ڈاکٹر کی بیٹی…

محمد حنیفdr deen

بلوچستان یونیورسٹی کی ایم ایس سی کیمسٹری کی بیس سالہ طالبہ سمن بلوچ کو ہر مرتبہ کلاس سے غیر حاضر ہونے کے لیے کوئی نا کوئی بہانہ تراشنا پڑتا ہے۔ کیونکہ سمن نہیں چاہتی کہ اس کے اساتذہ کو پتہ چلے کہ وہ کلاس چھوڑ کر کہاں جاتی ہے؟

کسی احتجاجی کیمپ میں یا کسی عدالتی سماعت میں یا اس امید پر کوئی پریس کانفرنس کرنے کہ کوئی نہ کوئی صحافی تو اس کے والد کے بارے میں کچھ نہ کچھ ضرور لکھے گا۔
اسی بارے میں

بقول سمن ’مجھے جھوٹ بولنا اچھا نہیں لگتا لیکن ٹیچرز سے اگر یہ کہوں کہ میں اس لیے یونیورسٹی نہیں آ سکتی کہ پریس کلب کے باہر احتجاجی کیمپ میں بیٹھنا ہے یا سپریم کورٹ جانا ہے کیونکہ میرے والد لاپتہ ہیں تو معلوم نہیں ٹیچرز میرے بارے میں کیا سوچیں۔‘

بلوچستان کی سینکڑوں خواتین کی طرح سمن بھی تین برس سے اپنے لاپتہ باپ کی بازیابی کی مہم چلا رہی ہے۔ سمن کے والد ڈاکٹر دین محمد کو اٹھائیس جون دو ہزار نو کو غائب کیا گیا۔ وہ خضدار کے علاقے ارناج کے سرکاری ہسپتال میں میڈیکل افسر تھے۔ انہیں اپنے پیشے سے اتنا لگاؤ تھا کہ ہر تین ماہ میں محض چند روز ہی کوئٹہ میں رہنے والے اپنے خاندان سے ملنے کے لیے نکال پاتے تھے۔

سمن بتاتی ہے کہ اس کے والد نے خود کو مریضوں کے لیے وقف کردیا تھا۔ وہ کہا کرتے تھے کہ اگر میں ہسپتال سے دور رہوں تو پھر مریضوں کو کون دیکھے گا۔ انہوں نے کبھی بھی ہسپتالی دواؤں کے سرکاری زخیرے سے ایک گولی تک لا کر نہیں دی۔ اگر ہم سے کوئی بیمار ہوجاتا تو تاکید کرتے کہ بازار سے دوا خرید لو۔

ڈاکٹر دین محمد ایک سیاسی کارکن بھی تھے اور ترقی پسند سیاسی جماعت بلوچ نیشنل موومنٹ (بی این ایم) کی مرکزی کمیٹی کے رکن تھے۔ انہیں اٹھانے والوں نے اٹھائیس جون دو ہزار نو کی نصف شب ہسپتال میں ان کی سرکاری رہائش گاہ کے در پر دستک دی۔

ڈاکٹر صاحب کے چپڑاسی رمضان نے جیسے ہی دروازہ کھولا تو آنے والوں نے اسے رسیوں سے جکڑ دیا۔ وہ کوئی آٹھ یا نو لوگ تھے جو دو گاڑیوں میں آئے تھے۔ ڈاکٹر دین محمد نے معاملے کی نزاکت بھانپتے ہوئے خود کو کمرے میں بند کرلیا اور گھنٹے بھر گرفتاری دینے سے انکار کرتے رہے۔ چنانچہ آنے والوں نے دروازہ توڑا اور لے گئے۔

ڈاکٹر دین محمد کے ڈرائیور نے کوئٹہ فون کرکے ان کے خاندان کو اس واقعے کی اطلاع دی۔ ان کے بھائی نے ارناج میں اس واقعے کی ایف آئی آر درج کرائی۔ ڈاکٹر دین محمد کے خاندان کی طرف سے بلوچستان ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی گئی اور کوئٹہ پریس کلب کے باہر لگے لاپتہ افراد کے وارثوں کے کیمپ میں سمن کی شکل میں ایک اور متاثر کا اضافہ ہوگیا۔ سمن کے چچا کو غائب افراد کی تلاش کے لیے قائم مشترکہ تحقیقاتی ٹیم نے طلب کرلیا۔ ٹیم نے ڈاکٹر دین محمد کی سیاسی سرگرمیوں کے بارے میں استفسار کیا۔

