گوریلا ۔۔۔۔۔ 70ء کی دہائی کی بلوچ جدوجہد کی کہانی

ahmedrashid-638x300

تحریر : وی ایس نائپل
ترجمہ : زبیر دہانی

تعارف: زیر مطالعہ مضمون نوبل انعام یافتہ معروف برطانوی ناول نگار وی۔ ایس۔ نائیپال کی کتاب “بی آئنڈ بیلیف” کے ایک باب “گوریلا” کا ترجمہ ہے۔ اِس باب کا موضوع بحث بلوچستان کی 70 کی دہائی کی صورتِ حال ہے۔ اِس باب کا مرکزی کردار شہباز ہے ۔ شہباز ایک فرضی نام ہے۔ یہ فرضی نام احمد رشید کا ہے جو ایک معروف صحافی ہیں اور “طالبان” و “جہادی” نامی شہرت یافتہ کتابوں کے مصنف ہیں۔

دوسری جنگِ عظیم کے اختتام 1945 پر جب شہباز کے والد برطانوی انڈین آرمی سے سبکدوش ہوئے تو اُنہوں نے برطانیہ جاکر بسنے پر غور کیا۔ کیونکہ جنگ سے پہلے کُچھ بھارتی شہزادے بھی انڈیا کی ایک کالونی ہونے کے باوجود اسی طرح برطانیہ جا کر بس گئے تھے۔ ایسے لوگوں کو دولت اور شہرت کے باعث کافی قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا۔ اسی وجہ سے شہباز کے والد کے ذہن میں یہ بات سمائی ہوئی تھی کہ انڈیا اور پاکستان کو ملنے والی آزادی کے بعد کسی مُسلمان آبادکار کو وہاں اتنی ہی عزت کی نظر سے دیکھا جائے گا۔ اسی طرح برصغیر کے دوسرے مُسلمانوں کا بھی یہی خیال تھا۔ ان کے ذہن، ملنے والی اس آزادی پر کہیں وجوہات کی بناء پر شکوک وشہبات سےخالی نہیں تھیں۔ اس لئے وہاں جا کر آباد ہونے کی سوچنے لگے تھے، یعنی ایک ایسی جگہ جہاں قانون کی بالادستی ہو۔

اگر چہ شہباز آزادی کے ایک سال بعد پیدا ہوا تھا، پھر بھی بدقسمتی سے اس کا بچپن نو آبادیاتی اور نسلی تناؤ کے ماحول میں گزرا تھا۔ اس نے برطانیہ میں پرائمری کے بعد پبلک اسکول میں جاکر تعلیم حاصل کی، اُسے پبلک اسکول میں زیادہ مُشکلات درپیش آئیں۔ وہ تنہا ایشیائی، تنہا مُسلمان، اور تنہا ایسا شخص تھا جو نہ سُوّر کا گوشت کھاتا اور نہ چرچ جاتا تھا۔ اس کی مُشکلات اُس وقت زیادہ بڑھیں جب اُن کے والد مُعاشی طور سے دیوالیہ ہو گئے ۔ تین ماہ تک شہباز کی فیس ادا نہ ہو سکی تھی۔ حالات سے ایسا لگتا تھا کہ انہیں اسکول سے نکال دیا جائے گا۔ خیر ایسا تو نہ ہوا لیکن اُسکے بعد شہباز اپنے دوستوں سے دور رہنے لگا تھا۔

شہباز کے والد وہاں رہنے سے بیزار ہو گئے اور انھوں نے واپس پاکستان آکر رہائش اختیار کرنے کیلئے تیاریاں شروع کردیں۔ واپس پاکستان آکر اُنہوں نے پنجاب میں اپنا کاروبار شروع کیا۔ بارہ یا تیرہ برس کی عُمر میں شہباز اپنے والد کے پاس اسکول کی چُھٹیاں گزارنے اور والد کا کاروبار دیکھنے کی غرض سے پاکستان چلا آیا۔ اس علاقے میں کُچھ جاگیردار بھی تھے جن سے ملنے کے لئے وہ ان کے پاس گیا یہ بہت بڑے جاگیردار تھے۔ پورے کے پورے گاؤں ان کی ملکیت تھے۔ ان جاگیرداروں میں سے بعض کے بچے بھی برطانیہ میں تعلیم حاصل کر چُکے تھے، اور ان کی دیکھ بھال شہباز کے والد کیا کرتے تھے۔ شہباز نے دیکھا کہ جاگیرداروں کے یہ صاحبزادے وہاں اپنی زمینوں پر آکسفورڈ یا کیمبرج کے گریجویٹس کی طرح بالکل عمل نہیں کرتے تھے ۔ اپنے کارندوں اور کسانوں سے ان کا سلوک غلاموں سے بھی بدتر تھا۔ سلامی اور اطاعت کے لئے بیچارے کسان جاگیرداروں کے پیروں کو چوم رہے تھے۔ یہ سلامی کم اور اطاعت پن زیادہ لگ رہی تھی، اور جاگیردار ان کو اُٹھنے کی بھی اجازت نہیں دیتے تھے۔ شہباز برطانیہ سے بالکل نیا نیا آیا تھا۔ یہ سب دیکھ کر اس کی حالت روہانسی ہوگئی۔

پبلک اسکول کے آخری تین سال ان کے لئے کافی پُرمُسرّت تھے۔ وہ بالکل آزاد تھا۔ ہاف ٹرم اور چُھٹیوں میں وہ اپنے دوستوں کے پاس یا کرائے کے مکانوں میں رہا۔ ایک بار وہ پرنسپل کے ساتھ آکسفورڈ میں رہا جہاں پرنسپل کی بیٹی سے اسے افلاطونی مُحبت ہوگئی۔ ان دنوں زندگی بڑی شاندار اور اچھی گزر رہی تھی اب وہ اپنے آپ کو پاکستانی یا مُسلمان سمجھنے کی بجائے وہیں کا محسوس کر رہا تھا۔ اگرچہ پاکستانی زندگی کے مُتعلق اس کی واقفیت کم تھی، مگر اُس نے غرُیبوں، گداگروں، معذوروں اور نچلے طبقے کے لوگوں سے متعلق شاعری نویسی شروع کردی۔

پبلک اسکول کی تعلیم مُکمل کرنے کے بعد وہ ڈگری حاصل کرنے کے لئے لاہور چلا گیا۔ وہاں اُس نے مقامی سیاست میں حصہ لینا شروع کردیا وہ جرنیلوں کی حکومت کے خلاف تھا۔ وہ ایک لیفٹسٹ تھا۔ لیکن ان کی حقیقی سیاست واپس برطانیہ لوٹنے کے بعد شروع ہوئی۔ وہ ایک معروف یونیورسٹی سے انگریزی ادب میں ڈگری حاصل کرنے گیا۔ وہاں سیاست کی گرماگرمی تھی۔ یہ 1968 کے دن تھے جو ویتنام موومنٹ کا زمانہ تھا؛ اور، 27 سال بعد بھی ان کی یادیں تازہ تھیں کہ “وہ پُرجوش و جذباتی” زمانہ تھا، اور ہر ایک کی زبان پریہی تھا کہ “نظام” بوسیدہ ہو چُکا ہے۔ اسکا تبدیل ہونا لازمی ہے۔ وہ بھی یہی کہتا تھا؛ اور سیکسی لاطینی امریکی لڑکیاں بھی یہی کہتی تھی۔ ہر طرف “بوس و کنار” کرنے کو ملتا۔ یونیورسٹی لائف ایک طرح سے “عیش و عشرت” کا میلا تھا”۔

