فریب ہے کہ کوئی طشت بھر کے لائے گا

گُہار ذاکر مجید بلوچ

فریب ہے کہ کوئی طشت بھر کے لائے گا
تمہارے واسطے خوشحالی آسمانوں سے سے
سبھی نے لکھی ہے تاریخ خود یہاں اپنی
لہو میں لتھڑے ہوئے بازوؤں، کمانوں سے

بی ایس او آزاد کی جدوجہد اور قربانیاں ساری دنیا کے سامنے ہیں۔ بی ایس او آزاد وہ تنظیم ہے جس نے بلوچستان بھر میں انقلاب برپا کیا ہے۔ ڈاکٹر اللہ نذر اپنی جدوجہد اور قربانیوں کی وجہ BSO AZAD MONOسے بلوچ نوجوانوں کیلئے مثال بن گئے۔ بی ایس او کے پلیٹ فارم پر شہید حمید بلوچ، شہید فدا احمد بلوچ سے لے کر کم سن شہید وحید بالاچ تک کئی قائدین اور کارکنوں نے قربانیاں دی ہیں۔ بلوچستان میں پہلی بار بی ایس او آزاد کے پلیٹ فارم پرانقلاب لانے کیلئے بلوچ خواتین کو حصہ دیا گیا۔ بانک کریمہ بلوچ نے اپنے بھائیوں کے ساتھ مل کر بہنوں کو بھی تیار کرنے میں کوشاں ہیں۔ ہمیں فخر ہے کہ دنیا کی تاریخ میں لیلیٰ خالد جیسی ہستیوں کے ساتھ بانک کریمہ بلوچ کا نام لیا جاتا ہے۔ وطن عزیز بلوچستان کی آزادی کے سفر ملیں Surface پر ابتداء میں ڈاکٹر اللہ نذر اور شہید غلام محمد بلوچ کی باتیں لوگوں کو عجیب لگیں کہ یہ کیا کہہ رہے ہیں۔ پاکستان ایٹمی طاقت بن چکا ہے۔ ہم اپنی کوسرزمین اس غلامی سے کیسے چھڑا سکتے ہیں۔ لیکن بالاچ مری اور ڈاڈائے بلوچستان نواب اکبر خان بگٹی نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ مل کر پاکستان کو نیست و نابود کرنے کی ٹھان لی۔ پاکستانی فوج کو ان کی اوقات دکھادی۔ اپنے قول پر ڈٹے رہے شہادت تک نوش کرگئے۔ اس آگ کو دوبارہ جلایا جو 65سالوں سے بلوچ قوم دل میں لئے بیٹھے تھے۔ بی ایس او کے سابقہ چیئرمین ڈاکٹر اللہ نذربلوچ ایجنسیوں کے ہاتھوں لاپتہ کئے گئے۔ انتہائی غیر انسانی سلوک اور ٹارچر برداشت کرکے وقت کی مناسبت سے رہا ہوکر سرمچار بن گئے۔ ڈاکٹر اللہ نذر بلوچ نے رہا ہوتے ہی گھر کے بجائے پہاڑوں کا رخ کیا۔ ساتھیوں کے ساتھ مل کر ریاستی غنڈہ گردی اور غلامی کے خلاف جنگ آزادی کا اعلان کیا۔ Surface پر شہید غلام محمد بلوچ کی تاریخ بلوچ قوم کے سامنے ہے۔ اس دوران بی ایس او آزاد نے زبردست کارکردگی دکھائی۔ آج کا انقلاب اس کے نتائج ہیں۔ اس دوران کامریڈ بشیر زیب اور اس کے ساتھیوں نے جدوجہد کی جو قربانیاں دیں وہ خراج تحسین کے لائق ہیں۔ اس دوران بھی دشمن عناصر، انا پرست اور حاسد گروہوں نے بشیر زیب بلوچ اور اس کے تمام ساتھیوں کے خلاف محاذ آرائی شروع کی۔ کیسے کیسے پروپیگنڈے ہوئے وہ سب کے سامنے ہیں اور کہا گیا کہ فلاں، فلاں کا Yes Man ہے، فلاں کو خاندانی حوالے سے چنا گیا ہے کئی باتیں اور الزامات لگیں لیکن بی ایس او آزاد کا کاروان چلتا رہا۔ بی ایس او آزاد نے سرفیس پر ریاستی اداروں اور پارلیمانی گروہوں کو سبوتاژ کئے رکھا۔ بی ایس او آزاد کے ہر لیڈر نے حزب اللہ اور بھگت سنگھ جیسے تاریخوں کا ریکارڈ توڑ دیا۔ تین سو سے زائد کارکنوں سے ریاستی اہلکاروں نے قلی کیمپس کو سجایا۔

