مکران میں ناممکن الیکشن

(میرک جان)
کران بھر میں الیکشن مہم ماند،سیاسی ہلچل صرف گاغذات کی نامزدگی تک محدود رہ گئی،متحرک مزاحمتی تنظیموں کی اچانک پر اسرار خاموشی بھی خوف کا باعث بن گئی ،معروف سیاسی جماعتوں نے الیکشن میں حصہ لینے کا اعلان تو کردیا ہے اور اپنے امیدواروں کی نامزدگیاں بھی کی ہیں مگر سیاسی سرگرمیاں کہیں دکھائی نہیں دے رہی ،مکران میں مزاحمتی تنظیموں کی کچھ دن قبل سرگرمیوں کے بعد اچانک خاموشی نے ماحول کو مذید حیرت ذدہ کردیا ہے ،جنرل الیکشن2013میں کم و بیش تمام سیاسی جماعتوں نے حصہ لینے کا اعلان کرتے ہوئے پہلے مرحلے کو بخوبی سر کرلیا اور اپنے امیدواروں کو نامزد کر کے ان کے نامزدگی کاغذات بھی جمع کرادیئے مگر ان سب کے باوجود گوادر سمیت کیچ اور پنجگور میں الیکشن کی روایتی سرگرمیاں کہیں دکھائی نہیں دے رہی ہیں مکران کے تینوں اضلاع میں الیکشن کے حوالے سے سیاسی جماعتوں کی بلند وبانگ دعوؤں کے برعکس ایک خوف کا ماحول موجود ہے جسے سب محسوس کررہے ہیں بی ایل اے،بی آر اے اور بی ایل ایف سمیت بلوچ مزاحمتی تنظیموں نے الیکشن کے اعلان سے قبل اور کاغذات نامزدگیاں داخل کرانے سے پہلے مکران بھر میں پر اسرار طور پر پہلی مرتبہ کھل کر الیکشن مخالف مہم چلائی اور مختلف مزاحمتی تنظیموں کے مسلح افراد خود چل کر الیکشن کے خلاف سرعام پمفلٹ تقسیم کرتے رہے اور کئی علاقو ں میں باقاعدہ عوام کوجمعکر کے ان سے الیکشن کے خلاف خطاب کیا وہ حیران کن تھا جس سے پارلیمنٹ مخالف جزبات رکھے عوام میں الیکشن کے بارے ڈر اور خوف کا ماحول مذید گہرا ہوگیا جوں ہی الیکشن کا پہلا مرحلہ شروع ہوا تو امیدواروں کا اعلان اور کاغذات نامزدگیاں جمع کرانے کا سلسلہ شروع ہوگیا گراؤنڈ پر متحرک زیر زمین تنظیموں کی سرگرمیاں بھی یک لخت خاموش ہوگئیں ۔عام ووٹرز،متحرک سیاسی کارکنان اور دبے الفاظ انتخابی امیدوار بھی متحرک سرگرمیوں کے دوران اس اچانک اور پر اسرار خاموشی کو ایک خاص حکمت عملی سمجھ رہے ہیں اور گہرائی سے اس کا مشاہدہ کرنے لگے ہیں عام عوام انتخابات میں پہلے ہی کوئی معمولی دلچسپی بھی نہیں دکھ رہی تھی مگر اب وہ لوگ جو الیکشن کے لئے پہلے کافی سرگرم اور پر جوش تھے وہ بھی مزاحمتی تنظیموں کی خاموشی کو حکمت عملی سمجھ کر چھپ رہنے میں عافیت ڈھونڈ رہے ہیں ۔واضح ہوکہ مکران میں الیکشن کے لئے کوئی سازگار حالات تو نہیں تھے لیکن سرکاری سطح پر حساس پولنگ اسٹیشنز میں فوج کو تعینات کرنے کے اعلان سے لوگ مذید ڈر،خوف اور پریشانی کا شکار ہوگئے ہیں کیوں کہ مکران بھر میں فی الحال کوئی نارمل پولنگ اسٹیشنز نظر نہیں آرہی جہاں الیکشن سو فیصد پر امن اور ایک خاص ریشو سے انجام پزیز ہوں اور اگر پورے مکران میں فوج کو الیکشن کے لئے تعینات کردیا گیا تو امکان ہے کہ فوج کی تعیناتی کے بعد جو چند لوگ ووٹ دینے کا ارادہ رکھتے تھے وہ بھی پولنگ اسٹیشنز کے لئے نہیں نکلیں گے ،مزاحمتی سرگرمیوں اور مکران بھر میں آزادی پسند سیاسی کارکنوں کی اغواء و مسخ لاشوں کے بعد پارلیمنٹ کے خلاف عمومی نفرت پائی جاتی ہے عام طور پر لوگ پارلیمانی جماعتوں کو مسخ لاشوں اور سیاسی کارکنوں کی اغواء کا بلواسطہ زمہ دار سمجھتے ہیں اب جبکہ الیکشن کا علان کردیا گیا ہے اور انتخابی امیدواروں کی نامزدگیاں بھی کردی گئی ہیں تو ایک انتخابی ماحول بھی پیدا ہونا چاہیے تھا لیکن اس مرتبہ اس کے برعکس ہے الیکشن کے حوالے سے نہ صرف عوامی سطح پر کوئی دلچسپی نہیں پائی جاتی بلکہ خود الیکشن میں حصہ بننے والی جماعتیں بھی روایتی جوش و خروش نہیں دکھارہی ہیں اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ مکران میں اگر الیکشن ہوبھی گئے تو امکانی طور پر بہت خطرناک بلکہ خونی الیکشن ہونگے کیوں تمپ ،مند،تربت،پنجگور ، گوادر اورپسنی اس وقت خون میں نہلا رہے ہیں صرف سیاسی لیڈروں کو چھوڑ کر عام طبقے کا کوئی گھر ایسا نہیں بچا جہاں ایک مسخ لاش نہیں پہنچا یا کوئی فرد اغواء نہ کیا گیا ہوسیاسی جماعتوں کی تمام تر دعوؤں کے باوصف عوامی نفرت کا برملا اظہار فروری کے مہینے بی این ایف کے زیر اہتمام الیکشن مخالف ہزاروں نفوس پر مشتمل ایک عظیم الشان ریلی کی صورت تربت میں نظر آیا جس میں نہ صرف مختلف عمر کے مرد شریک تھے بلکہ ریلی کا بڑاحصہ خواتین پر مشتمل تھا جو صرف اور صرف انتخابات اور پارلیمنٹ سے نفرت کا واضح اظہار لئے ہوئے تھا ۔الیکشن کے حوالے سے ایک جانب عوامی نفرت،دوسری طرف بی این ایف کا الیکشن مخالف کامیاب مہم اور تیسری طرف مزاحمتی تنظیموں کا الیکشن کو کسی بھی قیمت پر مکمل سبوتاژ کرنے کا کھلم کھلا اعلان اور اوپن سرگرمیوں کے بعد اچانک خاموشی اپنے پیچھے کئی سوالات کو جنم دے رہا ہے ایسے میں اگر الیکشن فوج کی نگرانی میں بزور قوت کرائے بھی گئے تو بہت ہی خونی اور خطرناک ہونگے ۔

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s