ماما کی فریاد

تحریر : لال خان

 ایک طرف 5 فروری کو رنگ برنگ کی ’’کالعدم‘‘ مذہبی بنیاد پرست تنظیموں کے بھرپور تعاون سے پاکستانی ریاست نے ’’یومِ یکجہتی کشمیر‘‘ منایا ہے تو دوسری طرف mama long marchبلوچستان میں ریاستی ایجنسیوں کی طرف سے اٹھائے جانے والے افراد کی بازیابی کے لئے کراچی سے اسلام آباد پیدل مارچ کرنے والا ماما قدیر کا قافلہ لاہور پہنچے کو ہے۔ دو ہفتے قبل خضدار میں دریافت ہونے والی تین اجتماعی قبروں میں سے 100 سے زائد مسخ شدہ لاشیں برآمد ہوئی ہیں جس سے بلوچستان کی سلگتی ہوئی صورتحال ایک بار پھر منظر عام پر آگئی ہے۔

گزشتہ عرصے میں پاکستان میں قومی مسئلہ زیادہ پیچیدہ اور گھمبیر تر ہوگیا ہے۔ بٹوارے کے بعد جس پاکستان کو مذہبی بنیادوں پر معرضِ وجود میں لایا گیا اس کے جنم میں ہی اس کی شناخت، اسکی ساخت اور اس کا وجود کسی جدید قومی وحدت سے محروم تھے۔ اس ’’قوم‘‘ کو کئی متضاد حوالوں سے پیوند کیا گیا تھا۔ جسے خطے میں یہ اسلامی مملکت قائم کی گئی وہاں موجود مختلف قومیتوں میں لسانی، ثقافتی اور تہذیبی تفریق بہت نمایاں اور مختلف تھی۔ اس لیے اپنے جنم سے ہی ایک قوم کے حوالے اسکی ساخت بہت ہی متفرق مسخ شدہ اور سطحی نوعیت کی تھی۔ دوقومی نظریے کی متروکیت 1971ء میں مشرقی بنگال کی علیحدگی نے عیاں کردی تھی۔

حکمران طبقات بھی بحرانوں کی مختلف کیفیتوں میں اس نظریہ پاکستان کے مختلف متضاد پہلوؤں کو اپنی حاکمیت کو قائم رکھنے کے لیے استعمال کرتے رہتے ہیں۔ 1949ء کی قرار دادِمقاصداور 1951ء کی نظریاتی کونسل ابتدا میں ہی پاکستانی حکمرانوں کے اپنے ایک جدید اور سیکولر سرمایہ دارانہ قومی ریاست کے مقصد اور تناظر کی نفی کرتی ہے۔ پاکستانی قوم پرستی کا روزِ اول سے ہی اس ملک کی دوسری مظلوم قومیتوں سے گہرا تضاد تھا۔ قومی استحصال وجبر کے خلاف مختلف خطوں میں مختلف پیمانوں پر عوامی تحریکیں ابھرتی رہیں۔ ان میں سب سے بڑی تحریک بلوچستان میں قومی آزادی کی مسلح جدوجہد تھی جس کو ایوبی آمریت نے انتہائی بھیانک جبر سے کچلنے کی کوشش کی۔ وقتی طور پر یہ کسی حد تک پسپا تو ہوئی لیکن قومی محرومی کی وہ آگ سلگتی رہی جو پھر بار بار بھڑکی ہے اور ایک بار پھر بھڑک رہی ہے۔

