ٓ بوبی سینڈز اور کامریڈ لطیف جوہر

title

قومی تحریک آزادی جو ایک بہت لمبی سفر ہے، جو صدیوں میں اپنی منزل کو پہنچتا ہے۔اس کی خاطر ہر وہ ذرائع آزما ئے جاتے ہیں جو اس عمل کے لئے سود مند ثابت ہوسکتے ہوں۔بحث مباحثہ،جلسہ جلوس،سیمینار، ریلی حتیٰ کہ سیاست کی انتہا (تشدد) کوبھی آزمایا جاتا ہے۔مظلوم کبھی بھی تشدد کے لئے تیار نہیں ہوتا کیونکہ وہ خود ہر وقت تشد د سہ رہا ہوتا ہے ۔تشدد سہہ سہہ کر آخر تشدد پر اُتر جاتا ہے۔روز اپنی آنکھوں سے خود پر تشدد ہوتے ہوئے دیکھتا ہے تو وہ خود بخود مرنے کے لئے تیار ہوجاتا ہے،دوسرا اہم وہ باشعور طبقہ ہے جو انسانی اقدار کو سمجھتا ہے، وہ پہلے سے اپنے دفاع کے لئے کچھ کرنے کے لئے تیار ہو جاتا ہے ۔اسی طبقے کا سماج میں ایک اعلیٰ مقام ہو تا ہے اور لوگ اسی طبقہ کے کہنے پر اپنا سب کچھ قربان کرنے پر تیار ہو جاتے ہیں۔لیکن انہیں مخالفت کا سامنا ہر وقت رہتا ہے۔ کیونکہ مراعات یافتہ طبقہ ہر وقت موجود ہے۔وہ ان کی مخالفت کرتا ہے۔تاکہ ان کو وہ مقام حاصل نہ ہو۔لیکن مضبوط پارٹی اور تنظیم ان سب چیزوں کا مقابلہ کرتے ہیں۔ایک جمہوری آزادی پسند تنظیم کی جڑیں عوام میں ہوتی ہیں۔ اس لئے دشمن کی بنائی ہوئی خود رؤں کی حیثیت نہیں رہتی۔کیونکہ پارٹی وتنظیم کا کردار انقلاب کے لئے انتہائی اہم ہے، ایسے ادارے حیوان نما معاشرے سے انسانی ذہن تیار کرتے ہیں، جو انسان کی اہمیت کو سمجھتے ہیں،جس سماج میں سماجی، سیاسی اور انقلابی ادارے ہوتے ہیں وہ سماج کو بکھرنے و انارکی سے بچاتے ہیں۔ان اداروں کی اپنی اہمیت ہوتی ہے۔ سماج کی مضبوطی کیلئے سماج کے ڈھانچے میں شامل اداروں کا عوام کی جڑوں میں مضبوط ہونا لازمی ہے۔ سائنسی بنیادوں پر استوار سماجی اداروں کی مدد سے ہی سماج کی کمزوریوں کا احاطہ کرکے انہیں حل کیا جاسکتا ہے۔کیونکہ سماجی ہر عمل سیاسی ہوتا ہے۔چاہے وہ نوعیت کے اعتبار سے چھوٹی ہو یا بڑی۔ارتقائی عمل سے گزر کر انقلابی عمل تک پہنچ جاتا ہے۔اس لئے دنیا میں جہاں کہیں بھی جد وجہد شروع ہوئی ہے، اس جدوجہد کی کوئی تاریخی پس منظر ضرور ہوتی ہے۔وقت کے ساتھ ساتھ انسانی ذہنوں میں ہونے والی ترقی سے کوئی انکاری نہیں۔وہ ترقی کرتے ہوئے انسانی سماج کو تبدیل کرنے کی طاقت حاصل کرتے ہیں۔میں بنیاد پرستوں کے نظریہ ارتقاء سے اختلاف رکھتا ہوں، وہ محدود پیمانے پر سوچتے ہیں۔ان کو وہ نظریہ سوچنے پر مجبور نہیں کرتا جس کے وہ پیرو کار ہیں۔کیونکہ وہ غیبی طاقتوں پر یقین رکھتے ہیں۔لیکن ان میں سوچنے والے اور خود کو انقلابی کہنے والے بھی موجو د ہیں۔ جو کہتے ہیں کہ ہم ارتقاء پر یقین رکھتے ہیں۔