شہید سھراب بلو چ

بلو چ قومی رہنما شہید سھراب بلو چ بی ایس او (متحدہ )کے مر کزی وائس چیر مین تھے ۔شہید سھراب قومی تحریک میں اپنے رہنماہانہ صلاحیتوں کے ساتھ ہمیسہ پیش پیش رہے اور sohraib2شہادت کا مرتبہ حاصل کیا۔ ان کی شہادت جنو ری 2008میں دوران کاروائی حادثاتی طور پر بمب کے قبل از وقت پٹنے سے ہوئی اس طرع شہید سھراب نے اپنے اپنی زندگی کے آخری لمحات جد و جہد میں گزارے اور دوران جد جہد ہی شہادت کے عظیم مقام تک پہنچے۔ فروری 2000 میں پاکستانی ایجنسیوں نے جسٹں نو از مری کو قتل کر کے ان کے قتل کے جھوٹے مقدمات میں نواب خیر بخش مری سمیت متعدد مری بلوچوں کو گرفتار کیا گیا جن کے ساتھ شہید سھراب بھی گرفتار ہوئے اور دو مہینے جیل میں بند رہنے کے بعد رہا ہوئے۔ شہید سہراب بلوچ نے یہ انٹرویو نومبر 2006 کو ایک TV چینل کو دیا تھا۔

میر ا نا م سھراب بلو چ ہے۔ میر اتعلق مر ی قبا ئل سے ہے۔ میں ایک غریب طا لبعلم ہو ں ۔اس سے پہلے میر ا سیاست سے کوئی تعلق نہیں تھا ۔کا لج میں داخلہ لینے کے بعد مجھے احساس ہو ا کہ بلو چ ایک قوم ہے اُسکی ایک تا ریخ ہے اس کی اپنی کلچر ہے ۔ مجھے بی ایس او کے نو جوانوں سے معلوم ہو ا کہ بلو چوں پر جبر ی قبضہ ہو اہے۔ اس سے پہلے میں جسٹس نو از مر ی کے قتل کے الزام میں گر فتا ر ہو ا۔ جسٹس نوازمر ی قبائل سے تعلق رکھتا تھا۔ 7فروری 2000 کو کو ئٹہ میں پا کستان ایجنسیوں نے جسٹس نو از مری کو قتل کیا لیکن قتل کر نے والے لو گوں کی پا لیسی یہ تھی کہ وہ ایک تیر میں دو شکا ر کر یں لحاظہ اس وقت مر ی قبا ئل کے بہت سے لو گوں کو گر فتا ر کیا گیا ان میں میں بھی شامل تھا ۔

کو ئٹہ میں ایک جگہ ہے نیوکا ہا ں وہا ں سے ہم لو گوں کو گر فتا ر کیا گیا ہم 160افراد تھے ۔ ان میں سے ایک بڑی تعداد کو کلی کیمپ لے جایاگیا جن میں میں بھی شامل تھا۔ جب ہمیں گر فتا ر کیا گیا تو ہما رے سر وں پر ماسک ڈال دےئے گئے ۔ہم کچھ نہیں دیکھ سکتے تھے کہ ہمیں کہاں لے جا یا جارہا ہے ۔ہما رے ہا تھ پا وں بندھے ہوئے تھے ۔ ہمارے ساتھ گرفتار ہونے والوں میں بچے اورضیف العمر لو گ شامل تھے۔

تقربیا ایک ہفتے تک ہما رے خاندان کے لوگوں کو کچھ پتا نہ چل پایا کہ ہمیں کہا ں لے گئے۔اس کے بعد ہم سے تفتیش شروع کی گئی اور مختلف طر یقوں سے ہم پر تشد د کیا گیا ہما رے دوستوں کو کلی کیمپ میں ہما رے سا منے بجلی کی کر نٹ دئیے گئے ۔ پا کستان خو د کو ایک مسلما ن ملک کہتا ہے لیکن یہ سلوک اور اس طرع کا تشددمسلمانیت سے مبر ا تھا ۔ا ن سے میں سمجھ گیا تھا کہ بلو چ قوم کے ساتھ پنجا بی کا تصادم موجود ہے۔ پنجا بی یہ سمجھتا ہے کہ جب تک بلو چ اس سر زمیں پر موجود ہے پا کستا ن محفوظ نہیں۔ہمیں جب گر فتا ر کیا گیا تو ہم سے انہوں نے پوچھا کہ آپ لو گ خو د کو بلو چ کیوں کہتے ہو۔ تم لو گ انگریزوں کے سا تھ لڑے اب تم لو گ پا کستان کے خلاف ہو۔کچھ مر ی افغانستان گے ہیں ہم پر تشدد کر کے پوچھا گیا کہ افغا نستا ن کے ساتھ تمہا رے تعلقات کیا ہیں ۔افغانستان کیوں گئے ہو۔

