الجزائر کی جنگَِ آزادی

(یہ مضمون جنگِ آزادی کے وقت کی لکھی ہوئی ہے)

عہد قدیم سے الجزائر افریقہ کا حصہ رہا ہے جس پر غنوشی حکمران تھے اور جس کا دارا لخلافہ کارتھیج تھا۔ یہ نویں صدی قبل مسیح کا زمانہ ہے۔ 146 ؁ ق م میں کار تھیج اہل روما کے ہاتھوں تباہ ہوا جس کے بعد پورے شمال افریقہ پر روم کا تسلط قائم ہوا ۔ وہ علاقہ جو آج الجزائر کے نام سے موسوم ہے اس زمانہ میں نو میدیا کہلاتا تھا۔ رومیوں کے انحطاط کے بعد ہسپانیہ کے وندلوں(Vandols ) نے ایک سو سال تک یہاں حکومت کی ۔ اس کے33ء میں یہ بازنطینی سلطنت کے حدود میں شامل کیا گیا۔ یہاں جو قوم آباد ہے وہ بربر ہے۔

سب سے پہلے مصر بازنطینی تسلّط سے آزاد ہوا۔670 ؁ء میں عقبیٰ ابن نافی نے بربروں کی امداد سے شمالی آفریقہ کوبازنطینی تسلط سے آزاد کیا، یہ خلافت بنی امیہ کا زمانہ تھا جبکہ الجزائر ، مراکش، تیونس اور لبیا پر مسلمانوں کا قبضہ ہوا اور شمالی افریقہ کی پوری آبادی حلقہ بگوشِ اسلام ہوئی۔ اسپین پر مسلمانوں کا جو حملہ طارق بن زیاد کی سرکردگی میں ہوا ، اس میں بربروں نے عربوں کے شانہ بشانہ حصہ لیا ۔

972ء ؁ میں خلافت فاطمئین کے زمانہ میں یہاں کے گورنر یوسف بلوقین ابن زری نے آزادی کا اعلان کیا ۔ تیرھویں صدی عیسوی کے آخر تک مراکش ، تیونس اور الجزائر پر فاطمیئن اور المواحدین حکومتوں کا قبضہ رہا۔ اس زمانہ میں الجزائر مغرب وسطہ کے نام سے مراکش مغرب اقصیٰ اور تیونس افریقہ کے نام سے موسوم کئے جاتے تھے۔ 1492میں غرناطہ کے سقوط کے بعد اسپین سے مسلمانوں کی ایک بہت بڑی تعداد یہاں آکر آباد ہوگئی۔1553ء میں خیر الدین بربوسہ نے الجزائر کو سلطنت عثمانیہ کے تحت کیا ، اسی زمانہ میں مغرب وسطی کا نام الجزائر پڑا اور اس ملک نے ایک علیٰحدہ حیثیت حاصل کی ۔ سترھویں صدی کے بعد ترکی گورنر زیادہ سے زیادہ خودمختار ہوتے گئے اور مرکزکی گرفت ڈھیلی پڑگئی۔

297569_189574831123020_1022938072_nانیسویں صدی کے اوائل تک الجزائر کو اپنے محل وقوع اور مرکزیت کی وجہ سے بین الاقوامی اہمیت حاصل ہوگئی تھی۔ فرانس ، برطانیہ اور امریکہ سے اس کے تجارتی اور معاہداتی تعلقات تھے۔ لیکن1830ء ؁ میں فرانس نے بلاوجہ ایک معمولی بہانہ تراش کر الجزائر پر تیس ہزار فوج سے حملہ کر دیا جو چھ سو سمندری جہازوں میں اس کے ساحل پر اتاردی گئی۔ الجزائر کے ترک گورنر ہتھیار ڈال دئے لیکن مرابطن قبیلہ کے ایک ۲۲ سالہ نوجوان عبدالقادر نے جس کو مقامی آبادی نے اپنا امیر منتخب کرلیا تھا، علم جہاد بلند کیا اور جولائی 1835ء ؁ میں انھیں رہاکر کے ملک بدر کردیا گیا ۔1883ء ؁ میں ان کا استنبول میں انتقال ہوا۔

