“رحمت شاہین” ایک گمنام جہد کار”

تحریر :شیرباز بلوچ
آذادی ایک مقدس دیوی ہے اس سے محبت تو سبھی کرتے ہیں لیکن بہت ہی کم لوگ ہوتےہیں جو اس کو پانے کے لیۓ اپنی زندگی ہتھیلی پہ رکھ کر اپنا سب کچھ قربان کرنے کے لیۓ اس پر کٹھن 579175_132959790217019_184387285_nراستے کا انتخاب اس امید پر کرتے ہیکہ وہ غلامانہ زندگی کو ہمیشہ کے لیۓ دفن کرکے آذاد زندگی سے پرلطف ہوسکے جو غلامانہ زندگی میں دور دور تک اس کا وجود نہیں ملتا. اس مشکل و کٹھن سفر میں احساس غلامی رکھنے والے اپنے دھرتی کے مٹی سے بندھے ھوتے ہیں وہ اس جہدء سفر میں آخری سانس تک جڑے ہوتے. تاریخ کا اگر بغور مطالعہ کیا جائے تو شاید ایسا کوئی دن گزرا ہوگا جو کسی بلوچ شہید کی برسی کا دن نہ ہوں . لیکن یہ یاد رکھنا بھی ضروری ھیکہ مادرء وطن کے حقیقی فرزند اپنے ماتھے پر گماشتوں کے ریپ ، اپنوں کی عیش و عشرت اور عزت و ناموس کی للکار کو برداشت کرنے کے بجائے سر کٹوانے کو ترجیح دیتے ہیں. اور جب سر زمین کو یہ احساس ہوتا ہے کہ اس کے فرزند پوری طرح حرکت میں آچکے ہیں اور غیور فرزند اپنے مادر وطن کی حفاظت کے لیۓ گماشتوں اورقبضہ گیروں کے خلاف برسر پیکار ہیں . شہداء کے خون کے لہو کو خوشبو میں بدلنے اور روح کو تسکین دینے کے لیۓ خون کی چشموں کی روانی میں تیزی آجاتی ہے. موسم خزاں آنے کے باوجود درخت نازک کلیاں نکال کر شہداء کے لیۓ نچھاور کراتی ہیں.
دھرتی کی مٹی شہداء کے لہو کو چمکانے اور آنے والی نسلوں کو آجوئی کاپیغام دینے کے لیۓ اپنی طاقت سے کئی زیادہ جاں فشانی سے ہر خطرے کا مقابلہ کررہے ہوتے ہیں، اب بلوچ گل زمین کو یہ احساس ہونے لگا ہے کہ اس کے غیرت مند فرزند اپنے جانوں کی بازی لگا کر اسے دشمنوں کی غلامی سے آذاد کرانے کے لیۓ پوری طرح متحرک ہیں.
بولان کی دھندناتی خوشگوار ہوا شہداء کے لہو کی خوشبو قوم کے گھروں ، گدانوں، گلیوں سے بوڑھے، بچے، جوان، مرد و خواتین نکل کر احتجاجوں سے بلوچ قوم کے جہد ء آجوئی کو رنگ لانے کی صدا کررہی ہے.
ایسی خوبصورت شب ہے اور پر سکون رات کے اس لمحے ہر طرف خاموشی ہے عیش و عشرت کے پجاری مسرور نیند میں مدہوش ہیں، پرندے رات کے اس لمحے خود کو بے زبان کیے ہوئے ہیں لیکن سرخ سلام ان جوانوں کو جو اپنے مادر ء وطن کی رکھوالی کے لیۓ سکھ چین کو ٹھکرا کر وطن پر فدا ہونے کے لیۓ بے تاب اور جہدء آجوئی کو جاری رکھے ہوۓ ہیں.
اسی طرح بلوچ گل زمین کا ایک گمنام فرزند شہید ء بولان سنگت رحمت شاھین ایک غریب گھرانے رئیس کیچی خان بنگلزئی بلوچ کے گھر اپریل 1975 مقبوضہ بلوچستان اسپلنجی میں آنکھ کھولی. ابتدائی تعلیم پرائمری تک گاوں کے ہائی سکول اسپلنجی سے مکمل کی. پھر ان کا خاندان ذریعہ معاش تلاش کرنے اسپلنجی سے نکل مکانی کرکے وادی ء بولان کے شہر مچھ کا رخ کیا. شہید نے مزید تعلیم جاری رکھنے کے لیۓ ہائی سکول مچھ میں داخلہ لیااور میٹرک تک ہائی اسکول مچھ میں زیر تعلیم رہے اس کے بعد شہید نے مزید تعلیم حاصل کرنے کیلیۓ کچھی کے علاقے بھاگ شہر کا رخ کیا. اور انٹر کالج بھاگ سے انٹرمیڈیٹ پاس کی.اور اس کے بعد آخر تک وپڈا میں ملازمت سے منسلک رہے.
