بلوچ لاپتہ افراد : ایک روح شکن داستان

تبصرہ : میر محمد علی ٹالپر

ترجمہ: لطیف بلیدی

بلوچ لاپتہ افراد اور ان کے تباہ حال رشتہ داروں کی خاموش اور دکھ بھری پکار انسانیت کی روح کو ریزہ ریزہ کرنے کیلئے کافی زوردار ہے، لیکن بظاہر یہاں کے مرکزی دھارے کے معاشرے اور میڈیا پر اسکا کوئی اثر نہیں پڑ رہا، دونوں اس دکھ بھری پکار پر بہرے ہیں۔ جو کچھ بلوچستان میں ہو رہا ہے، اسے معاشرہ اور میڈیا بڑی حد تک یا تو دیکھے سے انکاری ہیں یا ان مظالم کو صحیح قرار دینے کیلئے جواز پیش کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ تمام ریاستی ادارے اس جرم کے ارتکاب میں معاون اور آمادہ ہیں، اور انہوں نے متاثرہ افراد کو اپنے درد کا اظہار کرنے کیلئے اپنی زندگی اور اعضاءکا خطرہ مول لینے کیلئے مجبور کر رکھا ہے۔ یہ baloch-missing-persons1کوئی حیرت کی بات نہیں ہے کہ 10 فروری کو کراچی میں ایک بڑی بلوچ ریلی نے بینرز اور پلے کارڈز اٹھائے ہوئے تھے اور آزادی کا مطالبہ کر رہے تھے۔ انہوں نے آزاد بلوچستان کا ایک بڑا پرچم بھی اٹھا رکھا تھا، یہ جان کر کہ کینہ پرور پاکستانی ریاست ان لوگوں کو بھی سزا دیتی ہے جو اغواءکیے گئے لوگوں کی لاشیں وصول کرنے جاتے ہیں۔ گُلّے، بہار خان پیردادانی کے بیٹے نے اپنے رشتہ داروں، جبری طور پر غائب کیے گئے دو بھائی اور میرے سابقہ شاگرد محمد خان اور محمد نبی کی لاشیں وصول کی تھیں، 15 اگست، 2012ءکے بعد سے لاپتہ ہے۔ ریاست ان لوگوں کیلئے ایک مناسب تدفین بھی نہیں چاہتی جن کو وہ مار دیتی ہے۔

عام طور پر لیکن غلطی سے یہ خیال کیا جاتا ہے کہ لاپتہ افراد کی کہانی حالیہ دنوں کی ہے۔ 6 فروری، 1974ءکو سردار عطاءاﷲمینگل کے بیٹے اسد اللہ مینگل اور احمد شاہ کو انٹیلی جنس ایجنسیوں نے اغوا کیا، اور اسی طرح میرے دوست دلیپ داس عرف دلی کو، میرے مری دوست شیر علی، بہار خان لالوانی، شفیع محمد بادانی، محمد درکانی، اللہ بخش اور شاہ دوست پیردادانی کو غائب کیا گیا، جنکی بابت پھر کبھی نہیں سنا۔ مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے بہت سارے بلوچوں کو اسی طرح کے انجام کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

یہاں بیشتر دانشوروں نے لاپتہ افراد کے مسئلے کونظر انداز کیا ہوا ہے، ان میں سے کچھ کہ جنہوں نے اس خاموش دکھ بھری پکار کو صدا فراہم کی ہے، ان میں سے ایک ’پھٹتے آموں کا ایک کیس‘ کے مصنف محمد حنیف ہیں، جوکہ سب سے زیادہ ممتاز اور سب سے زیادہ فصیح ہیں۔ انہوں نے ایک پمفلٹ، ’بلوچ جو لاپتہ نہیں رہے اور وہ جو لاپتہ ہیں‘، پاکستان انسانی حقوق کمیشن کی ایک رپورٹ کے طور پر لکھا ہے۔ انہوں نے چھ لاپتہ یا اب جو لاپتہ نہیں رہے، ان افراد کے رشتہ داروں کا انٹرویو لیکر اس مسئلے کو چبھتے انداز میں بیان کیا ہے۔ یہ اس درد، فریب اور مایوسی کی روح شکن توضیحات ہیں کہ جنہیں انکے رشتہ دار جھیل رہے ہیں۔ شاید، آئی ایس پی آر اس پر بھی، مظالم کو بے نقاب کرنیوالی دیگر رپورٹوں کی طرح، ’جھوٹ کا پلندہ‘ والا لیبل لگا دیگی۔ زیر نظر مضمون حنیف کے پمفلٹ پر مبنی ہے۔