مگر ان میں موقع پرستی کا رجحان زیادہ ہوتا ہے۔غور و فکر کی بات تو کرتے ہیں لیکن غور و فکر کو اپنی ذہن کے مطابق تولنے کی کوشش کرتے ہیں۔وہ اپنی بات کو سچ باقی تمام کو جھوٹ کہ کر اپنے نظریے کو زندہ رکھنے کی کوشش کرتے ہیں ۔یہ کچھ تا ریخی حقائق ہیں ،انسانی سما ج جو ں جوں تر قی کی منزلیں طے کرتا گیا ،اسی طرح انسانی نظریات بھی بدلتے گئے ۔کہتے ہیں کہ دنیا گلوبل ولیج میں بدل چکی ہے ، دنیا نے آج جتنی ترقی کی ہے وہ جستجو و تنقید کی بدولت کی ہے لیکن آج بھی جو بنیا د پر ست ہیں اس تر قی کو قبول نہیں کر تے، تر قی اپنی جگہ وہ چھو ٹے چھو ٹے بحث و مباحثہ کو قبول نہیں کر تے ۔ بلوچ نوجوان میر یو سف عزیز مگسی سے لے کر بی ایس او کی بنیا د رکھنے تک ہر وقت شعور و آگاہی کے لئے قربانیاں دیتے چلے آرہے ہیں۔بی ایس او ’’جو کہ اپنے اندر ایک وسیع تاریخ رکھتا ہے‘‘ کی تار یخ قر بانیوں سے بھری پڑی ہے ۔بی ایس او اپنے نصف صدی سے زیادہ کی زندگی میں بلوچ معاشرے کوانسانی اہمیت و قومی تعلیمات سے روشناس کرتا رہا،انہی تعلیمات کی وجہ سے محقق و لکھاری بلوچ سیاست پر بحث و مباحثہ کے لئے بی ایس او کو ایک لازمی و اہم کردار سمجھتے ہیں اور حالیہ سیاسی حالات کا تجزیہ کرتے وقت بھی بی ایس او کا کردار ہمیشہ نمایاں رہا ہے۔ ایسے کئی واقعات سے میرا سابقہ پڑا ہے، حال ہی میں ایک محقق ’’بلوچ قومی تحریک آزادی اور مڈل کلاس طبقہ‘‘ کے موضوع سے کچھ لکھنا چاہ رہا تھا ، اس نے کہا کہ ایک عرصے سے میری یہ خواہش رہی ہے کہ بی ایس او کے کسی نوجوان سے ملاقات ہو کیونکہ ایک نوجوان سیاسی ورکر کا نقطہ نظر شامل کیے بغیر میں اپنے کالم کو مکمل نہیں کرسکتا۔،بی ایس او وہ ادارہ ہے جہاں نوجوانوں کو اانقلابی تعلیم سے آراستہ کرکے انسان کی اہمیت و انسانیت کا احترام سکھایا جاتا ہے۔تب جا کر ایک نوجوان انسان و انسانی اہمیت و احترام کو اچھی طرح سے سمجھ پاتا ہے ،ایسے لو گ انسان اور انسانیت کے تما م حقوق سے واقف ہو جا تے ہیں۔ بی ایس او کے اسی کردار کی وجہ سے وہ ہر وقت سامراجی ریا ست پاکستان کے عتا ب کا شکا ر رہا ہے ،پاکستان کے وجود کا مقصد برطانیہ کے مفادات کو تحفظ دینا تھا،کیو نکہ بر طا نیہ کے خلاف بھگت سنگھ ،چندر شیکھر آزاد اور دیگر دوستوں کے جدوجہد کی بدولت جو انقلابی صورتحال پیدا ہو گئی تھی ،بر طا نوی راج نے اسے محمد علی جناح اور گا ندھی کے ذریعے ٹھنڈا کر دیا،اس بات کو سمجھنے کی اشد ضر ورت ہے کہ نو جوان ہی اپنی قربانیوں سے انقلاب کی راہ کا تعین کرتے ہیں ۔