” کیا اتنا سب ھونے، دیکھنے اور سہنے کے بعد ھم غلام نہیں..؟”

تحریر=انزلنا سمل بلوچ

THIS ARTICLE IS DEDICATE TO MY IDEOLOGICAL TEACHER, SIR I AM HERE ON THIS STAGE DUE TO YOU

stop

جیسا کہ آپ سب جانتے ہیں کہ بلوچستان ایک ایسا خطہ ہے جہاں قدرتی وسائل کا ایک بہت بڑا ذخیرہ گیس، کوئلہ، سنگ مرمر، کرومائیٹ، جپسم، سونا وغیرہ کے ساتھ ساحلء سمندر ہیں.
اتنا امیر ترین خطہ ھونے کے باوجود بلوچ قوم کسمپرسی اور غلام کی زندگی جی رہے ہیں.

میں بڑے غورو فکر اور مطالعے کے بعد جب بیٹھ کر ایک آہ بھرتی ھوں تو مختلف باتیں ذہن کے گرد گھومتے ہیں کہ کون کہتا ہے کہ ھم غلام نہیں؟

یا اتنا سب ھونے، دیکھنے، اور سہنے کے بعد بھی ھم غلام نہیں…؟افسوس آج ھم بلوچستان میں رہتے ضرور ہے لیکن ایک غلام کی حیثیت سے جہاں نہ ھماری زبان بولی جاتی ہے نہ تعلیمی حوالے سے ھماری تاریخ نمایاں ھے. ھم سکول، کالجوں اور یونیورسٹیز میں پڑھتے ضرور ھیں لیکن ھمیں بلوچستان کے بارے میں کم پنجاب اور پاکستان کے بارے میں زیادہ پڑھنے کو ملتا ہے. ھم سے ھماری زبانیں بلوچی اور براھوئ کو دور رکھا گیا اور ابہام پھیلانے کی کوشش جاری رہی کہ بلوچی الگ اور براھوئ الگ ، اور عالم یہ ھیکہ آج اس غلامی کی زندگی میں براھوئ بولنے والے بلوچ بلوچی نہیں بول سکتے اور مکران کے بلوچ براھوئ نہیں بول سکتے.یہ سب حربے بلوچ قوم کی طاقت کو منتشر کرنے کے لیۓ ھیں جو قبضہ گیر مختلف ادوار میں استعمال کیا. قبضہ گیر نے ھم سے ھماری زبان دور کرنے کی کوشش میں ھم پہ اردو جوکہ ہندی زبان کی مصنوعی نقل ھے ھم پے تھوپا گیا اور ھمیں یہ باور کرانے کی کوشش کی گئی کہ اردو ہی ھماری قومی زبان ہے.

لیکن کیسے اور کیوں؟ کس لحاظ سے اردو ھمارا قومی زبان ھوا.ھم بلوچ ھے ھماری اپنی زبان ، ایک الگ ثقافت، اور 5 ہزار سالہ پرانی تاریخ ہے لیکن ھمیں سکول، کالجز، دفتروں میں ہر جگہ اپنی قومی زبان بولنے کے بجاۓ اردو بولنا پڑتا ھے.

کیا اب بھی ھم کہتے ہیں کہ ھم غلام نہیں…؟ھمارے تعلیمی نصاب میں ھمیں قائد اعظم، لیاقت علی، مولانا جوھر، میجر عزیز بھٹی، کیپٹن سرور، راشد منہاس، دو قومی نظریہ وغیرہ تو پڑھنے کو ضرور ملتے ہیں مگر ھمارے اھم بلوچ شخصیات اور عظیم شھدا نوری نصیر خان، پرنس عبدالکریم، گل خان نصیر، بابو عبدالرحمان کرد، عطا شاد، بابونوروز وغیرہ جنہوں نے بلوچ دھرتی کے لیۓ قربانیاں دیں ھمارے غلامانہ تعلیمی نظام میں ان عظیم بلوچ شخصیات کا کئی بھی کوئی ذکر نہیں.

