” کیا ظلم کے خلاف عورت نہیں اٹھ سکتی”

تحریر= انزلنا سمل بلوچ

کبھی کبھی میں سوچنتی ھوں کہ دنیا میں سب سے قیمتی شۓ کیا ھے ؟ محبت، کاروبار، دولت، سونا، چاندی، موسم کے رنگین مزاج، بہتی ھو ئی آبشار، درختوں کے سرسبز شاداب پتے، صبح کی پہلی کرن، آسمان میں ابھرنے والی قوسء قضا یا موسیقی۔۔۔۔

اس طرح سوچ کی گہرائی میں ڈوبتی چلی گئی جونہی گہرائیوں میں ڈوبی تو ایک ہلکی سی درد کا احساس ھوا اسی پل منہ سے ایک پیارا لفظ “ماں” نکلا. ماں جو نو مہینے تک اپنے بچے کو پیٹ میں پالتی ہے پھر بچے کے پیدا ھوتے وقت کا درد برداشت کرتی ھے پھر راتوں کو جاگ کر گزارنا، عظیم ھستی سب کچھ سہہ کر اپنے بچے کی پرورش کرتی ہے۔

پھر احساس ھوا یہ وطن بھی تو ماں ہے”دھرتی ماں” جس کی کوکھ سے ھم سب نے جنم لیا، اور جب ماں پر کسی ظالم کا قبضہ ھو اور اس کے بچوں پر ظلم ھو رہا ھو تو پھر ماں کے غیرت مند بیٹیاں اور بیٹوں پر جدوجہد کرنا فرض بنتا ھے عورت کہنے میں تو ایک لفظ ھے لیکن یہی وہ ہستی ہے جو کئی ھستیوں کو جنم دیتی ھے، عورت اگر ایک بیٹی ھے تو اپنے والدین کے لیۓ باعثء رحمت ھے، عورت اگر بہن ھے تو محبت کی معمار ھے عورت اگر بیوی ہے تو محبت کا پیکار ھے، عورت اگر ماں ھے تو اس کی آغوش میں جنت کا احساس ھوتا ھے. عورت تو ایک ایسا لفظ ھے جسکی تعریف آج تک شاعر اور مفکروں نے مکمل نہیں کی. تو پھر کیوں عورت کو اس معاشرے میں انسان کم اور جسم زیادہ سمجھا گیا.پھر سوچتی ھوں کہ یہ عورت بھی کتنی بے بس مجبور لاچار ھوگی کیونکہ اگر عورت بھی ایک مرد کی طرح چاہے تو کیا نہیں کر سکتی، پھر یہ خیال آتا ھے کہ شاید عورت کچھ مجبوریوں کے ہاتھوں بے بس ھے کیونکہ عورت تو ایک چار دیواری کی قید میں قیدی کی طرح رہتی ہے۔

bnf2

پھر یہ بھی سوچنے پہ مجبور ہوں کہ کیا عورت کے کوئی خواہشات نہیں؟ کیا اس کے کوئی ارمان نہیں؟ عورت کو ہر دور میں مرد کا غلام بنایا گیا ہے ایک جسم کے طور پر استعمال ہوتا گیا۔.اب یہ شعور ھمارے اندر کیسے آئیگی اس کے لیۓ ھمیں جدوجہد کرنی ھوگیدوسری طرف دیکھتی ھوں تو کچھ عورتیں آذاد ہیں انھیں نہ کوئی روک نہ کوئی ٹوک ، میں سوچنےپہ مجبور ہوجاتی ھوں کہ کیوں یہ ظلم کے خلاف آواز نہیں اٹھاتی . یہ چاہے توکیا نہیں کرسکتی، پر اصل میں ان کا تعلق آذاد خیال فیملی سے ہوتا ھے جو جاگیردار ھوتے ہیں پیسوں میں کھیلتے ہیں انھیں کیا احساس کسی کے غریبی اور محکومی و مجبوریوں کا، وہ عیش و عشرت کے زندگی میں مگن ہے.وہ معاشرے کی بڑی بڑی تعلیمی اداروں میں تعلیم تو حاصل کرتے ہیں مگر اتنی اعلی تعلیم و آرام و آسائش کے باوجود ان میں شعور کی پختگی نہیں، وہ غلامی و محکومی کی پہچان نہیں کرسکتی یا کہ کرنا نہیں چاہتی بس اپنے آپ تک ہی محدود ہیں۔