یونیورسٹی میں اُس کے بُہت سے پاکستانی قریبی دوست تھے جن میں سے بعض شہباز کی طرح انگریزی ادب پڑھ رہے تھے، یہ آسان کورسز میں سے ایک تھا، تقریبا سب سے آسان، اس کے ساتھ ساتھ یہ بُہت زیادہ سیاسی اور محدود کورس تھا۔ جبکہ طول و طویل مطالعوں کی بجائے اس میں مارکس ازم اور انقلاب کی حوصلہ افزائی ہو رہی تھی۔ شہباز اور اسکے پاکستانی دوستوں نے اپنے مارکسسٹ اسٹڈی گروپ میں معیاری اور مُختصر انقلابی کتابیں اور فانٹزفینن اور چےگویرا کو پڑھا۔ اور جب انھوں نے چند خاص منظور شدہ روسی مُصنفین کا مطالعہ کیا، تو انکا کبھی اتفاق نہیں ہوا کہ وہ تورگینوف کے ناولوں میں سے Fathers and Sons (1862) اور Virgin Soil (1877) کو پڑھتے، جن سے نہ صرف پاکستان جیسے ملکوں کے جاگیردارانہ حالات کو سمجھنے میں مدد ملتی بلکہ انقلابی مشکلات کو آسان کرنے کے متعلق بھی لکھا گیا تھا۔

لیکن اس میں انقلابی مُشکلات آسان کرنے کے متعلق سوالات تھے۔ انگلینڈ کی دوسری یونیورسٹیوں میں ایسے ہی بُہت سے اسٹڈی گروپ تھے۔ وہ ہر دو ہفتوں میں ایک دوسرے سے لندن یا کیمبرج میں ملاقاتیں کرتے تھے۔ لندن میں ان کے انڈین لفٹسٹوں سے تعلقات استوار ہو گئے، لندن میں ارلزکورٹ لفٹسٹوں کا علاقہ ہوا کرتا تھا، جہاں ریسٹورانٹ اور بار میں انقلابی دُھنیں چلتی تھی۔ وہاں پر دنیا کے مختلف علاقوں سے آئے ہوئے لفٹسٹ ایک دوسرے سے ملتے رہتے اور اس بین الاقوامی ماحول میں تبادلہ خیال اور دعوتیں ہوتی رہتی تھیں۔ یہ بُہت “شاندار اور خوشگوار” ماحول تھا۔

شہباز کی ایک کزن لندن کے ایک بڑے اسٹڈی گروپ میں شامل تھی۔ وہ کیوبا جا چُکی تھی جہاں اس نے چھ ہفتوں تک کھیتوں میں گنے کی کٹائی کا کام کیا تھا۔ شہباز اس سے کُچھ کُچھ مُحبت کرنے لگا تھا۔ وہ ایک خوبصورت لڑکی تھی، کیوبا میں اس کی طبعی خدمات اور رُتبے کو دیکھ کر شہباز کی اشتراکی سوچ اور بھی پُختہ ہو گئی تھی۔ اب وہ انقلابی کاموں کے لئے بے چین ہو گیا تھا۔ لیکن وہ خوبصورت کزن یونیورسٹی سے فارغ ہونے کے بعد منحرف ہو نے لگی۔ وہ نہ صرف پنجاب جاکر کسانوں سے اپنے گنے کے کھیتوں پر مشقت لینے لگی بلکہ بے حد شوق سے ایک مولوی سے مل کر بُنیاد پرستی کی جانب جھکتی چلی گئی۔ اپنے پچھلے نظریات کو مکمل ترک کرنے کے لئے اس نے ایک اپاہج سے شادی کرلی۔ اب جب کبھی لاہور میں خاص موقعوں پر وہ ایک دوسرے سے ایک ہی کمرے میں ملتے تو وہ شہباز کو پہچانتی بھی نہیں تھی۔

لیکن شہباز کو ایک اور لڑکی مل گئی تھی۔ ایک پاکستانی جو اس کے ساتھ یونیورسٹی میں پڑھتی تھی ۔ آخر کار ان دونوں کو ایک دوسرے سے مُحبت ہو گئی۔ شہباز نے کہا “ہم واپس ساتھ جا کر اپنے ملک میں انقلاب لانا چاہتے ہیں۔” یہ بہت حیرت انگیز بات تھی۔ اسی خیال میں یونیورسٹی کا باقی وقت شہباز کے لئے بہت اچھا گزرا۔ لیکن آخر میں، جب وہ وقت آیا کہ سامان وغیرہ باندھ کر واپس اپنے مُلک جا کر گوریلا لڑائی شروع کی جائے، اس لڑکی نے کہا “میں تمھارا ساتھ نہیں دے سکتی۔”

شہباز نے بتایا، “سیاست کے لئے وہ اپنی فیملی نہیں چھوڑ پائی تھی”، اسکی محبت میں شہباز دس طویل گوریلا سالوں میں بلوچستان اور افغانستان کے صحراؤں اور پہاڑوں میں کافی سرگرم رہا، ارلزکورٹ ، کیمبرج اور ان کی اپنی یونیورسٹی کی شاندار راتوں میں جہاں ہر طرح کی گُفت و شنید اور پارٹیاں ہوتی تھیں اُنہیں یاد کرکے ایسے علاقوں میں جانا اُس کو ایک طرح کی حماقت ہی لگی تھی۔ جنسی لذّت سے محرومی کے دس طویل سال، بلوچستان میں عورتوں جیسی شے سے دور رہ کر بلوچوں کے لئے لڑائی تو لڑی جا سکتی ہے مگر خانہ بدوشوں کے بیچ رہ کر جنسی ملاپ کرنا خودکشی کے مُترادف ہوتا ہے۔ ایسا کرنے کے لئے آدمی کو عورتوں کے خیمے میں جاکر بنا اسکے شوہر کو جگائےکسی عورت کو جگانا، اُس کو خاندان اور رشتہ داروں سے نکال کر باہر لے جانا ، اس سے جنسی ملاپ کرنے کے بعد دوبارہ اس کو چوری چُھپے ہاتھ آئےبغیر پھر واپس لے جانا۔ اس طرح کا جنسی ملاپ کرنا یعنی “گوریلا جنگ کی حالت میں رہ کر ایک طرح کا ناممکن گوریلا لڑائی لڑنے کے برابر ہوتا ہے۔” شہباز اپنی جنسی لذّت سے محرومی کے دس طویل سالوں میں قناعت کرکے ان چیزوں کا دور ہی سے مُشاہدہ کرتا رہا۔

ان کے مارکسسٹ طلبہ گروپ میں وہ جن باتوں پر بحث کرتے تھے ان میں سے ایک حل طلب پہلو پاکستان میں “قومیتی سوال” کے بارے میں تھا۔ پنجاب قابض صوبہ تھا، دوسرے صوبے کے لوگ اپنے آپ کو کمتر محسوس کرتے تھے۔ اقبال جنہوں نے پاکستان کا تصور پیش کیا تھا، سمجھتے تھے کہ نئی ریاست میں لوگوں کی شناخت اور مقصد کے لئے اسلام ہی کافی ہوگا، اور ذات پات اور برادری ، قبائلی مسائل خودبخود ختم ہو جائینگے۔ اقبال غلط ثابت ہوا۔ علاقائی نا برابری کی کشمکش جاری رہی خاص کر مشرقی پاکستان میں، جس سے بنگلہ دیش وجود میں آ گیا۔

اب شہباز کے مارکسسٹ گروپ کا خیال تھا کہ جہاں اسلام ناکام ہوگیا ہے وہاں مارکس ازم اور انقلاب ان مسائل کو بہتر طور سے حل کر پائیں گے۔ شہباز نے اپنا خیال اس طرح سے پیش کیا؛ “انقلاب کی ضرورت نچلی سطح سے ہے، تمام قومیتوں میں سے۔ اس عمل کے دوران تمام قومیتیں آپس میں جُڑ جائیں گی۔”