اسی دن میں سمجھ گیا تھاکہ پنجابی ہمیں معاف نہیں کر یگا ۔اس کے بعد ہمیں دو مہینہ تا نے میں رکھا گیا ۔اس وقت نو اب مر ی کو بھی گر فتا رکیاگیاتھا ۔دو مہینے بعد ہم 160 لوگوں کوڈسٹرکٹ ہد ہ جیل لایا گیا۔ہم پر کو ئی کیس نہیں تھا انہوں نے کہا کہ تم لو گ نکل کر وا پس جنگ کر و گے تم لو گوں کو ناجا ئزگر فتا ر کیا گیا ہے تم لو گ غلط ری ایکشن نہ لواسی لئے تمہیں ادھررکھا گیا ہے آخر کا ر ہمیں ضمانت پر رہا کر دیا گیا۔اس کے بعد میں نے با قا عد ہ سیا ست میں حصہ لیا اور بی ایس او کے کو نسل سیشن میں گیا۔ کو نسل سیشن پنجگور میں منعقد ہوا اور میں بی ایس او کا وائس چیر مین منتخب ہو ا ۔

میری ہمیشہ کو شش رہی کہ بلو چ نو جو انوں کو کہوں کہ پنجا بی تمارا پیچا نہیں چھوڑیگا۔پنجا بی نے اپناٹا رگٹ رکھاہوا ہے کہ جو بلو چ نو جوان پڑ تاہے یا اچھا فیلڈ جو ائن کر تا ہے وہ کل بلو چ کیلئے کا م کر ے گا ۔اُن کا مقصد یہی ہے کہ ہمیں تعلیمی حوالے سے پسماندہ رکھیں پھر ان کی یہی پا لیسی رہی ہے کہ تمہیں سردار پڑھنے نہیں دیتے لیکن میں نے محسوس کیا ہے کہ اس میں سر دار وں کا کو ئی قصور نہیں ہے ۔ خاص طور پرنو اب مری پر الزام لگا یا جاتا ہے ۔میں نے خو د تحقیقات کی ہیں کہ جسٹس مری کے قتل میں جا وید اقبال چو ہدری کا ہاتھ تھا جوکہ چیف جسٹس بلو چستان رہا ہے اورجو آج سپریم کو رٹ تک پہنچ گیا ہے ۔اس کیس کے سلسلے میں بہت سے مر یوں کو بھی تشد د کا نشانہ بنایا گیاجو ابھی تک ہدہ جیل میں اذیتیں سہہ رہے ہیں ۔لیکن جس بندے نے جسٹس نو از مری کو قتل کرایا وہ آج سپر یم کو رٹ پہنچ گیا ہے۔ بلو چ قوم میری التجا ہے کہ اب ہمیں پنجا بی سے چھٹکارا پا نا ہے اور ہمیں اپنی آزادی کیلئے لڑ نا ہو گا ۔کیو نکہ بلو چ ایک آزادریا ست کا مالک تھا خان آف قلات کے سا تھ جبری معاہدہ ہو جس میں خان قلات کی مرضی نہیں تھی خان کے سا تھ محمد علی جنا ح کا جبر ی معاہدہ ہوا اور بلو چ قوم اس معاہدہے کے خلاف ہے ۔ یہ بلو چ وسائل کی جنگ ہے بلو چ وسائل کو لوٹنے کی خاطر پنجابی نے قبضہ کیا ہے ۔گو دار اور مر ی علاقوں پر بمبا ری ہو رہی ہے پنجا بی کا اصل مقصد یہی ہے کہ بلو چ علاقوں کے وسائل کو اپنے ہا تھ میں لے۔

