عالمی یوم خواتین اور بلوچ خواتین

تحریر: شاہ مراد بلوچ گوادری

582460_340503949383696_1406150535_n

آج خواتین کا عالمی دن منایا جارہا ہے دنیا بھر خاص کر پاکستان کے خواتین سج دھج کر اپنے حقوق کا رونا روتے نظر آتی ہیں۔ یہ خواتین کس حقوق سے محروم ہیں آئیے پہلے ان کے حقوق سے محرومیت کا جائزہ لیتے ہیں۔ پاکستان کے خواتین میڈیا پر بڑی شور کرتی نظر آتی ہیں کہ گھروں میں ان کے خاوندبے جا تشدد کرتے ہیں، اس لئے ان کے حقوق پائمال ہورہے ہیں۔ ان کو بس سٹاپوں میں منچلے نوجوان تنگ کر تے ہیں لہذا اسمبلیوں اور ایوانوں میں قرار داد پاس کی جائے تاکہ ان کو ان بد اخلاق مردوں سے چھٹکارا مل سکے۔ ان کو دفتری کاموں کے دوران بری نظروں سے دیکھا جاتا ہے لہذا سرکاری اداروں میں ان کے حفاظت کے لئے خاص اقدامات کئے جائیں تاکہ مرد ان کی طرف غلط نگاہوں سے دیکھنےسے پہلے حوالات کا نظارہ یاد کریں۔ ان کا یہ بھی مطالبہ ہے کہ بچیوں کو بالغ ہوتے ہوتے یہ فیصلے کرنے کا اختیار دیا جائے تاکہ وہ اپنی جیوت ساتھی چننے کے حق سے محروم نہ ہو۔ گھر سے باگھنے والی عورتوں کے لئے خصوصی گرانٹ دی جائے تاکہ وہ اپنے بوائے فرینڈ یعنی معشوق کے ساتھ فراغ دلانہ رشتہ کو آگے بڑھاتے ہوئے بلا خوف و خطر ازدواجی زندگی کی دوڑ میں شامل ہوں۔اس حقیقت سے کوئی بھی انکار نہں کر سکتا کہ خواتین کے حقوق کی پاسداری کا حکم قرآن کریم میں بھی موجود ہے عورت ایک ماں کی روپ میں رہنمائی کر رہی ہے، عو رت ایک بہن کی روپ میں گھر میں موجود ہے، خواتین کا عزت و احترام ہر کسی کے دل میں ہونا چاہے لیکن ہم یہاں پاکستان میں میڈیا، پاکستانی اداروں اور پاکستانی نظام اور رویے پر بحث کر رہے ہیں جہاں خواتین کے حقوق صرف پنجاب اور پاکستانیوں کے لئے محدود کیوں کئے جاتے ہیں۔ عالمی فورمز پر کام کرنے والی تنظیمیں اور ادارے بھی پاکستان کی ڈگڈگی پر ناچ رہے ہیں۔ انہیں ڈھائی کروڑ بلوچوں کی آبادی نظر نہیں آتی جو گذشتہ نصف صدی سے بھی زائد عرصے سے ریاستی مظالم کے شکار ہیں۔ 16 کروڑ پاکستانی جو کہتے ہیں کچھ ادارے بلا تحقیق کے اس بات پر یقین کر لیتے ہیں کہ بلوچ قوم کی نمائندگی بھی اس میں شامل ہے لیکن ان کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ جب پاکستان اپنی آبادی کو 18 بتاتی ہے تو اس کا گز یہ مطلب نہ لیا جائے کہ بلوچ قوم کی آواز بھی اس میں شامل ہے۔ چونکہ بلوچ بحثیت ایک قوم تاریخی اعتبار سے خود کو پاکستان کا حصہ تصور نہیں کرتی تو دنیا کو یہ بات ذہن نشین کر لینی چاہیے کہ پھر بلوچ قوم کی آبادی بھی پاکستانی کل آبادی سے منفی (مائنس) کر دی جائے ۔ یعنی اٹھارا کروڑ کی پاکستانی آبادی سے دیڑھ کروڑ بلوچ آبادی کو منفی کر دیا جائے تو پاکستان کے صوبہ پنجاب، خیر پختون خوا اور سندھ کو ملاکر اس کی آبادی ساڑے سولہ کروڑ کی بنتی ہے۔لیکن زمینی حقائق یہ بھی بتاتے ہیں کہ سندھ بھی خود کو پاکستان میں شمار نہیں کرنا چاہتی کیونکہ وہاں بھی آزادی کی لہر جاری ہے، سندھ میں بھی بے چینی میٰں دن بدن اضافہ ہوتا چلا جارہا ہے، خیبر پختون خواہ کے لوگ پہلے بھی پاکستانی فوج کے خلاف برسر پیکار ہیں انہیں بھی پاکستان سے کوئی خاص لگاو نظر نہیں آتا، رہی بات پنجاب کی اس کی آبادی بھی اتنی زیادہ نہیں کہ وہ پورے پاکستان کا دعویٰ کر سکیں۔ لہذا پاکستان کو مجموعی طور پر اٹھارا کروڑ کہنا حقیقت سے کوسوں دور والی بات ہے۔