شہباز نہیں جانتا تھا کہ یہ خیال کتنا مُشکل اور پیچیدہ ہے۔ یہ مارکسسٹ لٹریچر سے لیا گیا تھا، اس کے گروپ کو اس بات پر آمادگی میں ڈیڑھ سال لگے تھے۔ اور اس نے یہ بھی فیصلہ کیا تھاکہ انقلاب کی شروعات کہاں سے کی جائے۔ اس کی شروعات مشرق کے سب سے بڑے اور صحرائی و پہاڑی علاقے بلوچستان سے کی جائے۔ وہاں کی آبادی بُہت کم اور پسماندہ تھی۔ زیادہ تر لوگ خانہ بدوش تھے۔ آزادی کے بعد سے تین بار بغاوت کی کوشش کی جا چُکی تھی اور اسکے باوجود لوگ اس کے منفی اثرات سے محفوظ تھے۔ یہ ایک ایسا علاقہ تھا کہ مُشکل سے مُشکل حالات میں بھی گوریلا لڑائی کے لئے بہت سازگار اور موزوں تھا، ریاست اور لوگوں کے درمیان تضادات بالکل واضح اور صاف دکھائی دیتے تھے۔

گروپ کی سرپرستی ایک ساؤتھ افریقی انڈین کر رہا تھا اس کا خاندا کراچی منتقل ہو گیا تھا اور وہاں پر ان کی ایک دُوکان تھی۔ اس گروپ سے اس کی مُلاقات تب ہوئی جب وہ ایک وزٹ پر لندن گیا تھا۔ وہ اُنیس یا بیس سال کا نوجوان تھا، لیکن وہ کہتا تھا کہ اپنی پوری زندگی میں وہ ایک مارکسسٹ رہا ہے۔ اُس نے بُہت سے انقلابی اور گوریلا واقعات اور کہانیوں کو پڑھ رکھا تھا۔ اُنہوں نے بتایا کہ وہ اور ان کا خاندان افریقن نیشنل کانگریس میں رہے ہیں۔ وہ خود جنوبی افریقہ میں انڈر گراؤنڈ رہا تھا۔ وہ اپنی جوانی کے دنوں میں انتہائی سرگرم رہا اور پاکستان میں بلوچستان میں انڈر گراؤنڈ رہا۔ اس کی شخصیت نے پاکستانی مارکسِسٹوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ جبکہ ساؤتھ افریقی کوئی اعلی تعلیمی پس منظر نہیں رکھتا تھا۔ لیکن جب اس نے اپنے امیرانہ پس منظر کو گالیاں دیں تو وہ ان سب کو بُہت پسند آیا۔

شہباز کو وہ جوشیلا اور “کرشماتی” (شہباز کا خاص لفظ) لگا تھا۔ دکھنے میں وہ اچھا، کوتاہ قد اور چیرنے والی نگاہیں رکھنے والا شخص تھا۔ لوگوں کے ذاتی مسئلوں کے متعلق اس کے پاس وقت نہیں ہوتا تھا، مقصد ہی اس کے لئے سب کُچھ تھا۔ یہ ایک اور رشتہ تھا جو کہ شہباز کے لئے بُری طرح سے ختم ہو گیا۔ یہ ساؤتھ افریقی جو شہباز کو مُتاثر کئے ہوئے تھا اب نفسیاتی مریضوں جیسا بن گیا تھا۔ 25 سال بعد جب اس کے لئے گوریلا جنگیں ختم ہوئیں اور وہ واپس افریقہ میں تھا تو اُس نے اپنے بیٹے کے قتل کی کوشش کے بعد خودکشی کرلی تھی۔ یہ مستقبل کے واقعات میں سے ایک تھا۔

1969 کو ایک دن لندن میں ساؤتھ افریقی, شہباز کے یونیورسٹی کے مارکسسٹوں پر بری طرح سے بھڑک اُٹھا۔ یہ اس کا جوش میں لانے کا ایک انداز تھا۔ پھر اس نے کہا؛ “تم لوگ باتیں کرنا چھوڑو اور عمل کرنا شروع کرو۔ واقعی اگر تم لوگ سنجیدہ ہو تو سب کُچھ چھوڑ کر بلوچستان کو پاکستان میں انقلاب کا گڑھ بنادو”۔

وہ ایک ایسے انقلاب کا طلب گار تھا جو قومیتوں کے درمیان سے نکلا ہو۔ جسکا اہم مقصد وہاں کے تمام قومیتوں کو آپس میں جوڑنا تھا۔ ساؤتھ افریقی بُہت حوصلہ مند تھا۔ اسکا ایک ہی مقصد تھا انقلاب، اس نے کہا کہ میں لِن پیاؤ جو کہ چینی انقلاب کے بانی ماؤ کے دستِ راست تھے کے بتائے ہوئے راستے پر چل رہا ہوں۔ لِن پیاؤ کہتے ہیں؛ دیہی علاقوں سے ہی شہروں پر چھایا جا سکتا ہے؛ وہیں سے ہی شہروں کے خلاف گوریلا لڑائی شروع کی جا سکتی ہے، جہاں پر ریاست کا غلبہ ہوتا ہے۔

ساؤتھ افریقی کے منزل مقصود سے وہ سب پُر تعظیم خوف رکھتے تھے۔ ارجنٹینا، کیوبا ، اور بولیویا کا چے گیورا، فرانسیسی ویسٹ انڈیز کا فرانزفینن ، افریقی کانگریس، اور اب لن پیاؤ: شہباز کے اسٹڈی گروپ کو لگ رہا تھا کہ دیر سے سہی مگر آخر وہ انقلاب کی جانب گامزن ہو ہی گئے۔ ان تمام عظیم اور تجربہ کار انقلابی قوتوں نے ان سے ملکر اور الگ رہ کر غیر مفتوحہ لڑائی کے لئے کام شروع کیا۔ وہ سب بلوچستان اور وہاں پر گوریلا لڑائی کے خواب دیکھنے لگے۔

اگلے ہی سال شہباز گریجوئیٹ ہوگیا۔ اس کے بعد اپنے والدین کو اس نے بتایا وہ یوگوسلاویہ کے ایک فلمی اسکول میں جا رہا ہے۔ وہ خفیہ طور سے واپس کراچی آیا۔ وہاں پر ایک رات گُزارنے کے بعد ریل گاڑی اور بس کے ذریعے وہ بلوچستان کے ایک چھوٹے قصبے میں پُہنچ گیا۔ وہاں اس کو ایک قبائلی بلوچ لینے آیا اور اس کو لے کر پہاڑوں پر ایک ٹریننگ کیمپ میں لے گیا۔ وہ ساؤتھ افریقی وہیں پر تھا۔ لندن گروپ کے کُچھ اور لوگ بھی وہاں پر موجود تھے۔

بلوچستان کا یہ علاقہ ایران کی طرح ریتیلی زمین، کُھلی چٹانوں، سخت گرمی اور قلیل مقدار میں پانی اور سبزیوں پر مُشتمل خطہ تھا۔ یہیں شہباز کو دس سال گُزارنے تھے۔ شروع کے تین سالوں میں شہباز اور دوسرے لوگوں کو زبان سیکھنی تھی اور معاشرتی فلاح و بہبود کے کام شروع کرنے تھے۔

