عزیزچینی ماوں کے نام! 27 مارچ یوم سیاہ

تحریر : پروفیسر نائلہ قادری بلوچ   (صدر ورلڈ بلوچ ویمنز فورم)

بلوچ ماوءں کے احساسات آپ تک پہنچانے کے لٗیے یہ تحریر میں گہرے دکھ او ر درد دل کے ساتھ لکھ رہی ہوں، ماؤں کے دکھی دلوں کی بات ماؤں کے حساس دل کم الفاظ میں بھی بہت آسانی سے سمجھ لیتے ہیں،ہمارے چودہ ہزار بیٹے بیٹیاں پاکستان اور ایران کی افواج کے ہاتھوں لاپتہ ہیں، پچھلے دو سال کے دوران ہم نے لعل و جواہر جیسے ایک ہزار بیٹوں کی لاشیں وصول کی ہیں جن کے خوبصورت محبوب بدن بدترین تشدد کے زخموں سے چھلنی تھے یہ سلسلہ ہر روز جاری ہے، بمباری ، گھروں میں زندہ جلائے جانے، پینے کے پانی میں زہر ملائے جانے، خوراک و ادویات کی ترسیل پر پابندی کی وجہ سے ہماری معصوم خواتین اور بچے ہر روز موت کا سامنا کر رہے ہیں، ہم سمجھتے ہیں کہ یہ جان کر آ پ کو دکھ ہوا لیکن مزید جان کر آپ کو جھٹکا لگے گا کہ یہ سب چین کے کہنے پر اور مکمل مدد کے ساتھ کیا جارہا ہے۔

ہم چینی عوام کا احترام کرتے ہیں اور ابھی تک آپ سے اچھی توقعات رکھتے ہیں کیونکہ چیرمین ماؤ کی عظیم قیادت میں چین دنیا کی ان اقوام میں شامل ہوا جو اعلیٰ انسانی اقدارکا احترام و آزادی جیسے بنیادی انسانی حق پر یقین رکھتا تھا لیکن وقت گزرنے کے ساتھ چینی حکومت کا کردار ان خصوصیات سے برعکس ثابت ہوا،شایْد آپ جانتی ہوں کہ بلوچستان کادنیا بھر کی انسانی تہذیبوں کے لئے درجہ ماں کا ہے، مہر گڑھ بلوچستان آج سے گیارہ ہزار سال پہلے بلوچ کرد ماؤں نے جنم دیاجہاں دنیا کا پہلا پہیہ، پہلی فصل کی کاشت، پہلی جیومٹری، پہلی کیمسٹری، پہلی گھڑی، پہلا کیلنڈر، پہلی تحریر اور کئ ایجادات وجود میں لائی گئں لیکن اگر کوئ چیز نہ بنائی گئ وہ ہتھیار تھے کیونکہ ماؤں کے سماج میں تخلیق کی اہمیت تھی اور تخریب کے لئے کوئی جگہ نہیں تھی، بلوچ کرد عورتوں کی یہ عظیم تخلیق ساری دنیا کی عورتوں کا مشترکہ اثاثہ ہے۔ انیسویں صدی میں برطانوی سامراج نے بلوچستان پر قبضہ کو دوام بخشنے کے لئے تین حصوں میں تقسیم کیا اور ایران، افغانستان میں شامل کیا۔بلوچستان کا آخری آزاد حصہ ۲۷ مارچ ۱۹۴۸ کو مصنوعی جدید نو آبادیاتی ملک پاکستان کی افواج نے حملہ کر کے قبضہ کر لیا۔ بلوچ روز اول سے ہی مزاحمت کرتے رہے جسے سوسال ہو رہے ہیں، ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ قوموں کی آزادی پر یقین رکھنے والی اقوام عالم بلوچ تحریک آزادی کی مدد کرتی لیکن ایسا نہ ہوا۔ ؛انقلابی؛چین پر ہمارے بھروسے کو پہلا دھکا ۱۹۵۸ میں لگا جب بدنام زمانہ پاکستانی تشدد گاہ کلی کیمپ کوئٹہ میں چینی ڈاکٹر بلوچ رہنماؤں کو اذیت دینے میں پاکستانی فوج کی تربیت کرتے دیکھے گئے، اور یہ کوئی اتفاق نہیں تھا کہ انہی دنوں سیندک سونے کی کان کا تفصیلی سروے شروع کیا گیا۔