تحفظِ پاکستان آرڈیننس: بلوچ نسل کُشی کا قانون

تحریر: شہداد بلوچ

tahafuz

’’تحفظِ پاکستان آرڈیننس‘‘ یا دوسرے لفظوں میں اِسے انسانی حقوق کے بنیادی قوانین کی خلاف ورزی کا قانون کہا جائے تو زیادہ بہتر ہوگا۔ اِس نئے قانون کے تحت فوج اور خفیہ اداروں کو یہ حق حاصل ہوگا کہ وہ کسی بھی شخص کو محض شک کی بنیاد پر اُٹھا کر نوے دن تک اپنی تحویل میں رکھ سکیں گے اور حراست کا دورانیہ درخواست کرنے پر بڑھایا بھی جاسکتا ہے جو مہینوں سے سالوں تک کابھی ہوسکتا ہے۔ ’’تحفظِ پاکستان‘‘ نامی یہ آرڈیننس اہلِ پنجاب کے لئیے شاید کوئی نئی چیز ہو، مگر بلوچستان میں گذشستہ ایک دہائی سے اِس پرتیزی سے عمل درآمد ہورہا ہے اور کچھ عرصے سے ریاستی اداروں کی یہ جابرانہ کاروائیاں بلوچستان کی سرحدوں سے نکل کر سندھ تک پہنچ چُکی ہیں۔ جبری طور پر گمشدہ کئیے جانے والے افرادکی بازیابی کے لئیے سرگرم تنظیم ’’ وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز‘‘ کے اعداد وشُمار کیمطابق پاکستانی فوج و خفیہ اداروں نے پندرہ ہزار سے زائد بلوچوں کوجبری طور پر لاپتہ کیا ہے، اور لگ بھگ تیرہ سو آزادی پسند بلوچ سیاسی رہنماؤں،کارکنوں،طالبعلوں،صحافیوں، شاعروں کودورانِحراست بدترین تشدد کے بعد قتل کرکے اُنکی لاشوں کی بے حُرمتی کرکے کراچی اور بلوچستان بھر میں پھینک دی گئی ہیں اور یہ سلسلہ تاحال تیزی سے جاری ہے۔

اگر دنیا اِس آرڈیننس پر اعتراض کرتی ہے تو کرنے دو، انسانی حقوق کی خلاف ورزی کا الزام لگتا ہے تو لگتارہے۔

لیفٹینٹ جنرل (ر) عبدالقادر بلوچ

انسانی حقوق کوسلب کرنے وا لے اِ س نئے قانون کے تحت خفیہ ادارے کسی معصوم شخص کو محض شک کی بنیاد پر نوے دن تک اپنی حراست میں رکھے سکتے ہیں جبکہ بلوچستان میں پاکستانی خفیہ اداروں نے علی اصغر بنگلزئی کو گزشتہ دس سالوں سے قید کررکھا ہے اور بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن آزاد کے رہنما ذاکر مجیدکو چار سال پہلے خفیہ ادارے کے اہلکاروں نے اُٹھایا ہے جو تاحال لاپتہ ہیں۔ ۔۔۔۔۔۔ بلوچستان بھر میں ایسی ہزاروں مثالیں بغیر ڈھونڈے ملیں گی، بشرطیکہ آپ میں انسانیت زندہ ہوتو!

پاکستانی ریاستی اور سرحدی اُمور کے وفاقی وزیر لیفٹینٹ جنرل (ر) عبدالقادر بلوچ نے’ بی بی سی‘ پر حالیہ نشر ہونے والے پروگرام میں یہاں تک کہہ دیا کہ ’’اگر دنیا اِس آرڈیننس پر اعتراض کرتی ہے تو کرنے دو، انسانی حقوق کی خلاف ورزی کا الزام لگتا ہے تو لگتارہے‘‘۔

وفاقی وزیر کا یہ بیان اقوام متحدہ سمیت بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں کو واضح پیغام ہے کہ عالمی مسلمہ قوانین مملکتِ خداداد پاکستان پر لاگو نہیں ہوتے ہیں۔ اور وہ انسانی حقوق کی خاطر اُٹھنے والی آوازوں کو نظر انداز کرتے ہوئے بلوچستان میں جاری تحریکِ آزادی کو کاؤنٹر کرنے کے لئیے جبری گمشدگیوں اور مسخ شُدہ لاشیں پھینکنے کا سلسلہ جاری رکھیں گے۔

کچھ ہوشیار حضرات تو ’’تحفظِ پاکستان آرڈیننس‘‘ کا موازنہ مغربی ممالک میں رائج قوانین سے کررہے ہیں ، مگر عقل کے اندھوں کو کوئی یہ بتائے کہ امریکہ میں قانون نافذ کرنے والے ادارے اگر لوگوں کو اُٹھاتے ہیں تو اُنکی مسخ شُدہ لاشیں نیویارک یا واشنگٹن کی گلیوں سے نہیں ملتی ہیں ۔۔۔۔۔۔۔ اور نہ ہی اُنکے جسموں کو تیز آلوں سے کاٹ کر ’’امریکہ زندہ باد‘‘ لکھا جاتاہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور نہ ہی کرسمس کے مذہبی تہوار پر تشدد زدہ مسخ لاشوں کو پھینک کر اُنہیں ’شکاگو ‘ کے عوام کے لئیے کرسمس کا تحفہ کہتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور نہ ہی اہلخانہ اور انسانی حقوق کی تنظیموں کی طرف سے اُٹھنے والی آوازوں کو دبانے کے لئیے ڈیتھ اسکواڈ بناتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور نہ امریکی فوج کا کوئی جنرل اپنے ٹویٹر اکاؤنٹ سے ٹویٹ کرکے اُٹھائے جانے والے افراد کے لواحقین کو خوف زدہ کرنے کے لئیے کُھلے عام ’دشمن‘ قرار دیتے ہیں۔

مگر بلوچ اِتنے خوش نصیب نہیں ہیں ، پاکستانی فوج اور ریاستی اداروں کی مہربانی سے بلوچستان کے حالات امریکہ سے بلکل مختلف ہیں۔ تحفظ پاکستان آرڈیننس کا مقصد فوج اور خفیہ ادارے بلوچستان میں ظلم و بربریت کو جاری رکھنا اپنا قانونی حق سمجھیں۔۔۔۔۔۔۔۔ کیونکہ اس آرڈیننس کے منظوری کے بعد ’بلوچ نسل کُشی‘ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے قانون کا باقاعدہ حصہ بن جائیگا۔

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s