قدیر بلوچ کا بیٹا جلیل ریکی، بلوچ ریپبلکن پارٹی کا سیکرٹری اطلاعات تھا۔ اسکے دو سالہ بیٹے کے دل میں ایک سوراخ تھا۔ وہ لاپتہ ساتھیوں کیلئے مہم چلا رہا تھا، اسکے دوستوں نے انہیں خبردار کیا کہ اسکو اٹھالیا جائیگا، لیکن اس نے کہا کہ، ”اگر میں بھاگ گیا تو یہ تمام پریس ریلیز کون لکھے گا؟“، اور پھر ایک دن وہ آگئے اور تقریباً تین سال کیلئے وہ ایک لاپتہ شخص بن گیا۔ اس مدت کے دوران، اس نے ایک بار اپنے خاندان کے لوگوں سے بات کی تھی جب ایک فوجی نے، خاندان کی طرف سے اپنے موبائل میں ہزار روپے کا بیلنس ڈلوانے کے بعد، اسے بات کرنے دی۔

لوگ ان مظالم کو عدم دلچسپی کیساتھ دیکھتے ہیں کیونکہ لاپتہ اور ہلاک کیے گئے بلوچوں کو محض ایک شماریاتی حیثیت دیکر خارج البلد کردیا گیا ہے۔ تاہم، قدیر کیلئے، جوکہ اب وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کا نائب چیئرمین ہے، اس کا بیٹا جلیل صرف اعداد و شمار نہیں تھا اور انہوں نے اس کی بازیابی کیلئے حتی الوسع کوشش کی۔ قدیر نے اپنی ایف آئی آر میں جنرل پاشا کو نامزد کیا تھا۔ ایک بار ایک کرنل اسکے پاس آیا اور کہا کہ اسے انکے لئے برا محسوس ہوا ہے، اور اگر انکا بیٹا صرف ایک سیاسی کارکن ہے تو اسے رہا کر دیا جائیگا۔ دو سال اور تین ماہ لاپتہ ہونے کے بعد عید الاضحی سے چند روز قبل، جلیل ایک لاپتہ شخص نہیں رہا بلکہ دل میں گولی مارا گیا مردہ شخص بن چکا تھا، اسکی لاش تربت سے ملی۔ اسکے دل اور اطراف میں تین گولیاں تھیں۔ قدیر کو ریاست کی طرف سے تدفین کیلئے مدد کی پیشکش کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ، ”آپ کا کام اسے لے جانا تھا۔ آپ کا کام اس کو مارنا تھا۔ آپ نے اپنا کام کردیا ہے۔ باقی سب میں خود کر سکتا ہوں۔“ پھر قدیر نے کچھ ایسا کیا کہ کسی خاندان والے آدمی کو نہیں کرنا چاہئے تھا۔ انہوں نے اپنے پانچ سالہ پوتے کا ہاتھ پکڑا اور اسے اپنے مردہ والد کی لاش دکھانے لے گیا۔ انہوں نے اس بات کو یقین بنایا کہ بچہ اپنے والد کی گولیوں سے چھلنی، بری طرح مسخ شدہ لاش کو اچھی طرح دیکھ لے۔انہوں نے بچے سے بات بھی کی اور اسے بتایا کہ اسکے والد کو کس نے اور کیوں مارا ہے۔ پاکستان یہ سب بلوچ کیساتھ کرتا ہے اور پھر ان سے اپنے گن گانے کی توقع رکھتا ہے۔