لیکن میں نے محسوس کیا کہ داستان بُہت تیزی کے ساتھ اختتام کو پُنچ گئی۔ جب میں نے غور کیا تو مُجھے محسوس ہوا کہ بُہت سی چیزیں چھوٹ گئیں ہیں۔ میں نے شہباز کو فون کیا، اور پھر میں ان کے پاس گیا .میری دوبارہ آمد سے اس کو کوئی پریشانی نہیں ہوئی تھی۔ میں بلوچستان میں گزرے شروع کے دنوں کے مُتعلق مزید سُننا چاہتا تھا۔ خاص کر پہلے دن کے متعلق میں مزید سننا چاہتا تھا۔

شہباز نے بتایا، “میں کراچی سے ٹرین پر بیٹھا۔ دوسری جانب پلیٹ فارم پر دو قبائلی آدمی مجھے لینے آئے۔ وہ قبائلی کم اور شہری زیادہ نظر آ رہے تھے۔ ہم نے دس میل بس میں سفر کیا۔ بس سے اُتر کر دو دن تک پیدل چلتے رہے۔ میری زندگی کا یہ پہلا موقع تھا کہ میں پہاڑوں پر پیدل چل رہا تھا۔ یہ بُہت سخت اور پتھریلی زمین تھی میں شلوار قمیص اور جوتیاں پہنے ہوئے تھا اور سر پر پگڑی بندھی ہوئی تھی جس کا میں بالکل عادی نہیں تھا۔ میرے ہاتھوں میں ایک بیگ تھا جو میں کبھی لیکر نہیں چلتا تھا۔ راستے میں ہم نے سُوکھی روٹیاں پکا کر کھائیں، اور میں نے زندگی میں پہلی دفعہ کُھلے آسمان تلے سو کر رات گُزاری تھی۔ یہ گرمیوں کے دن تھے۔ ہم ننگے زمین پر لیٹ گئے، خستگی سے حالت بُری تھی۔ میرے جسم پر چھالے پڑ گئے تھے۔ میں بُہت درد میں تھا، میرا پورا جسم درد سے چوُر چوُر ہوگیا تھا۔ جب میں کیمپ پُہنچا تو خستگی سے نڈھال ہو چُکا تھا۔

پانچ دن پہلے میں انگلینڈ میں یونیورسٹی میں تھا۔ اور اب اچانک کیمپ میں تیس یا چالیس قبائلیوں کے درمیان بیٹھا تھا، جو ہتھیاروں سے لیس، اور میری سمجھ میں بالکل نہ آنے والی زبان بول رہے تھے۔ مُجھے ایسا لگ رہا تھا کہ میں جنگی دیوتاؤں کے بیچ آگیا تھا۔ اور ایسا محسوس ہو رہا تھا میں فلمی دُنیا میں بیٹھا ہوا ہوں۔ پہلی رات کو مُجھے ایک بندوق دے کر سنتری کی ڈیوٹی پر کھڑا کیا گیا، پانچ دن پہلے میں انگلینڈ میں یونیورسٹی میں تھا۔ میرے آنے کا استقبال انہوں نے ایک بکری ذبح کرکے میری دعوت سے کیا۔ اس رات ہم نے کافی گوشت اور چربی کھائی، گوشت بُہت ہی زیادہ قوی تھا۔ جس سے میرا پیٹ خراب ہوگیا تھا۔ لیٹرین کے لئے جھاڑیوں میں جانا پڑتا تھا، ابتدا میں میرے لئے یہ بھی مُشکل اور پریشانی کا باعث بنا تھا۔”

تورگنیف کا مُطالعہ اسے بلوچستان میں ایسے حالات کے لئے آمادہ تو نہیں کرتا، لیکن ایک انقلابی کی طرح ایسے جنگجوؤں سے ملنے پر تخیلی طور پر آمادہ ضرور کر سکتا تھا۔

جہاں شہباز پُہنچا تھا وہ صرف ایک ٹریننگ کیمپ ہی تھا اب تک کوئی جنگ نہیں ہو رہی تھی، ٹریننگ کے تین سال بعد ہی اسے شروع ہونی تھی۔اس خطہ کا لیڈر، شہباز کا فیلڈ کمانڈر ایک بلوچ قبائلی سربراہ تھا۔ بلوچوں میں قبیلے ہوتے تھے۔ قبیلوں کے سردار، مُختلف قبیلوں اور مُختلف سرداروں کے ایک دوسرے کا حریف ہونے کے باعث شہباز اور دوسرے باہر کے لوگوں کو صورت حال کا جائزہ لینے میں کافی مُشکلات درپیش آتی تھیں۔ اس کیمپ میں پانچ افراد باہر سے آئے ہوے تھے۔ تین اور افراد مالیات اور خوردونوش کی اشیأ کے بندوبست کیلئے شہروں میں مُقیم تھے۔

شہباز اور دیگر شروع کے تین سالوں میں تیاری کے مراحل میں تھے (تیاری کے دوران انہیں مُختلف تِکنیکی مراحل کی تربیت دی جاتی تھی۔ ان مراحل سے گزر کر ہی وہ گوریلا کہلائے جا سکتے تھے، فیلڈ میں وارد نئے گوریلوں کو بلوچستان کی وسعت سے آگاہ کیا جاتا تھا)۔ تربیت کے تین سال میں وہ پُختہ کار ہو گئے تھے انہوں نے زبان سیکھ کر قبائلیوں کیلئے سماجی خدمات کے کام شروع کر دئیے تھے۔ یہ قبائلی خانہ بدوش تھے۔ قبائیلیوں کی ایک جگہ سے دوسری جگہ مُنتقلی شہباز کے لئے ایک تکلیف دہ زندگی تھی۔ کھانے کے لئے سوکھی روٹی اور سونے کے لئے زمین پر چادر بچھا کر سونا پڑتا تھا۔ گرمیوں کے دنوں میں وہ آسمان تلے مچھر دانی باندھ کر سوتے تھے اور سردیوں میں خیموں کو پتھروں سے باندھ کر سوجاتے تھے۔ باہر سے آنے والے لوگ سلیپنگ بیگ میں سوتے تھے۔ شہباز کے پاس ایک ریڈیو، ایک ٹائپ رائٹر، اور مُتعدد کتابیں تھیں۔ وہ اور دیگر اپنی کتابیں خیموں میں جمع کرتے تھے۔ ایک جکہ سے دوسری جگہ منتقل ہوتے وقت وہ صرف دو کتابیں اپنے پاس رکھ سکتے تھے۔

زندگی اگرچہ سخت تھی لیکن شہباز اور اس کے دوستوں نے تمام مراحل، خوش اسلوبی سے گُزار دئیے تھے۔ وہ خانہ بدوشوں کے ہمراہ رہ رہے تھے۔ انگلینڈ میں رہ کر جب وہ انقلاب کی بات کرتے تھے تو وہ مزدور اور کسانوں کی بات کرتے تھے۔جبکہ یہ بلوچ یقینی طور پر نہ تو مزدور تھے اور نہ پنجاب کے ان ہاریوں جیسے تھے، جن سے شہباز واقف تھا۔ یہ خانہ بدوش تھے جو ماڈرن دنیا کی حدود سے ہنوز آزاد تھے۔ اس لئے شہباز نے ان کو پہلی بار جنگی دیوتا تصور کیا تھا (یعنی وہ جاگیردار اور سرمایہ داروں کے ظلم سے باالکل نا آشنا تھے۔م)۔ لیکن اپنے نظریہ کے مطابق اس نے ویسا ہی سوچا تھا جیسے ماؤ نے کہا تھا: کہ کسان ایک کورا کاغذ ہوتا ہے اس پر جو چاہے تحریر کیا جاسکتا ہے۔ وہ یہی سمجھ رہا تھا کہ ان خانہ بدوشوں کے زہنوں میں اپنا نظریہ تھونپا جائے؛ لیکن ایک ذہین اور دیانتدار فرد ہونے کے باعث، اس نے فکر کیا کہ ایک انقلابی ہوکر ایسا کرنا غلط بلکہ ظلم ہوگا کہ ان کو جس طرح مرضی چاہے بنا لو۔ وہ جانتا تھا کہ ایک انقلابی کو اس طرح کا کوئی تاثر قبول نہیں کرنا چاہیے۔