بلوچستان میں معدنیاتی وسائل اور بندرگاہوں کے کاروبار میں نہ صرف پاکستانی حکمران ملوث ہیں بلکہ سامراجی جارحیت اور مداخلت بھی بڑے پیمانے پر موجود ہے۔ اس کیفیت میں جائیداد اور ملکیت کے طبقاتی رشتوں کو مدنظر رکھنا بہت ضروری ہے۔ حکمران طبقات اپنے استحصال کے لئے صرف ریاستی جبرکا سہارا نہیں لیتے بلکہ محنت کشوں کے درمیان ماضی کے تعصبات کے ذریعے پھوٹ ڈالتے ہیں اور قومی استحصال کے خلاف ابھرنے والی تحریکوں کو مختلف قبائلی و لسانی منافرتوں کے ذریعے کمزور کیا جاتا ہے۔ پھر مقامی حکمرانوں کے مختلف دھڑوں اور سامراجی قوتوں کے درمیان وسائل کی لوٹ مار کی داخلی جنگ اور کشمکش بھی جاری رہتی ہے۔ اس لوٹ مار کی لڑائی میں مظلوم قومیتوں کے بالادست طبقات کے مختلف دھڑوں کو بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ لیکن ان دشمنیوں، رقابتوں اور تنازعات کی جڑیں چونکہ سرمایہ دارانہ معیشت اور نظام میں پیوست ہیں لہٰذا آخری تجزیے میں سامراج، پاکستانی حکمران طبقات اور تنگ نظر قوم پرست لیڈروں کے مفادات کی نوعیت میں کوئی فرق نہیں ہے۔ پاکستان میں حکمرانوں اور سامراجیوں کے استحصال اور ہوس پر مبنی یہی پیچیدہ لڑائی ان علاقوں کے عوام کو تباہ و برباد کررہی ہے جو سٹرٹیجک حوالے سے اہم اور معدنیات کے ذخائر سے مالا مال ہیں۔ بلوچستان کی بات کی جائے تو نہ صرف یہاں کے باسیوں کی زندگیاں غربت، افلاس، بے روزگاری، ناخواندگی اور بیماریوں میں مبتلا ہیں بلکہ انتشار اور خونریزی اب پراکسی جنگوں میں تبدیل ہو کر غریب عوام کو برباد کرتی چلی جارہی ہے۔ بلوچستان میں ایک جانب چین اور امریکہ کی بالواسطہ خانہ جنگی چل رہی ہے تو دوسری جانب ایرانی ملاں اشرافیہ اور سعودی رجعتی حکمرانوں کے درمیان دہائیوں پرانی چپقلش باقاعدہ پراکسی جنگ کی شکل اختیار کر چکی ہے۔

اس کیفیت میں جائیداد اور ملکیت کے طبقاتی رشتوں کو سمجھنا لازم ہوجاتا ہے۔ 1970ء کی دہائی اور اس سے پیشتر بلوچستان میں ریاستی جبر اور استحصال کے خلاف ابھرنے والی تحریکوں کی پوزیشن کہیں زیادہ نظریاتی تھی۔ سوویت یونین کے انہدام کے بعد پیدا ہونے والے نظریاتی تذبذب اور خلاء کے عہد میں بلوچستان میں میں متحارب رجعتی سامراجی قوتوں کی مداخلت نے بلوچ محنت کشوں اور نوجوانوں کی انقلابی جدوجہد کو بہت بڑا نقصان پہنچا یا ہے۔ ان قوتوں نے تحریک کے سوشلسٹ معاشی پروگرام کو تلف کروانے کی ہر ممکن کوشش کی ہے جس کے ذریعے اس جدوجہد کودوسری قومیتوں کے محنت کش عوام کی وسیع حمایت مل سکتی تھی۔ طبقاتی کشمکش جب جمود اور ٹھہراؤ کا شکار ہوتو موقع پرستی ناگزیر طور پر سر اٹھانے لگتی ہے جسے شعوری طور پر کچلنا ضروری ہوتا ہے۔ محض لسانی اور قومیت کی بنیاد پر چلنے والی تحریک کو الجھا کر منتشر کرنا حکمرانوں کے لئے قدرے آسان ہوجاتا ہے۔ سندھ میں اگر مہاجر، سندھی، پشتون، پنجابی اور بلوچ کی تفریق کو ابھارا جاسکتا ہے تو یہی حکمران بلوچستان میں بلوچ، پشتون اور براہوی عوام کو آپس میں الجھانے سے گریز نہیں کریں گے۔ ان کو یہ بھی پرواہ نہیں ہوگی کہ یہ نئے تعصبات کتنے لوگوں کو برباد کرتے ہیں۔