بھگت سنگھ نے کہا تھا کہ بہر وں کو سنانے کیلئے دھماکوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ لیکن خود بھگت سنگھ بھی عوام کو شعور دینے اور بر طا نیہ کو مجبور کر نے کیلئے جیل میں تا دم مر گ بھوک ہڑتا ل کر تے ہیں ا س با ت کا کافی چرچارہا ۔اسی خود اذیتی کے عمل سے ہی ہندوستانی عوام سڑکوں پر نکل آئی،اور پھر بر طا نوی سر کا ر نے جس بے دردی سے ہند وستان کے نہتے عوام کو قتل کیا ،وہ تا ریخ کا حصہ بن چکا ہے ۔برطانیہ نے اپنے سامراجی مفادات کے تحفظ کیلئے متحدہ ہندوستان کو تقسیم کرکے پاکستان کے نام سے ایک غیر فطری ریاست تشکیل دیا۔

اُس وقت بر طا نیہ نے ہند وستانیوں کو قتل کیا اور آج پاکستان بلو چستان میں نہتے لوگوں کا قتل عام کر رہا ہے ۔خاص کر با شعور نو جوان جو کسی بھی قوم کی ریڈھ کی ہڈی ہوتے ہیں، 1انہیں اغواء کر کے شہید کررہا ہے۔ اس عمل کے خلاف 2005میں شہید سہراب بلوچ نے خود اذیتی کے راستے کا انتخاب کرکے تادم مرگ بھوک ہڑتال کا اعلان کیاْ،
بعداز اں انکی بھوک ہڑتال اُس وقت ختم ہو ئی جب ڈاکٹر اللہ نظر اور اُس کے ساتھی صادق آبا د سے منظر عام پر آگئے۔ اُس کے بعد بی ایس او نے لاپتہ افراد کی بازیابی کے لئے تگ و دوشروع کی، پورے بلوچستان میں لوگ اس سیاسی عمل میں شریک ہو گئے ، اس سے بلوچ سماج میں موجود سیاسی جمود کو توڑنے میں بڑی کامیابی ملی ۔حتیٰ کہ انہی کوششوں کی وجہ سے وائس فا ر بلو چ مسنگ پر سنزنے 2010سے ایک طویل بھوک ہڑتال شروع کی جو کہ تاحال جاری ہے۔ اور حال ہی میں وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز نے لانگ مارچ کر کے لاپتہ افراد کی بازیابی کے لئے اپنی کوششوں کے تسلسل کو شدت سے برقرار رکھا۔

بلوچستان سے لاپتہ ہونے والوں میں سے اکثریت اُن سیاسی کارکنوں کی ہے جو اپنے حق کی خاطر بولتے یا لکھتے تھے۔ ان میں سے زیادہ تر کالج ویونیورسٹیوں کے وہ طلباء ہیں جو ذہنی حوالے سے پختہ اور باصلاحیت سیاسی کارکن ہیں ،انہیں اغواء اس بنیاد پر کیا جاتا ہے کہ وہ تمام چیزوں کو قریب سے دیکھنے اور تجزیہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، جو کہ ریاست کے لئے قابل قبول نہیں۔حال ہی میں بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے چیئرمین زاہد بلوچ کو کوئٹہ سے پاکستانی خفیہ اداروں اور ایف سی نے اغواء کیا تو اپنے چیئرمین کی بازیابی کیلئے بی ایس او(آزاد) نے تادمِ مرگ بھوک ہڑتال کا اعلان کردیاجو تاحال کراچی پریس کلب کے سامنے جاری ہے۔ جس میں کامریڈ لطیف جوہر تادم مرگ بھوک ہڑتال پر بیٹھے ہیں ۔