بیس سال بعد وہ معافی مانگ رہا تھا۔ اس نے کہا، “اس وقت باالکل ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ آپ ایک قوم کی زندگی کو تبدیل کرنے میں تقریبا کامیاب ہوچکے ہو”۔

شہباز ایک زندہ دل انسان تھا۔ پاکستان میں یہ کہنا عام ہے کہ پاکستانی دنیا بھر میں غیر مُستقل مزاج ہونے کے باعث، اپنے لوگوں سے تعصب برتتے ہیں۔ لیکن شہباز بالکل مُختلف تھا، وہ ہر وقت پاکستانیوں یا دیگر کو سراہنے میں پیش پیش رہتا تھا۔ انگلینڈ کے قیام اور پبلک اسکول کی تعلیم نے اس کی شخصیت میں یہ خصوصیات پیداکر دی تھیں کہ دیگر لوگوں کے خیالات کو سُننے اور قبول کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ جیسا کہ پہلے اس نے لندن میں ایک افریقی کی قیادت قبول کر لی تھی، اب اس نے بلوچستان میں قبائلی سربراہ کو اپنا کمانڈر مان لیا تھا۔

قبائلی سربراہ پڑھا لکھا نہیں تھا، وہ ایک خانہ بدوش خاندان کا چرواہا تھا۔ وہ 1963 میں پاکستانی ملٹری گورنمنٹ کے خلاف بلوچستان کی آزادی کے لئے لڑ چُکا تھا۔ شہباز انکی اعتدال پسندی، انکی عاجزی، انکی گفتگو اور انکے اطمینان سے سحر ذدہ تھا۔ اس قبائلی سربراہ کو ان پڑھوں کے کردار اور مزاج کی حقیقی جبلت سے بخوبی واقفیت تھی، اور ہر طرح کے موقعوں میں وہ اچھی طرح جانتا تھا کہ لوگوں سے کیسے بات کی جائے۔ وہ ایک فطری لیڈر تھا، شہباز اور دوسرے لوگ اُمید کر رہے تھے کہ وہ بلوچوں اور بلکہ پاکستان کا ماؤ یا اوچی من بن کر اُبھرے گا۔

وہاں پر باہر سے آیا ہوا ایک اور لڑکا تھا جسے شہباز بُہت سراہتا تھا اور اس کے ساتھ اس کے تعلقات بہت قریبی ہوگئے تھے۔ یہ کراچی کا ایک مسیحی لڑکا تھا جو ایک ائیر فورس آفیسر کا بیٹا تھا۔ وہ لندن گروپ میں سے تھا؛ وہ اپنی اکاؤنٹنٹ کی پڑھائی انقلاب کے لئے چھوڑ کر آ یا ہوا تھا۔ وہ شہباز کی طرح جذباتی تھا غُربت اور ناانصافی دیکھ کر اسے بُہت دُکھ ہوتا تھا۔ اس کی بیشتر زندگی ایک مسیحی ہونے کی وجہ سے پاکستان میں اجنبیوں جیسی گزری تھی اور ہو سکتا ہے (یہ موازنہ شہباز کا نہیں تھا) اس کی اجنبیت باالکل ویسی ہی تھی جیسے شہباز نے کئ سال تک انگلینڈ میں رہ کر گزاری تھی۔ وہ بُہت خوش مزاج لڑکا تھا۔ شہباز کو اب بھی اس کے زور دار قہقے یاد تھے۔ شہباز کو یاد تھا کہ وہ دُبلا پتلا، رنگ میں کالا باالکل بنگالیوں جیسا تھا۔

شہباز جب اس لڑکے کی باتیں کر رہا تھا تو اس کی آنکھیں نم اور آواز دھیمی پڑ گئی تھی۔ یہ لڑکا بلوچستان میں آنے کے چھ سال بعد بغاوت کے تیسرے سال مارا گیا تھا۔ وہ قریب کے ایک چھوٹے قصبے میں کسی بھروسہ مند شخص سے ملنے گیا ہوا تھا، اور دغا بازی سے آرمی کے ہاتھوں ایک قبائلی نمائندےکے ہمراہ پکڑا گیا تھا۔ آرمی نے اُن کے پکڑے جانے کے متعلق کُچھ بھی نہیں بتایا، اس لئے باغیوں کو اُس وقت اِس کی خبر نہیں ہوئی تھی۔ بعد میں اُنھیں پتہ چلا کہ اُس کو کئ ہفتوں کی پوچھ گچھ اور ٹارچر کے بعد ایک ہیلی کاپٹر سے پھینکا گیا تھا۔ ان سب کو بُہت اذیت ہوئی تھی کہ اُنھیں اُس کے مرنے کی خبر تاقیر سے ملی تھی۔ شہباز جو کہ بہت افسردگی میں اُس لڑکے کے بارے میں بتا رہا تھا، اُس نے بعد میں اپنی فیملی سے دوبارہ ملنے کا سوچنا ہی چھوڑ دیا تھا۔

تین سال کی تیاریوں کے بعد انقلاب کی شروعات پورے بلوچستان کے بیابانوں میں درجنوں بغاوتوں سے شروع ہوئی۔ اور مُعجزاتی طور پر (انقلابی خیالات کے ساتھ کسی کا جذباتی طور پر جُڑ جانا) جس علاقے میں شہباز ایک جگہ سے دوسری جگہ مُنتقل ہو رہا تھا (جس میں کافی مُشکلات درپیش تھیں) ٹیکنیکل گوریلا زبان میں وہ علاقہ آزاد ہو گیا تھا۔ تمام انقلابی لیڈر قبائلی سربراہ تھے، باالکل ویسے ہی قابل جس سے شہباز بہت متاثر، اور سراہتا تھا جو کہ بعد میں سب گوریلا کمانڈر بن گئے تھے۔ لڑائی چاروں اطراف پھیلی ہوئی تھی، قبائل اور برادریوں کو مختلف حصوں میں بانٹا گیا تھا۔ جس قبیلے میں شہباز تھا اس میں پانچ چھ علیحدہ گروپ تھے۔ ان گروپوں میں سے ایک کیمپ کو وہ چلا رہا تھا۔ اس کے کیمپ میں پچاس سے دو سو لڑاکو تھے۔ اُس کا کام لڑنا نہیں تھا ۔ اُس کا کام جنگجوؤں کو اپنی فیلڈ میں تربیت دینا تھا، جن میں اُن کو طبعی ہنر سکھانا، بحث سکھانا، اور کاشتکاری اور مویشیوں کے مسائل سے نمٹنا شامل تھا۔

لیکن لڑائی کے دو اطراف تھے۔ بنگلہ دیش کے وجود میں آ جانے کے بعد، یہ جلد ہی واضح ہو گیا تھا کہ پاکستانی ریاست بھُٹو کی حکومت میں، بلوچوں اور اُن کے قبائلی سربراہوں کو بُہت شدت سے کُچلنے لگی ہے۔ ایک موقع پر شہباز کو ایسا لگا کہ بلوچستان میں لاکھوں فوجی گُھس آئے ہیں۔ لندن میں ساؤتھ افریقی نے لِن پیاؤ کے نام اور ان کے چینی انقلابی نظریہ سے سب کی نظروں کو خِیرہ کر دیا تھا، کہ دیہی علاقوں سے ہی شہروں پر چھایا جا سکتا ہے. جس بات کی اُنہوں نے توقع نہیں کی تھی، جس چیز کے لئے کوئی مارکسی قاعدہ یا انقلابی کتاب انہیں آمادہ نہیں کئے ہوئے تھی؛ وہ تھی ایک بُہت ہی تربیت یافتہ پیشہ ور آرمی جو حد سے زیادہ طاقت کے ساتھ خانہ بدوشوں کے کمزور معاشرتی ڈھانچے کو صفحہ ہستی سے مٹانے کیلئے نبرد آزما ہو.

