تعلیمی ایمرجنسی: کتابوں کو بازیاب کرو

تحریر : شہداد بلوچ

books2

ڈاکٹر مالک کے تعلیمی ایمرجنسی لگائے جانے کے بعدمختلف مقامی اور بین الاقوامی جرائد میں یہی قیاس آرائیاں کی جارہی ہیں کہ بلوچستان میں تعلیمی معیار اتنا اعلٰی ہوگا کہ امریکہ ، یورپ، خلیجی ریاستوں کے طالبعلم بہتر تعلیم کے حصول کے لئیے بلوچستان کا رُخ کریں گے اور سُننے میں آیا ہے کہ وسطی ایشیائی ریاستوں نے ریلوے لائنز پر تیزی سے کام شروع کرلیا ہے تاکہ’’لینڈلاک‘‘ ریاستوں کے طالبعلم جو سمندر کی اک جھلک سے محروم ہیں وہ کم از کم سمندری علوم سے محروم نہ ہوں اور لسبیلہ کی میرین سائنس یونیورسٹی تک اُنکی رسائی ممکن ہو اورجدید تعلیم سے مستفید ہوسکیں ۔ تعلیمی ایمرجنسی کے نافذالعمل ہونے کے بعد تدریسی اداروں میں طالبعلموں سے زیادہ فوجی اہلکار تعینات ہیں تاکہ تعلیمی سرگرمیوں میں کوئی خلل پیدا نہ ہو ۔ عطا شاد ڈگری کالج کے ہاسٹل سے سماج میں شور برپا کرنے والی کتابوں کی جبری گمشدگیوں کے بعد اب اتنا سکون ہے کہ جیسے ’’پِن ڈراپ سائلنس‘‘ کا سماں ہو ۔ پاک چین دوستی کو پہلے سے زیادہ یقینی بنانے کے لئیے تُربت میں واقع دو انگلش لینگویج سینٹرز پر ’میڈ اِن چائنا‘ کے دو بڑے تالے لگا کر سیل کردیا گیاہے اور عنقریب وہاں چائنیز کی کلاسز باقاعدہ طور پر شروع ہونگی تاکہ بلوچ چائینز زبان پر جلد از جلد عبور حاصل کریں تاکہ گوادر پورٹ اور سیندک میں موجود چینی بھائیوں سے بات چیت کرنے میں کسی مشکل کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

بلوچستان سے جہالت ختم کرنے کے لئیے ڈاکٹر مالک کی تعلیمی ایمر جنسی کی جھلکیاں

۱) عطا شاد ڈگری کالج کے ہاسٹل پر ایف سی کا چھاپہ اور تمام کتابیں ضبط ، طالبعلموں کوشدید زدوکوب کرنے کے بعد لاپتہ کردیا گیا۔

۲) تُربت میں واقع کاروان اور ڈیلٹاانگلش لینگویج سینٹرز چھاپے کے بعد سیل کردئیے اور اساتذہ اور طالبعلموں کو گرفتار کر لیا گیا۔

۳) خضدار کے آئی ٹی کالج کے ہاسٹل سے فدا نامی طالبعلم کو ریاستی فورسز نے جبری طور پر لاپتہ کردیا۔

۴) بلوچستان یونیورسٹی کے ہاسٹل پر چھاپہ، محراب نامی طالبعلم کو غائب کردیا گیا۔
۵) بلیدہ میں واقع گرلز اسکول کو خفیہ اداروں نے نذرِ آتش کردیا۔

۶) کوئٹہ میں دو کتاب کی دکانوں کو بند کردیا گیا۔

۷) تُربت اور گوادر میں متعدد کتابی اور میوزک کی دکانوں کو زبردستی بند کردیا گیا، کتابیں، سی ڈیز و کیسٹس ضبط اور دکانداروں کے خلاف ایف آئی آر درج کرکے گرفتار کرلیا گیا۔

بلوچ سیاسی کارکنوں کے جبری گمشدگیوں، مسخ شدہ لاشوں، اور اجتماعی قبروں کی برآمدگی کے بعد اب بلوچستان میں موجود بلوچی شاعری ، ادب اور بلوچستان و دنیا کی تاریخ کی کتابیں اور بلوچی موسیقی ریاست کے نشانے پر ہیں۔ ایک خاص منصوبے کے تحت علم و ادب کے خزانوں پرریاستی فوجی اہلکار حملہ آور ہیں اِس سے صاف ظاہر ہوتاہے کہ ریاست بلوچ نوجوان نسل کو ابدی تاریکیوں میں دکھیلنا چاہتی ہے اگر ریاست کتابوں پر یلغارانہ پالیسی پرعمل پیرا ہوتی رہیگی تو کچھ وقت بعد پریس کلبز کے سامنے احتجاجی مظاہروں میں کچھ ایسے نعرے بلند ہونگے۔ تمام بلوچی کتابوں کو بازیاب کرو ۔۔۔۔ بکُ اسٹالز پر آپریشن بند کرو۔۔۔۔۔ کتابوں کو پھاڑ کر پھینکنے کا سلسلہ بند کرو ۔۔۔۔۔

پہلے تو پاکستانی ریاست بلوچ سیاسی کارکنوں کو سیکورٹی رِسک سمجھتی تھی مگر اب بلوچی ادب ، شاعری اور موسیقی سے بھی خود کو کافی غیر محفوظ سمجھتی ہے۔

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s