آخر کیوں…؟

کیا اب بھی کوئی بلوچ کہتا ھے کہ ھم غلام نہیں.؟

ھم سب جانتے ہے کہ بلوچستان بلوچوں کا وطن ہیں لیکن اگر ھم ذرا ماضی کا جائزہ لیں تو روزء اول سے بلوچ قوم پر قابضوں نے ظلم و ستم کا بازار گرم رکھ کر بلوچوں کو دیوار سے لگانے کی ناکام کوششیں کی گئی جب برطانیہ کے بعد پاکستان نے بلوچستان پر قبضہ کیا تو ایک سوچی سمجھی پولیسی کے تحت چوتھائی آبادی سے زیادہ نوآبادکار باہر سے لاکر بلوچستان کے مختلف شہروں میں آباد کیا گیا بہانہ یہ تھا کہ جناب یہاں کے بلوچ غیر تعلیم یافتہ ہے اور اداروں کو نہیں سنبھال سکتے.

ان نوآبادکاروں میں پنجابی، اور افغان مہاجرین شامل ہیں، اس کے علاوہ فوج کی بڑی تعداد میں یہاں لاکے مختلف شہروں میں چھاونیاں بنا کر انھیں تعینات کیا گیا
آخر یہ سب کچھ بلوچستان ہی میں کیوں؟

کیا اب بھی کوئی بلوچ کہتا ہیں کہ ھم غلام نہیں؟

بلوچستان میں جہاں جائیں جگہ جگہ آپ کو فوجی چیک پوسٹ ملیں گے جگہ جگہ چیکنگ کرکے بلا وجہ بلوچ عوام کو گاڑیوں سے اتار کر دیر تک کھڑا کرنا، غلیظ گالیاں دینا، بات کرنے پر تھپڑ مارنا، اس طرح مختلف حربوں سے ھمیں ذہنی ٹارچر کیا جاتا ہے. آخر ھم نے کیا جرم کیا ہے؟

کیا اب بھی کوئی کہے گا کہ ھم غلام نہیں. . . ؟

بلوچستان کے علاوہ پنجاب، سندھ کسی اور جگہ میں کسی کو ایک تھپڑ لگتی ھیں تو پاکستان کے عوام اور میڈیا شور مچادیتی ہیں، اور یہاں بلوچستان میں آۓ روز انسانیت کی پامالی ھوتی ہے، لوگوں کے گھروں پہ چھاپہ بلوچ آبادیوں پہ آپریشن، بلوچ نوجوانوں کو بنا کسی جرم کے آرمی انٹیلی جنس والے اغوا کرکے تشدد کا نشانہ بنا کر ان کی مشخ شدہ لاشیں ویرانوں میں پھینکی جاتی ہیں

اگر کسی بلوچ نے کوئی جرم کیا ہے تو کیوں اسے عدالتوں میں پیش نہیں کیا جاتا اسے اپنے چقوق مانگنے کی پاداش میں انسانیت سوز اذیت دیکر شہید کیا جاتا ہے. . .
آخر یہ سب ھمارے ساتھ کیوں؟

یہاں پاکستانی میڈیا کی خاموشی ظالم کے ساتھ دینے میں برابر کا شریک مانا جائیگا.

کیا اب بھی کوئی بلوچ کہتا ہے کہ ھم غلام نہیں. . . . .؟

قبضہ گیر ہمارے ہی وسائل کو لوٹ کر پورے ملک کا گزارا کررہا ہے اور انہی پیسوں کو بلوچستان میں آرمڈ فورسز پر خرچ کررہا ہیں کہ جیسا بھی ھو آواز اٹھانے والے بلوچوں کی آواز دب جاۓ. . . .

ھاں ایک غلام قوم کے ساتھ ایسا ہی ھوتا ہے. . . . . .

قدرتی وسائل کا مالک ہوتے ہوۓ بھی ایک عام بلوچ کسمپرسی کی زندگی گزار رہا ہے

ایک تعلیم یافتہ بلوچ کسی بھی خالی آسامی یا سیٹ کے لیۓ کسی ادارے یا تعلیمی ادارے میں اپلائی کرتا ہے تو اسے لا تعداد مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے

یہاں رشوت جیسی لعنت سب کو سکھائی گئی

آسامیا ں ھوں یا سیٹیں سب پیسے کے مول بکتے ہیں

یہ آسامیاں وزراء کے پاس ھوتے ہیں ان سیٹوں اور آسامیوں کو وہ اپنے لوگوں میں بانٹ دیتا ہے اور جو بچ جاتے ہیں ان میں ہر آسامی اور سیٹ کی قیمت ایک لاکھ سے لیکر پانچ لاکھ یا اس سے بھی زیادہ لگائی جاتی ہے

اب رہ جاتا ہے ایک عام بلوچ وہ اتنے روپے لاۓ تو لاۓ کہاں سے. . . . .