بلوچستان کے ان “جنگی دیوتاؤں” کو پہلی بار دیکھنے پر شہباز کو شبہ یا حیرانگی ہوئی تھی، جو بلا وجہ نہیں تھی، ماؤ کے خیالات سے متفق ہوکر وہ جو توقعات کر بیٹھا تھا، سارا کچھ اس کے برعکس غلط ثابت ہوا. درحقیقت یہ خانہ بدوش نہ مارکسی لٹریچر کے مزدور تھے اور نہ ہی ہاری، وہ مستحکم نظریاتی نہیں تھے. یہ خانہ بدوش سیلانی تھے؛ وہ روشنی میں سفر کرتے تھے، جس کی وجہ سے وہ آسانی سے کُچلے جا سکتے تھے.

شہباز نے یہ داستان سُناتے وقت، اِس کی تفصیل نہیں بتائی. میں نے محسوس کیا کہ خانہ بدوشوں کو کُچلنے کے متعلق بُہت کُچھ سننا ابھی باقی ہے، اور جب کُچھ دن بعد میں اس سے ملنے گیا تو میں نے اس سے پوچھا.

اس نے بتایا، “لوگ چاروں طرف مر رہے تھے. وہ اپنے خاندانوں اور ذریعہ معاش سے ہاتھ دھو بیٹھے، خانہ بدوشوں کی معشیت بُہت ہی کمزور ہوتی ہے. پوری معشیت کا انحصار مویشیوں پر ہوتا ہے. آپ کو صرف جانوروں کو ختم کرنا ہوتا ہے. جو کہ انھوں نے کر دیا. جانوروں کو نشانہ بنایا گیا، اس سفاکانہ کاروائی میں ہزاروں کی تعداد میں بھیڑ اور بکریوں کو روندا گیا . ایسی کاروائی کرنے کے بعد لوگوں کا زندہ رہنا ناممکن ہو جاتا ہے.”

آرمی گرمیوں میں پیش قدمی نہیں کرتی تھی۔ گرمی کی شدت بُہت زیادہ تھی۔ سردیوں میں آرمی نے پیش قدمی کی، اور اگلی سردی کے آخر میں بلوچستان میں انقلاب کم و بیش ختم ہو گیا۔ لندن میں وہ تمام پارٹیاں اور عیش و عیاشی، وہ تمام مقدس انقلابی متن پر سیکسی لاطینی لڑکیوں سے بحث ومُباحثے، بلوچستان میں وہ تمام تعلیم و تربیت اور تیاریاں، جلد ہی اختتام پذیر ہوئیں۔

شہباز کُچھ آزاد علاقوں میں سے ایک علاقے کو کُچھ وقت تک سنبھال رہا تھا۔ تھوڑے عرصے میں انتظامی امور وہ خود سنبھالنے لگا۔ ساؤتھ افریقی حقیقی لڑائی شروع ہونے کے تھوڑے ہی عرصے بعد واپس چلا گیا تھا۔ شہباز کو اِس سے کوئی پریشانی نہیں ہوئی تھی۔ اسے اب بھی ساؤتھ افریقی پر بھروسہ تھا، اور وہ جانتا تھا کہ ساوتھ افریقی, یورپ میں ضروری کام کے سلسلے میں جا رہا ہے؛ فنڈ نکلوانے (روس، جرمنی، اور انڈیا سے، یہ شہباز نے نہیں بتایا تھا)، اور بلوچستان میں انقلابیوں کے موقف کو لیفٹ ونگ پریس میں اُچھالنے کے سلسلے میں۔ ساؤتھ افریقی رابطے میں تو رہا، لیکن وہ واپس کبھی نہیں آیا۔

بلوچستان کو ملک سے باہر جتنی بھی پبلسٹی ملی تھی وہ ساؤتھ افریقی کی بدولت تھی، لیکن یہ بُہت تھوڑی تھی، بلوچستان کبھی بھی ایک بڑے بین الاقوامی سنسنی خیز مقدمے کے طور پر دنیا کے سامنے نہیں آ سکا۔ ہو سکتا ہے اس کی ایک وجہ انقلاب کا جلد کمزور پڑ جانا ہو۔ اور شاید دوسری وجہ بغاوت اور فوجی آپریشن کے بارے میں میڈیا کی خاموشی تھی۔ حکومتی حلقوں کی طرف سے کُچھ نہیں کہا گیا؛ کسی بھی پاکستانی اخبار نے کوئی چیز نہیں چھاپی، جن صحافیوں نے بلوچستان کے مُتعلق لکھا وہ جیل بھیج دئیے گئے۔ شہروں کے انقلابیوں نے خفیہ طور پر تھوڑی سی خبریں “جبل” (پہاڑ) نامی جریدے میں جس کا نام بڑا دلچسپ تھا شائع کیں۔ یہ دستی تحریر میں فوٹو کاپی کراکر مہینے میں ایک بار شائع ہوتا تھا۔ یہ ایک صدائے بے آواز تھی جس سے تحریک کا لوہا نہیں منوایا جا سکتا تھا۔

دوسرے موسم سرما کے آخر کے فوجی آپریشنوں کے بعد بلوچ قبائلی رہنما جس کو شہباز اور دوسروں نے بلوچی انقلاب کا ممکنہ ماؤ یا ہو چی مِن تصور کیا تھا، بلوچستان چھوڑنے کا فیصلہ کیا۔ اپنے ساتھیوں اور لاوارث خانہ بدوشوں کو لیکر سرحد پار افغانستان کی جانب ایک طویل غیر معمولی سفر کا فیصلہ کیا۔ ایک موقع پر خانہ بدوش پناہ گزینوں کی تعداد تقریبا پچیس ہزار ہوگئی تھی۔ شہباز نے بتایا، ان میں زیادہ تر عورتیں اور بچے تھے، جنہیں سہارا دینے کیلئے ان کے مرد زندہ نہیں رہے تھے۔

تیسرے موسم سرما کے اس واقعہ کے بعد جس میں، کراچی سے آیا ہوا مسیحی لڑکا، جو ہمیشہ “مُسکراتا اور زوردار ہنسی ہنستا تھا”، اور غُربت کو دیکھ کر روہنسا ہو جاتا، اور جو چارٹرڈ اکاونٹنٹ بننے کے لئے لندن میں پڑھ رہا تھا، کو گرفتار کر کے اذیتیں دینے کے بعد ایک ہیلی کاپٹر سے پھینک دیا گیا۔

آرمی کی سفاکانہ کاروائیوں میں اب بہت شدت آ گئی تھی، شہباز نے کہا، “بُہت ہولناک۔ قتل عام۔ فاقہ کشی۔ بموں کی برساتیں۔ بُہت سے ایسے لوگوں کی موت کا منظر دیکھنا جنہیں آپ نے محنت سے پالا اور تربیت دی ہو۔” لیکن اس کے باوجود مقصد کیلئے کبھی بھی ان کے دل میں شکوک پیدا نہیں ہوئے۔ “نہیں ۔ مُصیبت و آفت سے میری عقل و دانش میں اضافہ ہوا۔”