شہید کو بچپن سے مطالعے کا بہت شوق تھا وہ مختلف رسالوں اور کتابوں سے تاریخ اور شاعری جمع کرکے ان سے سیکھتا رہتا تھا. جونہی وقت گزرتا گیا وقت و حالات نے شہید کوقوم و وطن کے غلامی کا احساس دلاتےہوئے دھرتی کے ھمدردوں کے صفحوں میں شامل کردیا. اور شہید نے اپنی سیاسی سرگرمیوں کا آغاز بی.ایس.او کے پلیٹ فارم سے کرتے ہوۓ ہر نشیب و فراز سے گزرتے ہوئے اپنی جدو جہدکو جاری رکھتے ہوئے بلا خوف و خطر ایک انقلابی استاد کی احثیت سے بلوچ نوجوانوں میں شعورء آذادی کواجاگر کرتا گیا مختلف بلوچی میگزین میں مختلف فرضی ناموں سے آرٹیکل لکھتا رہا اور سیاسی سرگرمیوں کے دوران شہید رحمت شاہین کی ملاقات شہید مزارء بلوچ استاد حمید شاہین و شہیدء آجوئی علی شیر کرد سے ہوئی اور یہ فکری دوستی پروان چھڑتے ہوئے ساتھ مل کر بلوچ قومی فوج بی.ایل.اے کے پلیٹ فارم سے مسلح جدوجہد کا آغاز کر دیا .
جدوجہد کرتے ہوئے شہید نے ایک عظیم مقام حاصل کی جو ریاست کے مقامی گماشتوں کے لیۓ موت کا سبب بنتا رہا جنہوں نے قابض ریاست کی ایماء پر شہید کو زیر کرنے کے لیۓ ہزاروں ہتھکنڈوں پر اتر آتے ہوۓ پہلی شہید کو 8 دسمبر 2009 کو ڈیوٹی پر جاتے ہوۓ مقامی گماشتوں کی کاوشوں سے مچھ پولیس نے یہ کہہ کر اٹھا لیا کہ ایس پی نے آپ کو طلب کیا ہے شہید پولیس وین میں بیھٹے 10 منٹ کا فاصلہ طے کرکے ان کی آنکھوں پہ پٹی باندھ کرخفیہ اداروں کے حوالے کردیا.
وہاں شہید رحمت شاھین پر بے رحم تشدد کا نشانہ بناتے رہے. پھر ان کی صحافی دوستوں کی شدید احتجاج کے بعد خفیہ اداروں کے اہلکاروں ان پر کئی بے بنیاد کیسز لگا کر سبی کے جیل میں زندہ لاش بنا کر ڈال دیا.625587_132231880289810_1169137293_n جہاں وہ 4 ماہ جیل میں قید کاٹ کر ریاست کے گماشتوں کو بدنامی نصیب ہوتے ہوۓ کچھ نہ ثابت ھونے کے بعد رہا ہوئےاور بلوچ نوجوانوں نے شہید رحمت شاھین کی رہائی پر ان کا ولوانہ استقبال کے بعد انھیں اپنے ساتھ ان کے گھر لے آئے وقت گزرتے گزرتے ریاستی گماشتوں پر شہید کی موجودگی سے زمین تنگ ہونے لگی آخرکار قابض کے درندوں نے پھر 3 مارچ 2011 کو کچھی بھاگ سے آتے ہوۓ ڈھاڈر کے مقام پر سینکڑوں کی تعداد میں تعاقب میں ایف سی اور خفیہ اداروں کے اہلکاروں نے انھیں اس کے ایک رشتہ دار شہید عبدالرسول کے ھمراہ اغوا کرکے لے گئے اور پھر 1 اپریل 2011 کو شہید سنگت رحمت شاھین کی گولیوں سے چھلنی لاش کوئٹہ کے علاقے مشرقی بائی پاس سے ملی اور اسے ھمدردوں نے قومی اعزاز کے ساتھ ان کے آبائی گاوں اسپلنجی میں سپرد گل زمیں کردیے.
آج رحمت شاھین ہم سے جسمانی طور پر تو جدا ہے لیکن ان کا نظریہ، فکر ء آجوئی ھر دل میں دھڑتا ہیں.اور بولان کے پہاڑوں میں گونج رہا ہیں۔

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s