آج مارکسسٹوں کو ایک طرف سے غداری کی گالی ملتی ہے تو دوسری طرف سے سرکاری ایجنٹ کی تہمت لگائی جاتی ہے۔ یہ کوئی نئی بات نہیں ہے۔ اس بازار میں سیٹیاں بجتی رہتی ہیں۔ بالشویکوں کو بھی روس میں قومی مسئلہ پر اس قسم کے نظریاتی حملوں کی بوچھاڑ کا سامنا تھا لیکن وہ ایک ٹھوس طبقاتی پالیسی اور نظریاتی لائحہ عمل پر استقلال سے قائم رہے۔ لینن نے دونوں محاذوں پر اپنی جدوجہد جاری رکھی۔ آج بھی مارکسسٹوں کے پاس قومی مسئلے کے حل پر یہی لائحہ عمل ہے کہ اس مسئلے کو طبقاتی بنیادوں پرسوشلسٹ انقلاب سے جوڑے بغیر کوئی حل ممکن نہیں ہے۔ قومی مسئلہ پر لینن نے پارٹی کی پالیسی بہت ہی شفاف اور جامع انداز میں واضح کردی تھی کہ ’’قوموں کے حق خودارادیت کی مکمل حمایت کرتے ہوئے ہم بالشویک تمام قوموں کے محنت کشوں کو ایک طبقاتی زنجیر میں یکجا کرنے کی جدوجہد کا حق بھی محفوظ رکھتے ہیں۔ ‘‘

تنگ نظر قوم پرستی کا نظریہ بنیادی طور پر بورژواریاست کی نظریاتی اساس ہوتا ہے۔ سامراج کی تاریخ ہی اپنے غلبے اور استحصال کو قائم رکھنے کے لیے ملکوں کو توڑنے اور جوڑنے پر مبنی ہے۔ قومی بنیادوں پر ریاستیں اور ملک تو بدل سکتے ہیں نظام نہیں۔ بلوچستان، سندھ، کشمیر، پشتونخواہ اور دوسرے محروم خطوں میں نوجوانوں اور محنت کشوں کی قومی محرومی دراصل طبقاتی محرومی میں لپٹی ہے۔ سرمایہ دارانہ بنیادوں پر پاکستان میں قومی مسئلے پر بے شمار تنازعات، جنگیں، غداریاں، معاہدے اور مصالحتیں ہوئی ہیں۔ کتنے پیکیج دیئے گئے ہیں لیکن مسئلہ حل ہونے کی بجائے مزید پیچیدہ ہوتا گیا ہے۔ آج ڈاکٹر مالک کی ’’ترقی پسند‘‘ صوبائی حکومت بھی ایک مصالحت کا ہی نتیجہ ہے جس کے بے بسی اور لاچارگی سب کے سامنے عیاں ہے۔

انقلابات جغرافیے اور سرحدیں بدلنے کے ساتھ ساتھ ظالم نظاموں کو بھی مسمار کردیتے ہیں۔ سوشلزم کا مقصد سرحدوں کا خاتمہ ہے، نئی سرحدوں سے نسلِ انسانی کو تقسیم در تقسیم کرنا نہیں۔ سوشلزم طبقات پر مبنی جائیداد او ملکیت کے سرمایہ دارانہ رشتوں کو مسترد کرتا ہے۔ ذرائع پیداوار اور قدرتی وسائل کی نجی ملکیت کا خاتمہ کرکے ہی قومی استحصال سے نجات حاصل کی جاسکتی ہے۔ لالچ اور ہوس کی نفسیات کے خاتمے سے خطوں، علاقوں، معدنیات اور دوسرے ذرائع وسائل کی جانب انسانی رویے ہی یکسر بدل جاتے ہیں۔ ایک سوشلسٹ سماج میں ہی وہ وسائل اور مادی حالات میسر ہوسکتے ہیں جن میں قومی حقوق، ثقافتوں اور زبانوں کی پاسداری کرتے ہوئے ہوئے انکو جدید اور زیادہ ترقی یافتہ بنایا جاسکتا ہے۔ سوویتوں یا عوامی پنچایتوں کے ذریعے ہی دولت اور طاقت کی تفریق کے خاتمے سے ہر قومیت کو ترقی کے مواقع فراہم ہوسکتے ہیں۔

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s