ان کو فیصلہ کرنا تھا کہ غیر جنگجو لوگوں کا کیا کیا جائے، آیا ان کو شمال کی جانب افغانستان بھیجا جائے یا مشرق کی جانب سندھ بھیجا جائے، یا انہیں وہیں پر ہی رکھا جائے یہ ضروری تھا کہ ایک آزاد اور کم آبادی پر مشتمل علاقے سے سب لوگوں کو نہ بھیجا جائے۔

آرمی نے سارے راستوں پر پہرے لگا دئیے تھے۔ ان تمام گوریلا لڑائیوں کی غیر معمولی منصوبہ بندی کے بعد، جہاں خورد ونوش کا سامان شہروں سے اسمگل کرکے اندر لانا پڑتا تھا۔ شہباز کو اِس آزاد علاقے میں تقریباً گھیر لیا گیا تھا۔

شہباز کے گرد ہونے والے حادثات اور ناکامی کے باوجود، اب بھی وہ پُر عزم اور پُر جوش تھا، وہ اب بھی انقلاب کو اپنی ذاتی ترقی و تکمیل کے طور پر دیکھ رہا تھا۔ اس نے کہا، “میرے لئے یہ بہت ہی تخلیقی دور تھا۔”

گندم کی ضرورت انھیں سب سے زیادہ تھی۔ بلوچستان میں دکانداری کا پیشہ ایک زمانہ میں ہندو کیا کرتے تھے، لیکن پارٹیشن کے بعد وہ تمام قصبوں سے نکل گئے تھے۔ قبائلیوں نے یہ کام سنبھال لیا تھا، اور وہ باغیوں کے قریبی یا دور کے رشتہ دار تھے۔ انھوں نے اونٹوں کے کاروانوں کا انتظام کیا تھا۔ ان اونٹ کے کاروانوں کو، کبھی کبھار گوریلوں کی نگرانی میں، بہت سی چوکیوں سے گزرنا پڑتا تھا۔ اس دوران بہت سے خوفناک حادثات پیش آتے تھے، خاص کر سردیوں میں آرمی کے حملوں کے وقت۔ آرمی گوریلوں کو پکڑ کر لے جاتی تھی؛ دکانداروں کو لے جاتی تھی؛ خوردونوش کا قیمتی سامان قبضے میں لے لیتی تھی۔ ایسا بھی وقت آتا کہ شہباز اور دوسرے لوگ دو دنوں میں ایک بار روٹی کھاتے تھے۔ وہ روٹیوں کے چند نوالے اپنی جیب میں لئے سفر کرتے تھے؛ اسی سے گزارا کرتے تھے۔

ایک سردی میں آرمی نے پہاڑوں میں پییش قدمی کی جہاں شہباز اور انکا گروپ موجود تھا۔ ان کو وہاں سے جلدی نکلنا تھا۔ آرمی کی نظروں میں آئے بغیر جو کہ ہیلی کاپٹروں کا استعمال کر رہے تھے،انھوں نے راتوں میں سفر کیا۔ وہ بہت سے خورد و نوش کا سامان جس میں بہت سے دنوں کی خوراک ذخیرہ تھی ساتھ لیکر نکل رہے تھے۔ وہ کسی صورت میں بھی یہ راشن گنوانا نہیں چاہتے تھے۔ پورے ایک دن تک شہباز اور اسکا گروپ ایک بہت ہی چھوٹی خانہ بدوش آبادی میں چھپے رہے۔ انھیں کھانا کھلایا گیا اور اچھی طرح ان کی دیکھ بھال کی گئی، اور رات میں وہ وہاں سے نکل گئے۔ آرمی اس وقت صرف ہیلی کاپٹروں کا استعمال نہیں کر رہی تھی؛ ان کے ساتھ ٹریکر (پا شناس۔م)، آرمی اسکاوٹ اور ماہر مقامی بلوچ جو قدموں کے نشانات کے ذریعے کوئی بھی جگہ ڈھونڈ سکتے تھے ان کے ہمراہ تھے۔ ان ماہروں کی مدد سے آرمی اُس چھوٹی آبادی تک پہنچ گئ۔وہاں انھوں نے سوالات پوچھنا شروع کیا۔ کل رات یہاں پر کون ٹہرے ہوئے تھے؟ تمہارے گھروں کے باہر یہ قدموں کے سارے نشانات کن کے ہیں؟ آخرکار اس چھوٹی سی آبادی کے سب لوگوں کو بڑی سفاکی سے قتل کر دیا گیا، جن میں کل سولہ لوگ تھے۔ شہباز یہ خبر سن کر کئی ہفتوں تک ڈِپریشن میں رہا۔ اس کے ساتھی بلوچ اس سے بہت زیادہ حوصلہ مند تھے؛ انھوں نے اس کو پُر سکون رکھا ہوا تھا۔

شہباز نے کہا، “کیونکہ خانہ بدوشوں کی زندگی بہت سخت ہوتی ہے، اس لئے ان میں مصیبت اور مشکلات سہنے کی گنجائش بھی بہت ذیادہ ہوتی ہے۔ یہ صبر اور برداشت میں نے ان ہی سے سیکھی ہے۔

تین سال بعد– یونان کے بے شمار المیے اور پاکستان میں ہونے والے انتقامی اَلَمیے باالکل ایک جیسے ہی تھے اور بڑے زور و شور پر تھے– بُٹھو صاحب، جنھوں نے پاکستانی آرمی کو بلوچوں کے خلاف بے لگام چھوڑا تھا، کو ایک جنرل نے معزول کردیا اور کارروائیوں کے بعد اس کو پھانسی پر لٹکا دیا۔ اسی جنرل نے بعد میں معافی کے اعلانات کئے، اور بلوچستان میں لڑائی ختم ہوگئی۔

شہباز اب دوسرے پناہ گزینوں کے ساتھ افغانستان میں تھا۔ بلوچستان سے افغانستان وہ پہاڑوں میں سے پیدل گیا تھا۔ جنوبی افغانستان میں پناہ گزینوں کے دو کیمپ تھے۔ وہ قبائلی سربراہ جس نے پناہ گزینوں کو افغانستان میں جانے کی راہنمائی کی تھی اب تک وہیں پر تھا، وہ اب بھی با عمل اور با اثر شخص تھا۔ ان انقلابی تحریک کے لوگوں کے پاس کابُل میں کچھ فلیٹ تھے۔ شہباز افغانستان میں رہ کر کئی ہفتوں تک پناہ گزین کیمپوں اور کابُل میں فلیٹوں کے درمیان آتا جاتا رہا۔

کابل میں ہی شہباز کی ملاقات چھ سال بعد ساؤتھ افریقی سے دوبارہ ہوئی۔ ایسے تمام انقلابی جو زندہ بچ گئے تھے یا اب بھی انقلاب سے دلچسپی رکھتے تھے، تحریک کے مستقبل کے متعلق باتیں کرنے کے لئے (روس کی موجودگی میں وہ وہاں محفوظ تھے) کابل میں ملاقاتیں کرتے تھے۔ شہباز اور اس کے کچھ اور ساتھی بھی ساؤتھ افریقی سے بات کرنا چاہتے تھے کہ چھ سال تک وہ یورپ میں کیا کرتا رہا، اور وہاں سے اکٹھی کی گئی رقم کے متعلق پوچھنا چاہتے تھے۔

