قومی آزادی کی تحریک اور فرسودہ روایات

تحریر : کمال بلو چ

قومی آزادی اور خوشحالی کسی سماج کو قابلِ احترام ٹھہراتی ہے۔ہر باشعور انسان اپنے آزادی کے لئے جدوجہد کرتا ہے۔قوموں کی آزادی ہی انکی خوشحالی کا ضامن ہے۔سماج دشمن و قوم دشمن لوگ قومی اتحاد کو پارہ پارہ کرتے ہیں۔ایسے bookلوگ قومی تعمیر و ترقی کی راہ میں ہمیشہ رکاوٹ ہوتے ہیں، جبکہ اس کے برعکس آزادی و خوش حالی کے لئے جدوجہد کرنے والے لوگ سماج میں دیوتا کا مقام رکھتے ہیں۔ معاشرے حساس ہوتے ہیں لیکن طاقت کے زیر سایہ زندگی بسر کرنے والے معاشرے زیادہ ہی حساس ہوتے ہیں۔کیوں کہ غلام سماج قبضہ گیروں کی طاقت آزمائی کے لئے ہمیشہ’’ امتحان گاہ‘‘ کی حیثیت رکھتے ہیں۔شعوری طور پر غلامی کے خلاف لڑنے والے اقوام قابض سے کسی قسم کا سودا نہیں کرتے، بلکہ خندہ پیشانی کے ساتھ اپنی راستے میں حائل رکاوٹوں و مشکلات کا مقابلہ کرتے ہیں۔
بلوچ قومی آزادی کی تحریک فرسودہ روایات سے ہٹ کر گزشتہ 15 سالوں سے تنظیمی بنیادوں پر عوامی اعتماد کے ساتھ چل رہا ہے۔ہر روز پاکستانی ریاست بلوچ فرزندان کی لاشیں پھینک رہی ہے۔بلوچ قومی تحریک آزادی کے ساتھ عوام کا بھروسہ اس بنیاد پر ہے کہ سیاسی کارکنان اپنی جانوں کی پرواہ نہ کرتے ہوئے عوام کی رہنمائی کررہے ہیں۔ لیکن اس کے باوجود اس جدوجہد میں کچھ ایسے واقعات رونما ہو رہے ہیں جن کا تعلق براہ راست بلوچ قومی اجتماعی زندگی سے ہے۔قابض ریاست سے برسرِ پیکار چند لیڈران اپنے کردار و اعمال سے قومی نقصان کا سبب بنتے جا رہے ۔ اس بات سے ہمیں باخبر ہونا چاہیے کہ رہنما اس وقت عظیم نہیں مانے جاتے ہیں جو غلطی پر غلطی کر بیٹھیں۔ حالیہ کچھ عرصے سے کچھ ایسے واقعات جنم لے رہے ہیں۔ بلوچ قومی آزادی کی تحریک جو عوامی اعتماد کی بنیاد پر چل رہا ہے،اس اعتماد کو لیکر کچھ صاحبان غلط فہمی کا شکار ہو کر عجیب و غریب موقف اپنا رہے ہیں۔سوشل میڈیا میں اپنے نمائندوں کے ذریعے خود ساختہ باتیں پھیلا کر تحریک کے ہمدردوں کو مایوس کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ایسے لوگوں کے بارے میں فینن کہتا ہے کہ ’’ کوئی رہنماء خواہ وہ کتنا ہی قابل قدر کیوں نہ ہو،عوام سے بڑھ کر نہیں ہوتا، اپنے آپ کو بین الاقوامیوقار کے مسائل میں اُلجھانے سے بیشتر اپنی قومی وقار اور بقاء کو جاننا ضروری ہے‘‘۔
قومی آزادی کی جدوجہد کا معیار قوم پرستی اور انقلابی ہونا ہے۔جدوجہد کے اصولوں کو سمجھ کر اس پر چلنے والے لوگ قابلِ قدر ہوتے ہیں۔اس لئے اس نظریہ کو ماننے والے لوگ جوق در جوق آزادی کی تحریک میں شامل ہوتے ہیں۔کسی بھی سخت حالت میں نظریے کو ہی بقاء حاصل ہوتی ہے۔شعوری بنیاد پر لوگ نظریے کا ہمسفر ہوجائیں تو انہیں کوئی ختم نہیں کرسکتا۔ کوئی بڑا حادثہ کسی عمل کو متاثر کرسکتا ہے لیکن راستے کا رکاوٹ نہیں بن سکتا۔بلوچ قوم نے ہر وقت قومی آزادی کی آواز پر لبیک کہا ہے اور 1839سے لیکر آج تک پوری بلوچ قومی تحریک آزادی کے ساتھ ہمقدم ہے۔اس دوران کبھی دشمن کی جبر، تو کبھی نام نہاد رہنماؤں کا دھوکہ تحریک کی ناکامی کا سبب بنی ہے۔لیکن اس کے باوجود بلوچ عوام ہمیشہ آزادی کی تحریک سے جڑے رہے ہیں۔ایک ذمہ دار قوم ہر وقت جبر و تشدد و قبضہ گیریت کو سہنے کے بجائے مزاحمت کرتی ہے۔