Culture Of Resistance by Shaheed Ali Sher Kurd

میرل بلوچ
مزاحمت کی ثقافت زندہ اقوام، زندہ ضمیر افراد ،اور اپنی قوم اور دنیا کو زندگی سے ہمکنار کرنے انصاف دلانے ،آزادی دلانے اور حقوق دلانے والے تنظیموں کا خاصہ رہا ہے اور ہے بھی ،مزاحمت وہ باضمیر انسان کرتے ہیں ا،جنہیں لالچ نہ ہو ،اور لالچ تو انسان سے اس کا ضمیر چھین لیتا ہے الجزائر کی تحریک کی حمایت فرانز فینن نے کی اور باضمیر ہونے کا ثبوت دیا ،دنیا میں ایسی بہت سی مثالیں ملیں گی زندہ ضمیر انسانوں کی طرف سے نورا مینگل، غلام حسین میسوری بگٹی نے غاصبوں کے خلاف مزاحمت کی اور بلوچ تاریخ کے ہیروز کہلائے حمل جیند نے پرتگیزوں کیخلاف مزاحمت کی اور بلوچ تاریخ کو مزاحمت کی ثقافت فراہم کی ، نیلسن منڈیلا نے مزاحمت کی اور جنوبی افریقہ کے تاریخ میں تبدیلی لائی ،اسپارٹیکس نے غلاموں کو مزاحمت کی ثقافت دی ۔
 اسی طرح ایڈورڈ سعید ایک پروفیسر ہوتے ہوئے بھی مزاحمت سے دستبردار نہ ہوئے انہی کے بلند کیے ہوئے سچائی کے علم کو آج بھی تیسری دنیا کے بہت سارے محکوموں اور غلاموں نے تھامے ہوئے ہیں آزادی اور انصاف ہی تو اصل سچائیاں ہیں ۔ آج ہمارے ارد گرد بے شمار نا انصافیاں ہوتی ہیں آزادیاں سلب کی جاتی ہیں زبان تحریر اور سوچنے پر پابندیاں عائد ہیں یا پھر پابندیاں عاید ہے ان کے بارے میں سوچنے کے لیے بولنے کے لیے اور لکھنے کے لیے ،دماغ اور زبان اور قلم کو چاہیے ہوتا ہے ، چند باضمیر انسانوں کے علاوہ اور کون ہے جو سوچتا ہے ،بولتا ہے اور لکھتا ہے ؟ یہ ان لوگوں کے لیے یا ان انسانوں کے لیے لمحہ فکریہ ہے کہ جو نہ سوچتے ہیں اور نہ بولتے ہیں اور نہ ہی لکھتے ہیں شاید میری ناقص رائے کے مطابق سوچنا بولنا اور لکھنا ہی انسانوں کو دیگر جانداروں سے الگ اشرف المخلوقات کا درجہ عطا کرتی ہے ۔
 اگر کسی انسان کو اس بات کا علم ہے کہ ظلم ہورہا ہے مگر وہ اس بارے میں خاموش رہتا ہے یا اپنی موت کے خوف سے گنگ(بےزبان)ہوجاتا ہے تو کیا وہ انسانوں کے زمرے میں لانے کے قابل ہے ؟ یا اپنے منصب ، مرتبہ یا عہدے کے لالچ میں اس ہونے والے ظلم سے آنکھیں پھیر لیتا ہے تو اسے انسان کیونکر کہا جاسکتا ہے کیونکہ ضمیر کسی بھی انسان کو خاموش نہیں رہنے دیتی اگر اس انسان کا ضمیر زندہ ہو تب ، تو ان باتوں کا جائزہ ہم خود لیں اپنے ارد گرد اور قرب و جوار پر نظر دوڑائے کہ ہمارے قوم میں کتنے فیصد لوگ ہیں جو اپنے قوم کے بارے میں لکھتے ہیں سوچتے ہیں بولتے ہیں اور ان مزاحمت کرنے والوں کے ہمراہ ہیں اور مزاحمت کے ثقافت کو جاری رکھے ہوئے ہیں جو حق ،سچ ،انصاف اور آزادی کے لیے برسرپیاکار ہیں ، تو ہمیں بخوبی اندازہ ہوگا کہ مجھ سمیت کتنے فیصد لوگ سرگرم عمل ہیں اور آگے کی جانب بڑھ رہے ہیں حالانکہ مسلح مزاحمت جو کہ مزاحمت کی انتہا ہے مگر بولنا ،لکھنا اور سوچنا شاید مزاحمت کی کمزور ترین صورتیں ہیں مگر پھر بھی ہمیں اپنے ضمیر کا جائزہ لینا چاہیے کہ میں مزاحمت کی کس سطح پر ہوں جس طرح ایک دانشور ے خوب کہا کہ کوئی شخص کسی کو تبدیلی پر مجبور نہیں کرسکتا ہم سب کے اندر تبدیلی کا ایک دروازہ ہوتا ہے جسے صرف اندر سے کھولا جاسکتا ہے ہم دلیل یا جذباتی فیصلے سے کسی اور کا دروازہ نہیں کھول سکتے ۔ تو پھر یہ ایک منطقی بات ہے کہ ہمارا فیصلہ کوئی اور نہیں کرسکتا جب تک ہم از خود اپنا فیصلہ نہ کریں اور تبدیلی کی جانب قدم بڑھائیں جبکہ ایک ہزار میل کا سفر بھی ایک پہلے قدم سے شروع ہوتا ہے اور ایک وقت میں ایک قدم ہی اٹھایا جاسکتا ہے

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s