اس بارے میں سمن کا کہنا ہے کہ ’میرے والد کوئی زیرزمین گوریلا لیڈر نہیں تھے۔ ایک سیاسی کارکن تھے۔ ان کا کسی سے جھگڑا نہیں تھا۔ بی این ایم کوئی کالعدم تنظیم تو نہیں۔ اور کیا ڈاکٹروں کو مسیحا نہیں سمجھا جاتا؟ وہ تو مریضوں کا مفت علاج کرتے تھے۔ کبھی پرائیویٹ پریکٹس تک نہیں کی۔ پھر بھی تین برس سے ان کی کوئی خبر نہیں۔کیوں؟‘

سمن کے چھوٹے بھائی کو پڑھائی چھوڑنی پڑی۔ اب وہ خاندان کی کفالت کے لیے موروثی زمین پر کام کرتا ہے۔ لیکن خاندانی مسائل سے بھی زیادہ سمن اس خیال سے پریشان ہے کہ سینکڑوں دیگر لاپتہ افراد کی طرح کہیں ایک روز اس کے والد کی لاش بھی نہ مل جائے۔ وہ سوچتی ہے کہ اگر انہیں مارنا ہی ہے تو پھر اتنے برس سے قید میں کیوں رکھا ہے؟ مار کیوں نہیں دیتے؟

لیکن سمن اس سوچ کو خود پر مستقل طاری بھی نہیں کرنا چاہتی۔ وہ کہتی ہے کہ ’میں عدالت جاتی تو ہوں مگر دل نہیں مانتا۔ عدالت سے انصاف کی مجھے امید نہیں۔‘

عدالت کو ایک سرکاری وکیل نے بتایا کہ ڈاکٹر دین محمد پر چودہ مقدمات ہیں۔ مگر سمن کہتی ہے کہ ’کوئی مجھے سمجھائے کہ اگر ایک شخص تین برس سے لاپتہ ہے تو اس کے خلاف چودہ مقدمات کیسے بن سکتے ہیں۔ کیا اس نے وہ جرائم دورانِ حراست کیے ہیں؟‘

سمن پچھلے تین برس سے عدالتوں کے چکر کاٹ رہی ہے۔ احتجاجی کیمپوں میں جا رہی ہے۔ صحافیوں کو قائل کرنے کی کوشش کررہی ہے کہ اس کے والد کا نام میڈیا کی آنکھ سے اوجھل نہ رہے۔

مگر سمن کو اب تک کوئی خاص کامیابی نہیں ہوئی۔ اس کی والدہ دل کی مریض ہیں اور کوئی بھی بری خبر ان کے لیے خطرناک ہوسکتی ہے۔ لیکن سمن کے لیے ایک ہی بری خبر کا انتظار مسلسل سوہانِ روح بنا ہوا ہے۔

’اگر وہ میرے والد کو لٹکانا چاہتے ہیں تو پھر انہیں عدالت کے سامنے پیش کرکے مقدمہ چلا کر ہمارے سامنے پھانسی پر چڑھا دیں۔ کم ازکم سکون تو مل جائے گا کہ اب وہ نہیں رہے۔ لیکن اگر وہ انہیں تین سال، چار سال حراست میں رکھتے ہیں، روزانہ اذیت دیتے ہیں اور پھر ایک دن مارنے کے بعد لاش کہیں پھینک دیتے ہیں تو پھر اس سب کا مقصد آخر ہے کیا؟‘

سمن نے مایوسی کے عالم میں سر ہلاتے ہوئے کہا ’لاشوں کو دیکھنا، ان کے بارے میں سننا، مزید لاشوں کا انتظار۔ اس سب نے ہمیں تو مردہ بدستِ زندہ بنا دیا ہے۔ اب تو ہم خود کو بھی کہیں پھینکی جانے والی لاش ہی سمجھتے ہیں۔‘

بشکریہ : بی بی سی 

One comment on “ڈاکٹر کی بیٹی…

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s