اس بات سے کوئی انکار نہیں کر سکتا کہ دھوکہ ، لالچ رکاوٹ بن سکتے ہیں،تاریخ میں عیدو و جعفر اور صادق جیسے کرداروں کا ذکر ملتا ہے جنہوں نے اپنی قوم سے دغا بازی کی ہے مگر ایسے سرخرو کردار بھی تاریخ میں امرہوئے ہیں جنہوں نے لالچ و خوف کے سامنے جھکنے کے بجائے چے گویرا، منڈیلا، بھگت سنگھ، اکبر خان، غلام محمد، بالاچ مری، رضا جہانگیر کی طرح اپنی زندگیا ں قربان کی ہیں۔ قومی آزادی کی جدوجہد دھوکے کی بنیاد پر نہیں بلکہ کھلے دل و دماغ کے ساتھ تمام مشکلات کا سامنا کرنے سے جیتے جاتے ہیں۔لیکن وقت و حالات کا انتخاب کرکے پالیسیاں تشکیل دینا بہت اہم ہے کیوں کہ تاک میں بیٹھے دشمن ہمیشہ اس کوشش میں ہوتا ہے کہ کس طرح تحریک کی کمزوریوں سے فائدہ اُٹھایا جا سکے۔دشمن پروپیگنڈوں و دیگر حربوں کے ذریعے اپنے مدمقابل کو ہمیشہ زیر کرنے کی کوشش میں رہتا ہے۔اپنے پروپیگنڈے کے عمل کو جاری رکھنے کے لئے دشمن اپنے اور نوآبادیات کے دانشوروں کو خرید کر ان کے ذریعے محکوم عوام میں مایوسی پھیلانے کی کوشش کرتی ہے۔
آج میڈیا و دانشوروں کے ساتھ ساتھ نام نہاد قوم پرست بھی استعال ہو رہے ہیں۔بڑے پیمانے پر ہونے والی سرمایہ کاری کے منصوبوں کو تکمیل تک پہنچانے کے لئے تحریک کے خلاف ریاستی کاؤنٹر پالیسیاں عروج پر ہیں۔ اس وقت چین گوادر اور اسلام آباد میں موجود ہے، جس کے سامنے بلوچستان میں سرمایہ کاری کرنے کے حوالے سے سب سے بڑی رکاوٹ بلوچ قومی تحریک ہے۔اس رکاوٹ کو زائل کرنے کے لئے چائنا کی مدد سے پاکستانی فورسز مکران، جھالاوان ،سروان اور بلوچستان کے دیگر حصوں میں آپریشنز میں مصروف ہیں۔چین گوادر پورٹ پر ہر حال میں اپنا قبضہ چاہتا ہے۔اسی لئے وہ پاکستانی فوج کی ساتھ ملکر بلوچ قومی تحریک کو کاؤنٹر کرنے لئے ہر قسم کی مدد کررہی ہے۔
اس حقیقت سے پوری دنیا واقف ہیکہ بلوچستان پر پاکستان نے قبضہ کیا ہوا ہے۔اس قبضہ گیریت کے خلاف ہر محاذ پر بلوچ عوام لڑرہے ہیں۔اب اس بات کو سمجھنے کی ضرورت ہے کہ دشمن کس طرح بلوچ تحریک کو کاؤنٹر کرنے کے حربوں پر عمل پھیرا ہے۔دشمن کی تمام سازشوں کو ناکام بنانے کے لئے آزادی کی جہدکاروں کو اپنی صفوں میں اتحاد و اتفاق پیدا کرنا ہوگا۔جدوجہد کے اس موڑ میں ہمارے رہنماؤں کو کافی سمجھ بوجھ کر اپنی پالیسیاں تشکیل دینا چاہیے۔ کیوں کہ جدوجہد انتہائی نازک موڑ میں ہے جہاں غلطی کی کوئی گنجائش نہیں۔دشمن کی نظر بلوچ تحریک پر ہے کہ کون کس موقع پر کونسا فیصلہ لیتا ہے۔
حال ہی میں بی آر پی کے قائد براہمدغ بگٹی کی دی جانے والی انٹر یوز اور بیانات کو اگر ہم غیر سیاسی کہیں بھی تو حق بجانب ہوں گے۔ کیوں کہ ان انٹرویوز میں نواب براہمدغ بگٹی نے جن الفاظ کا انتخاب کیا ان سے فائدہ صرف اور صرف دشمن کو پہنچتا ہے۔
حال ہی میں براہمدغ بگٹی نے اپنے ایک بیان میں بلوچ نیشنل فرنٹ کے حوالے سے جو سوالات اُٹھائے ہیں وہ بد نیتی کے BARAHAMDAGH-BUGTI-300x160سوا کچھ بھی نہیں۔بی این ایف کا بلوچ سیاست میں ایک معتبر مقام ہے جس نے ہر حوالے سے متحرک کردار ادا کیا ہے۔براہمدغ بگٹی کی حالیہ سوالات کا مقصد ریاست سے مذاکرات کے لئے اپنے موقف کو عملی جامہ پہنانے کی کوشش ہے۔بی این ایف کے اتحاد میں شامل بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے خلاف بھی بے بنیاد زبان درازی کی ہے۔بی ایس او جیسی تنظیم پر الزام لگا کر براہمدغ بگٹی در اصل اپنی تنظیمی نااہلی کو قوم سے چھپانے کی کوشش کررہے ہیں ۔بی ایس او ایک Mother Organization ہے جس کے کردار سے بلوچ قوم کا ہر فرد واقف ہے ۔۔۔