himayate sarmachar rally

کئی نوجوانوں کو شہید کرکے مسخ شدہ لاشیں بلوچستان کے ویرانوں میں پھینک دی گئیں۔ قمبر چاکر مسخ شدہ لاش، صدام کے گردن پر فوجیوں کا اپنا بوٹ رکھ کر گولیوں سے چھلنی کیا گیا۔ کم سن وحید بالاچ کی تشدد زدہ لاش، بی ایس او آزاد کے جلسے جلوسوں پر فائرنگ، عظیم دوستوں کی قربانیاں جنہوں نے دشمن کے سامنے موت قبول کیا لیکن سر نہیں جھکایا۔ بی ایس او آزاد کے سینئر وائس چیئرمین ذاکر مجید بلوچ کا عقوبت خانوں میں تشدد اور ٹارچر ہونا اور تاحال لاپتہ کیا جانا۔ جس کی وجہ سے سارا خاندان اذیت و کرب میں مبتلا ہے۔ اس کی عظیم ماں جتنی بھی بہادر ہو لیکن وہ جس قرب سے گزر ررہی ہے کوئی بھی انسان محسوس کرسکتا ہے۔ یہ قربانیاں لیڈرز کی غلطیاں نہیں وقت کی ضرورت تھیں۔ انقلاب بغیر قربانی کے نہیں آتی۔ تاریخ گواہ ہے کہ قوموں کو قربانی کے بغیر آزادی نہیں ملی۔ جدوجہد کا منبع بی ایس او آزاد نے کئی باتیں مخالفت و تنقیدمیں سنتی آرہی ہے۔ لیکن بی ایس او آزاد کے مرد مجاہد کسی کی نہ سنے اپنی راہ پر چلتے رہے۔ آج بھی تحریک آزادی کے سفر میں سرخرو ہیں۔ بی ایس او آزاد نے جو مرحلہ گزارا اس میں طلباء و طالبات نے بھرپور حصہ لیا۔ اسٹوڈنٹس کی یہ انقلابی تنظیم آزاد اور خود مختار تھی۔ بلوچ قوم کے بیٹے اور بیٹیوں نے فیصلہ کیا کہ ہمارے بزرگ ہمارے لئے قابل احترام ہیں لیکن ہم کسی پارٹی کے ونگ نہیں بنیں گے۔ سرزمین کی آزادی کیلئے اپنے فیصلے امور، جدوجہد جدید سائنسی اور انقلابی طریقوں سے خود کریں گے اور انہوں نے دنیا میں منوایا کہ بلوچ اسٹوڈنٹ کتنے بہادر انقلابی اور سرفروش ہیں۔ سر پہ کفن باندھ کر میدان میں اترے ہیں۔ آج بلوچ قومی تحریک اس نہج پر پہنچی ہے کہ دور سے روشن کرنیں ابھری نظر آرہی ہیں۔ سورج بلوچستان کی سرزمین پر جلد چمکنے والا ہے۔ ہاں اگر ہم اس طرح سے ایک دوسرے کے پیچھے ہاتھ دھوکر لگیں گے، ایک دوسرے کی گریبان میں جھانکنے لگیں گے، اپنی انا کی سنیں گے اپنا Status دیکھیں گے تو نقصان ہمارا ہی ہے۔ جس طرح چند روز قبل ایک امداد نامی نے توار اخبار میں اپنے ہی تنظیم اور اپنے ہی دوستوں پر انگلی اٹھانے کی کوشش کی ہے جوکہ انتہائی افسوسناک ہے کیونکہ غیر سیاسی لوگ اور دشمن عناصر ہماری ایسی چیزوں کو ہماری کمزوری سمجھتے ہیں حالانکہ ایسا نہیں ہے، ہوسکتا ہے امداد نے تنقید برائے تعمیر کی ہو لیکن اس طرح میڈیا میں بحث غلط ہے۔ ہمارے لئے سارے سرمچار اور سیاسی قائدین قابل احترام ہیں۔ کامریڈ بشیر زیب کی جدوجہد تمام نوجوانوں کیلئے ایک مثال ہے۔ آج اگر بی ایس او آزاد کی قیادت بلوچ خان نامی بلوچ جوان اور اس کے ساتھیوں کے ہاتھ میں ہے تو وہ بھی آپ لوگوں کے دوست ہیں۔ آپ لوگوں کی تربیت ایک ہی تنظیم میں ہوئی ہے۔ بشیر زیب بلوچ اگر آپ کا لیڈر ہے تو وہ بلوچ خان کے بھی لیڈر ہیں۔ اگر ڈاکٹر اللہ نذر بلوچ کو آپ صرف بلوچ خان کے لیڈر سمجھتے ہوتو یہ آپ کی سوچ ہے لیکن ڈاکٹر اللہ نذر بلوچ بشیر زیب بلوچ کے بھی ساتھی اور لیڈر ہیں۔ انہوں نے ایک ہی تنظیم میں کام کیا ہے۔ اگر آج اللہ نذر نے بی ایس او آزاد کے جوانوں کو آگے بڑھنے کی نصیحت کی تو کل انشاء اللہ بشیر زیب بلوچ اپنے بی ایس او آزاد کے ساتھیوں کو آگے بڑھنے میں مدد کریں گے۔ آپ لوگ سارے ساتھی ہو۔ بلوچ قومی تحریک کے سپاہی ہو۔ اگر بشیر زیب نے تنظیم کی ذمہ داریاں بلوچ خان کو دیں تو انہوں نے ان میں وہ صلاحیت اور خوبیاں بھی دیکھی ہوں گی۔ یا شاید اپنے ساتھی کو ذمہ داریاں سنبھالنے اور مشکلات کا احساس دلانے کیلئے دی ہوں اگر بلوچ خان غلط ہیں تو شروع میں کماش کو مداخلت کرنا چاہیے تھا۔ اگر وقت و مشکل حالات کی وجہ سے وہ شامل نہ ہوسکے تو آج ان پر اور ہم سب پر فرض ہے کہ ہم اپنے بھائی بلوچ خان اور اس کے ساتھیوں کی مدد کریں۔ کسی کی قابلیت کو سراہنا شخصیت پرستی نہیں۔ بی ایس او آزاد خود مختار تھا اور خود مختار رہے گا۔ کسی بھی پارٹی کے پاکٹ آرگنائزیشن نہیں۔ بلوچ خان اور بانک کریمہ سے لے کر تمام ممبر آپ لوگوں کے سیاسی ہمراہ رہے ہیں۔ زمانے سے آپ لوگ ایک ساتھ کام کررہے ہو۔ ایک دوسرے کو اچھی طرح جانتے ہو۔ اس عظیم بہن نے بھی بی ایس او آزاد کو سنبھالا ہوا ہے۔ آج ساری بلوچ قوم کو صرف بلوچستان نہیں دنیا میں جہاں کہیں بھی بلوچ بستے ہیں انہیں بی ایس او آزاد کا ساتھ دینا چاہیے کیونکہ یہ وہ تنظیم ہے جو سیٹ اور ہاسٹل رومز کیلئے جدوجہد میں نہیں بلکہ انقلابی لیڈر اور سیاسی کارکن پیدا کرنے کا ادارہ ہے۔ بی ایس او آزاد صرف بی این ایم کو نہیں مانتی وہ اپنے سارے لیڈرز بابا خیربخش مری، حیربیار، براہمدغ، اللہ نذر، بشیر زیب قومی تحریک کے تمام سیاسی و مزاحمتی تنظیموں کی احترام کرتی ہے۔ ان کٹھن حالات میں آج zakir aaبی ایس او آزاد ایسی جگہ پر ہے اگر بلوچ خان کچھ بھی غلط کریں گے تو تاریخ انہیں رقم کرے گی۔ وہ خود بھی اچھی طرح جانتے ہیں۔ پھر وہ کیسے ماضی کے بی ایس او آزاد کو کھوکھلا کریں گے۔ کیا انہیں اپنے شہید ساتھیوں کی پرواہ نہیں کیا بانک کریمہ اتنی غیر ذمہ دار ہوگئی ہیں کہ بی ایس او آزاد کو کمزور ہونے دیں گے، ہرگز نہیں۔ اگر ایسے ہوا تو شہداء اور لاپتہ افراد کے لواحقین پوچھیں گے کہ ہمارے بھائیوں اور بیٹوں کی تنظیم کا یہ حال کیوں؟ بی ایس او آزاد ایک انتہائی مقدس تنظیم ہے۔ خدارا اسے ہمارے بزرگوں کی پارٹیوں کی طرح ٹکڑے ٹکڑے مت کرنا۔ ڈاکٹر اللہ نذر خود ایک تحریک کا نام ہیں۔ پھر وہ بی ایس او آزاد کو بی این ایم کا پاکٹ آرگنائزیشن کیسے بننے دیں گے۔ ڈاکٹر صاحب کو بلکہ بابا مری کو ڈاکٹر منان اور خلیل سے پوچھنا چاہیے کہ وہ کونسی کمزوریاں ہیں کہ پارٹی تقسیم کا شکار ہوگیا اور ساتھیاں ان کا ساتھ چھوڑ رہے ہیں۔ بلوچ قومی آزادی کیلئے جو سیاسی تنظیمیں Surface پر کام کررہے ہیں ان پر صرف ڈاکٹر اللہ نذر نہیں بلکہ واجہ حیربیار، کامریڈ بشیر زیب، براہمدغ بگٹی بلکہ تمام سرمچاروں کو نظر رکھنا چاہیے کہ کون کیا کررہا ہے۔ کیونکہ کل جب ہمارا وطن آزاد ہوگا تو ہماری سرحدوں کی حفاظت اور ایک مضبوط اور منظم بلوچستان یہی لوگ بنائیں گے۔ اگر ہم اپنی انا میں پھنس جائیں گے یا اپنی مفادات دیکھیں گے کہ کہاں ہمیں خوشی ملتی ہے ہماری خواہشات کس پلیٹ فارم پر پوری ہونگی تو ہمارے عظیم شہداء کی قربانیاں رائیگاں جائیں گی صدیوں سے بلوچ ظلم کا شکار ہے اگر اپنے مظلوم قوم کو اپنی انا یا Status کی وجہ سے نظر انداز کیا گیا تو بلوچ قوم کے لیڈرز کو خدا بھی معاف نہیں کرے گا۔ خدارا بلوچ قوم کوماضی جیسے حالات میں دھکیلنے مت دینا کیونکہ اس طرح سے آنے والا مستقبل ماضی سے بھیانک ہوگا۔ تمام شہداء و رسول بخش مینگل اور شہید غلام محمد بلوچ کی لواحقین سے التجا ہے کہ ہمارے شہیدوں کے پلیٹ فارمز کی حفاظت کریں اور ان کے مشن کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کیلئے بلوچ لیڈرز کو مناسب فیصلہ کرنے پر مجبور کرنا ہوگا۔ انہیں اپنے پیاروں کی قربانیاں اور لہو یاد دلانا ہوگا۔ جب انقلاب کا وقت تھا تو سب نے جہد کا لطف اٹھایا اور آج قربانیوں اور نتائج کا وقت ہے تو قوم تقسیم درتقسیم کا شکار نظر آرہا ہے کیوں؟۔ مجھے میرے بھائی ذاکر جان کا قول یاد ہے۔ تین سال پہلے جب میں نے ان سے کہا کہ آپ کے سینٹرل کمیٹی کے فلان ممبر نے اچھا نہیں کیا۔ اس لئے میرا اس سے بالکل نہیں لگتا۔ تو اس نے میری زبان کو لگام دیتے ہوئے کہا تم ابھی تک محرومیوں اور غلامی کے خول سے نہیں نکلی ہو۔ یہ جو توانائی تم اپنے لیڈرز کو نیچا دکھانے کیلئے خرچ کرتی ہو۔ کاش یہ توانائی دشمن کے خلاف استعمال کرتی۔ تو میرے محترم بلوچ برادرم آپ لوگ ایک دوسرے کو سمجھیں۔ ایک دوسرے کے مقابلے میں وقت ضائع نہ کریں۔

© Haqetawar.wordpress.com

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s