سیاسی جمود کو توڑنے اور سیاسی مقاصد کے حصول کے لئے خود پر تشدد ایک بہترین سیاسی احتجاج ہے ،اگر بی ایس او اپنی اس احتجاج سے دنیا کو اپنی جانب متوجہ کر سکی تو اچھی بات ہے اگر دنیا نے خاموشی کا تسلسل برقرار رکھا تو بی ایس او کو اپنی احتجاج کو مزید سخت کرنا ہو گا ۔بی ایس او(آزاد) کے مطابق اگر بھوک ہڑتال پر بیٹھے دوست کو اگر کچھ ہوا تو دوسرا آکر اس تسلسل کو جاری رکھے گا۔ تا وقتیکہ ہمارے لیڈر کو بازیاب نہیں کیا جاتا ،اس سے کچھ لو گ شاید اتفا ق نہ رکھتے ہوں۔ مگر میری ذاتی رائے یہ ہے کہ اگر بی ایس اواس پر عمل درآمد کرے تو یہ ایک تاریخی فیصلہ ہوگا۔

لطیف جوہر کا یہ تادمِ مرگ بھوک ہڑتال آئرلینڈ کے بوبی سینڈز کے تادمِ مرگ بھوک ہڑتال کی یا دتازہ کرتا ہے۔ بوبی سینڈز (Bobby Sands) نامی، آئرش ری پبلکن آرمی کے ایک سیاسی اسیر سالوں پہلے اپنے مطالبات کے حق میں برطانوی جیل میں احتجاجاََ تادم مرگ بھوک ہڑتال کا اعلان کرتا ہے ۔ اس کے بعد یکے بعد دیگرے 10آئرش آزادی پسند نوجوانوں نے تادمِ مرگ بھوک ہڑتال میں شہادت نوش کرکے انسانی تاریخ میں قومی آزادی کیلئے قربانی دینے کا ایک نیا باب رقم کیا۔یہ واقعہ 1981ء میں برطانوی جیل میں قید ان دس نوجوانوں کی شہادت کا ہے جنہوں نے جیل میں بھی غلامی سے انکار کرتے ہوئے تحریک آزادی کی شمع کواپنے لہو سے روشن رکھا۔ان کی شہادت 1981ء میں دوران بھوک ہڑتال ہوئی۔ ان کی یہ بھوک ہڑتال برطانوی جیلوں میں قید آئرلینڈ کے سیاسی قیدیوں کے بنیادی حقوق دوبارہ سے حاصل کرنے کے لئے تھی۔یہ واقعہ 1976ء میں شروع ہونے والے بھوک ہڑتال کی ابتداء سے منسلک ہے۔ آج بی ایس او(آزاد) کا ایک کا مر یڈ لطیف جو ہر کر اچی پر یس کلب کے سامنے تادمِ مرگ بھوک ہڑتال پر بیٹھ کر بوبی سینڈز اور ساتھیوں کی طرح ایک بہت بڑے مقصد کو پانے کے لئے خو د پر تشد د کر رہا ہے اگر کو ئی صر ف اس بات کو مدنظر رکھ کر بھوک ہڑتال کی مخالفت کررہا ہے کہ اس سے کامریڈ لطیف جوہر بلوچ کی زندگی کو خطرہ ہے تو میرے خیال میں کا مر یڈ لطیف بلو چ ایک ایسی تا ریخ رقم کرنے جا رہے ہیں جو رہتی دنیا تک ایک روشن باب کا اضافہ تصور کیا جائیگا ۔ کیونکہ لطیف جوہر حق و انصاف کیلئے خود موت کی طرف سفر طے کرر ہے ہیں۔یہ ایک پیغام ہے انسان دوستی کے دعویدار وں کے لئے کہ وہ اپنے فرائض سے کیوں روگردانی کرچکے ہیں ۔اس کے بھر عکس کامریڈ بھگت سنگھ اور بوبی سینڈز کی بھوک ہڑتال معمولی نوعیت یعنی جیل میں اپنے اسیری کے حقوق کے لئے تھیں، جبکہ کامریڈ لطیف بلوچ ایک بہت بڑے سیاسی معاملے کو لیکر بھوک ہڑتال پر بیٹھے ہیں۔

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s