اب بلوچستان میں خواتین کے حقوق کی حالت زار پر بات کرتے ہیں۔ دنیا کو یہ معلوم ہونا چاہے کہ بلوچ سماج میں ایک عورت کو جتنا احترام اور مقام حاصل ہے اس کا کوئی تصور بھی نہیں کر سکتا ہے۔ سندھ کی بیٹی ڈاکٹر شازیہ کا کیس ہمارے سامنے ہے جن کو ایک پاکستانی فوجی کیپٹن حماد نے جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا، سوئی اور ڈیرہ بگٹی سمیت پوری بلوچ قوم سراپا احتجاج ہوا۔

آج تک بلوچ معاشرے کا خاتون باغی ہوکر اپنا گھر چھوڑ کر چلی نہیں گئی، بلوچ معاشرے میں عورت کی احترام کا اندازہ اس بات سے بخوبی لگایا جاسکتا ہے کہ دو فریقوں میں خونی لڑائیوں کے دوران دونوں اطراف چلتی گولیوں کے بیچ اگر ایک بلوچ خاتون مصالحت کے لئے آئے تو دونوں اطراف کے متحرک گروپس اس گھمسان کی جنگ کو بھی بلوچ خواتین کی مداخلت پر روک دیتے ہیں۔ بلوچ مردوں کی اپنے عورتوں پر حکمرانی کے جو الزامات ماضی میں لگتے رہے وہ آج ان بلوچ باشعور خواتین نے خود جھوٹ ثابت کر دی ہیں جو آج اپنے بھائیوں اور فرزندوں کی بازیابی کے لئے سڑکوں پر مظاہرہ کرتے نظر آتی ہیں ۔ اسے ریاستی مظالم کہیں یا بلوچ خواتین کی علمی پختگی، وہ آج بلوچ بھائیوں کے شانہ بشانہ جدوجہد میں عملی حصہ ڈال رہی ہیں۔

ہم یہاں خواتین کی گھریلوں حقوق سے محرومی کا ذکر نہیں کر رہے بلکہ ریاست پاکستان (جنہیں بلوچ زبان زد عام میں قبضہ گیر کہتے ہیں)کی طرف سے حقوق سے محرومیت، عزت نفس کی پائمالی، اور قومی شناخت جیسے سنگین خطروں کو اجاگر کررہے ہیں۔ یہ تاریخی حقیقت ہے کہ جب سے پاکستان نے بلوچ سرزمین پر27 مارچ 1948 میں جبری قبضہ کیا ، اس دور سے لیکر دو ہزار دس کی دہائی کے جنرل مشرف کے دور حکومت سےاور تا دم تحریر 14500سے زائد بلو چ فرزند ریاستی فوج کے ہاتھوں اغوا، کئے جاچکے ہین ان میں 300بلوچ خواتین ، مائیں بہنیں، اور ان کے 200کمسن بچے شامل ہیں۔مصدقہ اطلاعات ہیں کہ ان بلوچ خواتین اور بچوں کو پاکستانی فوج نے کوہستان مری کے مختلف علاقوں سے دوران فوجی آپریشن اغوا، کرنے کے بعد ہیلی کاپٹروں کے ذریعے پنجاب، کے ملتان، راولپنڈی، لاہور ، اسلام آباد بلوچستان میں کوئٹہ، اور دیگر علاقوں میں قائم فوجی قلی کیمپوں میں منتقل کر دیے ہیں جہاں انہیں جسمانی اور ذہنی تشدد کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔ ان بلوچ لاپتہ خواتین میں سرفہرست ذرینہ مری اور حنیفہ بگٹی کا نام ہے، ذرینہ مری کوہستان مری کے ایک مقامی سکول سے اس وقت اغوا، کیا گیاجب وہ اپنے محلے میں پرائمری سکول کے بچوں کو پڑھا رہی تھیں۔