بلال مینگل نوشکی میں ایک اعزازی صحافی تھا، انہیں نو بچوں کو کھلانا تھا، وہ ایک کرنل کی پیشکش پر فوج کے نوشکی قلعے میں وردی ساز ٹھیکیدار بن گیا۔ اسے معلوم نہ تھا کہ اس کی قیمت اسے اپنے پسندیدہ بیٹے خالد کی صورت میں ادا کرنی پڑےگی جسے وہ سلائی میں مدد دینے کیلئے اپنے ساتھ لے گیا۔ قلعے میں یہ مستقل ہدایات تھیں کہ کوئی افسر یا سپاہی حملوں کے خطرے کے سبب باقاعدہ اجازت کے بغیر باہر نہیں جا سکتا۔ ایک دن نائب صوبیدار رمضان نے احکامات کی خلاف ورزی کی اور فائرنگ میں زخمی ہوگیا۔ واقعہ چھ بجکر پندرہ منٹ پر ہوا اور بلال سات بجکر تیس منٹ پر قلعے سے نکلا، لیکن اس واقعے کیلئے اسے گرفتار کرلیا گیا۔ مقدمے کی سماعت 10 ماہ تک چلتی رہی، اور ایک دن دوسرے قیدیوں نے اسے بتایا کہ ان کے بیٹے خالد کو اٹھالیا گیا ہے۔ خالد 25 دن کے بعد واپس آگیا لیکن یہ کہانی یہیں ختم نہیں ہوتی؛ 16 مئی، 2011ءکی رات کو، انکے گھر پر چھاپہ مارا گیا اور انکے دو بیٹوں خالد اور مرتضیٰ کو اٹھا لیا گیا۔ اپنے گھر کی چھت سے اس نے ان گاڑیوں کو قلعے میں داخل ہوتے ہوئے دیکھا۔ بلال نے پولیس اسٹیشن کے ایس ایچ او سے مدد مانگی، جو دروازے تک ساتھ رہا لیکن وہاں سے انہیں واپس کردیا گیا۔ اس نے ایک ایف آئی آر درج کرائی، اور بھوک ہڑتال شروع کردی، بعد میں بلوچستان ہائی کورٹ میں ایک درخواست دائر کی۔ اس نے کور کمانڈر کوئٹہ کے پی ایس او کے ساتھ ایک پُرتکرار ملاقات بھی کی تھی جوکہ شدید الجھن میں اختتام پذیر ہوئی، مدد کرنے کے بجائے اس نے کہا کہ اسے، یعنی بلال کو، 25 سال کی سزا سنائی گئی ہے اور اسے جیل میں ہونا چاہئے۔ بلال سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کی طرف سے شروع کئے گئے سماعتوں میں بھی پیش ہوا، لیکن لگتا نہیں ہے کہ اسے ان پر زیادہ یقین ہو۔ ”چیف جسٹس یہاں صرف اپنی صورت دکھانے کیلئے آتے ہیں۔ وہ صرف اپنے آپ کو بچانے کے بارے میں فکرمند ہیں۔ کچھ بھی تبدیل نہیں ہواہے، کچھ بھی تبدیل نہیں ہوگا۔“ خالد ابھی تک لاپتہ ہے۔

