ایک اخبار نویس کا ثناء سنگت

عبدالرزاق سربازی

ثناء سنگت کا نام میں نے پہلی بار اخباری پریس ریلیز میں دیکھا۔وہ خبر اب بھی مجھے یاد ہے۔مستونگ کی خبر تھی جس میں ثنا ء سنگت نے بھاری تعداد میں فورسز کی نفری کی آمد کا ذکر کیا تھا۔اس خبر کی تیسری سطر میں مستونگ کے علاقے میں آپریشن کے خدشے کا اظہار کیا گیا تھا۔ جس کی سرخی یوں جمی تھی کہ ” مستونگ میں بھاری تعداد میں فورسز کی آمد ، آپریشن کا خدشہ ” سرخی کی ذیلی میں کچھ مزید تفصیلات کا ذکر تھا جہاں ثناء سنگت کا نام درج تھا۔خبر میرے ہاتھ میں تھی اورمیرے دیرینہ دوست و اخبار کے مالک و ایڈیٹر بھی ساتھ کھڑے تھے sana sangatجو اپنے ذرائع سے خبر کی تصدیق کرنے میں سولہ آنہ پکے کام کرتے تھے لیکن اس خبر کو انہوں نے من وعن سچ مان لیا۔ وجہ ؟ پوچھے بغیر انہوں نے خود ہی بتادی ” ثناء غلط معلومات ٹوکنے والا شخص نہیں ،ایسے ہی حالات ہونگے جو ثنا ء نے خبر بھیجی ” ایڈیٹر نے باتوں باتوں میں خبر پر گیارہ لفظوں کی سرخی جما بھی دی۔کئی دن گزرے وہ خبر رفت و گزشت ہوگئی۔بلوچستان خبروں کے لحاظ سے تین حصوں میں بٹ چکا تھا۔اس وقت کاہان ،کوہلو اور ڈیرہ بگٹی یعنی مشرقی بلوچستان کے علاقوں سے آنے والی خبریں تند و تیز جھڑپوں کی ہوتی تھیں جنہیں من وعن شائع کرنے سے پہلے بیوی بچوں کے چہرے نظروں کے سامنے گھومنے لگتے تھے۔بالائے ستم وہ فون بھی ہوتے تھے جو دو جانبہ خبر کو اپ ڈیٹ کردیا کرتے تھے۔خبروں کا دوسرا زون کوئٹہ اور اس کے ارد گرد کے علاقے تھے جہاں ٹارگٹ کلنگ عروج پر تھی۔ کیچ مکران ،نوشکی خضدار خطرناک علاقوں میں شمار ہونے لگے تھے جہاں سے آنے والی خبریں صورتحال کو مزید پیچیدہ بنادیتی تھیں۔۔۔۔بہرحال ثناء ان خبروں کے بیچ کہیں موجود ہوتا تھا لیکن اسے میڈ یا ئی ستارہ بننازیادہ پسند نہیں تھا ،وہ اپنے آپ ذہن ساز تھا۔اس کے تیار کردہ ذہنوں میں پرنس موسی احمد زئی کا فرزند ۔خان آف قلات کا پوتا نوروز احمد زئی ۔ بھی شامل تھا جو کسی تقریب میں پراسرار نشانچی کی گولی کا نشانہ بنا۔ثناء سنگت کو میں نے دوسری بار خبروں میں دیکھا وہ نوروز کی لحد پر جھنڈا لہرانے والا تھا۔۔۔۔۔بعد ازاں وہ خبروں سے نکل کرعملی سرگرمیوں میں کہیں کھوگیا۔۔۔۔تیسری مرتبہ اس کی جوخبر ہماری نیوز ڈیسک پرآئی۔وہ کوئٹہ پریس کلب میں اس کی پریس کانفرنس تھی جس میں اس نے اپنے اوپر اٹھے کچھ تلخ سوالات کے جواب دیئے تھے۔غالبا یہ سوالات بی ایس او آزاد کے کونسل سیشن کے بعد اٹھے تھے جن کا اس نے سامنا کیا۔اس کے جوابات سے سوالات کی تشنگی باقی نہیں رہ گئی تھی۔وہ پھر کھوگئے لیکن زیادہ عرصہ نہیں گزرا کہ ان کی بلوچ ری پبلکن پارٹی میں شمولیت ایک خبر بن گئی۔۔۔۔اخبارات کی کتنی کاپیاں روز بروز شائع ہوتی رہیں جن میں ثناء کی کوئی خبر شامل اشاعت نہیں ہوتی تھیں۔طالب علمانہ سیاست کے بعد عملی سیاست نے ان کو سنجیدہ بناکر کم گو بنادیا تھا۔وہ نظروں سے اوجھل غائب سے ہوگئے تھے لیکن کوئٹہ ،کراچی ،مکران ہر جگہ سرگرم بھی تھے۔ان کی چوتھی خبر ان کو خاموش کرانے کیلئے آئی:ثناء سنگت غائب کردیئے گئے: ان کی بازیابی کیلئے مظاہرے ،احتجاج ،چیخ و پکار کچھ بھی کوئی بھی کوشش کارگر ثابت نہ ہوئی۔۔۔سال ،دو سال گزرگئے۔ابھی کچھ عرصہ مزید گزرنا تھا۔ پانچ ویں خبر راستے میں تھی اور یہ خبر 13فروری 2012ء کو آئی جو ثناء سنگت کی ہر خبر سے بھاری تھی۔۔۔

1

2

22

4

5

3

6

4 comments on “ایک اخبار نویس کا ثناء سنگت

  1. نیچے آپ نے تمام پارٹیوں کے اسٹیٹمنٹ دیئے ہیں سوائے بی آر پی کے کیا آپ وجہ بیان کر سکتے ہے؟ یا بی آر پی کا کوئی اسٹیٹمنٹ ہی نہیں آیا تھا اُ اس وقت سنگت ثنا بی آر پی کا باسک تھا۔

  2. شہید سنگت ثنا کلیں بلوچے ھاترا وتی نگرہیں جان ندر کتگ ھا پارٹی ءَ نی بیان بازیانی مہتاج نہ نت۔ ءَ باہد انت کہ ما درس چشیں کسانیں کسانیں جہڑہانی جنجالاں چہ در بیا آں۔ کہ فلاح شہید فلاح پارٹی ءِ باسک بوت کہ نہ بوتگ۔ اھارا سہر سریں تیراں گون ہمیں ھاترا ٹنگ ٹنگ کنگ بوتگ کہ آھائی پہ بلوچ ءِ ھاترا وتی جہد برجا داشتگ۔ ثنا زہین ھو زہین سازے بوتگ پیغمبر صفت انسانے بوتگ۔

  3. واجہ سنگت کامریڈ، شہید سنگت ثنا کے شہادت کے دن بی آر پی کے مرکزی ترجمان کا کوئی بیان اخبار میں موجود نہیں تھا، یہ تمام بیانات اُسی دن کے اخبار سے لیے گئے ہیں۔ شکریہ

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s