چند سال بعد چین کے خفیہ تعلقات ایک انتہا پسند دہشتگرد ملک پاکستان کے ساتھ جو ایک لاکھ بنگالی عورتوں کی عصمت دری کا مجرم تھا منظرعام پر آگئے۔ ستر کی دہائی کی ابتدا ہی میں پہلی منتخب بلوچ حکومت کا تختہ الٹ دیا گیا ہزاروں بلوچ شہید کئے گئے گھر جلائے گئے اذیتوں کا طویل سلسلہ شروع ہوا اور انہی دنوں چین کوچاغی میں بلوچ سونے کی کان سیندک سے سونا نکالنے کا کنٹریکٹ پاکستان کی حکومت نے جاری کر دیا ظاہر ہے کہ یہ بھی محض اتفاق نہیں تھا، انہی دنوں چین و پاکستان کی مشترکہ خفیہ جوہری سرگرمیاں اسی خطے چاغی میں شروع کی گئں جو ۱۹۹۸ ، ۲۸ مئ کے ایٹمی دھماکے کی شکل میں سامنے آئے جس کے نتیجے میں لاکھوں بلوچ قحط اور کینسر کا شکار ہوگئے سروے کے مطابق نوے فیصد مویشی اور جنگلی حیات مرگء۔ اب بھی ہمارے بچے قبل از وقت پیدائش اور پیدائشی معذوریوں کے ہاتھوں موت کے منہ میں جا رہے ہیں لیکن چین نے معافی مانگنے کی زحمت بھی گوارا نہ کی بلکہ بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی جاری رکھتے ہوئے اس ایٹمی دہشت گردی میں ایران کو بھی شریک کر لیا جس کی قبیح ایٹمی سرگرمیوں کے لئے ایرانی مقبوضہ بلوچستان کا انتخاب کیا گیا یعنی بلوچ نسل کشی کی سازش دگنی طاقت کے ساتھ آگے بڑھائی جارہی ہے۔ بلوچستان قبضہ کے پہلے دن سے آج تک خون آشام دور سے گزر رہا ہے لیکن ۲۰۰۰ سے بلوچستان پر پاکستانی اور ایرانی فوجوں کے مظالم نازی دور کو بھی شرما گئے ہیں اور یہ وہی وقت ہے جب چین بلوچ بندرگاہ گوادر کو بحر ھند میں فوجی ٹھکانا بنانے کی ابتدا کرتا ہے اور بلوچ اسکی بھرپور مخالفت کرتے ہیں جسکی سزا کے طور پر مادروطن بلوچستان کو نازی کنسنٹریشن کیمپ میں تبدیل کر دیا گیا۔ہم قدیم ادوار سے بلوچ ساحلوں کی حفاظت اپنے قیمتی ترین لہو سے کرتے آرہے ہیں لیکن افریقی و ایشیائی اقوام کے لئے آزاد رہنا انتہائی مشکل ہو گیا جب یوروپی اقوام بحری بیڑوں کے ساتھ سمندروں میں لوٹ مار کے لئے اتر آئیں، واس کوڈے گاما پرتگیزی بحری بیڑے کے ساتھ گوادر پر ۱۵۰۲ میں حملہ آور ہوا مسلسل دو سال کی کئ خونریز جنگوں میں شکست کے بعد پرتگال واپس چلا گیا۔ ہندوستان کے ساحل گووا میں جہاں پرتگیزی جگہ بنا چکے تھے انہوں نے میر حمل جئند بلوچ کا قد آدم مجسمہ تعمیر کیا جو بلوچ پرتگیزی جنگوں میں بلوچ افواج کے رہبر تھے، یہ بہاد ر قوم کے ہیرو کی برتر بحری جنگی حکمت عملی کو خراج تحسین تھا۔ آج قومی آزادی برقرار رکھنا پہلے سے زیادہ ممکن ہو چکا ہے، پر تاثیر میڈیا و قومی آزادی میں یقین رکھنے والی بین الاقوامی بلند آہنگ آوازیں بلوچ کا ضرور ساتھ دیں گی، اور بلوچ چار سوسال کے عرصے میں اپنی حکمت عملی کو بھی کافی ترقی دے چکا ہے۔ چین نے بلوچ تحریک آزادی کا ساتھ دینے کی بجائے ، بلوچ تیل گیس سونا لوٹنے، خفیہ ایٹمی سرگرمیوں کے لئے بلوچ سرزمین کا ناجائز استعمال کرنے اور بحری فوجی توسیع پسندی کی لالچ و گرسنگی کے لئے جو غیر انسانی اقدامات اٹھائے وہ سامراجی کردار کی گواہی دیتے ہیں بجائے انقلابی کردار کے جس کا چین سرخ پرچم کے ساتھ دعویٰ کرتا ہے۔چین کی ایران اور پاکستان جیسی ظالم جابر اور انسانی حقوق پر یقین نہ رکھنے والے ممالک کی مسلسل حمائت کی وجہ سے ہم گذشتہ پچاس سال سے وحشت و بربریت میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں لیکن یہ نامہ ہم آپ کے لئے آج کیوں لکھ رہے ہیں؟ کیونکہ آپکی حکومت نے پانچ دھائی پرانی پروکسی وار (بالواسطہ جنگ) کو اوپن وار (بلاواسطہ جنگ) میں تبدیل کرنے کا اعلان کر دیا ہے، چینی فوج بلوچ سرزمین پر بوٹ رکھنے کی تیاریاں کر رہی ہے کیونکہ پاکستان کی فوجی ناکامیاں چین کی پروکسی وار کو جاری رکھنے میں نااہل ثابت ہو چکی ہیں۔ اسکے معنی یہ ہیں کہ وہ تیاری کر رہے ہیں کہ بلوچ ماؤں کی طرح چینی مائیں بھی اپنے پیارے بیٹوں کی لاشیں وصول کریں جو کہ ایک المیہ ہوگا۔ بلوچ ماؤں کا بے اندازہ غم مادروطن کی خاطر ہے لیکن اگر ایک ماں ایسے بیٹے کی لاش وصول کرے گی جو کسی دوسرے کے وطن کی دولت لوٹنے جارہا تھا تو غم کے احساس میں شرمندگی بھی شامل ہو جائے گی۔ اگر آپ بلوچ خونی سونے کے زیورات پہنیں گی تو ہمیں یقین ہے کہ وہ خوشی کی بجائے آپکے ضمیر پر بوجھ بن جائیں گے۔ہم ہر روز اپنے شہزادے بیٹوں کی تشدد زدہ لاشیں وصول کر رہے ہیں، پہلے انکی آنکھیں اور دل ڈرل مشین سے چھلنی ہوا کرتے تھے پر اب انکی آنکھیں دل گردے جگر سب غائب ہوتے ہیں پاکستانی فوج ہمارے بیٹوں کے اعضا بیچ رہے ہیں، ہمارے عزیز از جان لاپتہ بیٹوں کی لاشیں پاکستانی میڈیکل کالجوں کے ڈائسکشن ٹیبلز پر دیکھی گئں، ہماری باعفت بیٹیوں کو ان کے ریپ سنٹرز میں بے آبرو ہوتے دیکھا گیا اور اسکی رپورٹ بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں نے جاری کی۔ ہم جانتے ہیں کہ آپکی حکومت و بیوروکریسی اس منظر میں کہاں کھڑی ہے لیکن ہم جاننا چاہتے ہیں کہ آپ اس خونی منظر میں کہاں کھڑی ہیں؟ عزتیں لوٹنے والوں، تشدد کرنے والوں، انسانی اعضا بیچنے والوں، قاتلوں، چوروں ڈاکو ؤں کے ساتھ؟ یا آپکی حکومت کے ہاتھوں دکھی غم زدہ بلوچ ماؤں کے ساتھ؟مامتا چین میں ہو یا بلوچستان میں ایک جیسی مہربان ہوا کرتی ہے۔ ہماری نسل کشی اور اپنے گھروں کی طرف رخ کرتے غموں کو روکنے کے لےْ اٹھ کھڑی ہوں، آئیں متحد ہو کر دنیا بھر کی بہادرماؤں کو آواز دیں اور مل کر سب کے لےْ ایک خوشیوں بھری پرامن دنیا تعمیر کریں۔

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s