شکست کے بعد بھی فرانسیسیوں کے خلاف ملک میں مختلف تحریکیں اٹھیں لیکن ہمہ گیر بغاوت کی شکل اختیار نہ کرسکیں۔
فرانسیسیوں نے اپنے ظلم اور بربریت سے آزادی کی ہر جدوجہد کو کچل دیا۔

الجزائر ایک زرعی ملک ہے ۔ اس کا رقبہ آٹھ لاکھ سینتالیس ہزار پانچ سو مربع میل ہے اور آبادی ایک کروڑ دس لاکھ ہے جس میں سے ساڑھے آٹھ لاکھ فرانسیسی ، اطالوی اور ہسپانیہ کے لوگون پر مشتمل ہے بحرِ روم کے کنارے واقع ہونے کی وجہ سے اس کی آب و ہوا یورپ کے جنوبی ممالک کے جیسی ہے ، یہاں انگور، لیموں ، سیب ، زیتون اور دیگر پھلوں بہتات ہے۔ یہاں کی معدنی پیدوار جس ، فاسفورس ، کوئلہ ، لوہا، پٹرولیم اور میگنیز ہے ۔ ملک کے زر خیز ترین علاقے فرانسیسیوں کے قبضہ میں ہیں جہا ں جدید ترین سائنسی طریقوں اور آلات سے کاشت domain-50d135bc5aکی جاتی ہے۔ جان گنھتر کے الفاظ میں صرف(80) فرانسیسی زمینداروں کے قبضہ میں پانچ لاکھ ایکڑ سے زائد اراضی ہے اور ملک میں چوبیس لاکھ ایکڑ اراضی چودہ زمینداروں کی ملکیت میں ہے ۔ ملک کی پوری زرعی معیشت پر فرانسیسیوں کا قبضہ ہے صنعت و حرفت ، تجارت ، بنکاری، جہازرانی ، معدنیات ہر چیز فرانسیسیوں کے ہاتھ میں ہے ۔ فرانسیسی اقلیت ’’کولن‘‘ کے نام سے مشہور ہے اور ان کا تناسب 1:9ہے۔ الجزائر کی تقریباً ایک کروڑ آبادی دیہاتوں یا چھوٹے چھوٹے قصبوں میں رہتی ہے اور جو افلاس غربت اور جہالت کا بُری طرح شکار ہے۔

ایک سامراجی حکومت اپنے مفادات کی حفاظت کے لئے جو بھی جتن کرتی ہے۔ فرانس نے وہ ساری تدابیر یہاں اختیار کی تھیں۔ الجزائری بنیادی اور شہروں حقوق سے محروم تھے ۔ ان کی زبان ان کے رسم و رواج ، ان کی تہذیب و ثقافت اور مذہب پر فرانسیسی حکومت نے اتنے قید و پابندیاں عائدکر رکھی تھیں کہ لو گ ثقافتی عادات و اطوار اثرت سے بیگانہ ہونے لگے تھے۔ مغربی تہذیب و تمدن خصوصاً عیش پرستی ، شراب نوشی اور جنسی آوارگی کو حکومت کی سرپرستی میں فروغ حاصل ہورہا تھا۔

فرانسیسی حکومت اور فرانسیسی آبادکاروں نے الجزائر میں اتنی مادی ترقیا تی کام کی تھیں کہ الجزائر کے بعض شہر اپنی وسیع سڑکوں ، خوبصورت پارکوں، سربفلک عمارتوں اور جدید آسائشوں کے لحاظ سے یورپ کے بڑے سے بڑے شہروں سے ٹکر کھاتے تھے اور سیرو تفریح کے بڑے مراکز بن گئے تھے۔ ہزاروں ایکڑ اراضی کو قابل کاشت اراضی میں تبدیل کردیا گیا تھا۔ سڑکوں اور ریلوں کا ملک کے طول و عرض میں جال بچھا یا گیاتھا۔

