کتب کا عالمی دن اور بلوچ اسٹوڈنٹس

تحریر : لطیف جوہر بلوچ

جورو

(یونیسکو، کتاب دوست انسانوں اور تمام اسٹودنٹس کے نام)

یہاں میں بلوچ صحافی ملک سراج اکبر کا ایک خوبصورت جملہ پیش کرنا پسند کروں گا ’’کہ بی ایس او نے سب سے بڑی کام جو بلوچ معاشرے میں خاص کر بلوچ اسٹوڈنٹس میں کی ہے وہ ہے ان میں کتاب پڑھنے اور اخبارات کا مطالعہ کرنے کی عادت ورجحان۔‘‘ بالکل یہ بات میں نے اس وقت محسوس کیا جب میں پہلی بار بی ایس او (آزاد) کا ممبر بنا تو پہلے ہی دن بی ایس او کے جس لیڈر سے میری ملاقات ہوئی اس نے مجھے ایک کتاب اس شرط پرتحفے میں دی کہ میں اس کا ضرور مطالعہ کروں گا۔ وہ کتاب میکسم گورکی لکھی ہوئی مشہور ناول ’’ماں‘‘ تھی۔کتاب مجھے میرے سیاسی استاد رضا جہانگیر عرف شے مرید بلوچ نے دی ۔ بعد میں 14اگست 2013 کو اسی کتاب اور قلم کی دوستی اور لوگوں کو پڑھنے اور پڑھانے کی طرف راغب کرنے کی جرم میں شے مرید کو بھی علم دشمنوں نے شہید کرکے ہم سے جدا کردیا۔ اسی طرح میں جہاں جس دوست کے پاس جاتا ہوں تو مجھے وہاں ضرور کتابیں دیکھنے کو ملیں گی وہ بھی بڑی تعداد میں جسکی مثال 24 ستمبر2013 کو بلوچستان میں زمین بوس دینے والی زلزلے نے دیدی جب اکثر گھروں سے کتابوں کی انبار مٹی تلے دبی ملیں ۔ آواران کے زلزلے سے پہلے میں اور میرا اسیر چیئرمین زاہد بلوچ اور دوسرے کچھ دوست ایک ساتھ بیٹھے تھے تو زاہد کے پاس ماؤ اور ہوچی منھ کی کتابیں تھیں اور ہمیں پڑھاتے، سرکلز لگاتے تھے۔ ہم اسی دوران بھی تربیتی نشست پر بیٹھے تھے کہ زمین کا ہلنا شروع ہوا تو چیئرمین زاہد بلوچ نے ہمیں گھر سے نکلنے کو کہا اور خود آخر میں نکلے تو چند سیکنڈ بعد تمام مکانات زمین بوس ہوگئے۔ ہم نے بھی ملبوں کو اٹھانا شروع کردیا زخمیوں اور لاشوں کو نکالنے کے لئے میں نے خود جہاں جہاں ملبے اٹھائے وہا ں وہاں مجھے زخمی بدن کے ساتھ دوسرے ان کی ٹوٹی ہوئی سامان کے ساتھ کتابیں بھی بڑی تعداد میں ملیں اور ان میں سے زیادہ تر علم دوستی، انسان دوستی، وطن دوستی کے متعلق تربیتی کتابیں تھی BSO Azad اور Sagaar Publication, Sangar Publications کی جانب سے چھپوائے گئے تربیتی سیریز بھی ان میں شامل تھیں۔ ان مثالوں کا مقصد بلوچ اسٹوڈنٹس کی کتابوں سے دوستی کی چھوٹی سی ثبوت ہے ۔ دوسری جانب آپ سب کو معلوم ہے کہ بلوچ اسٹوڈنٹس پر مختلف طریقوں سے ظلم کیا جا رہا ہے۔ سکولز، کالجز یا یونیورسٹی سے اغواء کرکے پھر انکی مسخ شدہ لاشیں ویرانوں میں پھینکنا، تعلیمی اداروں میں فورسز کی تعیناتی، کتاب اور قلم پر پابندی عائد کرنا، ٹیچرز کو اغوا اور ٹارگٹ کرنا، انہیں ڈرانا و دھمکانا۔ جس کی بہت ساری مثالیں ہیں۔24 کتابوں کے خالق شہید استاد صباء دشتیاری کی اس انداز سے قتل ہمارے لئے علم کے درووازے بند کرنے کی پہلی گھنٹی تھی۔ انکی علم دوستی کا ایک اور ثبوت سیدظہور شاہ ہاشمی ریفرنس لائیبریری ہے جہاں لا تعداد مضامین پر ہمیں لا تعداد کتابیں ملیں گی۔اس کو بھی ٹارگٹ کرکے ہم سے جدا کر دیا گیا۔ بلوچستان میں استاد سے لیکر شاگرد اور انکی کتابیں بھی محفوظ نہیں ہیں حال ہی تربت میں قائم ڈیلٹا سینٹر میں چھاپہ مار کر پاکستانی فورسز نے وہاں ڈیلٹا کے استاد رسول جان کو 13کم عمر بلوچ اسٹوڈنٹس کے ساتھ اغواء کیا جبکہ دوسرے دن عطاشاد ڈگری کالج کے ہاسٹل میں بی ایس او (آزاد) کے قائم کردہ لائبریری کے تمام کتابوں کو اپنی گرفت میں لے کر فورسز نے بی ایس او (آزاد) پر یہ الزام لگا کر کتابوں کو میڈیا کی زینت بناکر انہیں دہشت گردی کو فروغ دینے والی کتابیں قرار دیں، کسی ذی شعور کو حیرت نہ ہوئی کیونکہ یہ ایف سی کا حسب سابق ایک ڈرامہ تھااور یہ کتابیں ہر بُک اسٹال پر بآسانی دستیاب ہوتی تھیں۔ان کتابوں میں ڈاکٹر چے گویرا، نیلسن منڈیلا، نہرو، گاندھی، ماؤ، لینن، مارکس اور دوسری کتابیں جو اسٹوڈنٹس کوانسان دوستی اور سچائی کے درس دیتے ہیں۔ ہاں اگر کوئی بلوچ اسٹوڈنٹ نیلسن منڈیلا جیسا بنے پوری دنیا کو سیاہ ءُُ سفید کی جنگ سے نکال کر صرف انسان بننے کی درس دے اور عمل کرے تو کیا یہ دہشت گردی ہے؟ کیا آپ منڈیلا کو دہشت گرد کہلوانے پر راضی ہونگے؟ کیا منڈیلادہشت گرد تھا؟ کوئی لینن اور مارکس بنے برابر ی کی جدءُُ جہد کرے کیا وہ دہشت گرد ہے؟ چینی لوگ بتاؤ کیا ماؤ زے تنگ دہشت گرد تھا؟آج میں آپ کے لیڈر کوپڑھنے کے ساتھ ساتھ اس کے ہر قول و عمل کا مطالعہ کرتا ہوں تو مجھے دہشت گرد ٹھہرایا جاتا ہے اور قتل کیا جاتا ہے۔مقصد فقط بلوچوں کو نا خواندہ رکھکر بلوچ شناخت کو مسخ کرکے انہیں ہر قسم کی جد و جہد سے دور رکھنا ہے۔ماؤ کی قوم اور پیروکاروں کو دیکھ کر بہت افسوس ہوتی ہے کہ میں اُس عظیم انسان کو انسانی ہیرو سمجھ کر انکو follow کرتا ہوں لیکن آج کا چین اس ملک کا معاون ہے جو ماؤ کی کتابیں پڑھنے پر ہمیں قتل کر رہا ہے ۔ ویت نام والے بتا سکتے ہیں کہ ہوچی منھ دہشت گرد تھا یا ہیرو؟ اسی طرح انڈیا والو آپ نہرو، گاندھی ، بھگت کو دہشت گرد مانتے ہو؟ یا ہیرو۔۔؟ اگر کوئی حق اور سچ کیلئے آواز اٹھائے وہ دہشت گردہے؟ کیا ڈاکٹر چے دہشت گرد تھا؟ کیا کاسترو دہشت گرد تھا؟ کیا اپنی تاریخ پڑھنا ، دنیا کی تاریخ پڑھنا ، دنیا کو سمجھنا،لوگوں کو حق اور سچ کیلئے بولنا سکھانا، علم و ادب کی طرف راغب کرنا ،لوگوں کو انسان بننے کی درس دینا دہشت گردی ہے؟ اگر نہیں تو ہم بلوچ اسٹوڈنٹس یہی کررہے ہیں ، اسی کے صُلے میں ہمیں مارا جا رہا ہے اغواء کیا جا رہا ہے۔کتابیں اور قلم چھینے جا رہے ہیں۔ ہمارے لیڈر و ورکرز قربان ہورہے ہیں۔آج 23اپریل کو کتب کا عالمی دن پرمنایا جاتاہے۔ یوینسکو کی اپیل پر دنیا ہر سال تقریبا100 سے اوپر ملکوں میں کتابوں کے دن کے طور پر سیمینار ، پروگرامز منعقد کرتی ہے۔ میں بھی ایک اسٹوڈنٹ ہوں میرے لیڈر بی ایس او آزاد کے چیئرمین زاہد بلوچ کو 18مارچ 2014کو کوئٹہ سے پاکستانی خفیہ اداروں نے اغواء کرکے لاپتہ کردیا ہے اس کا جرم صرف کتابیں پڑھنے، پڑھانے اور بلوچ اسٹوڈنٹس کو منظم کرکے حق اور سچ کیلئے ہر قسم کی قربانی دینے کا درس دینے کا ہے۔میرے لیئے آج یہی کتابیں اہمیت رکھتی ہیں شاید آپ لوگوں کو انٹرنیٹ میسر ہو ۔ آپ انٹرنیٹ استعمال کرکے پڑھتے ہو۔ میں غلام اسٹوڈنٹس ہوں انٹرنیٹ سے محروم ہوں اب بھی میرے بیگ میں کتابیں ہیں ۔ کالج اور یونیورسٹی کے قریب مجھے جانے نہیں دیا جاتا ہے الزام وہی جھوٹا ہے کہ آپ دہشت گردی پھیلاتے ہیں۔ لیکن 22 اپریل سے میں اپنے اغواء شدہ لیڈر بی ایس او آزاد کے چیئرمیں زاہد بلوچ سمیت اپنے دوسرے دوستوں کی بازیابی کیلئے اپنی آرگنائزیشن کے فیصلے کے مطابق تادم بھوک ہڑتال پر بیٹھا ہوں مجھے مرنے کا شوق نہیں ہے۔ میں بھی زندہ رہ کر علم حاصل کرنا چاہتا ہوں اور انسانیت کیلئے کچھ کرنا چاہتا ہوں ۔ میرے آرگنائزیشن نے مجھے انسانیت کا درس دیا ہے۔ میں کسی دوسرے پر ظلم نہیں کرسکتا لیکن اپنے آپ پر کر سکتا ہوں۔ اس لیے اپنے پر تشدد کرکے تادم مرگ بھوک ہڑتال پر بیٹھا ہوں میرے مرنے کا مقصد اسٹوڈنٹس ، کتاب اور قلم کو محفوظ کرنا ہے۔ لہٰذا میں یونیسکو جو کتاب عالمی دن کو ہرسال منانے کی اپیل کرتی ہے سمیت تمام علم اور کتاب دوست انسانوں اور ممالک سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ بلوچ اسٹوڈنٹس پر ہونے والی اس ظلم کے خلاف آواز بلند کریں ۔اور بلوچ اسٹوڈنٹس کا ساتھ دیکر بلوچ مسلے کو حل کرنے میں مدد کریں۔آپ ہمیں دنیا کے تمام ترقی پسند اسٹوڈنٹس کے ہم قدم اور ہم آواز پائیں گے۔علم و قلم دوستوں سے اپیل ہے کہ وہ بلوچستان میں پابند سلاسل بلوچ اسٹوڈنٹس اور زنجیروں سے جکڑی ہوئی کتاب اور قلم کے متعلق ضرور بولیں اور انکے رہائی کیلئے عملی اقدامات اٹھائیں۔ میرے آرگنائزیشن کا اور میرا مقصد اسٹوڈنٹس ، کتاب اور قلم کو محفوظ کرنا ہے۔

 

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s