دل خراش حقیقت یہ ہے کہ اس سکول کے 10کمسن بچوں کو بھی فوجی اہلکار زرینہ مری کے ہمراہ لے گئے تھے کیونکہ پاکستانی فوج کو ڈر ہے کہ اگر یہ بلوچ بچے بڑے ہوکر تعلیم حاصل کریں گے تو بلوچ سرزمین کی آزادی کے لئے آواز اٹھائیں گے۔ یاد رہے کہ زرینہ مری کو بعد میں ایک سیاسی اسیر منیر مینگل نے بہت ہی بری حالت میں پنجاب کے ایک اذیت خانہ میں دیکھا ہے، آج بلوچ خواتین کی عالمی دن کے حوالے سے ہم دنیا میں خواتین کے حقوق کی علمبرداروں اور انسانی حقوق کے پاسداران سے ایک بار پھر پرزور اپیل کرتے ہیں کہ وہ مقبوضہ بلوچستان میں بلوچ قوم کی نسل کشی، اغوا، اور لاشیں پھینکنے جیسے پاکستانی فوج کی گھناونی کھیل پر فوری نوٹس لیکر بلوچ قوم کی آزادی کی اخلاقی اور سیاسی حمایت کرے۔آج دنیا بھر میں خاص کر پاکستانی خواتین عالمی یوم خواتین کے موقع پر مختلف پروگرامز میں شریک کیک کاٹ کر سرور محسوس کر رہے ہیں لیکن کیا انہوں نے کبھی اس بلوچ ماں کی لرزتی ہاتھوں کو دیکھنے کی کوشش کی جو اپنے بیٹے کی باحفاظت واپسی کی دعا مانگ رہی ہے جن کے لخت جگر محض آزاد سماج میں جینے کے لئے آواز اٹھانے کی پاداش میں اٹھا کر غائب کر دیا گیا۔ کیا آپ نے اس معصوم کراہتی بچی کی آواز سنی جس کی ماں (گل ناز مری ) نیوکاہان میں رمضان کے بابرکت مہینہ میں دوران نماز تراویح پاکستانی فوجیوں کے گولیوں کا نشانہ کر شہید ہوگئیں اور ان کی کمسن بچی کو ماں کی دودھ سے جدا کر دیا گیا۔ کیا آپ کو بی بی شاہ ناز بلوچ یاد ہے جن کو پاکستانی فوج نے صرف اس لئے گولیوں سے بھون کر زخمی کر دیا جنہو ں نے ایک مرد کی طرح غلامی قبول کرنے سے انکار کی تھی۔کیادنیا کو شہید باز خان مری (کوہلو کا رہائشی ) کی ماں کے وہ زخم نظر آتے ہیں جو اب تک مند مل ہی نہیں ہوئے ہیں جب شہید باز خان کے بازوں (دونوں ہاتھ)گولیوں سے چھلنی ہوئے تو انہوں نے اپنے بیٹے کی سراپنے گود میں رکھ کر ان کی بندوق اٹھا کر خود فوج پر گولیاں چلائی تھی۔ کیا ہم نے اس بہادر ماں کو کبھی خراج عقدیت پیش کرنے کے لئے کسی تقریب کے انعقاد کی جرت کی؟ جنہوں نے انسانیت اور انصاف کی خاطر اور قومی بقا، کے لئے اپنے جوان بیٹے کو قربان کرنے کے ساتھ ساتھ آخری لمحے تک اپنی چادر چار دیواری کی دفاع کی۔ نوبل انعامات بانٹنے والوں کو ایسے خواتین کیوں نظر نہیں آتیں؟بی بی بانڑی کسی عالمی فورم پر دسترس نہیں رکھتی ، تو کیا ہم ان کی ہمت بھری زندگی کو یوں نظر انداز کر سکتے ہیں؟ذاکر مجید کی بہن اپنی تعلیم ادھوری چھوڑ کر بھائی کی بازیابی کے لئے سرگرداں ہیں کیا یہ کم قربانی ہے؟ ڈاکٹر دین محمد بلوچ کی کمسن بیٹی اکسیویں صدی میں بھی تعلیم کو خیر باد چکی ہیں کیا کبھی کسی نے اس معصوم بچی کی مستقبل پر تشویش کا اظہار کرنے کو انسانی ہمدری سمجھا؟ کیا کسی نے بلوچستان کے پہاڑوں بیابانوں میں فوجی بمباری کے شکار ان خواتین کی حالت ذار کو آواز دینے کی کوشش کی جو ہر روز پاکستانی جنگی جہازوں کے بمباری اور توپوں کی گھن گھرج میں موت و زیست سے لڑ رہے ہیں؟

خواتین کے حقوق کی علمبرداروں کے ذمہ داریوں میں شاید یہ یہ شامل ہی نہیں کہ ان دو لاکھ بلوچ خواتین کے لئے آواز اٹھائیں جو اس امیر بلوچستان کے وارث بھی اور قدرتی گیس سے خود کفیل بھی لیکن لکڑیاں جلاکر کھانا پکانے کی وجہ سے آنھکوں کی بینائی (لکڑیوں کی دھواں سے آنکھوں کی بینائی متاثر ہونے کی وجہ سے) سے محروم ہوکر ہسپتالوں میں داخل ہورہے ہیں۔ واقعی آج خواتین کا عالمی دن ہے،،،،،،،،،،، کچھ مخصوص خواتین کا عالمی دن۔ْ

One comment on “عالمی یوم خواتین اور بلوچ خواتین

  1. Lanat Hay Pakistan aur is kay Fojioon ZalimooN par hay ,, kia in masom koo qatal kr ke kia Pakistan totnyasy bach jay ga ya zalil ho kar tabah hojay ga aue ye zalim ko koc nia ho ga ,, zaroor ye aur i k khnadan yahee isi donya zaleel ho kar maray jain gain .. qiyamat mian Allah k samny in k ahashr kia ho ga ,, wo Allah jany ,,, ye foji Kafi hain jo masoom khwateen par haht dal rhain .. Lana thya lan thay in panjbhi fojiyoon par ,,, tuf tuf tuf hay zalim qatil tojh par musharf randi nay ya bazar ghar am kar k zadar k god main dal kar ye kaam kia hay sab qatl hain salay
    log jo qatal par qatal kar ahin , kia ye janna tmanj Main jay gain? kia in k bachoo

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s