جنگِ آزادی کی تفصیل بتلانے سے قبل یہ چیز قابل ذکر ہے کہ الجزائر ایک پہاڑی ملک ہے۔ کوہ اٹلس کے دو سلسلے ایک دوسرے سے متوازی ملک کے ایک سے دوسرے سرے تک پھیلے ہوئے ہیں۔ ان پہاڑوں کے نشیب و فراز، اس کی وادیا ں اور دشوار گذارراستے مجاہدین آزادی کے محفوظ اڈے بن گئے تھے۔ الجزائر کے مغرب میں مراکش اور مشرق میں تیونس اور لبیا واقع تھے۔ مراکش اور تیونس پر بھی فرانس کا قبضہ تھا۔ اور یہاں بھی آزادی کی تحریکیں چل رہی تھیں لیکن ان میں وہ شدت پیدا نہیں ہوئی تھی جو الجزائر میں تھی۔ فرانس کے لئے بیک وقت ان تینوں شمالی افریقہ کے ملکوں سے برسرپیکار رہنا نا ممکن تھا اس لئے اس نے 1959ء ؁ میں مراکش اور تیونس کو آزاد کردیا اور اپنی پوری قوت الجزائر کی تحریک آزادی کو کچلنے کے لئے محفوظ کردی ۔

1834ء ؁ میں الجزائر پر قبضہ کرنے کے بعد فرانس نے اس کو اپنی مملکت کا غیر منفک (integral) حصہ قرار دیا تھا۔ لیکن یہاں کے باشندوں کو فرانس کی شہریت نہیں د ی گئی تھی imagesالبتہ انھیں رعایا کا لقب دیا گیا تھا۔1870ء ؁ میں الجزائر کو تین فرانسیسی شعبوں کا نام دیا گیا۔ فرانس کی پارلیمنٹ نے یک طرفہ طور پر انضمام کی یہ ساری کارروائی کی جس سے مقامی آبادی کا کوئی تعلق نہیں تھا۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد تک الجزائر کے باشندوں کے لئے کوئی آئین نہیں تھا۔ ان کی نہ کوئی قانون ساز جماعت تھی اور نہ انھیں رائے دہی کا حق حاصل تھا۔ 7 مارچ 1944ء ؁ کو پہلی مرتبہ الجزائر کے باشندوں کے شہری حقوق تسلیم کئے گئے۔ لیکن اس شہریت کے مستحق چند منتخب لوگ ہوتے تھے۔ 27 اکتوبر 1946ء ؁ میں شہریت کو عام کردیا گیا اور مواقعات برخواست کردئے گئے1947 ؁ میں فرانس اور الجزائر کے لئے ایک مشترکہ مجلس قانون ساز کی تجویز کی گئی لیکن الجزائر کی یوروپین آبادی کے ساتھ انتہائی ترجیحی سلوک روا رکھا گیا۔ فرانس کی پارلیمان میں الجزائر کی نمائندگی بیحد محدود اور برائے نام تھی۔

دوسری جنگ عظیم کے اختتام کے بعد دنیا میں سامراجیت کے خلاف ایک طوفان برپاہوا۔ اکثر ممالک جو صدیوں سے سامراجی نظام کا شکار تھے آزادی کی کشمکش میں مبتلا ہوگئے۔ الجزائر میں بھی تحریک آزادی نے زور پکڑا۔ فرانسیسی الجزائر میں ایسی تحریک کو پروان چڑھتا نہیں دیکھ سکتے تھے۔ انھوں نے ابتدا ہی سے اس کو کچلنے کی کوشش کی ۔ ہند چین کے باشندوں کے ساتھ ان کے مظالم کی داستان دنیا کے سامنے تھی اور اس ملک کو انھوں نے اسی وقت چھوڑا جب ان کو فوجی شکست کا سامنا کرنا پڑا ۔ اس لئے مسلح کشمکش کے سوا فرانس کو اور طرح گھٹنے ٹیکنے پر مجبور نہیں کیا جاسکتا تھا۔