بلو چ نو جواں میں اب شعور آچکا ہے کہ اپنی آزادی کی جنگ کو آگے لے جائیں اور کسی حالت میں پیچھے نہ رہیں جیسا کہ وفاقی وزیر داخلہ خو د کہتا ہے کہ 6000بلوچ نو جواں ہما sohrab1رے تحویل میں ہیں یعنی ہم نے انہیں اغوکیا ہے اور ان میں بہت سے لو گوں کو چھوڑ دیا گیا ہے جن میں ڈاکٹر اللہ نذ ر بلو چ کو slow poisoningکیاگیا۔ ان پرجس طر ح تشد د کیا گیا وہ جسمانی اور ذہنی حو الے سے مفلوج ہے ۔وہ زندہ لا ش بن چکی ہے ۔ ڈاکٹر اللہ نظر کیلئے میں نے خو د بھوک ہڑتال کیا ۔کو ئٹہ پر یس کلب کے سامنے 11دن تک تادم مر گ بھوک ہڑتال پر بیٹھا رہا اور ہمارا ایک کا ل بھی دی کہ ہم 14تاریخ کو گوزنر ہا وس کا گھیراو کر یں گے جو کہ پا کستانی کی آزادی کا دن ہے ۔ ہم نے پا کستانی ایجنسیوں کو شکت دی اور اپنے قومی رہنما کو بازیاب کرایا جو آج زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلاہے ۔

ہم دنیا یعنی یو این اواور عالمی عدالت سے اپیل کر تے ہیں۔بلو چ ایک غیر ت مند قوم ہے جو اپنی زندگی اور اپنی کی خا طر جنگ لڑرہے ہیں ۔اگر آپ لو گوں کے پا س انصاف ہے تو آپ لو گ مداخلت کر یں۔ مجھے یقین ہے بلو چ اپنی آزادی ضرور حاصل کرینگے ۔جو جنگ بلو چ نے شر وع کی ہے اس کے مختلف طر یقے ہیں کو ئی قلم کے ذریعے جنگ لڑ رہا ہے کو ئی اسلحہ ا ٹھاکر جنگ لڑ رہا ہے کسی نہ کسی طر یقے سے جد وجہد ضرور ہو رہا ہے ۔ بلوچ جوان بزرگ سب اس جنگ حصہ بن گئے ہیں ۔جب نواب اکبر خان بگٹی شہید ہو ئے تو ان کا مقصد بلو چ قوم کی آزاد ریاست تھا۔بلوچ اپنی ہتھیار نہیں پھینکے گاحالانکہ سر کا ر کی یہی کو شش رہی کہ نواب صاحب واپس آجائیں اور نو اب صاحب کچھ معاہدے قبول کر لیں لیکن نو اب صاحب نے کہا تھا میں سرنڈر نہیں کرونگاکیونکہ بلو چ تا ریخ اور بلو چ قوم کا مسئلہ ہے میں ہر گزسرنڈرنہیں کر سکتااور انہوں نے 80سال کے عمر میں شہادت پا ئی ۔اب بلوچ نوجوان نہ صوبائی خودمختاری چاہتے ہیں اور نہ ہی پا رلیما نی کمیٹیا ں مانتے ہیں بلو چ اپنی آزادی حاصل کر یں گی ۔دنیا کے سرمایہ دار یہ چا ہتے ہیں کہ بلو چستان میں آکر مداخت کریں اور ہم یہی چاہتے ہیں کہ بلو چ کا ایک آزادریا ست ہو بلو چ اپنی مرضی اور منشا کے مطابق دنیا سے معملات کر یں۔ کو ئی یہ نہ سمجھے کہ میں سپر پا ور بن کر بلو چ پر غلامی مسلط کر دونگا ۔میں یہ قبول کرتا ہو کہ ہم ایک کم نسل کے غلام ہیں اس طرع ہم غلام کے غلام ہیں پنجابی خو د ایک غلام ہے لیکن بلو چ نے یہ عہد کیا ہے کہ 58سالوں سے غلامی کی زندگی گذر رہی ہے اب آزادی کیلئے جنگ ضرور لڑ ینگے ۔ دنیا کے تما م بلو چ جاگ اُٹھیں قلم کی جنگ لڑ یں انصاف کی جنگ لڑیں کیو نکہ اب بلو چ آزادریا ست کا بنناضروری ہے ۔

One comment on “شہید سھراب بلو چ

  1. Pingback: شہید سھراب بلو چ | brckarachi

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s