لاپتہ ذاکر مجید کی بڑی بہن، فرزانہ مجید، بلوچ جدوجہد کی ایک نئی صورت اور مرحلے کی نمائندگی کرتی ہے۔ پہلے کبھی بھی بلوچ خواتین نے اتنے فعال طور پر اور اتنے بڑے پیمانے پر حصہ نہیں لیا ہے؛ ریاستی مظالم نے انہیں اس کردار پر مجبور کر دیا ہے۔ فرزانہ نے بلوچستان یونیورسٹی سے بایو کیمسٹری میں ماسٹرز کیا ہے اور ایم فل کے پروگرام میں داخلہ لیا ہوا ہے۔ لیکن کلاسوں میں شرکت کرنے یا کسی تجربہ گاہ میں کام کرنے کے بجائے، وہ احتجاجی کیمپوں میں اپنے بھائی کی رہائی کا مطالبہ کرنے کیلئے بیٹھتی ہے۔ ذاکر بلوچ اسٹوڈنٹس آگنائزیشن (آزاد)، ایک قومپرست طلباءتنظیم، کا نائب صدر تھا اور انگریزی میں ماسٹرز کا ایک طالب علم۔ اسے دوستوں کیساتھ مستونگ سے واپس آتے وقت انٹیلی جنس اہلکاروں نے گرفتار کیا تھا۔ اسکے دوستوں کو جلد ہی رہا کر دیا گیا اور انہوں نے فرزانہ کو اطلاع دی؛ ٹی وی چینلز پر بھی یہ خبر نشرہوئی تھی۔ ذاکر کے بھائی نے مستونگ میں ایک ایف آئی آر درج کرائی ہے۔ فرزانہ اپنی بیمار ماں کے بارے میں فکر مند تھی لیکن آخر میں اسے بتانا پڑا، خاتون شکستہ ہوگئی اور دعائیں مانگنے لگی اور ابھی تک دعائیں مانگ رہی ہے۔

فرزانہ نے بلوچستان ہائی کورٹ میں ایک رٹ پٹیشن دائر کی، اور تب سے اپنے بھائی کی گمشدگی کو اجاگر کرنے کی امید میں وہ ہر جگہ احتجاجی کیمپوں سے جڑ گئی ہے۔ اس نے ماما قدیر کیساتھ اسلام آباد میں کیمپ لگایا اور جسٹس جاوید اقبال سے ملاقات کی جنہوں نے ان سے وہی کہا جو کہ وہ ہر دوسرے بلوچ خاندان کو کہتا ہے: احتجاجی کیمپ بند کرو، گھر جاو ¿ اور آپکے خاندان کے افراد ایک ہفتے کے اندر اندر آپکے ساتھ ہونگے۔ حنیف کہتے ہیں، ”جاوید اقبال نے اس ڈراو ¿نے خواب کو دوام دینے میں ایک عجیب کردار ادا کیا ہے۔ اس نے بہت سے خاندانوں سے بہت سارے جھوٹے وعدے کیے ہیں کہ بہت سے لوگ ان کو اس مسئلے کا ایک حصہ سمجھتے ہیں۔“

فرزانہ اپنے آبائی شہر خضدار واپس چلی گئی اور انہیں یہ اطلاعات موصول ہونا شروع ہوئیں کہ ذاکر کبھی واپس نہیں آئے گا۔ پھر ذاکر کے لاپتہ ساتھیوں کی لاشیں باقاعدہ وقفوں کیساتھ نمودار ہونا شروع ہوئیں۔ انہیں نے غفار لانگو کی لاش ملی، پھر سمیر رند کی، جلیل ریکی، ثناءسنگت کی لاش، جسے 28 گولیاں ماری گئی تھیں۔ دو سال تک، انہیں ذاکر کے بارے میں خبر موصول ہوتی رہی لیکن پچھلے ڈیڑھ سال سے یہ سلسلہ بند ہوچکا ہے۔ فرزانہ نے پاکستانی ریاست اور اسکے عوام سے آس لگانا چھوڑ دیا ہے۔ وہ کہتی ہے، ”کیا یہ بالکل واضح نہیں ہے کہ وہ ہم بلوچوں سے نفرت کرتے ہیں؟ اگر ذاکر نے کسی جرم کا ارتکاب کیا ہے، وہ اسے عدالت میں کیوں نہیں لاتے؟ اس پر مقدمہ چلائیں، اور اسے سزا دیں، پورے خاندان اور پوری قوم کو کیوں سزا دے رہے ہیں؟“ احتجاجی کیمپوں میں وہ اپنا وقت، چے گویرا کی سوانح عمری، اسپارٹیکس، موسیٰ سے مارکس تک جیسے انقلابی اور سیاست سے متعلق کتابیں پڑھنے میں صرف کرتی ہے تاکہ دوسرے لوگوں کی جدوجہد کے بابت جان سکے۔