1954 ؁ کی مسلح کشمکش کے قبل پہلی جنگ عظیم کے بعد امیر عبدالقادر کے پوتے امیر خالد نے فرانس کے پنجوں سے الجزائر آزاد کرانے کے لئے ایک منظم تحریک شروع کی تھی۔ 1945ء میں ایک بڑے جلوس پر گولی چلاکر فرانس کی حکومت نے ظلم اور بربریت کی انتہا کردی ۔ (45) ہزار الجزائری باشندوں کا قتل عام کیا گیا ۔ انکی آبادیوں کو جلاکر خاکستر کردیا گیا اس ظلم اورسفاکی نے اہل ملک کی آنکھیں کھول دیں۔ نوجوانوں نے اپنی ملک کی آزادی کے لئے جان کی بازی لگانے کا عہد کیا اور محمد بن بیلاکی سرکردگی میں قومی محاذ آزادی (F.L.N) کی خفیہ جماعت قائم ہوئی۔

یکم نومبر 1945ء ؁ کو جنگ آزادی کی ابتداء ہوئی ۔ (70) مقامات پر بیک وقت مسلح حملہ کیا گیا جس نے فرانسیسی حکومت کو دم بخود کردیا ۔گوریلوں نے فوجی اڈوں ، پولیس کی چوکیوں، گولہ بارود اور پٹرول کے زخیروں کو سب سے پہلے اپنے حملہ کا نشانہ بنایا ۔ ریل ، تار ، ٹیلیفون اور ریڈیوکے سلسلوں کو کاٹ دیا گیا اور آمد و رفت کے پلوں کو تباہ کیا گیا ۔
اس حملہ کے بعد گوریلوں تیونس کی سرحد پر کوہ آرس کے پہاڑی علاقوں میں منتقل ہوگئے اور خود کو گوریلہ یونٹوں میں منظم کرلیا۔

اس مسلح انقلاب کو کچلنے کے لئے حکومت فرانس نے زبردست فوج لگائی ۔ہوائی جہاز ، جٹ بمبار ، توپخانہ ، مشین گن اور کیمیائی بم (Napalm) تک مقامی آبادیوں پر برسائے 544246_578256995532380_1897308245_n،جانبازوں کی تلاش میں فرانسیسی فوج دیہاتوں اور آبادیوں کا محاصرہ کرلیتی تھی اور تلاشی کے دوران نوجوانوں کو بلا امتیاز گولی کا نشانہ بنا دیا جاتا۔ گھروں کو جلادیا جاتا، عورتوں کی آبروریزی کیجاتی ، بچوں کو قتل کیا جاتا اور کوئی ایسا ظلم نہ ہوتا جو آبادی پر نہ ڈھا یا جاتاہو۔

ابتداء میں جب پہلا مسلح حملہ کیا گیاگوریلوں کی تعداد بہت کم تھی اور ان کے پاس کسی قسم کا ہتھیار نہیں تھا۔ لیکن پہلا حملہ جو اچانک کیا گیا اس میں فرانسیسی فوج کا بہت سا ہتھیار ہاتھ لگا ۔ فوج کی نفری تعداد میں بھی اضافہ ہونے لگا اور دو تین سال کے عرصہ میں گوریلوں کی تعداد ایک لاکھ تک پہنچ گئی۔

(F.L.N) کا سب سے مضبوط مورچہ کوہ آرس کے پہاڑی علاقہ میں تھا جس کے مقابلہ کے لئے فرانس کی پچاس ہزار بہترین فوج لگائی گئی تھی۔ اس کی کمک کے لئے مزید دس(10) ہزار فوج یورپ سے طلب کی گئی تھی۔ اس کے علاوہ گشتی رضاکار دستے ، چھاتہ فوج اور کمانڈو (Cammandos) بھی تھے ۔ صرف کوہ آرس کے علاقہ میں فرانسیسی فوج کے دو ڈویژن لگے تھے جن کی امداد کے لئے ہوائی جہاز بھی تھے۔

