ڈاکٹراللہ نذر بلوچ کا خط

dr-allah-nizar_hamid-mir1

                 السلام علیکم                                                                                                                                          ڈاکٹراللہ نذر بلوچ کا خط 15-03-2013

جناب حامد میر صاحب
میں اس امید کے ساتھ خط لکھ رہاہوں کہ شایدآئندہ سوسال کے بعد تاریخ کے کٹہرے میں کھڑے آج کے مورخ مظلوم بلوچ نو آبادیاتی حاکموں و قابض حکمران کے بارے میں لب کشائی کرے، قابض قوم کے موکل دانشور و حاکموں کے کردار ،الفاظ کو انصاف کے ترازو میں تولے۔ ایسا نہ ہو کہ آج کے کالم نگاراور دانشور ،حق ،انصاف کی بات سے صرف اس لئے گریزاں کہ حاکم کی خوف یا حوس قبضہ گیری ہو۔جس طرح ایک صدی قبل برطانیہ کے لارڈ بیفل نے کہاتھاکہ ہم مصریوں کی تاریخ ان سے اچھی طرح جانتے اور بہتر سمجھتے ہیں۔یہ تکبرانہ الفاظ تقریباََسوا صدی گزرنے کے بعد بھی تاریخ کے صفحہ قرطاس پر منقش ہیں۔اسی طرح گھڑھی خدابخش میں صدرِپاکستان آصف علی بھٹو یہ کہکر کہ بلوچ سیاست ہم سے سیکھیں ۔اظہار یہ تھا کہ بلوچ جاہل،بے علم اور رموزءِ مملکت سے نا آشنا ہیں۔ مقصد یہ ہواکہ بلوچ صرف غلامی کیلئے پیدا ہوئے ہیں۔لارڈ بیفل اور زرداری بھٹوکے الفاظ میں محض فرق ایک صدی کا ہے۔ لیکن موضوع اور پیغام ایک ہے۔ درسءِ غلامی کا پیغام؟
جناب حامد میر آ ج کے حاکم و قابض کے پرنٹ ، الیکٹرانک میڈیا سے تعلق دار دانشوروں میں آپکی حیثیت ایک سرخیل کی ہے ۔کئی پالیسیاں آپکی قبیل کی لوگوں کے نصیحت سے بنتے ہیں اور ان پر عمل درآمد ہوتے ہیں۔لیکن علم ودانش کا تقاضہ سچائی کے ساتھ دینے کا ہے۔ جس طرح سے سارتر نے فرانسیسی ہوتے ہوئے بھی نو آبادیاتی نظام کے خلاف اپنی قلم کے ذریعے allah-nazarلڑ کر الجزائر کی قومی آزادی کا ساتھ دیکر تاریخ کا ایک سنہرا باب رقم کیا ۔لیکن دوسری طرف حامد میر صاحب آپ ایک دانشور ہیں کہ قابض ریاست کے غیر اخلاقی و انسانیت سے عاری دہشتگردانہ عمل کی نہ صرف حمایت کرتے رہے ہیں۔ بلکہ حریت پسند بلوچوں کو ختم کرنے اور بلوچ سرزمین پر قبضہ کو برقرار رکھنے کی سوچ کے ذریعے شہید اسد بلوچ کے چھوٹے بھا ئی اختر مینگل صاحب جیسے بلوچ کو بھی خوف میں مبتلا کرکے بلوچ کی مضبوط قلعے کو فتح کرنے کیلئے ایک ٹروجن ہارس کی بڑی خوبصورتی سے تعمیر کر رہے ہیں۔اگر اختر مینگل اس بہکاوے اور خوف شکار ہوا تو یقیناََ آپکی دست چابک کا رنگین نمونہ ہوگا۔ ریاست کی دہشت گردی سے ذہنی خوف دیکر انھیں رام کرنے کیلئے خفیہ اداروں سے ڈیل کروانے کی خاطر ایک پل کا کام کردیا؟ لیکن یہ خیال کبھی نہ رکھا کہ بلوچ ایک قوم ہے آزادی ہر ایک قوم کا بنیادی حق ہے ۔ جیسے اپنی حاکم کی حکم پر طرز دانشوری کے ذریعے سلب کرنا کیا علم و دانش کے ساتھ انصاف ہے؟اگر واقعی انصاف ہے پانچ سو سال قبل نکولس میکاولی نے اپنی شہزادے کو یہ درس دیا کہ حاکم ،بادشا ہ کوئی اقدار و مستقل اخلاقیات کا پابند نہیں ہوتا۔ پھر میکا ولی تنقید کے ذد میں کیوں؟ نہ انہیں مجرم ٹہرائیں کیونکہ ہردرباری دانشور اپنے اپنے حاکم کا تابع ہوتا ہے ۔اور اپنی قبضہ گیریت کو برقرار رکھنے کیلئے اپنے آقاء کو نصیحت کرتی ہے اور انکی پالیسیوں کی تشہیر کرتی ہے،مظلوم کی جدوجہد کو غلط و جاہلانہ اور کبھی کبھار مذہب کا نام بھی استعمال کرتا ہے۔جیساکہ آج یہ سب کچھ بالادست ،حاکم کا دانشور بلوچ کے ساتھ کررہا ہے ۔جس میں آپ بھی شریک ہیں۔