ایک لاپتہ بیٹے، بھائی، یا دوست کا درد کسی شخص کی نفسیات پر گہری چھاپ بنائے رکھتا ہے۔ یہ ایک ان مٹ درد ہے، اسے نہ تو وقت اور نہ ہی دلاسے کم کرسکتے ہیں۔ دو ہفتے قبل، میں اپنے ساتھی ’جانی‘ دلیپ داس کی 91 سالہ ماں سے اپنی ادائیگیء احترام کیلئے گیا۔ اس کے پہلے الفاظ تھے، ”میرا جانی کیسا ہے؟“ وہ اب بھی یہی سمجھتی ہے کہ وہ زندہ ہے اگرچہ یہ 1975ء کا سال تھا جب اسے شیر علی مری کے ہمراہ فوج کے انٹیلی جنس نے بیل پٹّ سے اٹھایا تھا۔ انہوں نے اور ان کے شوہر، ایئر کموڈور (ر) بلونت داس، جو چند سال قبل انتقال کرگئے، نے اسکے بارے میں کوئی خبر حاصل کرنے کی بہت کوشش کی لیکن تمام محنت بیکار گئی۔ اگرچہ مسز داس کو دل کے کئی دورے پڑے ہیں لیکن لاپتہ بیٹے کی یادیں اور درد جانے کا نام ہی نہیں لیتیں۔

میں نے اپنے 16 سابق طالب علم کھو ئے؛ ان میں سوبدار، واحد بخش، شاہ میر اور احمد مرغیانی، زمان خان اور احمد علی چلگاری، عرضو، شربت، مراد اور زمان شیرانی، محمد خان اور محمد نبی پیردادانی، فیض محمد، ناصر اور وزیر خان مزارانی، گلزار تنگیانی اور غلام قادر پیرکانی۔ ڈاکٹر اکبر پیردادانی سمیت کئی لاپتہ ہیں۔ ان کے ساتھ میرا تعلق بہت گہرا ہے؛ اور بہت سے اکثر مجھ سے یہ کہتے، ”استاد، تہ مئے ناروائے پت استئے“ (استاد، آپ ہمارے لئے والد کی طرح ہیں)۔ مریوں میں ’ناروائے پت‘ کا مطلب ایک غیر فطری والد ہے مگر پھر بھی ایک والد۔ بہت سے کہتے، ”استاد، ما تھئی ناروائے بچّ استوں“ یعنی ہم آپکے غیرفطری بیٹے ہیں مگر پھر بھی بیٹے۔

اللہ بخش بنگلزئی کا بیٹا حافظ سعید الرحمن 10 سال سے زائد عرصے سے لاپتہ ہے۔ اپنے بیٹے کی تلاش کے دوران، جو اس دن سائیکل پر گھر سے نکلا تھا، انہوں نے مردہ خانوں کے چکر لاگائے، قبر سے نکالی گئی ایک لاش دیکھی، اپنے بیٹے کی گمشدگی کے بارے میں مختلف باتیں سنیں، جن میں اسکا جیل میں ہونا، ایک بم دھماکے میں ہلاک ہونا شامل ہیں۔ سرکاری بیانات پر سازشی چکرداریوں کا غلبہ ہے جو مسلسل بدلتی رہتی ہیں۔ انکے بیٹے کے لاپتہ ہونے کے دو ہفتے بعد ایم آئی کا ایک شخص آیا اور ان سے پوچھا کہ ان کے بیٹے کا جہادی تنظیموں کے ساتھ کوئی تعلق ہے۔ انہوں نے نفی میں جواب دیا۔ ایک مرتبہ اس کا نام بلوچستان ہائی کورٹ کی لسٹ پر جیل میں ہونے کے حوالے سے ظاہر کیا گیا تھا لیکن یہ بھی غلط ثابت ہوا۔ ایک مذہبی ذہنیت رکھنے والا بلوچ اتنے ہی خطرے میں ہے جتنا کہ ایک سیکولر بلوچ ۔