جانباز قسطنطین کے ضلع میں جو کوہ آرس کے شمال میں واقع تھا گوریلہ چھاپوں کے ذریعہ فوجی اڈوں ، ریلوے پلوں ، نظامِ مواصلات اور دیگر اہم مراکز کو تباہ کر رہے تھے۔ ضلع قسطنطین کے جنوبی علاقے کے قبائل بھی فرانس کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے اور کوہ آرس میں مجاہدوں سے جاملے ۔ دارالخلافہ الجیرس اس کے نواحی علاقوں اور بڑ ے بڑے شہروں میں بھی مسلح انقلاب کے شعلے بھڑک اُٹھے تھے ۔ دارالخلافہ کے مشرقی علاقہ کی فیکٹریوں اور سرکاری عمارتوں کوF.L.N نے بموں سے تباہ کردیا تھا۔ یہی حال ضلع اور ن کا تھا۔

311325_167271583366494_814198222_nاس مسلح انقلاب کو منظم کرنے میں قومی محاذ آزادی نے بڑا کام کیا۔ الجزائر کی پوری آبادی نے فرد واحد کی طرح فرانس کی حکومت اور فرانسیسی باشندوں کا بائیکاٹ کیا ۔ محاذ کی آواز پر طلبا نے فرانسیسی سکولوں اور کالجوں کو سرکاری ملازمین نے دفاتر کو ، مزدوروں نے فیکٹریوں کو چھوڑ دیا ۔ فرانسیسی نوآبادکاروں کو خانگی کام کاج کے لئے مقامی لوگ نہیں ملتے تھے۔ جب پہلی مرتبہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں سعودی عرب کی جانب سے الجزائر کا مسئلہ اٹھایا گیا تو محاذ کی ہدایت پر مکمل ایک ہفتہ تک مک کے طول و عرض میں مکمل ہڑتال کی گئی ۔یہ مسئلہ دومرتبہ کونسل میں پیش ہوا اور فرانس کی مخالفت کے باوجود حق خودارادی کی بنیاد پر اس کے تصفیہ کے لئے فرانس کو مشورہ دیا گیا۔ لیکن فرانس نے کوئی توجہ نہیں دی اور جنگ جاری رہی۔

ویتنام کے جانبازوں سے شکست اُٹھانے کے بعد فرانس الجزائر کے ہاتھوں ایک دوسری شکست کھانے تیار نہ تھا۔ اس سے اس کا بین الاقوامی وقار خاک میں مل جاتا ۔ چنانچہ اس انقلاب اور مسلح کشمکش کو روکنے کے لئے اس نے اپنی پوری فوجی قوت کو الجزائر میں جھونک دی۔ یہ جانتے ہوئے کہ جانبازوں نے پہاڑی علاقوں کو اپنے مراکز بنالئے ہیں فرانسیسی فوج نے شہری آبادیوں اور نہتے باشندوں پر بڑے لرزہ خیز مظالم کئے تاکہ الجزائری قوم ہی نابود ہوجائے نہ صرف آبادیوں پر اندھادھند بمباری کی جاتی تھی بلکہ ان کے گھروں ، جائدادوں اور غلہ کے ذخیروں کو تباہ تاراج کر دیا جاتا تھا۔ شبہ پر یا گوریلوں کی تلاش میں بوڑھوں اور عورتوں تک کو ایسی اذیت ناک مصائب میں مبتلا کیا جاتا تھا کہ ان واقعات کو سُن کر جسم کے رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں۔ جمیلہ نامی ایک خاتون پر فرانسیسی فوج نے جو ہولناک مظالم کئے اُس سے مہذب دنیا کا کا ضمیر کانپ اٹھاخود فرانس کے اندر وہاں کے دانشوروں نے اپنی حکومت کے خلاف ایک زبردست محاذ قائم کیا جس میں شہرۂ آفاق مصنف سارترے کا نام سب سے پیش پیش ہے۔ اس مُصنف کو اپنا ملک چھوڑ کر سوئٹر لینڈ میں پناہ لینی پڑی لیکن اس نے گوریلوں کی امداد سے دریغ نہیں کیا۔ اپنی کثیر دولت بھی اس نے اس کام کے لئے وقف کردی تھی۔