جناب میر صاحب آپ انسانی حقوق کے علم بردار کے دعوے دار ہیں جب ملالہ یوسفزئی پر قاتلانہ حملہ ہوتا ہے،تو آپ پہلے دانشور ہوتے ہیں جو پرنٹ و الیکٹرانک میڈیا میں اس غیر انسانی عمل کی مذمت کرتے ہیں۔جو قابل تحسین ہے لیکن پچیس دسمبر 2012ء کو مشکے کے علاقہ تنک میں بلوچوں کے جھونپڑیوں پر پاکستان کے گن شپ ہیلی کاپٹر آتش و آہن برساتے ہیں۔اس میں دوسالہ بچی بختی سے لیکر ستر سالہ مہناز سمیت اٹھارہ بے گناہ بچے و خواتین شہید ہوتے ہیں۔ لیکن آپ سمیت پورے پاکستانی دانشور چپ ساد لیتے ہیں۔ کیا یہ علم ودانش کے ساتھ انصاف ہے یا قاتل حاکم کے ساتھ؟فیصلہ آپ کریں دو سال قبل کراچی میں بی بی زامرُبلوچ اور اس کی بیٹی کو سر بازار پاکستانی درندے شہید کرتے ہیں۔اس سے پہلے کوئٹہ سے زرینہ مری کو سکول جاتے ہوئے اس کے شیر خوار بیٹے مراد سمیت پاکستانی ایجنسیز اغوا کرتے ہیں۔ کاہان میں بھی بلوچ خواتین کو گن شپ ہیلی کاپٹروں کے ذریعے موت کے منہ دھکیلا جاتا ہے ۔ اکیس جنوری 2013ء کو ضلع خاران کے علاقہ بیسمہ میں رات گیارہ بجے پاکستانی فورسز اور اس کے مقامی ڈیتھ اسکوائڈ نے ممتاز بلوچی و براہوی کے ادیب قاسم بلوچ کے گھر میں داخل ہوکر اس سمیت اس کے بہن روزینہ بلوچ کو بھی شہید کرتی ہیں ،۔ان دلخراش واقعات پر پورے پاکستانی دانشوروں کے منہ سے ایک لفظ بھی نہیں نکلتی۔ شاید اس لئے کہ یہ مظلوم 5a671fc678373f998f27def6642d9071_500بلوچ ہیں۔اس وقت بلوچ اپنی آزادی کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ اور حریت پسند قوم کی خون ارزان ہوتی ہے ۔اور اس خون کے ساتھ انصاف یہ ہے کہ اس کو بھولا جائے ۔کیونکہ بھولنے میں بھی آقاء کی عافیت ہے۔یہ ہزاروں واقعات و شہدا کی مسخ شدہ لاشوں و اسیران کے واقعات میں سے صرف چند کا تزکرہ کیا ہے ۔میر صاحب قوم نہیں مرتے ؟اگر قوم مرتے تو شاید اسرائیلی قوم کی وجود اس دنیا میں نہیں ہوتی۔ دوہزار سال تک ظلم وستم برداشت کرنے کے بعد بھی ایک ریاست کے مالک ہیں۔اگرچہ فلسطینیوں کے ساتھ انکی جابرانہ رویہ بھی قابل مزمت ہے۔ لیکن آج جنرل ڈائر زندہ نہیں ہیں مگر برطانوی وزیر اعظم جلیانہ والا باغ کے واقع کو شرمناک قرار دیتی ہے۔اور آپ کا بنگلہ دیش کی تاریخ بہت تازہ ہے۔
حامد میر صاحب ایسا نہ ہوکہ ایک صدی بعد زرداری صاحب کے الفاظ لارڈ بیفل اور آپ دانشور حضرات کی خاموشی میکا ولی کی طرح لکھے جائیں۔شاید میرے اور آپ کے پڑ پوتے ان تاریخی تلخ حقائق کی سچائی کو پڑھتے وقت آج کی ظالم و مظلوم علم دانش اوردانش کو ظلم کے خلاف نہیں بلکہ ظلم کو برقرار رکھنے کا سبب نہ جان لیں۔
وگرنہ بلوچستان میں فوج کو یہ نصیحت کرنا کہ کامیابی اسی میں ہے کہ بولان اور مکران کو کنٹرول کرو کامیاب ہوجا و گے بھی تاریخ کا ایک باب ہے۔
وسلام
ڈاکٹراللہ نذر بلوچ
15.03.2013

2 comments on “ڈاکٹراللہ نذر بلوچ کا خط

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s