سمن بلوچ بلوچستان یونیورسٹی میں ایم ایس سی کیمسٹری کی ایک طالبہ ہے، ان کے والد ڈاکٹر دین محمد خضدار کے علاقے اورناچ کے سرکاری ہسپتال میں ایک میڈیکل افسر تھے، انھیں 28 جون، 2009ء کو ان کے ہسپتال کی رہائش گاہ کے دروازے توڑ نے کے بعد، انٹیلی جنس ایجنسیوں نے اٹھایا۔ وہ بلوچ نیشنل موومنٹ (بی این ایم) کی مرکزی کمیٹی کے رکن تھے۔ ان کے بھائی سے ان کی سیاسی سرگرمیوں کے بارے میں پوچھ گچھ کی گئی۔ سمن ایک گومگو کی حالت میں ہے، کیونکہ اسے ہمیشہ جھوٹ بولنا پڑتا ہے، اسلئے کہ وہ نہیں چاہتی کہ اسکے اساتذہ کو یہ معلوم ہو کہ وہ کیوں کلاس میں موجود نہیں ہے، یا تو وہ کسی احتجاجی کیمپ میں ہے، یا کسی عدالت کی سماعت میں، یا پھر اس امید میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کررہی ہوتی ہے کہ کوئی صحافی اس کے والد کے بارے میں کچھ لکھے گا۔ اسے جھوٹ بولنا برا لگتا ہے۔ سمن اپنے والد کے انجام کی بابت فکرمند ہے اور پوچھتی ہے کہ وہ کیونکر انہیں سالوں حراست میں رکھتے ہیں اور پھر وہ انہیں قتل کردیتے ہیں۔ وہ کہتی ہے، ”اگر وہ میرے والد کو پھانسی دینا چاہتے ہیں، وہ اس کو عدالت میں لائیں، اس پر مقدمہ چلائیں اور ہم سب کے سامنے اسے پھانسی دیں۔ ہمیں کم از کم یہ جان کر اطمینان ہوگا کہ وہ اب نہیں رہے۔ لیکن اگر وہ اسے تین سال، چار سال تک زندہ رکھتے ہیں، اگر وہ ہر روز اس پر تشدد کرتے ہیں اور پھر اسے قتل کرکے اس کی لاش کو پھینک دیتے ہیں، آخر اس کا مقصد کیا ہے؟“ وہ مزید کہتی ہے، ”ان لاشوں کو دیکھنے، ان کے بارے میں سننے، مزید لاشوں کے گرنے کے کیلئے انتظار کرنے نے، ہمیں چلتی پھرتی لاشوں میں تبدیل کر دیا ہے، ہم خود کو ان پھینکی گئی لاشوں کی طرح محسوس کرتے ہیں۔“

سمن نے اپنی زندگی کے گزشتہ تین سال عدالتوں اور احتجاجی کیمپیوں، میڈیا کو اپنے والد کا نام خبروں میں زندہ رکھنے پر قائل کرنے کی کوشش میں گزارے ہیں۔ وہ کہتی ہے، ”میں عدالت کی سماعتوں میں جاتی ہوں لیکن میرا دل اسے قبول نہیں کرتا، میں جانتی ہوں کہ ان عدالتوں سے مجھے انصاف ملنے کا کوئی امکان نہیں ہے۔“ اس کے چھوٹے بھائی کو اسکول چھوڑ کر خاندان کی زمین پر کام کرنا پڑ رہا ہے تاکہ خاندان کی کفالت کرسکے۔