الجزائر کے باشندوں پر ظلم کے نئے نئے طریقے اختیار کئے گئے۔ ان میں سب سے زیادہ برقی روکا جسم کے نازک حصوں میں دوڑانا ہے ۔ ایسی بھی مثالیں ملتی ہیں کہ لوگ زندہ جلادئے Parade for Algerian Day with Postersگئے یا انھیں پولیس کے بھوکے کتوں کا لقمہ بنایا گیا۔ جنگی قیدیوں کے ساتھ فرانسیسی فوج کا سلوک انہتائی سفاکانہ ہوتا تھا۔ فوجی یونیفارم میں ان کے گرفتار ہونے کے باوجود ان کے ساتھ ادنیٰ مجرموں کے جیسا سلوک کیا جاتا تھا اور 1946ء ؁ کے معاہدہ جینوا کو پس پشت ڈال دیا گیا تھا جیلوں اور فوجی کیمپوں میں اُن قیدیوں کی تعداد جو شبہ پر گرفتار کئے گئے تھے ہزاروں سے تجاوز کرگئی تھی۔ الجزائر کے طول وعرض میں ایسے ممنوعہ علاقہ قائم کئے گئے تھے جہاں مقامی باشندے قدم نہیں رکھ سکتے تھے اور خلاف ورزی کرنے والے کو گولی سے اڑادیا جاتاتھا۔ اسی طرح تیونس اور الجزائر کی سرحدکے درمیان ایک غیر جانبدار علاقہ قائم کیا گیا تھا جس کا رقبہ دس ہزار مربع کومیٹر تھا اور اس علاقہ کی آبادی ساڑھے تین لاکھ سے زیادہ تھی جو سب کے سب اپنی جان بچانے کے لئے سرحد پار کرکے تیونس میں داخل ہوگئے۔ کم از کم پانچ لاکھ لوگ تیونس ہجرت کرگئے۔

F.L.Nکے گوریلوں نے اپنے ملک کو فرانسیسی تسلط آزاد کرانے کے لئے جس سرفروشی، جانبازی ، ایثار اور قربانی کی مثالیں پیش کی ہیں وہ تاریخ حریت کا ایک زرین باب ہیں۔ یہ بیان کیا جاتا ہے کہ الجزائر کا کوئی گھر ایسا نہ تھا جس کے کم از کم ایک فرد نے مادرِ وطن کے لئے اپنی جان قربان نہ کی ہو۔ اورکوئی گھر ایسا نہ تھا جو کسی نہ کسی طرح متاثر نہ ہوا ہو۔ یہ بیان کیا جاتا ہے کہ اس جنگ آزادی میں دیڑھ لاکھ الجزائریوں نے جام شہادت نوش کیا۔

گوریلوں نے فرانس کی جدید ترین فوج سے ابتداء میں گوریلہ طرز کی جنگ لڑی ۔ ان کی توجہ زیادہ تر فوجی اڈوں مواصلاتی نظام اور دشمن کی نفری قوت کے ضائع کرنے پر مرکوز رہیں ۔ یکم نومبر ۴۵ء ؁ ہی کے حملہ میں انھوں نے دشمن سے پہلی مرتب ہتھیار چھینا اور اسی سے انھوں نے فرانسیسی فوجوں کا مقابلہ کیا ۔ بعد میں انھیں بعض دوست ممالک سے ہتھیار ملتا رہا ۔گوریلوں کی تعداد دوتین سال کے اندر ایک لاکھ سے زیادہ تجاوز کرگئی تھی جس کے پاس جدید ترین ہتھیار تھے ، جو موجودہ جنگ کی تکنیک سے واقف تھی اور جس نے جنگ کے آخر زمانہ میں جابجا دشمن سے ایک باقاعدہ فوج کی طرح مقابلہ کرکے اس کو پسپاکیا۔ یہی وہ موخرالذکر صورت حال تھی جس نے حکومت فرانس کوہتھیار ڈالنے پر مجبور کیا کیونکہ گوریلوں نے دشمن کی فوج کی ایک بہت بڑی تعداد کو ہلاک کردیا تھا جس سے فرانس کے بہت سے خاندان بے چراغ ہوگئے تھے والدین صف ماتم رکھے گئی تھی۔ خود ان کے ملک کی رائے عامہ اس جنگ کے خلاف ہوگئی تھی جس سے فرانس کی معیشت اور اقتصادی حالت مفلوج ہوکر رہ گئی تھی۔