میں اس بات سے متفق ھو کہ پانچوں انگلیاں برابر نہیں ہوتیں.کہ کچھ عورتیں دولت، آرام و آسائش کے باوجود باشعور ہوتی ھے اور ان میں احساس ہوتا ہیں۔
ایک دیہات کی عورت یعنی کہ پہاڑوں میں رہنے والی عورت جس نے سکول کو کبھی دیکھا ہی نہ ھو، جو پڑھائی لکھائی نہ جانتی ھو قلم کا نام تک نہ سنا ھو، ایک امیر گھرانے کی بے شعور لڑکی سے کئی زیادہ فکرے اور ذی شعور ھوتی ہیں۔

اب یہاں جاہلیت اور فکری شعوری کی بات آتی ہے. ایک پہاڑی عورت بمقابلہ ایک لاشعور شہری عورت سے کئی زیادہ مضبوط ، بہادر، مہمان نواز، رحم دل اور انسانیت کے جذبے سے سرشارھوتی ہے جسے انسانوں سے پیار کے علاوہ ہر اس سوکھے پتے اور بنجر زمینوں اور بلند بالا خوبصورت پہاڑوں سے بے پناہ پیار ہوتی ھے۔
ایک پہاڑی عورت اپنی حفاظت کے لئے بندوق اٹھانے کے ساتھ ساتھ بھیڑ بکریوں کو چرانا، بچوں کی پرورش، گھر کے کام، بھائی بہنوں سے پیار،شوہر کی فرمانبرداری قوم کی محبت، ہر کام میں شانہ بشانہ ساتھ دینا اپنا فرض سمجھتی ھے. یہ سب خوبیاں ایک فکری اور شعوری وطن دوست میں پائی جاتی ہے. اب جیسا کہ ھم سب کو معلوم ھیکہ مادر وطن “ماں” ظالم کے قبضے میں ہے اور وطن کے فرزندوں کے ساتھ جو ظلم ھو رہا ہے وہ کسی سے ڈکھی چھپی نہیں، روز کسی معصوم بلوچ فرزند کی مسخ شدہ لاش مل رہی ہے جگہ جگہ آپریشن ھورھے گھروں پر بمباری کرکے بلوچوں کو بے گھر کیا جا رہا ہے۔

اب اس امر میں ھم بلوچ خواتین پر کیا فرض بنتا ھے؟

ھمیں اس بات کا عہد کرنا ھے کہ انقلاب، آذادی اور انسانیت کے خاطر اپنی ذات کی نفی، اپنی انا کی نفی کرتے ہوۓ شعوری طور پر اپنی گھروں خواتیں(ماں، بہن، بیٹی، بہو اور قریبی خواتین) کو تحریک آذادی کے لیۓ تیار اور ان میں شعور اجاگر کرنے کی کوشش کریں

آخر میں احمد بن بیلہ کے الفاظ شئیر کرنا چاہونگی۔۔

جس قوم کی مائیں اپنے بچوں سے کہیں کہ جاو بیٹا جاو آذادی کی جنگ لڑو تو وہ قوم زیادہ عرصے تک محکوم نہیں رہ سکتا اور مجھے الجزائرکی آذادی کا پختہ یقین اس دن ھوا جب” الجزائری ماوں نے اپنے لخت جگروں سے کہا جاو بیٹا آذادی کی جنگ لڑو۔”

2 comments on “” کیا ظلم کے خلاف عورت نہیں اٹھ سکتی”

  1. Pingback: ” کیا ظلم کے خلاف عورت نہیں اٹھ سکتی” | brckarachi

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s