نصراﷲ بنگلزئی، کوئٹہ ڈگری کالج کا ایک سابق طالب علم، وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کا موجودہ چیئرپرسن، اپنے لاپتہ چچا علی اصغر بنگلزئی کی تلاش میں جٹا ہوا ہے جوکہ ایک درزی کی دکان چلاتا تھا، ایک سیاسی کارکن تھا اور خیر بخش مری کی سیاسی جماعت حق توار کاایک رکن تھا۔ انہیں 2000ء میں اٹھایا گیا لیکن 14 دن کے بعد رہا کردیا گیا۔ اس مدت کے دوران، اصغر کو ایک دیوار پر الٹا لٹکا یا گیا اور اسے خیر بخش کیخلاف گواہی دینے کیلئے کہا گیا، اور ڈرایا گیا کہ ایسا نہ کرنے پر رسی کاٹ دی جائے گی، لیکن اس نے انکار کر دیا۔ نصراللہ کی لگاتار مہم اور کوئٹہ پریس کلب کے باہر اس کا مستقل احتجاجی کیمپ فوجی اسٹابلشمنٹ کیلئے تھوڑی سی شرمندگی کا باعث بن رہے تھے، تو ایم آئی کے ایک کرنل ظفر نے ملاقات کیلئے اسے بلایا اور اس سے پوچھا، ” کیا آپ گورنر سے ملتے رہے ہو؟“ اس نے کہا کہ کم از کم سات مرتبہ۔ کرنل نے گفتگو جاری رکھی، ”اور آپ نے اسے مقامی آئی ایس آئی کے کمانڈر کو گورنر ہاوس میں طلب کرنے کیلئے کہا؟“ اس نے ہاں میں جواب دیا۔ کرنل نے کہا کہ، ”وہ یہاں میرے سب سے زیادہ جونیئر کیپٹن تک کو طلب نہیں کر سکتا۔ وہ یہ بات جانتا ہے اور آپکو بھی جاننا چاہئے۔“ نصراللہ، جو ایک سیدھا جواب حاصل کرنا چاہتا تھا، اس نے کہا،” ہو سکتا ہے کہ آپ لوگوں نے اسے مار ڈالا ہو اور اسے کسی ناقابل رسائی جگہ پر دفن کردیا ہو۔ ہو سکتا ہے کہ آپ مجھے اس کی قبر پر نہیں لے جاسکتے“، اور”اگر یہ بات ہے، تو قرآن لے آو ، اس پر اپنا ہاتھ رکھو اور مجھے سچ بتادو۔ اور میں آپکی جان چھوڑ دونگا۔“ کرنل ظفر پر نصراللہ کی اس جذباتی التجاء نے کوئی اثر نہیں ڈالا اور اس نے کہا کہ، ”اسکا کوئی فائدہ نہیں ہے۔ ہم ایک مشین ہیں۔ ہم جذبات سے عاری ایک مشین ہیں۔“

دوسری بار جب اصغر بنگلزئی کو گرفتار کیا گیا وہ اپنے دوست اقبال کے ہمراہ تھا۔ اقبال کو بے رحمی سے تشدد کا نشانہ بنایا گیا لیکن 24 دنوں کے بعد اسے رہا کردیا گیا۔ 2003ء میں نصراللہ کا خاندان کوئٹہ کے کورکمانڈر، جوکہ خفیف تبدیلی کیلئے ایک بلوچ تھا، عبدالقادر زہری، اور بعد میں وہ گورنر بھی بنا، کے ساتھ ایک ملاقات طے کرنے میں کامیاب ہوا۔ لیکن یہ بھی برآور ثابت نہیں ہوا۔ انہوں نے جے یو آئی (ف) کے مرکزی رہنما حافظ حسین احمد کی مدد حاصل کرنے کی کوشش کی اور کوئٹہ میں آئی ایس آئی کے سربراہ بریگیڈیئر صدیق سے ملاقات کی۔ انہوں نے کہا کہ وہ انکی حراست میں ہے، اور ایک سال تک وہ اس سے اکثر ملتے رہے لیکن یہ بھی ثمرآور نہ ہوسکا۔ انہوں نے اسلام آباد میں جنرل ذکی سے ملاقات کی؛ مدد کا وعدہ تو کیا گیا لیکن کوئی مدد نہیں آئی۔ ان سب سے امید کھونے کے بعد، نصراللہ نے ایک بار پھر گورنر اویس غنی سے ملاقات کی لیکن وہ دنگ رہ گیا جب غنی نے اس سے کہا،”اگر آپ اپنے مظاہروں کا سلسلہ جاری رکھتے ہیں تو میں آپ کی حفاظت کی ضمانت نہیں دے سکتا۔“ نصراللہ نے تلخی سے کہا، ”میں ایک عام شہری ہوں۔ آپ گورنر ہیں۔ ہم آپ کے گورنر ہاو س میں بیٹھے ہیں اور آپ مجھے میرے تحفظ کے بارے میں دھمکی دے رہے ہیں۔“ سب اسے احتجاجی کیمپ ہٹانے اور ان کی مہم کا خاتمہ چاہتے تھے، جیسا کہ یہ انہیں اور ملک کو ’بد نام‘ کر رہے ہوں۔ وزارت داخلہ کی طرف سے ایک اعلی عہدیدار جہاز کے ذریعے کوئٹہ پہنچے اور ان سے ملے۔ ”انہوں نے ہم سے وعدہ کیا تھا کہ اگر ہم احتجاجی کیمپ ختم کردیتے ہیں، تو وہ اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ علی اصغر کو دو ہفتے کے اندر اندر رہا کیا جائے گا۔“ نصراللہ نے دوسرے خاندانوں سے مشورہ کیا اور احتجاجی کیمپ عارضی طور پر بند کردیا گیا۔ مہینے گزر گئے، کچھ نہیں ہوا، چونکہ ان سے جھوٹ بولا گیا تھا۔ ستم ظریفی تو یہ ہے کہ ایک ایف آئی آر درج کروانے کیلئے نو سال لگ گئے، اور سپریم کورٹ اور حکومت بلوچ کیلئے اپنی کوششوں کی تعریف کرتے نہیں تھکتے۔