F.L.Nfwdfکی گوریلہ فوج کے مقابلہ کی فرانسیسی فوج میں طاقت نہیں تھی دشمن کو جب بھی گوریلہ غافل دیکھتے ٹوٹ پڑتے تھے اور اس کی نفری قوت کو جتنا نقصان پہنچانا ہوتا پہنچاکر برق رفتاری سے اپنے پہاڑی پناہ گاہوں میں چُھپ جاتے تھے۔ فرانس کو فوجوں کو ان کا پتہ چلانا مشکل تھا۔گوریلوں کے بعض علاقہ ایسے محفوظ تھے کہ فرانسیسی پید ل فوج داخل ہونے کی ہمت نہیں کرتی تھی اور جہاں تک فوجی ٹرکیں جاسکتیں تھیں وہ جاکر ناکام واپس ہوجاتی تھی۔ اس لئے کہ پہاڑ کے اندر غاروں اور ناقابل عبور مقامات پرF.L.N نے اپنے فوجی اڈے قائم کئے تھے جن کی حفاظت کا بھی انھوں نے پورا اہتمام کیا تھا۔

اپنی فوجی مہم کو ناکامی سے بچانے کے لئے فرانسیسی فوجوں نے ہلی کاپٹروں کا استعمال شروع کیا کیونکہ جٹ اور دوسرے ہوائی جہاز ان علاقوں میں اپنی افادیت کھوچکے تھے، فرانسیسی فوج کو سب سے بڑی مشکل یہ پیش آرہی تھی کہ اس کے دشمن کے اڈوں کا پتہ لگاناناممکن ہوتا تھا۔ کیمپ کے ارضی حالات ان کے لئے ناموافق تھے اور وہاں کے پہاڑی علاقے ان کے لئے دشوار گزار جب ایک وسیع علاقہ میں فوج کے چھوٹے چھوٹے دستے بکھرے ہوئے ہوں تو ہلی کاپٹرو ہی سے ان کی نقل و حرکت اور موجودگی کا پتہ چل سکتا ہے ۔ علاوہ ازیں ان سے چار مختلف قسم کے کام لئے جاسکتے ہیں :-
۱۔ فضائی منصوبہ بندی کے ذریعہ محاصرہ۔
۲۔ منصوبہ بندی کے علاقہ میں فوری طور پر تبدیلی۔
۳۔ ہیلی کاپٹروں کے استعمال کے وقت فوجی کارروائی میں تیزی۔
۴۔ صحرائی علاقہ میں مکمل ہوائی کارروائی۔

اس میں شبہ نہیں کہ ہیلی کاپٹروں کی مدد سے اس قسم کے پہاڑی دشوارگذارعلاقہ میں فوجی کارروائی کرنے میں آسانیاں ہوتی ہیں لیکن الجزائر گوریلوں کے عزم اور ہمت میں ذرا بھی فرق پیدا نہیں ہو ابلکہ انھوں نے بیسیوں ہیلی کاپٹروں کو اپنی رائفلوں کا نشانہ بناکر ڈھیر کر دیا مجاہدین نے 1956ء ؁ تا 1959ء ؁ تین سال کے عرصہ میں ہیلی کاپٹروں اور دیگر ہوائی جہازوں کو جونقصان پہنچایا اس کے اعداد و شمار فرانسیسی حلقوں ہی سے حسبِ ذیل پیش کئے گئے ہیں۔

؁ فضائی پرواز کا دوران ہیلی کاپٹر جوگرائے گئے
1957 56 ہزار گھنٹے 62
1958 64ہزارگھنٹے 50
1959 66ہزار گھنٹے 35
اس کے مقابلہ میں عام ہوائی جہازوں کو جونقصان پہنچا وہ ملاحظہ ہوں۔
1957 120ہزار گھنٹے 158
1958 145ہزارگھنٹے 201
1959 150ہزارگھنٹے 106

