیا، فقیر کالونی، ماری پور ، یوسف گوٹھ ،مواچھ گوٹھ اور جہاں جہاں بلوچ آباد ہیں وہاں گینگ وار شروع ہوا ، لیاری کی طرح دیگر بلوچ علاقوں میں ریاست نے ’’بلوچ کو بلوچ کے ہاتھ قتل کرنے کا بھیانک سلسلہ شروع کیا تھا ‘‘ پورے کراچی میں جہاں بلوچ آباد ہے وہاں ایک ہی طرح کا ماحول بنانے میں ریاست کامیاب ہوگیا ، قتل عام ، منشیات ، سٹہ بازی اور دیگر سماجی برائیوں کے عام ہونے کے ساتھ علمی ، سماجی ، سیاسی و ادبی سرگرمیاں منظر سے غائب ہوتے گئے ۔
نئے دور کا آغاز ہوا(حالیہ دور) ریاست نے نیا Pattrenسامنے لایا۔ اب کی بار گینگ وار کی جگہ ’’رینجرز وار‘‘کو لایا گیا ۔اس نئے فلم میں کہانی تبدیل نہیں ہوئی البتہ کردار بدل گئے۔ ہیرو کا کردار اب ریاست نے لالو، رحمن اور عزیر سے چھین کر وردی والوں کے حوالے کردیا ہے۔وہ بلوچ نوجوان جو ریاست نے مسلح کیے تھے اپنے ہی لوگوں کو قتل کرنے کیلئے اب وہ خود براہ راست ریاست کے ہاتھوں قتل ہونا شروع ہوئے ہیں۔ رینجرز نے چُن چُن کر نوجوانوں کو قتل کیا اور یہ سلسلہ ہنوز جاری ہے ۔ ریاستی فورسز گناہ بے گناہ کی تمیز سے بالاتر ہوکر صرف بلوچ ہونے کی بنیاد پر قتل عام کررہے ہیں ۔ رینجرز وار سابقہ گینگ وار سے زیادہ خطرناک ہے ۔ رات کے کسی بھی پہر یہ وردی والے بدمعاش گھروں میں عزت و ناموس کو پا مال کرنے کے ساتھ لوٹ مار کرکے چلے جاتے ہیں ، دن دہاڑے خواتین ، بچے و بزرگ کسی کو بھی تشدد کا نشانہ بناسکتے ہیں ، سر عام نوجوانوں کو پکڑ کر گولیوں سے بھون دیا جاتا ہے ۔
کراچی کہنے کو تواس کرہ ارض کی بڑی شہروں میں سے ایک ہے ۔ کراچی میں تو کسی کتے کے کچلنے کا خبر میڈیا کی زینت بنتی ہے ۔ لیکن بلوچ کیلئے بلوچستان کی وہ دور افتادہ پہاڑ اور کراچی کے عظیم الشان محلات میں کوئی فرق نہیں ۔بلوچ تو مشکے بھی اسی طرح قتل ہورہا ہے جس طرح لیاری میں ۔ آج تک کسی بھی انسانی حقوق کے ادارہ نے نہیں کہا ’’لیاری میں انسانی حقوق کی پامالیاں ہورہا ہے ‘‘ میڈیا ، سول سوسائٹی ، انسانی حقوق کے ادارے سب کے سب بڑے فخر سے لیاری میں جاری خاموش قتل عام کو امن کا نام دیتے ہیں۔
جبکہ گذشتہ دس سالوں کے دوران ریاست نے ہزاروں کی تعداد میں بلوچ کراچی میں قتل کیئے، جن میں اکثریت نوجوانوں کی تھی ۔ ہزاروں گھر اُجڑ گئے ، ہزاروں خاندان دربہ در ہوئے ،ریاست جتنی شدت سے قتل عام کررہا ہے ، اُس شدت سے لوگوں کے زہنوں پر غلبہ حاصل کررہا ہے۔ ریاست طاقت کے زور پر لوگوں کے زہنوں کو فتح کرنا چاہتاہے، جب جب ریاست اپنے اس عمل میں مایوسی محسوس کرتا ہے ، تو رد عمل میں دن دہاڑے لوگوں کے عزت و نفس کو مجروح کیا جاتا ہے یا رات کی تاریکی میں چاردیواریوں پر دھاواا بول دیتا ہے ۔ جبکہ ریاست نے لیاری کو جنگی صنعت ’’وار انڈسٹری ‘‘ میں تبدیل کیا ہوا ہے ، منشیات فروشی ، سٹہ بازی ، اغواء برائے تاوان اس سے قبل گینگ کے کنٹرول میں تھے اب براہ راست رینجرز ہیڈکواٹر سے معاملات چل رہے ہیں ، نوجوانوں کو اس صنعت میں بھرتی کیا جاتا ہے جس حد تک اُن کی ضرورت ہوتی ہے اُن سے کام لیا جاتا ہے ، ضرورت مکمل ہونے کے بعد نوجوانوں کو غائب کرکے ’’ یکطرفہ مقابلوں‘‘ میں مارا جاتا ہے۔
ہم سمجھتے ہے کہ ریاستی جبر فطری عمل ہے کیونکہ بلوچ اور ریاست کا رشتہ ظالم اور مظلوم کے بنیاد پر قائم ہے ۔ اس لحاظ سے بلوچ ہونے کی بنیاد پر ریاست سے شکوہ فضول ہے ، لیکن ریاستی جبر کے خلاف اپنی بے حسی کوملامت کرنا چاہیے۔ یہ بلوچ قیادت کی کوتاہ بینی ہی ہے کہ بلوچوں کی سب سے بڑی آبادی والے شہر کو دشمن کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا ہے ، ریاست ہمارے نوجوانوں کو ’’وحشی ، درندہ‘‘ کے القابات سے نواز کر بے دردی سے قتل کررہا ہے ، لیکن افسوس کا امر یہ ہے کہ بلوچ اب تک سمجھنے سے قاصر ہے کہ وہ کیوں مررہا ہے۔ ریاست رنگ ، نسل، مذہب سے بالاتر ہوکر صرف بلوچ ہونے کی بنیاد پر لیاری ، ملیر ، گڈاپ،ڈالمیا، یوسف گوٹھ و دیگر علاقوں سے چُن چُن کر بلوچ نوجوانوں کا قتل کررہا ہے۔لیکن ہم بحیثیت بلوچ ریاستی جبر کے خلاف مزاحمت میں ناکام رہے ہیں ۔ ہمیں اپنے مرنے پر احساس کرنا ہوگا وگرنہ تاریخ میں بحیثیت قوم مُردہ ضمیر یاد کیے جائے گے

(یہ آرٹیکل سگار ویب سائٹ پر شائع ہوچکا ہے)

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s