آم کے آم گھٹلیوں کے دام

گزن بلوچ

بلوچستان میں آئے دن بلوچوں کا کوئی نہ کوئی لاش کہیں نہ کہیں گرتا ہوگا ۔ اب بلوچ عادی ہوچکے ہیں ۔ اگر ایک دو دن میں کوئی لاش نہ گرا تو تیسرے دن چار پانچ لاشوں کا گرنا یقینی ہوگا ۔ گویا بلوچ اب اس قتل عام میں مانوس ہوچکے ہیں ۔ اپریل 2009 میں جب واجہ غلام محمد لالا مینر اور شیر محمد کے لاشیں ایف سی نے گرا دیں ، تو اسکے بعد لاشوں کا گرنا معمول بن گیا ۔ بلوچستان میں ایک اندازے کے مطابق ساڑھے سات ھزار بلوچ حکومت پاکستان کے خفیہ تہ خانوں میں قید  ہیں ، ان میں ہر طبقہ فکر کے لوگ، ڈاکٹر ، انجنیر ، طلباء ، وکیل ، ٹیچر اور عام لوگ شامل ہیں۔ ان میں روز روز اضافہ ہورہا ہے ۔ ان مقید لوگوں کو وقتا فوقتا قتل کرکے پینکھے جارہے ہیں ۔ ابھی تک ایک اندازے کے مطابق پاکستان کے فوجیوں نے ساڑھے چھ سو لوگوں کے مسخ شدہ لاشیں بلوچستان کے ارد گرد میں پھینکے گئے ہیں ۔

لیکن کچھ دنوں سے پہلے بلوچستان سے اٹھائے گئے لوگوں کو قتل کرکے کراچی پینھکے جارہے ہیں ۔ بلوچستان میں جو لاش گرادی گئی تھیں تو کچھ لاشیں کئی دنوں سے پڑے رہے اور لوگوں نے نہیں دیکھے گئے تھے تو لاشوں کے حالات دگرگوں ہوگئے تھے ۔ مگر کراچی میں رات کے  پیھنکنےہوے لاشیں تو صبچ تک ملتے ہیں کیونکہ کراچی کا آبادی زیادہ ہے اسی لیے بلوچوں کو تحفے میں بلکل تازہ لاش ملنے لگے ہیں ، اور بلوچ بھی خوشی خوشی تسلیم کر رہے ہیں ، کم از کم اب تو لاشوں کو دفنانے سے اتنے بو اور تغافن نہیں ہوتا، لیکن بلوچستان میں تو اکثریت کو دفنانا محال ہوجاتا تھا ۔

کراچی سے پرسوں واجہ عبدلرحمان اور واجہ زاھد حسین، دونوں کے لاشیں گرائی گئی تھیں ، تو مجھے عجیب لگا ، کہ انکے سینے سےلیکر مسانے  تک پھاڑ دیے تھے اور پھر سلائی کیے ہوے تھے ۔ ایک اندازے کے مطابق انکے دل ، جگر ،گردے اور پھیپڑھے نکال دیے تھے ۔ مجھے تو بہت خوشی ہوی کہ مرے ہوے لوگوں کے اعضاء چند گنھٹوں کے بعد بسھم ہوجاتے  ہیں ، اگر کسی مریض کے کام آئیں تو قتل کیے ہوے شخص کا آخرت سور جائیگا۔

556807_388686521229689_621242347_n

پاکستان 1952 سے بلوچستان کے گیس باقاعدگی سے نکال رہاہے۔ اسکے علاوہ دوسرے معدنیات جس میں سونا ، چاندی ،کوپر اور بہت کچھ نکال رے ہیں اور بلوچستان کو لوٹ کر سرزمیں کو بانجھ کر رہاہے ۔ مگر اب بلوچ عوام کو بھی اپنا منافع بخش کاروبار بنا رہا ہے ۔ کراچی میں ایک دل کا قیمت 5 ملیون، جگر کے ایک ٹکڑے 5 لاکھ [ ایک جگر کو 5 ٹکڑوں میں بانٹ س کتے ہیں] ایک گردہ کا 10 لاکھ اور پھیپڑھا کا 5 لاکھ۔ ان دو بلوچوں سے پاکستان کے فوجیوں نے بیس ملیون یعنی دوسو لاکھ روپے کما لیے ہیں ۔ یہ ہوی نا بات کہ ” آم کے آم گھٹلیوں کے دام ” ۔

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s