مذکورہ بالا اعداد و شمار سے اندازہ ہوسکتا ہے کہ فرانس نیگوریلوں سے مقابلہ کرنے کے لئے اپنی کتنی طاقت جنگ میں جھونکی تھی اور F.L.Nنے کس آہنی عزم سے اس کا مقابلہ کیا ۔ علاوہ ازیں شہری آبادی نے کس غیر معمولی ایثاراور قربانی کا ثبوت پیش کیا۔

جس طرح آج پاکستان بلوچستان کو اپنا ایک لازمی جزو سمجھتا ہے بعینہ وہی حال فرانس کا تھا ۔ وہ سمجھتا تھا کہ فوجی کارروائی مسئلے کا حل ہے اور وہ اپنی طاقت کی نشے میں ایسے t48xcutvlcwzچور تھا کہ اسے F.L.Nکے گوریلوں کی بلند عزم و ہمت کا ادراک نہیں تھا۔جب بھی الجزائر کا مسئلہ حل کی طرف توجہ دلائی جاتی اس کو اپنا داخلی معاملہ قرار دے کر کسی کی رائے کو درخور اعتنا نہیں سمجھاجاتا،اسی طرح آج پاکستانی ریاست بلوچ کے خلاف اسی نقطے کو استعمال کرتے ہوئے بلوچستان کے الگ سر زمین کو اپنا داخلی معاملہ ظاہر کرنے کی جتن کر رہے ہیں۔ اس زمانہ میں جبلہ جنگ اپنے ابتدائی مرحلہ میں تھی۔ گئی مالٹ(Guy Mallet) فرانس کا وزیر اعظم تھا جس کے نزدیک الجزائر کا مسئلہ حل کرنے کے لئے سب سے پہلے جنگ بندی ضروری تھی اس کے بعد انتخابات اور آخری مستقبل کے متعلق بات چیت ۔F.L.N کے لئے یہ شرائط ناقابل قبول نہیں تھے۔جنرل ڈیگال جب بر سرِ اقتدار آئے تو ابتداء میں وہ بھی اس پا لیسی سے انحراف نہیں کرسکتے تھے لیکن مسئلہ کی نزاکت اور حق آزادی کی بنیادی اہمیت کا انھین پوری طرح احساس تھا۔ جیسے جیسے ڈیگال کے قدم مضبوط ہوتے گئے اور فرانس کے عوام نے ان کی بے لوث خدمات کا اعتراف کرنا شروع کیا تو مسئلہ الجزائر حل کی طرف انھوں نے عملی اقدام کیا۔

الجزائر کی جنگ آزادی نے اپنی عمر کے ایک سو بتیس سال (132)طے کرلئے تھے جب 19مارچ 1962 ؁ کو جنگ بندی کے معاہدہ پر دستخط ہوئے اور یہ طے کیا گیاکہ 2جولائی1962ء ؁ کو الجزائر کے عوام استصواب عامہ کے ذریعہ اپنی قسمت کا فیصلہ کریں گے۔ چنانچہ استصواب میں آبادی کے99فیصدنے آزادی حاصل کرنے کا فیصلہ کیا اور 3جولائی1962ء ؁ کو دنیا کے نقشہ پر جمہوریہ الجزائر کی آزاد مملکت اُبھری چونکہ جنرل ڈیگال نے مجبور ہو کر حقیقت پسندی سے کام لیتے ہوئے الجزائر کے باشندو ں کے حق آزادی کو تسلیم کیا ۔الجزائر کی آزاد مملکت کی نویدِسحر کئی ہزار ماؤں،بہنوں ،بھایؤں اور بچوں و بوڈھوں کی عظیم اور فقیدالمثال قربانی کے بعد طلوع ہوئی،کہ جسکی وجہ سے آج الجزائر کے باشندے آزاد اور باوقار حیثیت کے مالک ہیں۔۔

(سگار ۔۔۔۔ تاک 11)

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s