ان کے درمیان اعصاب شکن بحث و مباحثے ہوئے، “بڑی لڑائیاں ہوئی۔” آخر میں شہباز اور ساؤتھ افریقی نے ایک دوسرے سے بات کرنا چھوڑ دیا۔ ساؤتھ افریقی نے یہ کہنا شروع کیا کہ شہباز اور اس کے کچھ ساتھی غدار ہیں؛ انھوں نے انقلاب سے غداری کی ہے اور انھیں قتل کرنا چاہئے۔ یہ سن کر شہباز کو بڑا صدمہ ہوا۔ بلکہ اُسے اور بھی بڑا دھچکا اس وقت لگا جب قبائلی رہنما– جس کو اس نے مستقبل کا ماؤ یا ہو چی مِن تصور کیا تھا– نے بلا کر بتایا کہ اب وہ شہباز کی حفا ظت کی گارنٹی نہیں دے سکتا: اب ساؤتھ افریقی شہباز کو زہر دینے کی کوشش کرسکتا ہے۔ شہباز نے سوچا بہتر ہے کہ یہ بلوچوں پر چھوڑ دیا جائے کہ وہ ساؤتھ افریقی سے نمٹیں۔ وہ واپس پہاڑوں میں چلا گیا۔ اس طرح سے شہباز نے ان دو خاص لوگوں سے خدا حافظ کہا جنہیں وہ سب سے زیادہ سراہتا تھا۔

تحریک کے اب ٹکڑے ٹکڑے ہوچکے تھے۔ بلوچ اب باہر کے لوگوں کو مزید اپنے ساتھ رکھنا نہیں چاہتے تھے۔ ان کی دلچسپی اب انقلاب میں نہیں رہی تھی۔ وہ علیحدگی پسند بن چکے تھے۔ بالآخر ساؤتھ افریقی لندن واپس چلا گیا۔ پہاڑوں سے نکل کر ہوائی جہاز کے ذریعے شہباز بھی وہیں چلا گیا۔ لندن سے اس نے اپنے والدین سے رابطہ کیا، اور انھیں دوبارہ رضامند کرلیا جنھوں نے محسوس کیا تھا کہ وہ بیوفائی کرکے انھیں بھول چکا ہے۔

جنگ کی وجہ سے وہ ایک کان سے بہرہ ہوگیا تھا۔ اس کے تمام دانت گرگئے تھے۔ وہ جگر کی ایک سنگین بیماری میں مبتلا ہو چکا تھا، اور اب وہ الکوحل نہیں پی سکتا تھا۔ اس پر سال میں کئ مرتبہ ملیریا کا حملہ ہوتا تھا۔

اس نے کہا، “مجھے ان سب چیزوں پر بالکل افسوس نہیں۔ یہ ہمیشہ میری زندگی کا تخلیقی اور پُرجوش حصہ رہا ہے اور رہے گا۔ جہاں مجھے بے حد ہمت اور بہت کچھ سیکھنے کو ملا۔ مجھے آخری نتیجے سے مایوسی ضرور ہوئی، لیکن یہ تلخی میرے لئے نا قابل برداشت نہیں ہے۔”

یہ زاویہ توقعات سے بالکل ہٹ کر تھا۔ کیا اُسے ایسا محسوس نہیں ہورہا تھا – وقت گزر جانے کے بعد، اپنے والدین اور بلوچوں کو ایک طرف چھوڑ کر – کہ اس نے اپنے امتیازی حق کا غلط استعمال کیا ہے اور وہ دانشورانہ طور پر غلط تھا؟

“نہیں۔ جب یہ سب کچھ چل رہا تھا تو میں پختگی کی طرف بڑھتا گیا۔”

یہ سب کچھ؟

“تیسری دنیا کے تمام گوریلا لڑائیاں۔”

اسکا اور اس کی ہم عصر پاکستانی نسل، جو آزادی کے بعد پیدا ہوئی تھی، کا یہ حیرت انگیز نوآبادیاتی خیال تھا کہ تعلیم ایسی چیز نہیں تھی کہ آپ اس سے فیض یاب ہوکر اپنی ضروریات پوری کرتے۔ یہ ایک ایسی چیز تھی جس میں آپ فطری طور پر کسی نقصان کے خوف کے بغیر ایک خاص منزل کی تلاش میں سرگرداں رہتے، اور آخر کار فطری طور پر اس منزل کی راہ تک پہنچ کر آپ خودبخود آسانی سے اس راہ پر چل دیتے۔

اس نے اپنے آپ کو ایک مارکسسٹ کی نظر سے دیکھ کر محسوس کیا کہ وہ ہمیشہ غیر رسمی رہا ہے۔ اس نے کبھی نہیں چاہا کہ اپنے مارکسیkit (نظریہ) کو بلوچوں پر تھوپا جاہے۔ وہ سمجھتا تھا کہ قبائلی ثقافت میں بہت سی چیزیں اچھی اور مثبت تھیں اور ان کی حفاظت ضرور کرنی چاہئے تھی، جیسے وہاں کا نظامِ قانون اور چراگاہوں کی مشترکہ ملکیت کا نظام، اب ان کی پوری قبائلی ثقافت ملیامیٹ ہوچکی تھی۔ روایتی قانون نام کی کوئی چیز نہیں رہی تھی؛ عدالتوں میں جانے کا کوئی ذریعہ نہیں رہا تھا؛ اور اب وہاں کے سب سے بڑے خاندانوں کے درمیان فسادات میں دو سے تین سو خون کے مسئلے چل رہے تھے۔ بلوچستان کے حالات اب 1970 سے بھی بدتر ہوگئے تھے، جس وقت وہ انقلاب کو لئے ریل گاڑی، بس کے ذریعہ اور پییدل چل کر کراچی سے روانہ ہوا تھا۔
یہ تھی وہ داستان جس کو سنانے میں شہباز کو کئی گھنٹے لگے تھے۔ اس طرح بتائی ہوئی داستانوں میں ممکن ہے کچھ چیزیں چھوٹ جاتی ہوں اور سننے میں غلط فہمی بھی ہوسکتی ہے، ایک یا دو دن بعد اپنے نوٹس پڑھنے پر میں نے محسوس کیا کہ بہت سی چیزیں اب بھی چھوٹ گئی ہیں۔ شہباز نے بلوچستان اور افغانستان میں دس سال گزارے تھے، لیکن وقت کیسے گزرا تھا اس کے متعلق اس میں کچھ بھی نہیں تھا۔ پانی کے بارے میں کچھ نہیں تھا، خشکی کے مناظر کی کوئی حقیقی منظر کشی نہیں کی گئی تھی۔ اور قبائلی لوگوں کا کوئی ذکر نہیں تھا۔ وہ ہی اصل لوگ تھے جن کے لئے مارکس ازم کو لایا جارہا تھا؛ وہ ہی لوگ تھے جو تباہ و بربادی کے شکار ہوئے تھے؛ لیکن ان کا کوئی ذکر نہیں تھا، داستان میں ان کی جھلک بھی نہیں تھی۔ صرف بلوچ قبائلی سربراہ اور ساؤتھ افریقی اور مسیحی لڑکے کا ذکر تھا۔
قبائلیوں کے متعلق جو میں نے کہا تھا اس سے شہباز کو بڑی حیرانگی ہوئی تھی۔ اس کے ذہن میں یہ خیال نہیں آیا تھا، وہ اس کی کوئی وضاحت نہیں کر پا رہا تھا۔ وہ جب بات کرتا تھا تو اس کے خیالات میں قبائلی موجود ہوتے تھے۔ میں اُس کے اندر اُن – قبائلیوں – کو ہمیشہ محسوس کرتا تھا۔ لیکن شاید میری توصیف یکطرفہ رہی ہوگی۔

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s