بلوچ عوام ان رہنماؤں کو قدر کی نگاہ سے اس لئے دیکھتی ہے کہ وہ آزادی کی غیر مشروط جدوجہد کررہے ہیں۔اگر اس نازک موڑ میں براہمدغ بگٹی سمیت کوئی بھی رہنماء آزادی کے موقف سے دستبردار ہو جاتا ہے تو بلوچ عوام ان کو نفی کرتے ہیں۔بی آر پی کے قائد کی حالیہ
انٹرویو اور بیانات سے جہاں کئی سوالات جنم لے رہے ہیں وہیں براہمدغ بگٹی روزانہ اپنے آزادی کے موقف سے پیچھے ہٹتے جا رہے ہیں۔مایوسی کے عالم میں براہمدغ بگٹی نے مزاکرات کے لئے ایجنڈہ رکھنے کا اختیار بھی ان قابضین کو دیا جو بلوچ سرزمین پر قابض ہیں اور ہزاروں معصوم بلوچوں کے قاتل ہیں۔براہمدغ بگٹی مزاکرات کے لئے سازگار ماحول پیدا کرنے کی بات کرکے مزاکرات کا اختیار قابض فوجیوں کو دے رہے ہیں جو کہ براہمدغ بگٹی کی سیاسی نابالغی کی عکاسی ہے۔کیوں کہ بلوچ قومی تقدیر کا فیصلہ براہمدغ سمیت کسی بھی فرد کو حاصل نہیں کیوں کہ ہزاروں شہدا نے اپنی زندگیاں قومی آزادی کے لئے قربان کی ہیں۔ پاکستان جیسے غیر فطری ریاست سے آزادی کی جدوجہد انتہائی معاملہ فہمی اور سنجیدگی کا متقاضی ہے۔ اگر کسی کا دل چاہے وہ قومی تحریک کے حساس معاملات کو میڈیا میں مذاق کا ذریعہ بنائے یا کوئی اپنی مایوسی کو قومی مایوسی کہہ کر قابض سے مزاکرات پر آمادگی ظاہر کردے تو ان سے آنیوالا وقت سخت احتساب کریگی۔ اس طاقت کو ایجنڈہ رکھنے کا اختیار دینا کہ جس نے سرزمین پر قبضہ کر کے یہاں نسل کشی کی ہے، اس کی فورسز آئے روز بلوچ عوام کا قتل عام کررہے ہیں، کے احتساب کا دن ایک مقرر ہے۔ ایک سیاسی کارکن کے لئے ایسے بیانات مضحکہ خیز ہیں۔بقول چیئرمین زاہد بلوچ ’’ پاکستان اور بلوچستان دو تضاد ہیں، ان میں سے ایک کو ختم ہونا ہوگا‘‘۔ اس حقیقت سے کوئی بھی انکار نہیں کر سکتا کہ بلوچ عوام کی خوشحالی پاکستان سے مشروط مزاکرات میں نہیں بلکہ پاکستان کی بلوچستان سے مکمل اننخلاء میں ہے۔
مزاکرات کرنے کا فیصلہ اگرچہ ایک پارٹی کی انفرادی حیثیت کا فیصلہ ہے لیکن اس بات پر خود کو بااختیار سمجھنا کہ وہ قومی اجتماعی مفادات کو پس پشت ڈال کر اپنے مفادات کے لئے کسی سے مذاکرات کرے مضحکہ خیز ہے۔کیوں کہ بلوچ قومی آزادی جیسے عظیم مقصد سے انحراف بلوچ عوام کے لئے کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔ضرورت اس امر کی ہے کہ بلوچ قومی مفادات کو تحفظ دینے کے لئے پاکستان جیسے غیر فطری و قابض ریاست سے مزاکرات کے بجائے اس قبضہ گیریت کو شکست دینے کے لئے اپنی صفوں کو مضبوط کریں۔ہم دشمن کی طرح نہ سوچیں بلکہ اس سوچ کو تبدیل کریں ،دنیا انسانیت کے نام پر کما رہی ہے، لیکن انسانیت کے محافظ بہت ہی کم ہیں۔ بحیثیت ایک زندہ قوم کے ہمیں قومی طاقت بننا ہو گا۔بوسیدہ سوچ قوموں کی مستقبل کو تباہ کردیتا ہے۔ہماری آنے والی نسلوں کی خوشحالی کا سوچ و فکر ہی ہمیں تاریخ میں سرخرو کرتی ہے۔

 

One comment on “قومی آزادی کی تحریک اور فرسودہ روایات

  1. Pingback: قومی آزادی کی تحریک اور فرسودہ روایات | balochrightscouncil

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s