یہاں بھی تعلیم یافتہ بلوچ کا استحصال جاری ہے

دل خون کے آنسو روتا ہیں. . . .

کیا اب بھی کوئی بلوچ کہتا ہے کہ میں غلام نہیں . . ؟

کہا جاتا ہیکہ بلوچ محنت کش نہیں. . . یہاں بھی ھمارا اچھا خاصا مذاق اڑایا گیا ہے کہ ھم بلوچ محنت مزدوری نہیں کرتے تو ذرا میں اس بات کی بھی وضاحت کرتی جاوں . .

بلوچ قوم ایک غیور اور ایک غیرت مند قوم ہیں اور بلوچ قوم نے کھبی کسی کے آگے ہاتھ نہیں پھیلایا نہ پھیلاۓ گا.

بلوچستان میں اول تو کوئی فیکٹری نہیں اگر ہے بھی تو نہ ھونے کے برابر ہے

یہاں جتنے بھی معدنیات کے ذخائر جن میں سنگ مرمر، سیندک پروجیکٹ، کوئلہ کے کان ہیں ان میں بھی نچلے طبقے میں مزدوری کرنے والے بلوچ ہیں اور اوپر کے طبقے میں کام کرنے والے افسر شاہی باہر کے ہیں، یہاں بھی ایک بلوچ محنت کش کا استحصال کیا جا رہا ہے

اب بھی کوئی بلوچ کہتا ہے کہ میں غلام نہیں. . . .

اب میں ایک خاص موضوع کو لے کر اپنے آرٹیکل کا اختیتام کرونگی جو بلوچستان میں کافی عروج پر ہے

اگر ھم دنیا کے دوسرے غلام قوموں کے بارے میں مطالعہ کریں تو ھمیں جانکاری مل جایگا کہ دنیا میں قبضہ گیروں کا سب سے بڑا اور موثر ہتھیار مذہب رہا ہے

یوں بلوچستان کا جائزہ لیں تو قبضہ گیر اپنی قبضہ گیریت کو دوام دینے کے لیۓ یہاں مذہب اسلام کو ڈھال کے طور پر استعمال کر رہا ہے، مذھب کو قوم سے تشبیح دے کر بلوچ قوم کودھوکے میں رکھ رہا ہیں

پورے پاکستان میں سب سے زیادہ جماعتیں پنجاب سے بلوچستان بیجھی جاتی ہیں جن میں اکثر و بیشتر انٹیلی جینس کے لوگ ھوتے ہیں جنہیں آسانی سے ہر جگہ جانے کی رسائی ھو اور تبلیغ کی آڑ میں بلوچوں کو ورغلاتے ہیں کہ ھم تو گناگار ہیں یہ سب جو ہورہا ہے یہ ھماری گناھوں کی سزا ہے ھمیں کہتے ہیکہ یہ پہاڑ جو کالے ہیں یہ ھمارے اعمال اور نیتوں کی وجہ سے کالے ھوگئے یہ قیامت کی نشانیاں ھیں ، اپنا حق مت مانگو

اب یہ ھمیں بھائی چارے کادرس دینگے جن کے خود کے ہاتھ معصوموں کے خون سے رنگے ہیں
ارے ان پہاڑوں کو تم کالے کہہ رھے ھو انہی پہاڑوں سے جو معدنیات نکلتا ہے انہی سے تمہاری معیشیت کا پیا چلتا ھے

بلوچ امن پسند اور مہذب قوم ہیں . یہ تبلیغ پنجاب میں کیوں نہیں کیا جاتا کہ جہاں ھر طرح کی معاشرتی برائیاں ہیں

کیوں یہ لوگ بلوچ قوم کے ساتھ ھونے والی ظلم و بربریت کے خلاف تبلیغ نہیں کرتے. . . .

اور ھمارے خلاف ذہر افشاں پروپیگنڈہ کیا جاتا ہے. . .

کیا اب بھی کوئی بلوچ کہتا ہے ھم غلام نہیں. . . . ؟

جو بھی ھو ھمیں اپنی آذادی حاصل کرنے کے لیۓ جدوجہد کو آگے بڑھانا ہیں ..

انقلاب زندگ بات

One comment on “” کیا اتنا سب ھونے، دیکھنے اور سہنے کے بعد ھم غلام نہیں..؟”

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s