جب علی اصغر لاپتہ ہوا، اسکا سب سے بڑا بیٹا 12 سال کا تھا اور سب سے کم عمر صرف چھ ماہ کی تھی۔ سب سے بڑے بیٹے کی چند سال قبل شادی ہوگئی۔ اپنے چچا کی تلاش میں 11 سال گزارنے کے بعد، نصراللہ اپنی دماغی حالت کو بلا جھجک بیان کرتا ہے۔ ”پورا خاندان نفسیاتی مسائل سے دوچار ہے۔ مجھے لگتا ہے کہ ہم سب ذہنی طور پر بیمار ہیں۔“ اپنی غیر موجودگی میں علی اصغر ایک دادا بن چکا ہے۔ اس کا پوتا بھی اسے چاچا بلاتا ہے کیونکہ نصراللہ اس کا حوالہ چاچا کے طور پردیتا ہے۔ گمشدگیاں بلوچ معاشرے کے تمام شعبہ ہائے زندگی سے متعلق ہیں اور ان میں پروفیسر صبا دشتیاری جیسے دانشور شامل ہیں؛ لالہ حمید بلوچ اور الیاس نذر جیسے صحافی؛ ڈاکٹر دین محمد اور اکبر مری جیسے ڈاکٹر؛ زمان خان مری اور علی شیر کرد جیسے وکلا، اور ذاکر مجید اور سنگت ثناء جیسے سرگرم کارکن۔ بلوچ کیساتھ پاکستانی ریاست کا سلوک کینہ پرور اور سفاکانہ ہے اور فرنٹیئر کور کے اہلکاروں کی وردیاں پہن کر جرائم کا ارتکاب کرنے جیسے کمزور بہانے پیش کرکے وہ اپنی ذمہ داریوں سے انحراف جاری رکھے ہوئے ہے۔ اس طرح کے بہانے محض اس کی ایک ریاست کو چلانے کے قابل نہ ہونے کو ظاہر کرتے ہیں۔ بظاہر لگتا ہے کہ لاپتہ افراد کی داستان جاری رہے گی اور اس میں شدت آئیگی جیسا کہ بلوچ ان مظالم اور اپنے حقوق کے انحراف سے تنگ آ چکے ہیں، وہ زیادہ فعال طور پر اور کھلے عام ریاست کیخلاف بول رہے ہیں اور آزادی کا مطالبہ کرر ہے ہیں۔

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s